پاکستان میں دہشت گردی، علماء کا متفقہ مؤقف - محمد حسن الیاس

ایک عام آدمی کے لیے اس بات کوسمجھنا شاید مشکل ہو کہ ملک میں موجود دہشت گردی کے حوالے سے ہمارے علمائے کرام کیا مؤقف رکھتے ہیں۔ علمائے کرام سے جب اس حوالے سے پوچھا جاتا ہے تو وہ ایک ”متفقہ قرارداد“ کو پاکستان میں دہشت گردی کی صورت حال پر اپنا مؤقف قرار دیتے ہیں۔ اس تحریر میں ہم نے کوشش کی ہے کہ اس موضوع پرعلماء جیسے اپنی بات کو بیان کرتے ہیں، انھی کی زبانی اس کو نقل کیا جائے، اور اس پر اپنی تنقید پیش کی جائے۔

اپریل 2010ء کو جامعہ اشرفیہ لاہور میں ملک بھر سے ڈیڑھ سو کے لگ بھگ سرکردہ علمائے کرام سر جوڑ کر بیٹھے۔ ایک بھرپور اور نمائندہ اجتماع منعقد ہوا جس کے شرکا کا تعلق دیوبندی مسلک سے وابستہ دینی و سیاسی جماعتوں، دینی مدارس اور علمی مراکز سے تھا۔ یہ ایک تاریخی اجتماع تھا جو صرف اس لیے منعقد ہوا تھا کہ ملک میں موجود دہشت گردی کے حوالے سے علمائے کرام اپنا متفقہ نقطہ نظر قوم کے سامنے پیش کریں۔ اس اجتماع میں حلقہ دیوبند کی سیاسی جماعت کی مکمل قیادت، وفاق المدارس کی مکمل قیادت اور تمام بڑی جامعات کے مہتم حضرات بھی موجود تھے۔

اس طویل اجلاس کے بعد علمائے کرام نے دہشت گردی پر اپنا مؤقف نکات کی صورت میں قوم کے سامنے پیش کیا، ہم بالترتیب تمام نکات یہاں پیش کر رہے ہیں۔ ہر نکتے کے بعد اس پر ہماری تنقید موجود ہے۔

دہشت گردی کے حوالے سے اس قرار داد کا پہلا نکتہ یہ تھا:
(1) اس بات پر ہمارا ایمان ہے کہ اسلام ہی نے یہ ملک بنایا تھا اور اسلام ہی اسے بچا سکتا ہے، لہٰذا حکومت کا فرض ہے کہ وہ ملک میں اسلامی تعلیمات اور قوانین کو نافذ کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارا دینی فریضہ بھی ہے اور ملک کے آئین کا اہم ترین تقاضا بھی اور اسی کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے ملک میں انتہاپسندی کی تحریکیں اٹھی ہیں، اگر ملک نے اس مقصد وجود کی طرف واضح پیش قدمی کی ہوتی تو ملک اس وقت انتہاپسندی کی گرفت میں نہ ہوتا، لہٰذا وقت کا اہم تقاضا ہے کہ پرامن ذرائع سے پوری نیک نیتی کے ساتھ ملک میں نفاذ شریعت کے اقدامات کیے جائیں، اس کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل اور فیڈرل شریعت کورٹ کو فعال بنا کر ان کی سفارشات اور فیصلوں کے مطابق اپنے قانونی اور سرکاری نظام میں تبدیلیاں بلا تاخیر لائی جائیں اور ملک سے کرپشن، بے راہ روی اور فحاشی و عریانی ختم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ (حوالہ قرارداد)
ہماری تنقید:
اس نکتے کو دقت نظر سے پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ علمائے کرام یہ فرما رہے ہیں کہ ملک میں جلد از جلد شریعت کا نظام نافذ کیا جائے اور اس کے لیے یہ جملہ اقدامات فی الفور کیے جائیں۔ یعنی وہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ اس وقت جو نظام ہمارے ملک میں موجود ہے، وہ شریعت کے خلاف ہے، اس کی اصلاح ناگزیر ہے، لہٰذا حالات کی خرابی اور دہشت گردی کی اصل وجہ شرعی نظام کا نافذ نہ ہونا ہے۔ یہاں اگر آپ غور سے دیکھیں تو ملک میں موجود شدت پسند عناصر کے اس اصولی مؤقف سے علماء نے پوری طرح اتفاق کیا ہے کہ یہ نظام طوعاََ و کرہاََ برداشت کیا جا رہا ہے، اور اس کا خاتمہ بہرکیف یقینی ہے۔ اس نُکتے کی اہمیت کو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کیوں اسے سب سے پہلے نمبر پر لکھا گیا ہے۔ یہ دہشت گردی کی مذمت پر پہلا ردِعمل ہے کہ دہشت گردوں کی ڈیمانڈ فی الفور پوری کی جائے اور ان کی خواہشات اور آرزوؤں کے مطابق نظام کو ڈھال دیا جائے۔

(2) تمام سیاسی اور دینی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے دوسرے مقاصد پر نفاذ شریعت کے مطالبے کو اولیت دے کر حکومت پر دباؤ ڈالیں اور اس کے لیے مؤثر مگر پرامن جدوجہد کا اہتمام کریں اور عوام کا فرض ہے کہ جو جماعتیں اور ادارے اس مقصد کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں ان کے ساتھ مکمل تعاون کریں ۔(حوالہ قرارداد)
ہماری تنقید:
اس دوسرے نکتے میں بھی پچھلی بات کی مزید توضیح ہے۔ اور نفاذ شریعت کو سیاسی جماعتوں کی اولین دینی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ جس نظامِ باطل کی جگہ نفاذِ شریعت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، اس کا حصہ آخر ہمارے علماء کیوں بنے؟ دیوبند کی سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام کا دستور اس بات کا جواب دیتا ہے کہ اس نظام میں شریک ہونا ہمارے مقاصد کے حصول کے لیے محض ایک سیڑھی ہے۔ ہمارا اصل مقصد دراصل خدا کی عالمی حکومت کا قیام ہی ہے۔ اس نکتے میں دوسری اہم بات پرامن جدوجہد کی ہے۔ علماء کی رائے میں یہ راستہ اس مقصد کے حصول کا ایک طریقہ ہے۔ یہاں پر شدت پسندوں سے اپنی حکمتِ عملی پر اصولی اشتراک کو ظاہر کرتے ہوئے اختلاف ظاہر کیا گیا ہے کہ مقاصد کے حصول میں پرامن جدوجہد کی جائے۔ اس اختلاف کی حقیقت کیا ہے؟ اسے غور سے دیکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ علماء کا اپنا طرزعمل اس دعوی کے خلاف رہا ہے۔ کشمیر، چیچنیا، افغانستان اور خود پاکستان میں مسلح تنظیمیں، ان کے جتھوں کو منظّم کر کے بھیجنا ان کی حکمت عملی کا ہمیشہ سے حصہ رہی ہے، گویا پُرامن رہ کر یہ جدوجہد کرنا محض اس وقت کا تقاضا ہے۔ شاہ اسماعیل صاحب سے لے کر انگریز کے خلاف اس پُرامن جدوجہد کی تاریخ علماء کے ہاں اس کی اہمیت کی آئینہ دار ہے۔

(3) اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی کو قرار دیا جا رہا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دہشت گردی نے ملک کو اجاڑنے میں کوئی کسر چھوڑ نہیں رکھی، جگہ جگہ خود کش حملوں اور تخریبی کارروائیوں نے ملک کو بدامنی کی آماجگاہ بنایا ہوا ہے، ان تخریبی کارروائیوں کی تمام محب وطن حلقوں کی طرف سے بار بار مذمت کی گئی ہے، اور انہیں سراسر نا جائز قرار دیا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ کارروائیاں مستقل جاری ہیں، لہٰذا اس صورت حال کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آخر ملک بھر کی متفقہ مذمت اور فوجی طاقت کے استعمال کے باوجود یہ کارروائیاں کیوں جاری ہیں؟ اور اس کے بنیادی اسباب کیا ہیں؟ ہماری نظر میں اس صورتحال کا بہت بڑا سبب وہ افغان پالیسی ہے جو جنرل پرویز مشرف نے غلامانہ ذہنیت کے تحت کسی تحفظ کے بغیر شروع کر دی تھی، اور آج تک اسی پر عمل ہوتا چلا آرہا ہے، لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت امریکہ نوازی کی اس پالیسی کو ترک کر کے افغانستان کی جنگ سے اپنے آپ کو بالکل الگ کرے اور امریکی افواج کو مدد پہنچانے کے تمام اقدامات سے دستبردار ہو۔ (حوالہ قرارداد)
ہماری تنقید:
اس تیسرے نکتے میں علمائے کرام نے دہشت گردی کی جڑ کو دریافت کر لیا ہے، اور وہ وجہ بیان فرمائی ہے ”افغانستان“۔
علماء نے اس حوالے سے دہشت گردوں سے ذرہ برابر بھی اختلاف ظاہر نہیں کیا، بلکہ ان کے بیانیہ کو ٹھیک انھی کے الفاظ میں پیش کردیا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جس طرزِ ریاست کو مذہب کا تقاضا سمھجتے ہیں، اس کا مکمل ظہور ان کی بصیرت کی مطابق افغانستان میں ہو چکا ہے، اور اس کے بعد پوری دنیا میں ہونا تھا۔ جیسے ہی اس کامیابی کو آگے پھیلانے کا آغاز کیا گیا، اور دنیا کو سرنگوں اور محکوم بنانے کی سعی کی گئی تو اس کا ردِعمل آیا، اس ردِعمل میں پاکستان کو کہاں کھڑا ہونا چاہیے تھا؟ علماء اس قرارداد میں بیان کر رہے ہیں وہاں، جہاں اس نظامِ غلبہ دین کو استحکام بخشنے میں مدد ملتی ہو۔ چنانچہ افغانستان میں موجود طالبان حکومت اور اس کی کارروائیاں علماء کی نظر میں مذہب کے عین مطابق تھیں اور اس باب میں ان کا مزاحم بننا دہشت گردی کو پیدا کرنے کے مترادف ہے۔

(4) یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حکومت کی غلط پالیسیوں کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم خود اپنے گھر کو آگ لگا بیٹھیں، لہٰذا ہم پورے اعتماد اور دیانت کے ساتھ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان کے موجودہ حالات میں نفاذ شریعت اور ملک کو غیر ملکی تسلط سے نجات دلانے کے لیے پرامن جدوجہد ہی بہترین حکمت عملی اور مسلح جدوجہد شرعی اعتبار سے غلط ہونے کے علاوہ مقاصد کے لیے بھی سخت مضر ہے، اور اس کا براہ راست فائدہ ہمارے دشمنوں کو پہنچ رہا ہے اور امریکہ اسے اس علاقے میں اپنے اثر و رسوخ کو دوام بخشنے کے لیے استعمال کر رہا ہے. اگر کوئی شخص اخلاص کے ساتھ اسے دین کا تقاضا سمجھتا ہے تو یہ اجتماع اس بات پر اتفاق کرتا ہے کہ ایسے حضرات کو حالات کے تقاضوں اور ضرورتوں سے آگاہ کر کے مثبت کردار کی ادائیگی پر آمادہ کرنے کے لیے ناصحانہ اور خیرخواہانہ روش اختیار کی جائے۔(حوالہ قرارداد)
ہماری تنقید:
اس نکتے میں اصل خرابی کی طرف مزید التفات کرتے ہوئے تین اہم باتیں کی گئی ہیں۔
شدت پسندوں سے نفاذِ شریعت کے لیے مقاصد میں اشترک کے باوجود مسلح جدو جہد کرنا
ا۔حکمت عملی کے خلاف ہے۔
ب۔ مقاصد کے لیے مضر ہے۔
ت۔شرعی لحاظ سے غلط ہے۔
یہاں پہلی اور دوسری بات میں علماء محض مشورے کی جگہ پر کھڑے ہو کر دہشت گردوں کو نصیحت کر رہے ہیں کہ بھائی اس سے مقاصد کا حصول مشکل ہو جائے گا لہذا حکمتِ عملی کی تبدیلی پر غور کیا جائے۔
تیسری بات اہم ہے۔ اس میں علماء نے پرامن جدوجہد نہ کرنے کو خلافِ شریعت قرار دیا ہے۔ وہ کون سی شریعت کی نص ہے جس کے خلاف ہے؟ اور اس خلاف ورزی کی نوعیت کیا ہے؟ اس بات کا ذکر قراد داد میں کہیں موجود نہیں، البتہ اس سے پچھلی شِق میں اس مسلح جدوجہد کے ذریعے وجود میں آنے والی طالبان حکومت کے خلاف اقدامات سے پاکستان کو خبر دار کیا گیا ہے۔ گویا مسلح جدوجہد خلاف شریعت ہونے کے باوجود اگر کامیاب ہوجائے تو اس کی تائید نہ کرنا دہشت گردی کا باعث ہے، اور کامیاب نہ ہو تو خلاف شریعت رہےگی۔ یعنی یہ ایک اطلاقی معاملہ ہے جس پر رائے کا انحصار نتائج پر ہے۔ یہاں علماء نے اسی تضاد کا اظہار کیا ہے جو ان کے قول و فعل میں موجود ہے۔ دراصل وہ یہی کہنا چاہتے ہیں کہ اس وقت یہ طریق کار مؤثر نہیں ہے لہٰذا اسے نہ اپنایا جائے بلکہ ان کی اصطلاح مستعار لوں تو وہ کہہ رہے ہی کہ یہ بقائے دین کا دور ہے، غلبہ دین کو فی الوقت موخر کر دیاجائے۔ اور اس کے لیے اپنی توجہات اس جانب موڑ دی جائیں جہاں وہ کامیاب رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مولانا! یہ کہانی چل چکی ہے - عامر ہزاروی

(5) حکومت اس بات کا احساس کرے کہ اندرونی شورشوں کا پائیدار حل بالآخر پرامن مذاکرات کے سوا کچھ نہیں ہوتا، چنانچہ ملک کی پارلیمنٹ نے اس حوالے سے اپنی متفقہ قرارداد میں ایک طرف سابق حکمرانوں کی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرنے اور ڈرون حملوں اور غیر ملکی مداخلت کے بارے میں قومی خود مختاری کے تحفظ پر زور دیا تھا اور دوسری طرف اندرونی شورش کے لیے مذاکرات ہی کا طریقہ تجویز کیا تھا، لیکن پارلیمنٹ کی اس قرارداد کو عملاً بالکل نظرانداز کر دیا گیا ہے، لہٰذا حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس قرارداد کے مطابق اپنی حکمت عملی کو تبدیل کر کے خانہ جنگی کاخاتمہ کرے۔ (حوالہ قرارداد)
ہماری تنقید:
یہاں علما نے اس شورش کو کم کرنے کے لیے چند تجاویز دی ہیں:
پہلی یہ کہ شدت پسندوں اور دہشت گردوں سے مذاکرات کیے جائیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ مذاکرات کرنا مذہب کے کس حکم کا تقاضا ہے؟ اگر دہشت گردوں کی حکمتِ عملی خلاف دین ہے اور وہ فساد کا باعث ہے تو شریعت اسلامی تو اس فساد کے خاتمے کی بات کرتی ہے بلکہ عبرت ناک انجام دینے کا حکم ہے، تو کیا وجہ ہے کہ علماء اسے فساد نہیں قرار دے رہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ علماء کے نزدیک یہ درست اور جائز مطالبات ہیں جنھیں اخلاص اور جذبے سے پر افراد اچھی نیت سے نافذ کروانے کے لیے خون بہا رہے ہیں، لہٰذا میز پر بیٹھا جائے اور انھیں باور کروایا جائے کہ ان کی امنگوں کے مطابق اس نظام کو جلد از جلد نافذ کر کے اقتدار کی کُنجیاں ان کے حوالے کر دی جائیں، تاکہ ان کے دستور کے مطابق صالحین اقتدار کی ذمے داریاں سبنھال لیں۔ اس کے علاوہ آخر ان سے کس نکتے پر مذاکرات ہوں گے؟

(6) تمام مسلمانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ مشکلات اور مصائب کا اصل حل اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے، اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے ساتھ اس کی رحمتیں حاصل نہیں کی جا سکتیں، لہٰذا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور ہر طرح کے گناہوں سے توبہ کر کے رشوت ستانی اور ہر طرح کی حرام آمدنی، بےحیائی اور فحاشی، جھوٹ، غیبت اور دنیوی اغراض کے لیے باہمی جھگڑوں سے پرہیز کریں اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی طر ف متوجہ ہوں، شرعی فرائض کو بجا لائیں اور اتباع سنت کا اہتمام کریں۔ (حوالہ قرارداد)
ہماری تنقید :
اس نکتے میں علماء نے موجودہ نظام کو اللہ کی رحمت سے جن علل کی بنیاد پر دور ہونے کے دلائل دیے ہیں، وہ واضح ہیں،گویا وہ بتانا چاہتے ہیں کہ ان کے نظریے کے مطابق اگر اس سنت پر عمل کرتے ہوئے اسلامی نظام نافذ کر دیا جائے تو ان سارے امراض سے معاشرہ خود بخود پاک ہوجائے گا، گویا اس نکتے میں نظام باطل کے خلاف جدوجہد کی ترغیب دلائی گئی ہے۔

(7) یہ اجتماع موجودہ ملکی اور علاقائی سنگین صورت حال کو ’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ میں نفاذ اسلام سے مسلسل روگردانی اور ایک اسلامی معاشرہ کی تشکیل کے تقاضوں کو نظرانداز کرنے کا منطقی نتیجہ قرار دیتا ہے، اور دو ٹوک رائے کا اظہار کرتا ہے کہ قومی خود مختاری کے تحفظ اور نفاذ اسلام کے بغیر ملک و قوم کو موجودہ دلدل سے نکالنا ممکن نہیں ہے، اس لیے یہ ضروری ہے کہ دستور پاکستان کی اسلامی دفعات اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق نفاذ اسلام کی طرف عملی پیش رفت کا اہتمام کیا جائے۔
ہماری تنقید: اس نکتے میں علماء نے صاف الفاظ میں اس بیانیہ کی حمایت کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق نظام کو ان کی خواہشات کے مطابق تبدیل کیے بغیر ان سے کسی تعاون کی توقع نہ رکھی جائے۔

(8) یہ اجتماع قومی خود مختاری اور ملکی سالمیت کو درپیش مبینہ خطرات و خدشات کے حوالہ سے شدید تشویش و اضطراب کا اظہار کرتا ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ عوامی جذبات اور قومی مفادات کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر فوری نظرثانی کرے اور پارلیمنٹ کی متفقہ قرار داد اور پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کر کے قومی پالیسیوں کا قبلہ در ست کرنے کو یقینی بنائے۔
ہماری تنقید:
اس نکتے میں علما اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ قومی پالیسی کو تبدیل کیا جائے۔ وہ کون سی پالیسی تھی جس کی تبدیلی انہیں مقصود ہے، پچھلے نکات میں اس کی پوری وضاحت ہے۔ وہ دراصل دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افغانستان میں موجود طالبان حکومت کے بارے میں ریاست پاکستان کی پالیسی کو درست نہیں سمھجتے۔ اس حکومت کے خاتمے اور امریکی کے ساتھ اس کے خلاف اتحاد کا مطلب ہے کہ قبلہ غلط رخ پر ہے۔ یہ رخ کیسے ٹھیک ہوگا، اس کا کچھ ذکر نظام کی تبدیلی کے حوالے سے پیچھے گزر گیا، باقی ذکر آگے کے نکات میں مزید تفصیل سےبیان ہوگا۔

(9) یہ اجتماع امریکہ میں پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ ناروا سلوک اور سفاکانہ و غیر منصفانہ رویے کی شدید مذمت کرتا ہے اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور دیگر سینکڑوں گمشدہ یا امریکہ کے حوالے کیے جانے والے مظلوم پاکستانیوں کی بازیابی اور رہائی کے لیے اپنی دستوری اور قومی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔
ہماری تنقید:
یہ سینکڑوں لوگ کون تھے جن کی رہائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ صاف واضح ہے کہ یہ وہ لوگ تھے جن پر امریکہ کے خلاف مسلح جدوجہد اور افغانستان میں موجود طالبان حکومت کی مدد کا الزام تھا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مسلح جدوجہد شریعت اسلامی کے خلاف ہے تو کیا وجہ ہے کہ علما ان لوگوں کو مجرم سمھجنے سے انکار کر رہے ہیں۔ اور کیا وجہ ہے کہ اسی مزاحمت کی علامت کو امریکی قید سے آزاد کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ فی الوقت ایسا کرنا خطرات سے خالی نہیں ہے، لہذا اس راستے کو وقتی طور پر مؤخر کر کے پہلے مرحلے میں ان لوگوں کو آزاد کرایا جائے جو ان کے کہنے کے مطابق ان تحریکوں کا حصہ بنے تھے۔

(10) یہ اجتماع سوئٹزرلینڈ میں مساجد کے میناروں پر پابندی، بعض یورپی ممالک میں جناب نبی اکرمؐ کے گستاخانہ خاکوں کی مسلسل اشاعت، فرانس میں حجابِ شرعی کے خلاف مہم اور اس قسم کے دیگر معاملات کو اسلام کے خلاف مغربی ثقافت کے علمبرداروں کے معاندانہ رویے کا آئینہ دار سمجھتا ہے، اور دنیا بھر کی مسلم حکومتوں اور اسلامی سربراہ کانفرنس کی تنظیم (او آئی سی) سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات و احکام کے خلاف مغربی ثقافتی یلغار کے سدِّ باب کے لیے مشترکہ پالیسی وضع کریں ۔
ہماری تنقید:
یہاں علماء نے ملک میں موجود دہشت گردی کی کچھ عالمی وجوہات کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ ان مسائل کی وجہ سے بدامنی پھیلتی ہے۔ علماء نے اس رویے کو معاندانہ قرار دیا ہے۔ ذرا غور کیجیے، اس سے یہ تاثر مل رہا ہے جیسے یہ مغرب سے کسی مصلحانہ تعلق کی آرزو رکھتے ہیں، جسے مغرب نے معاندانہ بنا ڈالا ہے، اور اس وجہ سے یہ حضرات شدید صدمے میں ہیں، اور پھر سے صلح چاہتے ہیں۔ مغرب کے خلاف جس انعاد کا ذکر شب و روز ان کی تقریریوں میں موجود ہوتا ہے، اس سے یہاں درگزر کیا گیا ہے۔ اور جس اصل چیز سے درگزر کیا گیا ہے وہ ہے 11ستمبر 2001ء کا وہ معاندانہ اقدام جو اس حکومت کے تحت جس کے دفاع کے لیے یہ ہمہ وقت سر گرم ہیں۔ اس انعاد کا کہ جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا، دہشت گردی کے اسباب گنواتے ہیں، اور اس کا ذکر ہی نہیں۔ یہ دراصل اس کی مذمت سے صاف انکار ہے۔

(11) یہ اجتماع دینی مدارس کے خلاف مختلف ایجنسیوں اور حکومتی اداروں کی روز افزوں اور مسلسل کارروائیوں پر شدید احتجاج کرتا ہے، اور آپریشن سے متاثرہ علاقوں میں سینکڑوں مساجد و مدارس کے انہدام کو شرمناک قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ دینی مدارس پر چھاپوں اور ان کے اساتذہ و طلبہ کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ فوری بند کر کے منہدم شدہ اور متاثرہ مدارس و مساجد کی فوری بحالی کا اہتمام کیا جائے اور بندمدارس کو کھول کر ان میں طلبہ کی رہائش و تعلیم کا نظام بحا ل کیا جائے۔
ہماری تنقید:
اس نکتے میں علماء نے یہ واضح طور پر بتا دیا کہ اس دہشت گردی کے بعد دہشت گردوں کی تلاش میں جو ان کے اداروں پر الزامات آئے ہیں یا ان کے شاگرد وغیرے پکڑے گئے ہیں، انھیں رہا کیا جائے اور مساجد و مدارس پر ایسے افراد کی تلاش میں نظریں رکھنا بند کیا جائے۔ اس نکتے میں اس پہلو کا کوئی ذکر ہی نہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ وہ افراد آپ کے ہاں سے پکڑے جاتے ہیں، ان کےیہ نظریات کیسے قائم ہوتے ہیں؟ کون انھیں ان کاموں پر جذبات دلاتا ہے؟ اس کے ذکر نہ کرنے کی وجہ صاف ہے، علماء ان کے مقاصد سے کوئی اختلاف نہیں رکھتے۔

یہ بھی پڑھیں:   "مدرسہ ڈسکورسز" کے متعلق چند نکات - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

(12) یہ اجتماع ملک میں روز افزوں مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ کے عذاب کو غریب عوام سے زندگی چھین لینے کے مترادف تصور کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ سرمایہ دارانہ، جاگیردارانہ نظام کے تسلسل اور غلط حکومتی پالیسیوں کے باعث اس عذاب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور عام شہریوں پر زندگی کا دائرہ تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ عوام کو مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ کے اس عذاب سے نجات دلانے کے لیے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کے ساتھ ساتھ ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا بھی اہتمام کرے
ہماری تنقید:
اس نکتے میں دو باتیں کی گئی ہیں۔ پہلی یہ کہ لوڈشیڈنگ اور مہنگائی بھی ویسے ہی زندگی ختم کر دیتی ہے جیسے کہ دہشت گردی، لہذا محض دھماکوں سے ہونے والی دہشت گردی پر پریشان ہونے کے بجائے اور پہلوؤں پر غور کی زیادہ ضرورت ہے۔ لہذا دہشت گردی کے اسباب و علل جاننے کے اس قومی اجتماع میں اس اہم مسئلے سے صرف نظر کیسے کیا جا سکتا۔ دوسرا یہاں باور کروایا گیا کہ لوڈشیڈنگ کی دہشت گردی کا خاتمہ بھی جاگیردارانہ نظام میں ممکن نہیں لہذا اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد ہی اس کا واحد حل ہے۔

(13) یہ اجتماع ملک میں مغرب کی بےحیاء ثقافت کے فروغ کے لیے این جی اوز اور میڈیا کی آزاد انہ روش، حکومتی اداروں کی طرف سے اس کی حوصلہ افزائی اور قومی وسائل کے بےدریغ استعمال کو افسوسناک قرار دیتا ہے اور اسے پاکستان کے اسلامی تشخص، قرآن و سنت کی تعلیمات اور عوام کے دینی رجحانات کے منافی سمجھتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس پالیسی پر نظرثانی کی جائے اور وطن عزیز کی اسلامی ثقافت کے تحفظ کا اہتمام کیا جائے۔
ہماری تنقید:
لوڈ شیڈنگ کے بعد بےحیائی کا ذکر کرنا منطقی ترتیب کے مطابق ہے۔ یہ بے حیائی کیا ہوتی ہے؟ کہاں پائی جاتی ہے؟ علماء کے مطابق یہ میڈیا میں ہے۔ اس کی مزید تفصیل ان کی کئی کتابوں میں موجود ہے۔ شرعی پردے کی رعایت کیے بغیر عورت کا بلاضرورت اور بلا محرم گھر سے نکلنا ان کے نزدیک ممنوع ہے، لہذا اگر عورتیں وغیرہ ان تمام جملہ حدود کو پھلانگ کر ٹی وی پر آجائیں تو اس سے بڑھ کر بےحیائی کیا ہوگی۔ اس نکتے میں یہ بھی واضح کر دیا گیا کہ جس نظام کا وہ مطالبہ کر رہے ہیں، اس میں ان سب خرافات کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ یہاں شدت پسندوں کے بیانیہ کی کھل کر حمایت کی گئی ہے۔ اس معاملے میں علماء کا ان سے کوئی اختلاف نہیں۔

(14) یہ اجتماع بارہ ربیع الاول کے روز فیصل آباد، ڈیرہ اسماعیل خان، کراچی اور بعض دیگر شہروں میں رونما ہونے والے افسوس ناک واقعات کو ملک میں فرقہ وارانہ کشمکش کو فروغ دینے کی سازش کا حصہ قرار دیتا ہے اور ان سانحات میں متاثرہ افراد اور خاندانوں کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ایسے واقعات کی مکمل عدالتی تحقیقات کرا کے مجرموں اور ان کے پشت پناہوں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
(15) یہ اجتماع ملک کے تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں اور کارکنوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ موجودہ سنگین قومی صورت حال میں جبکہ قومی خود مختاری، ملکی سالمیت اور پاکستان کے اسلامی تشخص کو داؤ پر لگا دیا گیا ہے، اور فرقہ وارانہ کشیدگی کی فضاء پیدا کر کے استعماری قوتیں اپنے مذموم مقاصد کو آگے بڑھانے کا ایجنڈا رکھتی ہیں۔ قومی وحدت اور ہم آہنگی وقت کا اہم ترین تقاضا ہے، اس لیے کسی بھی سطح پر ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے جو فرقہ وارانہ کشمکش کا باعث بن سکتی ہوں بلکہ قومی ہم آہنگی کو بڑھانے کے اقدامات کیے جائیں تا کہ قوم متحد ہو کر موجودہ بحران کا مقابلہ کر سکے۔
ہماری تنقید:
یہ دونوں نکتے بہت دلچسپ ہیں۔ ملک میں موجود فرقہ وارانہ کشیدگی کو سازش قرار دیا گیا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ علماء نے اس موقع پر اس سازش کا پردہ چاک کرتے ہوئے ان فتوی سے اعلان برات نہیں کیا کہ جن کے تحت ایک فرقے کے مفتی دوسرے کو مشرک، فاسق، فاجر، زندیق اور کافر اور واجب القتل قرار دیتے ہیں، اور کیا وجہ ہے کہ ان فرقوں میں ایک دوسرے سے نفرت کو باقاعدہ تربیت کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ ان سب چیزوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اور ان کی وجوہات کو جانتے ہوئے اسے سازش قرار دے کر مجروں کو پکڑنے کی بات کرنا ایک حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اور وہ یہ کہ کسی طرح سے اس فساد کی بنیادوں میں ان کا نام تلاش نہ کر لیا جائے۔

(16) یہ اجتماع پارلیمنٹ میں دستوری ترامیم کے حالیہ بل میں اسلامی دفعات کے تحفظ کی جدوجہد کرنے والے علمائے کرام اور دیگر ارکان پارلیمنٹ کو اس کامیاب جدوجہد پر مبارکباد پیش کرتا ہے اور دستور کی اسلامی دفعات کے تحفظ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمنٹ سے مطالبہ کرتا ہے کہ ان اسلامی دفعات پر مؤثر عمل در آمد کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں ۔
(۱۷)یہ اجتماع ملک بھر کے علمائے کرام اور دینی جماعتوں و کارکنوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ قومی وحدت کتقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے باہمی اختلافات کے عمومی اظہار سے حتی الوسع گریز کریں اور مشترکہ قومی و دینی مقاصد کے لیے باہمی تعاون و اشتراک کی فضا کو فروغ دیں، نیز یہ اجتماع قوم کے تمام طبقات اور حلقوں سے بھی اپیل کرتا ہے کہ وہ قومی وحدت کے بھرپور مظاہرہ کے ساتھ بیرونی مداخلت کا راستہ روکنے کا اہتمام کریں۔ (حوالہ قرارداد)
ہماری تنقید:
یہاں دو باتیں کی گئی ہیں۔ پہلی یہ کہ دستور کی اسلامی دفعات پر عمل کروانا بہت ضروری ہے، یہ کیوں ضروری ہے اس کا ذکر اوپر بیان ہوا ہے، تاکہ اس نظام کے لیے آگے بڑھا جائے جس کا مقصد خلافت کا قیام ہے۔ دوسرا یہ کہ بیرونی مداخلت کا راستہ روکنے کی بات ہورہی ہے۔ اگر تو یہ بیرونی مداخلت کوئی خلاف شرع امر ہے تو کیا وجہ ہے کہ علمائےکرام پاکستان سے باہر اپنی خدمات ہمیشہ پیش کرتے ہیں، اگر ان کی اپنی بیرونی مداخلت غلط تھی تو اس کا کوئی ذکر، اس پر کوئی ندامت؟

خلاصہِ تنقید:
ہم نے یہ تمام نکات جس ترتیب سے اس قرار داد میں موجود ہیں، بے کم و کاست بیان کر دیے ہیں۔
اس میں علماء نے جو استدلال پیش کیا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے:
پاکستان میں دہشت گردی کی اصل ذمے دار حکومت ہے کیونکہ اس سے کئی بار شرافت سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ اسلامی نظام نافذ کردیا جائے تاکہ علماء یعنی ارباب حل و عقد آپس میں طے کر کے ایک امیر مقرر کرلیں جو پھر قاضیوں کا تقرر کرے، اور جو متفق علیہ فقہ کی روشنی میں عوام الناس کے معاملات طے کر دیں۔ موجودہ حکمرانوں نے ایسا کر نے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ اس سے خدا کی رحمت ان سے اٹھ چکی پے۔ اس وجہ سےکفر کو یہ موقع ملا ہے کہ جیسے اس نے سوئیڈن میں ہماری مسجدوں کے مینار گرا دے۔ اسی وجہ سے عافیہ صدیقی کی ”پُرامن جدوجہد“ کو حکمرانوں نے قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا، جس کی وجہ سے ہمارا اسلامی تشخُّص مجروح ہو چکا ہے، اور ساتھ ساتھ لوڈ شیڈنگ بھی بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے بےحیائی میں بھی بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے، لہٰذا ان تمام وجوہات کی بنیاد پر ملک میں دہشت گرد منظم ہوگئے ہیں، جن کی ذمہ دار سراسر حکومت ہے اور چونکہ شدت پسند اور ہم فکر اور مقاصد کے لحاظ سے متفق ہیں لہٰذا ان سے عزت و احترام کے طریقے سے جلد از جلذ مذاکرات کیے جائیں، ان کے مطالبات کو قبول کیا جائے ورنہ تمام تر نتائج کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔

علمائے کرام کے اس مشترکہ مؤقف نے ان کے نقطہِ نظر کو بغیر کسی ابہام کے واضح کر دیا ہے کہ وہ باطل نظام کے خاتمے اور اسلامی نظام یعنی خلافت کے قیام پر اور دولت اسلام افغانستان میں طالبان کے اقتدر میں واپسی پر پوری طرح سے دہشت گردوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کے مطالبات کو جائز بلکہ پوری قوم کے لیے لازم سمھجتے ہیں۔ موجودہ ریاستی نظم محض ایک حکمت عملی اور وقتی تدبیر کے طور پر گوارا کر رہے ہیں۔ دہشت گردوں کے اس ایجنڈے سے کہ کفر و شرک کا دنیا سے خاتمہ کیا جائے، پوری دنیا میں غیر مسلم حکومتوں کا اقتداد نا جائز ہے، وہ پوری طرح متفق ہیں۔

دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کے لیے سالوں بعد منعقد ہونے والے علماء کے اس قومی اجتماع میں دہشت گردی کی فکری بنیادوں کو جس طرح زیر بحث لایا گیا، اور جیسے اس کے خاتمے کا دوڈ میپ دیا گیا ہے، ان کاوشوں کو پڑھنے کے بعد اگر آپ ابھی بھی اس ابہام کا شکار ہیں کہ یہ اجتماع ملک میں دہشت گردی کے بیانیے سے اختلاف اور اس کے خاتمے کے لیے منعقد ہوا تھا یا پھر دہشت گردوں کے نیک مقاصد، ان کی خدمات اور ان کے مطالبات منوانے کے لیے منعقد ہوا تھا، تو اب کم از کم اپنے ابہام کو رفع کر لیں، علمائے کرام نے دیانت داری سے بتا دیا ہے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں۔