سیدہ سکینہ ؒ بنت حسین ؓ بن علیؓ - محمد فہد حارث

سیدنا امام حسینؓ کثیر الازدواج تھے، آپؓ نے متعدد نکاح کیے۔ ان میں سے ایک نکاح آپ نے بنو کلب کی خاتون رباب بنت امراؤالقیس سے کیا۔ یہ رباب ؒ امام حسین ؓ کی سب سے محبوب بیویوں میں سے تھیں اور ان کی مدحت میں تاریخ کتب و ادب میں امام حسینؓ کے چند اشعار بھی ملتے ہیں۔ سیدہ سکینہؒ انھی رباب ؒ کے بطن سے تھیں۔ علم و فضل، شعر و ادب، برجستہ گوئی، حاضر جوابی اور حسن و جمال میں اپنی نظیر آپ تھیں۔ اپنے زمانہ کی بڑی بذلہ سنج، طرحدار اور ممتاز خواتین بنی ہاشم میں سے تھیں۔ سیدہ سکینہؒ اپنے والد امام حسین ؓ کی زندگی میں ہی نہ صرف سن بلوغ کو پہنچ گئی تھیں، بلکہ شادی بھی ان کی اپنے تایا زاد عبداللہؒ بن حسنؓ سے ہوچکی تھی۔ (کتاب نسب قریش، صفحہ 59)

مؤرخین نے ان کے متعدد نکاحوں کا تذکرہ کیا ہے جو ان کے شوہروں کے یکے بعد دیگرے مرجانے سے ہوتے رہے۔ پہلا نکاح تو جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے، اپنے سگے تایا زاد عبداللہ بن حسن ؓ سے ہوا۔ ان کے انتقال کے بعد دوسرا نکاح مدینہ میں مصعب بن زبیر ؓ سے واقعہ کربلا کے بعد ہوا۔ یہ مصعب بن زبیر، عبداللہ بن زبیرؓ کے بھائی تھے اور علی کرم اللہ وجہہ ؓ کی وفات کے تیس اکتیس برس بعد یعنی 71 ہجری میں جب عبداللہ بن زیبرؓ اور عبدالملک بن مروانؒ کے مابین خلافت کی چپقلش جاری تھی، اپنے بھائی کی جانب سے عراق کے عامل تھے۔ سیدہ سکینہ ؒ کی طرح مصعب بن زبیر ؓ بھی صاحب جمال اور حسین جوان تھے۔ ان کے قتل ہونے پر سیدہ نے اہل کوفہ کو مخاطب کر کے کہا تھا:
’’اے کوفہ کے ناہنجار اور بدبخت لوگو! تم نے پہلے میرے دادا کو شہید کیا، پھر میرے سسر اور تایا (حسن بن علیؓ) کا ساتھ چھوڑا، اس کے بعد تم نے میرے شوہر عبداللہ بن حسنؒ اور میرے والد حسین بن علیؓ کو دھوکے سے بلا کر شہید کیا اور اب تم نے میرے محبوب شوہر کو بھی قتل کر دیا۔ اللہ کرے تم قیامت تک شیون و ماتم میں مبتلا رہو۔‘‘

مصعب بن زبیرؒ کے مقتول ہوجانے کے کچھ عرصہ بعد سیدہ سکینہ ؒ نے اموی و مروانی خاندان میں مروانؓ بن الحکم کے پوتے الاصبغ بن عبدالعزیز بن مروان سے نکاح کیا جو کہ امیرالمؤمنین عمر بن عبدالعزیز ؒ کے بھائی تھے۔ (کتاب نسب قریش ،صفحہ 59، جمہرۃ الانساب صفحہ 96)، کچھ عرصہ بعد الاصبغ بن عبدالعزیز نے بھی داعی اجل کو لبیک کہا تو سیدہ سکینہؒ خلیفہ راشد سیدنا عثمانؓ کے پوتے زید بن عمر بن عثمانؒ کی زوجیت میں آگئیں۔ یوں سیدنا علی ؓ اور سیدنا عثمانؓ ایک دوسرے کے سمدھی قرار پائے۔ (جمہرۃ الانساب صفحہ 79) یہ نکاح آپؒ نے 96ھ ہجری میں کیا جبکہ آپ کی عمر 55، 56 سال تھی۔ (نسب قریش صفحہ 29)

ابن بطوطہ نے اپنے سیاحت نامہ میں لکھا ہے کہ سیدہ سکینہ کا مزار دمشق میں مرکز بازار کے ساتھ ہی ہے۔ ان سارے تاریخی حقائق کے باوجود سیدہ سکینہ ؒ کی عمر تین یا پانچ برس بتا کر روایتیں وضع کی جاتی ہیں کہ دمشق کے قید خانے میں سیدنا امام حسینؓ کی اس چہیتی کم سن دختر نے طرح طرح کی تکالیف سے تڑپ تڑپ کر جان دی تھی، تو کبھی کہا جاتا ہے کہ شہادت امام حسینؓ کے بعد رات میں سیدہ سکینہؒ کو خیمہ میں موجود نہ پاکر تمام بیٹیاں چلا اٹھیں:
خیمہ میں شور اٹھا کہ سکینہ بھی کھوگئیں
وہ جا کے اپنے باپ کے لاشہ پہ سوگئیں
حالانکہ یہ ساری روایتیں وضعی ہیں جن کا اقرار خود شیعہ مؤلف امیر علی اپنی کتاب ’مجاہد اعظم‘ کے صفحہ 291 پر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اس سے بھی زیادہ مشہور مگر سراسر کذب و افترا وہ روایت ہے جس میں درد انگیز پیرایہ سے بیان کیا جاتا ہے کہ جناب سکینہ نے زندان شام میں رحلت کی حالانکہ تمام مؤرخین و علمائے انساب کا اتفاق ہے کہ آپ عرصہ دراز تک زندہ رہیں اور واقعہ کربلا سے 57 برس کے بعد 117 ہجری میں وفات پائی۔ آپ کا عقد واقعہ کربلا سے پہلے عبداللہ بن حسن بن علی ؓ بن ابی طالب کے ساتھ ہو چکا تھا، جیسا کہ ناسخ التواریخ، محسن الابرار، ارشاد شیخ مفید، بحارالانوار، اغانی، کشف الغمہ، سیر الآئمہ، عمدۃ الطالب، اعلام الوریٰ، قمقام ذخار، مراۃ الجنان، اسعاف الراغبین، وفیات الاعیان، تاریخ کامل وغیرہم میں صاف درج ہے۔‘‘
مندرجہ بالا اقتباس میں خود ملاحظہ کیا جاسکتا ہے کہ ایک اہل تشیع عالم و مؤرخ سیدہ سکینہ کے کمسن بچی اور واقعہ کربلا میں مقتول ہونے کے اہل تشیع و اہل سنت کی کتابوں کے حوالہ سے وضعی قصہ قرار دے رہے ہیں۔

Comments

محمد فہد حارث

محمد فہد حارث

محمد فہد حارث پیشے کے اعتبار سے ٹیلی کام انجینئر ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں رہائش پذیر ہیں۔ دینی علوم سے دلچسپی ہے۔ حدیث، فقہ، تاریخ اور فلسفہ اسلامی پسندیدہ موضوعات ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.