بھارتی سیاست، مستقبل کا منظرنامہ - ریحان خان

تذبذب اور اندیشوں کے سارے بادل چھٹ گئے اور اتر پردیش کا مطلع بالکل صاف ہوگیا۔ بی جے پی ہائی کمان نے توقعات کے برخلاف اتر پردیش کی وزارت اعلی کے لیے پارٹی کے فائر برانڈ لیڈر یودی ادتیہ ناتھ کا نام پیش کر دیا ہے۔ توقعات کے برخلاف اس لیے کہ اس وزارت اعلی کے عہدے کے لیے جو نام گردش میں تھے ان میں یوگی کا نام راج ناتھ سنگھ، منوج سنہا اور کیشو پرساد موریہ کے بعد چوتھے نمبر پر آ رہا تھا، کیونکہ اب تک نریندر مودی اور امت شاہ کا بی جے پی میں آمرانہ کردار رہا تھا۔ مہاراشٹر، منی پور اور اتراکھنڈ میں بی جے پی کی قیادت نے وزارت اعلی کے لیے ان ناموں کو پیش کیا تھا جو نسبتاً غیر معروف تھے اور عام حلقوں میں ان کی کوئی شناخت نہیں تھی۔ گوا میں صورتحال دوسری تھی، وہاں حلیف پارٹیوں نے بی جے پی کو اس شرط پر حکومت سازی کی دعوت دی تھی کہ وزیراعلی منوہر پاریکر ہوں گے۔ اگر گوا میں بھی بی جے پی اکثریت حاصل کرتی تو وہاں بھی وزارت اعلی کے لیے غیر معروف نام ہی پیش کیا جاتا۔ لیکن یوپی میں یوگی ادتیہ ناتھ کا نام پیش کیا جانا حیران کن ہے۔ یوگی گورکھپور کے حلقوں میں ایک مقبول عام لیڈر ہیں، اس لیے قیاس کیا جا رہا تھا کہ امت شاہ اور نریندر مودی یوگی کو اختیارات دینے کا رسک نہیں لیں گے۔

الیکشن کے ایام میں بی جے پی قیادت نے راج ناتھ سنگھ کو یوپی کے وزیر اعلی کے چہرے کے طور پر پیش کرنے کی بات کی تھی لیکن راج ناتھ سنگھ نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ اس امر سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ موجودہ بی جے پی لیڈر شپ میں راج ناتھ وہ واحد لیڈر ہیں جو کچھ حد تک سیکولر نظریات رکھتے ہیں اور پارٹی میں واجپائی فکر کے حامل اکیلے بڑے لیڈر ہیں۔ اس لیے الیکشن سے قبل غیر واضح صورتحال میں راج ناتھ سنگھ کا نام بی جے پی کی وزارت اعلی کے طور پر پیش کرنے کا ہمہ گیر ارادہ کیا گیا تھا۔ ہمہ گیر اس لیے کہ اگر بی جے پی یوپی میں کامیاب ہوتی ہے تو راج ناتھ سنگھ کے اختیارات مرکز سے بے دخل کر کے یوپی تک محدود کردیے جائیں گے اور بی جے پی شکست سے دوچار ہوتی ہے تو راج ناتھ بھی واجپائی، لال کرشن اڈوانی اور جسونت سنگھ کی طرح بی جے پی میں کنارے لگا دیے جائیں گے اور پوری پارٹی پر امت شاہ اور مودی کو غلبہ حاصل ہوجائے گا۔ لیکن راجناتھ سنگھ نے یوپی میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے بغیر وزیراعلی کے چہرے کے صرف اور صرف مودی کی اسٹارڈم پر الیکشن لڑا اور حیران کن طور پر اتنی بڑی کامیابی حاصل کی جس کی خود بی جے پی لیڈران کو بھی امید نہیں تھی۔

عمومی طور پر اتر پردیش کا الیکشن لوک سبھا الیکشن کا دیباچہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں کی تاریخی فتح نے مودی بریگیڈ کے حوصلے انتہائی بلند کردیے ہیں۔ اسی سبب بی جے پی ہائی کمان نے حکمت عملی میں تبدیلی لاتے ہوئے سنجیدہ اور غیر متنازعہ کردار کے حامل منوج سنہا پر غیر سنجیدہ اور متنازعہ یوگی ادتیہ ناتھ کو فوقیت دی۔ یوپی الیکشن میں بی جے پی کو ایک تجربہ حاصل ہوا ہے کہ سنگین ترین ناکامیوں کے باوجود بھی مذہب اور فرقہ واریت پر مبنی موضوعات کو چھیڑتے ہوئے ووٹوں کا پولرائزیشن کیا جاسکتا ہے اور کامیابی بھی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ صرف کامیابی ہی نہیں بلکہ تاریخی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ یوپی کے اس کامیاب تجربے کو بی جے پی 2019ء میں بھی دہرانا چاہتی ہے۔ اس لیے سنجیدہ ناموں کو نظرانداز کرتے ہوئے یوگی ادتیہ ناتھ یوپی کا وزیر اعلی بنا دیا گیا۔

یوگی بی جے پی کے فائر برانڈ لیڈر ہیں۔ متنازعہ بیان بازیوں پر انہیں ملکہ حاصل ہے۔ یہی یوگی کی وہ ’خصوصیات‘ ہیں جو انہیں دیگروں میں ممتاز کرتی ہیں۔ یوگی کی نامزدگی پر مسلم حلقوں میں ایک واویلا مچے گا اور وہی واویلا 2019ء کے لیے سنگھ کو مطلوب ہے۔ یوگی وہ تمام تر متنازعہ گفتگو بھی کریں گے جس کے لیے انہیں یوپی کی زمام سونپی گئی ہے۔ یوگی کے خلاف احتجاج ہوں گے، مسلم اسٹیج سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی درد انگیز دہائیاں دی جائیں گی۔ ان دہائیوں پر مسلم شاید ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے نہ ہوسکیں لیکن ہندو ووٹ ضرور اکٹھے ہوجائیں گے جیسے حال ہی میں اتر پردیش میں ہوا ہے۔ ان حالات پر مسلمانوں کے لیے لائحہ عمل یہ ہو کہ جس مقصد کے لیے یوپی میں یوگی کو بٹھایا گیا اس مقصد میں استعمال نہ ہوں۔ یوگی کی ذہنی سطح صرف اتنی ہی ہے جتنی مسلم حلقوں میں اسد الدین اویسی کے کسی بھگت کی ہے۔ اس ذہنی سطح کو نظر انداز کر دینے میں ہی دور اندیشی ہے۔ بی جے پی اور سنگھ ایک نظریاتی تحریک ہے۔ جب کسی نظریے کا عروج آتا ہے تو راہوں میں حائل سنگ گراں اس کے لیے خس و خاشاک کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی سچ ہے کہ کسی روحانی یقین سے عاری کوئی نظریہ جس تیزی سے عروج کے مدارج طے کرتا ہے اتنی ہی تیزی سے زوال کی ستم ظریفیوں سے بھی آشنا ہوتا ہے۔ ہم اپنے بزرگوں سے ایک نظریے (مارکسزم) کے عروج و زوال کی داستانیں سنتے آئے ہیں۔ فی الوقت ہم ایک نظریے کا عروج دیکھ رہے ہیں اور ان شاء اللّہ ہم اس کا زوال بھی دیکھیں گے۔ کیونکہ روحانیت سے عاری کسی نظریے کی عمر طویل نہیں ہوتی۔

Comments

ریحان خان

ریحان خان

ریحان خان بھارت کے نوجوان قلمار ہیں- اردو ادب اور شعر و شاعری سے شغف رکھتے ہیں، تجارت پیشہ ہیں-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */