انسان، فلاسفہ اور فلسفہ کائنات - مہران دریگ

میں فلسفے کا کبھی ”طالب“ علم نہیں رہا. اک دور تھا اور ہے کہ جب فلسفہ اپنے ضمن میں کوئی قطعی (Full stop) شے نہ تھی، یا کہہ لیں کہ کج بیانی یا ادبی مبالغے کسی لہجے، کسی وجود، کسی عدم غائب، کسی حاضر پہ اپنی ایسی مناطق کو آرسی کرنا تھا کہ سوچنے والے کی تشنگی گھٹنے کے بجائے اور بڑھ جائے، طالب سلجھنے کے شوق میں مزید الجھ بیٹھے. زمین، دولت، حسن، علم، یہ انسانی سوچ کی علتیں ہیں، اس کی حرص کہ جب اسے کچھ سمجھ آنے لگے تو وہ بہت کچھ سمجھنے سمیٹنے کی تگ و دو میں پڑ جاتا ہے. فلسفہ بظاہر ٹھہراؤ ہے جس میں مزید ابتلاء ہے، مگر اس کے پڑاؤ کا مقام انسان کی ذہنی سارنگی کی ذرا سی تال میل سے کسی نئے زاویے کو نکل پڑتا ہے، فلسفے کی علت کبھی اپنے انجام کو نہیں پہنچ سکتی. یہ وہ ایندھن ہے جو آگ الاؤ کو مزید بھڑکا دیتا ہے. فلسفہ اپنے رویے کے اندر کینسر سیل کا سا غیر ضروری پوٹینشیل رکھتا تقسیم در تقسیم ہوتا چلا جاتا ہے. میں اس کی افادیت اس لیے تسلیم کرنے پہ قانع نہیں کہ اگر اس نے انسانی نفیسات کو ٹھہراؤ اور سکون ایسی نعمت عطا کی ہوتی تو اس سے زیادہ غذائیت زود ہضم کوئی شے اس موافق نہ تھی، مگر معاملہ کچھ اور الگ ہو پڑتا ہے.

چونکہ نفسیات کی programing بھی میرے رب کی جانب سے ہے تو اس کی ایک خوبی میرے نزدیک یہ ہے کہ اس ڈومین نے خدا، بندے اور کائنات کو نفسیات کا سب سے بڑا موضوع بحث بنا دیا، اس نے انسان کو اپنی، خدا اور کائنات کی ذات پر نظرثانی اور رائے دینے کی حرارت پیدا کی، مگر بات وہی اک فلسفی جب پانی کی ذات پہ دلیل قائم کرتے ہوئے پوچھتا ہے کہ پانی کیوں ہے، کیا ہے اور کیسے ہے؟ ٹھوس مائع گیس کی حالتوں میں کیوں ڈھلتا ہے جب اس کو ان سوالات کے جواب مناطقہ فراہم کرتے ہیں تو وہ خود سے یہ پوچھنے لگ جاتا ہے کہ پانی بھاپ ہی میں کیوں بدلتا ہے؟ اس کا یہ سروپ کس نے اور کیوں طے کیا ہے، ٹھیک پر آخر یہی سروپ ہی کیوں؟ ذہنی علت تو اس ڈگر پہ بھی چڑھ دوڑتی کہ کیا واقعی پانی کا بخاراتی سروپ دراصل کچھ سروپ ہے بھی یا محض ہماری اکھیوں کا وجدان ہے؟ بصارت کی دیوانگی ہے؟ اب یہ لمحہ قطعی نہیں، اب یہاں سے منیر نیازی کے مصداق، اک اور دریا کا سامنا تھا مجھے، میں اک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا.

تاریخ اردو ادب میں اک سطر پڑھی کہ ”عشق ہی تمام علتوں کا طبیب ہے“ کہ جو بھی ہے بس اس سے عشق ہے، اس سے عشق ہونا ہی ہماری اور اس کے ہونے کی اصل غایت و عافیت ہے، اصل مقصد ہے، یہاں ذہنی فشار تھم جاتا ہے. میں قرآن کے اس لہجے پہ تھرکنے لگتا ہوں کہ، قرآن فلسفے کی بڑی بھاری اُلٹ ہے، قطعی دلالت ہے، قطعی ہے اپنی رمز میں، کسی چیز کا ہونا کسی چیز کا نہ ہونا قطعی ہے، سمپلی فائیڈ ہے، جو بھی پیش خدمت ہے اس سے عشق کا حکم دیتا ہے، اس سے عشق کا راستہ و لہجہ و نفسیات عطا فرماتا ہے، چشمہ اپنے احاطے میں زم زم ہوجاتا ہے، اپنی دانست میں بے کنار کی جگہ باکنار مخزن ہے.

تاریخ فلسفہ کا میں اک سطحی سا قاری ہوں، میں اسے سمجھنے پرکھنے کی غرض و غایت زیادہ تو نہیں رکھتا مگر جتنا ہو سکتا ہے اک سرسری سا جائزہ رکھتا ہوں، تاریخ ِ فلسفہ علت و معلول سے عبارت ہے.

علت
وہ چیز جو کسی دوسری چیز کے ہونے کا سبب ہو، باعث ہو، علت و معلول کہلاتی ہے، اسے آپ اشتہا، کیڑا ، یا انگریزی میں اس کے معنی Disease sickness fault سے بھی تعبیر کیا گیا ہے یا مزید سبب، وجہ، سقم سے بھی مفہوم لیا گیا ہے، مثلاً ، ”جانوروں کا پالنا علت سمجھا جاتا ہے“، فلسفہ کا پلنا بھی علت سے نکتہ آغاز و ترتیب پاتا ہے، یعنی کسی بھی وجود کا سبب و مرہون منت علت کہلاتا ہے.

معلول
سب کا مسبب، یعنی جیسے ہم کہتے رب مسبب الاسباب ہے، یعنی علت کا معلول ہے، انسان علت ہے تو رب معلول مسبب سبب کرنے والا.
فلسفہ کی تاریخ پہ نظر دوڑائی جائی تو ارسطو، سقراط اور افلاطون سے بھی بہت قبل اک یونانی نام ابھرتا ہے، اس کا نام ”پارامینڈس“ ہے، جو وجود اور عدم وجود کے مابعد الطبیات فلسفے کا باپ گردانا جاتا ہے، اسے ہیر قلاطیس سے بھی بہت قبل کا فلسفی تسلیم کیا گیا، اور بالترتیب سبھی دنیا میں جتنے بھی بڑے بڑے فلسفی گزرے، پلوٹو، ارسطو، سکریٹ، ہیرا اقلاطیس، مارک، لینن، ہیگل، کانٹ، ڈیکارٹ، سب کے ہاں اسی فلسفی ِاعظم کے فلسفہ وجود عدم وجود کے بنیادی اجزا پائے جاتے ہیں.

فلسفہ وجود و عدم!
سب سے بنیادی سوال، کہ موجودات کیا، عدم موجودات سے وجود میں آئے ہیں؟ مطلب جو ہماری خلا ہے وہ عدم ( خالی ہے کچھ نہیں) ہے اور یہ کائنات وجود ہے، سم تھنگ ہے، تو کائنات کہاں سے تخلیق ہوئی، عدم یعنی کچھ نہیں سے Something میں ڈھلی ہے؟ تمام تر فلاسفہ مناطقہ کے اس سوال پہ تقریباً پران چھوٹ جاتے ہیں، وہ کہتے ہیں وجود ہمیشہ سے تھا، ان کا ماننا ہے کہ ہوا مٹی آگ پانی عناصر ِاربعہ ہمیشہ سے تھے اور ہمیشہ رہیں گے، مگردوسرے مناطقہ اسی بات پہ اڑے کہ اگر وجود موجود ہے تو آیا کہاں سے، اس کا بیک اپ صرف عدم ہے، کیا عدم اس کا مخزن ہے؟ کیسے؟ کیا موجودات یعنی کائنات ،عدم سے وجود میں آئے ہیں یا نہیں؟ اور اگر عدم سے وجود میں آئے ہیں تو خود عدم کے وجود کی نوعیت کیا ہے اور کیا اس کا وجود ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کیے جانے کے قابل بھی ہے یا نہیں ہے.

ہر چیز سے دوسری چیز نکلی ہے، پشت در پشت، تو وجود کی پشت عدم وجود ہونی ہے؟، کہ Nothing خلا وہ کوکھ ہے جس سے Something معرض ِوجود میں آئی؟ تو ان کے پاس نفی میں گردن سرکانے کے سوا چارہ نہیں بچتا ورنہ اس منطقی و عجب خیز سوال، عجب زاویے کے سوال کی اہمیت کتنی ہے یہ بڑی رمز کی بات ہے، جیسے ہیرقلاطیس سب سے پہلے اس سوال کا جواب کچھ یوں دیتا ہے، وہ کہتا ہے
”حرکت ( movement) ہمیشہ عدم ( خالی جگہ) میں ممکن ہے، اس کے بغیر ممکن نہیں، یعنی مجرد رکاوٹ والی جگہ پہ تو حرکت ممکن ہی نہیں ، سو اس کے لیے سپیس درکار ہے، یعنی حرکت ِوجود عدم کی ہمدم ہے، اسی کی مرہون ِ منت ہے.“
ہیراقلاطیس کے خیال میں حرکت حقیقت کا سب سے بنیادی اصول ہے اور کسی شے کو بھی ثبات نہیں ہے، حرکت ہی زندگی ہے۔ ہیرقلاطیس نے کہا ”تم کسی دریا میں دو بار قدم نہیں ڈال سکتے کیونکہ دوسری بار وہ پانی گزر چکا ہوگا اور ایک مطلق نیا دریا بہہ رہا ہوگا۔“

اب حرکت کیا ہے؟ کسی شے کا اس حالت میں بدل جانا جس میں وہ پہلے نہیں تھی، حرکت کہلاتا ہے۔ یعنی حرکت دراصل کیفیت یا حالت کی تبدیلی ہے۔ لیکن حرکت کے نتیجے میں شے جس نئی حالت میں بدل گئی ہے وہ حالت پہلے وجود نہیں رکھتی تھی، اور اس لیے عدم میں تھی۔ پس اگر کسی شے یا وجود میں عدم کا اضافہ کیا جائے ( یہاں عدم سے مراد وہ شے کی وہ حالت ہے جس میں وہ شے پہلے موجود نہیں تھی) تو وہ شے ٹرائی اینگل کے لمحے سے گزرتی ہوئی ایک بالکل نئی شے بن جاتی ہے۔ پس حرکت کا تصور اس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے کہ وجود وہ کچھ بن چکا ہے، جو وہ پہلے نہیں تھا یعنی وجود میں عدم کا اضافہ ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اپنا آپ اللہ کو سونپ دو - قراۃ العین اشرف

اب اک اور عیجب و غریب سوال جنم لیتا ہے کہ عدم (Nothing) بھی وجود رکھتا ہے؟ مطلب ”جو نہیں ہے“ وہ ہے؟ اگر اس کا جواب نہیں میں ہے تو اس طرح ہوگا کہ ”نہ ہونا“ نہیں ہے۔ یہ جواب واضح ہے۔ مگر اس جواب سے یہ تاثر ملتا ہے کہ عدم کا وجود اک منطقی مغالطہ و مبالغہ ہے، اور اس مغالطے سے مزید یہ جواب نکلتا ہے کہ ہر طرف وجود ہی وجود کے ڈونگرے و نقشے ہیں اور عدم خلا محض اک خیال ہے اور اس سے مزید بات وہیں آ پہنچتی ہے کہ ہر جگہ اگر وجود ہے تو مادہ نہ پیدا ہوتا ہے، نہ تباہ ہوتا ہے، ہمیشہ سے تھا ہمیشہ رہےگا، ہرجگہ ہر طرف کو بہ کو چار سو.

پارمینڈس ہمیں اس کا جواب دیتا ہے، یعنی میں اک مثال لیتا ہوں، میرے پاس دو سگریٹ ہیں اور دونوں فضاء میں معلق ہیں، دونوں کا وجود عدم وجود کی وجہ سے ہے، یعنی ان دونوں برابر لٹکے سگریٹ فلٹرز کے درمیان موجود خلا جو انہیں دو سگریٹ کے الگ الگ کھڑے ہونے کے درمیان پیدا ہوتی ہے، ان دونوں کو شناخت دیتی ہے، سو ثابت ہوتا ہے کہ عدم خلا سے ہی وجود وجود ہے، ورنہ اس کی شناخت ناممکن ہے، پارمینڈس اسے اپنی مثالوں سے کچھ یوں واضح کرتا ہے کہ وہ کہتا ہے، ہم موجودات کے درمیان بہت سا فرق پاتے ہیں۔ میز میز ہے اور کرسی نہیں ہے۔ درخت درخت ہے اور پانی نہیں ہے۔ احمد احمد ہے اور بکر نہیں ہے۔ سو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ موجودات کے درمیان فرق عدم کی بنیاد پر ہے۔ ایک شے دوسری شے نہیں ہے۔ لیکن اگر یہ عدم درمیان سے ہٹا دیا جائے تو کیا ہو؟ پھر ظاہر ہے کہ اشیا کا فرق ہی ختم ہو جائے اور پارمینڈیس یہی دکھانا چاہتا ہے۔ موجودات میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ عدم کا کوئی وجود نہیں ہے۔ تمام موجودات دراصل ایک کلی وجود ہیں اور ان کا ظاہری تفاوت محض دھوکا ہے جو عدم کو درمیان میں لانے سے پیدا ہوتا ہے

اب جیساکہ فلسفے کی دیرینہ خصلت ہے، اک اور سوال کھڑا ہوگیا، کہ اک بات ثابت کہ حرکت عدم وجود کی وجہ سے ہے اور کائنات میں تو کوئی جگہ خالی ہی نہیں ہے تو پھر حرکت کہاں سے آئی؟ تو کہا گیا، حرکت محض دھوکہ، نظر کا فریب ہے، رد ِحرکت کا نظریہ پارمینڈس کے شاگرد نے پیش کرکے حفظ ماتقدم آگے اک اور سوال کھڑا کر دیا
کہ اب کائنات کیا ہے؟ ؟ جس میں نہ تو حرکت ہے نہ خالی جگہ ہے اور نہ ہی اک وجود سے دوسرے وجود میں کوئی فرق و وجہ فرق؟ اگر حرکت نہیں ہے تو پھر ہو کیا رہا ہے؟
اب اس کا جواب مناطقہ یوں فراہم کرتے ہیں کہ ہماری کائنات دو رخی ہے، اک کی سمت کلی سکون میں ہے، حرکت کے بغیر اور دوسرا رخ حرکت میں ہے، پھر حفظ ماتقدم فلسفہ کے اک اور سوال پیدا ہوگیا کہ موجودات میں تفاوت اور حرکت کیسے؟ جبکہ عدم خلا الگ ہوگیا تو زمین پہ حرکت کیسے ہوتی ہے، جب خالی جگہ تو ہے نہیں اس میڈیم میں؟
اب اس کا جواب وہ یوں دیتا ہے،
پارمینڈیس کے نزدیک ہم ہر شے کا علم یا تو حواس سے حاصل کرتے ہیں یا عقل سے۔ ہمارے حواس خام ہیں اور اسی وجہ سے ہمیں حرکت اور تفاوت محسوس ہوتا ہے، مگر عقل کامل ہے اور ہمیں حقیقت کا علم دیتی ہے، ایسی حقیقت جس میں محض وجود ہے اور کوئی عدم یا حرکت و تفاوت نہیں ہے۔ پس ہمارے فلسفی کے نزدیک حقیقت اور ظاہر کا فرق عقل اور حواس کے فرق کی وجہ سے ہے۔ اب آپ پارمینڈیس کے سارے نظام پر مجموعی طور پر نظر ڈالیں تو کچھ یہ صورت بنتی ہے کہ ”حقیقت اور ظاہر“ میں شراکت ہے، دوئی ہے اور ”عقل اور حواس“ کی دوئی ہے۔ ”وجود کلی اور سکون حقیقی“ ہے اور عقل کے ذریعے اس تک پہنچا جا سکتا ہے۔ انفرادی موجودات اشیاء اور ان کی حرکت ظاہری دھوکا ہے اور حواس کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔

افلاطون
عالم ِ حواس، عالم ِامثال
افلاطون شخصی خدا کا قائل نہیں ہے، اس نے دو عالموں کا تصور پیش کیا، یہ نظریہ تاریخِ فلسفہ میں افلاطونیت یا مثالیت (idealism ) کہلاتا ہے، ایک ظاہری عالم جس کا ادراک ہم اپنے حواس سے کرتے ہیں اور دوسرا عالم امثال جس تک فکر و استدلال کی رسائی ممکن ہے، روح انسانی کا قائل ہے، اور اس کو دو حصوں میں منقسم کرتا ہے، اوپر کا حصہ عقلی استدلالی کا ہے جو امثال کا ادراک کرتا ہے اور فنا نہیں ہوتا، جبکہ روح کا غیر عقلیاتی حصہ فانی ہے اور مزید دو حصوں میں منقسم ہے، اعلیٰ اور اسفل،اعلیٰ حصے میں شجاعت، جودو سخا اور اور دوسرے محاسن اخلاق ہیں جبکہ اسفل حصہ شہوات کا مرکز ہے، افلاطون کہتا ہے کہ انسانی روح مادے کی گرفت میں آکر قید ہو گئی ہے اور اپنی اصل مثل (خدا یا خیر مطلق کے مثل) کی طرف لوٹ جانے کے لیے بے قرار رہتی ہے، اور یہ رہائی صرف تعمق و تفکر سے ہی میسر آ سکتی ہے، کائنات بامقصد ہے جبکہ کائنات کا تغیر بلا مقصد ہے.

کانٹ
اس کی کتاب تنقید بر عقل محض جس نے فلسفے کی تاریخ کو جنجھوڑ کر رکھ دیا مگر خود وہ مابعد الطبیات کے موضوع کو پرکھتے ہوئے لکھتا ہے
”یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں مابعد الطبیعات کا عاشق ہوں لیکن میری اس محبوبہ نے میرے ساتھ بہت کم التفات کیا ہے.“ وہ مابعد الطبیعات میں گہری دلچسپی لیتا تھا. ایک زمانہ اس پر ایسا بھی آیا جس کے بارے میں وہ خود کہتا ہے کہ ”میں مابعد الطبیعات کے تاریک پامال میں پھنسا رہا. یہ ایک ایسا سمندر ہے جس کا نہ کوئی کنارہ ہے نہ روشنی دکھانے والا مینار.“
سارتر جیسے آدمی نے کانٹ کی شخصیت اور اس کے افکار کے تضاد کو مؤثر انداز میں نمایاں کیا ہے، وہ لکھتاہے. ”یہ سیدھا سادہ عام پروفیسر ظاہر اور باطن کے عظیم ترین تضاد کا حامل تھا. لوگ اسے دیکھ کر اپنی گھڑیوں کا وقت درست کرتے تھے لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ اسے شخص نے ان کی زندگیوں کے ساتھ وابستہ عقائد کو سفاکی سے قتل کر دیا ہے.“ وہ لکھتا ہے کہ ”مذہب کی بنیاد نظریاتی عقل کی منطق پر نہیں رکھنی چاہیے. بلکہ اس کی بنیاد عملی عقل اور اخلاقیات پہ استوار کی جائے، یعنی بائبل جیسی کتاب کو عقل کے بجائے اخلاقیات کی بنیاد پہ پرکھا جائے گا.“
وہ اک اور جگہ لکھتا ہے
”ہم کسی ایسے تجربے کا ذکر ہی نہیں کر سکتے جس کی وضاحت اور تشریح مکان، زمان اور اسباب علت سے نہ ہو سکتی ہو. کانٹ کے فلسفے سے کلیسا اور مذہبی دنیا اور اس کے تعلقات میں انقلاب آیا. اختلافات کا ایک باب وا ہوا جو کبھی بند نہ ہو سکا. حواس کو ترک کر کے عقل محض کو زندگی کے معنی و مقصد قرار دے کر کانٹ نے فلسفے کا ایسا نظام قائم کیا جس نے پہلے نظریات کو یکسر بدل کر رکھ دیا، وہ عقل کو منبع اور سچائی قرار دیتا ہے. حواس کے ذریعے سے حاصل ہونے والے تجربوں کو غلط کہتا ہے، کیونکہ ان میں انتشار ہوتا ہے، ان میں نظم اور وحدت کا فقدان ہوتا ہے.“

یہ بھی پڑھیں:   آجکل کے پڑھے لکھے اور ماضی کے ان پڑھ - میر افسر امان

کانٹ کا ایک جملہ ہے.
”کانسیپٹ کے بغیر تقلید اندھی تقلید ہے.“ تنقید برعقل محض میں بتاتا ہے.
”تجربہ ایسی چیز نہیں ہے کہ جس پر علم کا انحصار ہو، تجربے کی بدولت ہم خالص علم حاصل نہیں کر سکتے ،تجربہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کیا ہے؟ لیکن یہ بتانا اس کے بس میں نہیں کہ کیوں ہے؟ اور پھر لازم نہیں کہ تجربہ ہمیں صحیح معنوں میں یہ بھی بتا سکے کہ کیا ہے؟ کی اصل کیا ہے.انسان کے اندر کی سچائی تجربے سے آزاد ہونی چاہیے.“
وہ کہتا ہے،
”ہم تجربے کی بدولت کہاں تک آگے بڑھ سکتے ہیں؟ اس کا جواب ریاضی سے ملتا ہے، ریاضی کا علم یقینی بھی ہے اور ناگزیز بھی، ہم مستقبل کے بارے میں ریاضی کے اصول کو توڑ کر محض تجربے کی بناء پر علم حاصل نہیں کر سکتے. ہم یہ یقین کر سکتے ہیں کہ مستقبل میں سورج مغرب میں طلوع ہو سکےگا. یہ بھی یقین کر سکتے ہیں کہ آگ لکڑی کو نہ لگے گی لیکن ہم پوری زندگی یہ بات تسلیم نہیں کر سکتے کہ دو اور دو چار کے علاوہ بھی کچھ بن سکتے ہیں. یہ سچائی تجربے سے پہلے کی ہے، لازمی اور ناگزیز سچائیاں تجربے کی محتاج نہیں ہوتی ہیں اور ایسی سچائیاں کبھی غلط ہو ہی نہیں سکتی ہیں.“
وہ کہتا ہے،
”تجربے کا حاصل انفرادی اور منتشر ہیجان کے علاوہ کچھ نہیں. سچائیاں ہمارے دماغ کی پیداوار ہیں. ہمارے ذہنی اور دماغی ساخت سے جنم لیتی ہیں. ذہن ایسا نہیں ہے کہ جیسے برطانوی فلسفیوں نے کہا ہے کہ اس پر موم رکھی ہو اور اسے حرارت ملے تو اس پر نقش بیٹھ جاتا ہے. ذہن مفعول نہیں فاعل ہے. ذہن مجرد احساسات اور کیفیات کا بھی نام نہیں. ذہن ایک افعال عضو ہے جو ہیجانات کو خیالات میں تبدیل کرتا ہے، جو منتشر اور گمراہ تجربات کے دوہرے پن کو منظم خیالات کی شکل دیتا ہے.“ کانٹ اپنے اس فلسفے کو (ماورائی) فلسفے کا نام دیتا ہے.

ڈیکارٹ
فلسفہ میں قطعیت کا شوقین تھا، اس نے اس کے قطعی ہونے اور کرنے میں اپنا حصہ ڈالا. وہ ریاضیات کی قطعیت سے بےحد متاثر تھا اور فلسفہ کو ایسی ہی قطعی بنیادوں پر تشکیل دینا چاہتا تھا تاکہ فلسفہ کے مفروضات و نتائج بھی شبہات سے ممکن حد تک آزاد و مبرا گردانے جائیں۔ فلسفہ میں اس کے منہج کو تشکیک Method of Doubt سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اپنے فلسفیانہ تفکر کے آغاز میں وہ خدا، دنیا اور حواس خمسہ سمیت ہر شے کو اپنی تشکیک کا ہدف بناتا ہے، لیکن اس تشکیک میں اس کو یقین کا ایک نکتہ ہاتھ آجاتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ وہ ہر شے کی بابت شک کرتا رہا، لیکن اپنی ذات، یعنی شک کرنے والی شے، پر شبہ نہ کرسکا۔ اگر شک کرنے والی شے غیر حقیقت یا عدم وجود کی حامل ہے، تو پھر شک کرنے کے عمل کو کون انجام دے رہا ہے۔ مزید برآں تشکیک تفکر پر دلالت کرتی ہے، لہذا تفکر پر مبنی عمل تشکیک کے ذریعہ وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ میں سوچتا ہوں، اس لیے میرا وجود ہے۔ اس نکتہ یقین سے اس نے بقیہ تمام نتائج ریاضیات کی طرح اخذ کیے ہیں۔ وہ اپنی ذات کا تنقیدی تجزیہ کرتا ہے اور اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اس کے ذہن میں بعض وہبی تصورات Innate Ideas پائے جاتے ہیں۔ ان تصورات میں ایک اکمل ذات یا خدا کا تصور ہے۔ اس کے ذہن میں اس تصور کا خالق، خود خدائے اکمل کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا کا وجود ہے۔ خدا کے وجود کے اثبات کے سلسلہ میں یہ اس کی کونیاتی Cosmological یا علیِّ دلیل ہے۔ خدا کی ذات کے اثبات میں وہ وجودیاتی دلیل بھی دیتا ہے۔ اگر خدا کی ذات اکمل ہے تو پھر اس کا وجود بھی لازمی ہے، اس لیے کہ وجود کا فقدان عدم اکملیت کے مترادف ہے۔ چنانچہ ایک اکمل ذات کے تصور میں لازمی طور پر اس کے وجود کا تصور بھی شامل ہے، جس طرح ایک مثلث کے تصور میں یہ تصور بھی شامل ہے کہ اس کے تین زاویے ہوں گے اور ان زاویوں کا مجموعہ دو زاویہ قائمہ کے برابر ہوگا۔ اپنے فلسفہ کو جوہر Substance کے تصور پر استوار کرتے ہوئے ڈیکارٹ خدا کو ایک موجود بالذات اور خود مختار جوہر قرار دیتا ہے جو دیگر اشیا کا محتاج نہیں ہوتا۔ اس کے نزدیک جوہر وہ ہے جو وجود بالذات Self Created رکھتا ہو اور مخلوق بالذات ہو یعنی اپنے وجود کے لیے کسی اور علت کا پابند نہ ہو۔ اس تعریف کی رو سے جوہر ایک ہی ہوسکتا ہے اور وہ خدا ہے۔ لیکن ایک طبعیات داں کی حیثیت سے وہ مادے کے وجود سے منکر نہ ہو سکا۔ لہذا خدا کے علاوہ دو اور جوہروں کے وجود میں بھی وہ یقین رکھتا ہے جن کو وہ ممتد جوہر Extended Substance اور مفکر جوہر Thinking Substance کے ناموں سے موسوم کرتا ہے اور جن سے وہ روح اور مادہ مراد لیتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ان کا مبدا خدا کی ذات ہے لیکن یہ دونوں ثانوی جواہر بھی ضمنی اعتبار سے وجود بالذات کے حامل، اور اپنے اپنے دائرہ کار میں مکمل طور پر آزاد ہیں۔ تمام طبعی دنیا ایک جوہر ممتد ہے جو میکانیکی قوانین فطرت کی تابع ہے اور یہی متحرک مادہ بالآخر طبعی دنیا کو وجود میں لانے کا سبب بنتا ہے۔

فلسفے میں ڈول ازم کی اصطلاح جب متعارف کروائی گئی تو اوپر کے مندرجات کو یوں ترتیب دیا جو بالترتیب ان فلاسفیوں کو مرتب کرتی تھی جسے ثنویت کا نام دیا گیا یعنی
افلاطونیت
حواس کی دنیا اور ادرک کی دنیا
ڈیکارٹ
سوچ کا مادہ اور خارجی مادہ
لائینے
امسکانی دنیا اور اصل دنیا
کانٹ
مظہری دنیا اور عنصری دنیا

ڈیکارٹ کہتا ہے کہ میں سوچتا ہوں، اس لیے میں ہوں. پس شروع سے کر آخر تک سوچ کی جتنی بھی تاریں ہلیں ان میں سوالات کا جوہر کشید ہوا، ان سے نت زاویے نمودار ہوئے، مگر اک بات تو ہے کہ فلسفہ از خود حواس پہ طاری، اک انتشار سے بھاگتا ہوا دوسرے انتشار میں پڑتا ہوا تھیورم ہے، جسے گھوم پھر کر باقاعدہ آنا تو ارفع قوت ہی کی طرف کہ جیسے اس نے کہا کہ
”میں ہر چیز پہ شک کرتا رہا لیکن اپنی ذات، یعنی شک کرنے والی شے، پر شبہ نہ کرسکا۔ اگر شک کرنے والی شے غیر حقیقت یا عدم وجود کی حامل ہے، تو پھر شک کرنے کے عمل کو کون انجام دے رہا ہے؟؟“
بولو؟؟