رشتے - سمیرا غزل

لفظ ’’رشتہ‘‘ بظاہر ایک چھوٹا سا لفظ مگر اپنے باطن میں ایک وسیع سمندر چھپائے ہوئے ہوتا ہے.

دادی امی کے گھر سے سامنے والے گھر کے ساتھ موجود درخت پر چڑھ کر کیریاں توڑنے تک اور نانی اماں کے صحن تک میٹھے میٹھے رشتوں کی لمبی قطار ہے، جو آپ کی شرارتوں پر ڈانٹتے ڈانٹتے ہنس دیں، اور کیریاں توڑنے پر پڑوسی انکل یا آنٹی ڈھیر ساری خفگی کے بعد پہلے سے توڑ کے رکھی گئی کیریاں آپ کے حوالے کردیں. جی ہاں! من برسوں ان کی مٹھاس محسوس کرتا ہے اور شاید تادم مرگ کرتا ہے. وہ نانی امی کا لمس، باجی کا بالوں میں انگلیاں پھیرنا! دادی اماں کی ڈانٹ سب کے ذائقے تاحیات ساتھ رہتے ہیں.

ان میٹھے رشتوں میں کچھ کٹھے رشتے بھی ہوتے ہیں جو اپنی اور دوسروں کی زندگی میں کٹھاس بھرنے کا کام انتہائی تندہی سے بغیر تنخواہ کے کرتے رہتے ہیں. ہر وقت کی نکتہ چینی ان کا خاص جوہر ہوتی ہے، بےجا مداخلت ان کی سرشت کا قیمتی گوہر ہوتی ہے، چخ چخ سے جن کو پیار ہوتا ہے، جاسوسی جن کا کام ہوتا ہے، جاسوسی میں ان کی خاص مہارت دیکھ کر لگتا ہے کہ انٹیلی جنس کے تربیت یافتہ ہیں. شکل سے بالکل کوفتہ ہیں، جھوٹ بولنے اور بڑھکیں مارنے میں لا ثانی ہیں. یہ لوگ سارے کارتوس چلانے کے بعد جب اپنے کھودے ہوئے گڑھے میں گرتے ہیں تو بجائے آنکھیں کھولنے کے ہاتھ جھاڑ کر چندھیائی آنکھیں لیے اٹھتے ہیں اور پھر نیا کارتوس چلاتے ہیں، کیونکہ یہ نہیں جانتے کہ رشتے خلوص، محبت اور رواداری سے بنتے ہیں مگر یہ اسے ٹین ڈبے کی طرح بجاتے ہیں. نتیجے میں شور پیدا ہوتا ہے، ایسا بے ہنگم شور جو رشتوں کی عمارت کو ڈھادیتا ہے، بالکل ایسے جیسے بغیر ستون کی عمارت، جس کی بنیاد بھی کمزور ہو، جیسے کاغذ کا گھر، ریت کا محل، تب جب سب ختم ہونے لگے تو یہ چیخیں مارتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ہمارا کیا قصور؟

یہ بھی پڑھیں:   غصے اور رشتے - ایمن طارق

دراصل باطن میں چھپا جھوٹ ظاہر کا سچ واضح نہیں ہونے دیتا، من کا میل تن کا اجلا پن چھپا دیتا ہے، اندر کا کھوٹ کھرے کی پہچان گم کر دیتا ہے، اور یوں اعتبار کی ڈور کمزور ہوتی چلی جاتی ہے، اور رشتہ جو قائم ہی اعتبار پر ہوتا ہے، جگہ سے کھسکتا، لڑھکتا پڑھکتا ٹوٹ جاتا ہے، رشتے کے حسن کو لے ڈوبتا ہے اور کہنے والا کہتے رہ جاتا ہے. ہائے میرا کیا قصور، ہائے میرا کیا قصور.