ہٹلر آج بھی زندہ ہے - حیا حریم

یہ buchanwald ہے، اور مقام عبرت ہے، اس لیے یہاں ہنسنے اور مزاح کرنے سے پرہیز ضروری ہے.
جرمنی کے شہر ویمر سے buchanwald پہنچتے ہی راہ نما نے ہدایت جاری کی تھی۔
کچھ فاصلے پر ایک جرمن سن رسیدہ شخص کھڑا تھا جو بطور گائیڈ کے وہاں موجود تھا، اگلے لمحوں میں ہم اس کے اردگرد تھے اور وہ تمہیدی کلمات کے بعد ہمیں بتا رہے تھے کہ، ایڈولف ہٹلر 20 اپريل 1889ء كو آسٹريا كے ايك غريب گھرانے ميں پيدا ہوا۔ اس کی تعليم نہايت كم تھی۔ آسٹريا كے دارالحكومت ويانا كے كالج آف فائن آرٹس ميں محض اس لیے داخلہ نہ مل سكا كہ وہ ان كے مطلوبہ معيار پر پورا نہیں اترتا تھا.

گائیڈ بتا رہا تھا اور سب اس کی طرف ہمہ تن گوش تھے،
1913ء ميں ہٹلر جرمنی چلا آيا جہاں پہلی جنگ عظيم ميں جرمنی كي طرف سے ايك عام سپاہی كي حيثيت سے لڑا، اور فوج ميں اس لیے ترقی حاصل نہ كر سكا كہ افسران كے نزديك اس ميں قائدانہ صلاحيتوں كی كمی تھی۔
اچھااا۔۔۔ اس کی بات پر سب نے سوالیہ طور پر حیرانی سے سر ہلایا،
1919ء ميں ہٹلر جرمنی كي وركرز پارٹی كا ركن بنا جو 1920ء ميں نيشنل سوشلسٹ جرمن وركرز پارٹی (نازی) كہلائی۔ 1921ء ميں وہ پارٹی كا چيئرمين منتخب ہوا۔ 1930ء ميں منعقد ہونے والے انتخابات ميں نازی پارٹی جرمنی کی دوسری بڑی پارٹی بن گئی۔ 1933ء کے انتخابات میں نازی پارٹی اکثریت حاصل نہ کر سکی مگر سب سے بڑی پارٹی کی حیثیت سے پریذیڈنٹ نے ہٹلر کو حکومت بنانے کی دعوت دی، اور ہٹلر ملك کے سب سے اعلی عہدے چانسلر تک پہنچ گيا۔ چانسلر بننے كے بعد ہٹلر نے جو سب سے پہلا كام كيا، وہ نازی پارٹی كا فروغ تھا۔ اس مقصد كے ليے اس نے اپنے مخالفين كو دبانے کا ہر حربہ آزمايا۔

یہ بھی پڑھیں:   اگر ہمیں بھی ہٹلر نصیب ہوتا - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

1939ء میں ہٹلر کی جانب سے شدید جارحیت دوسری جنگ عظیم کا باعث بنی، اور یہ ہے وہ جگہ جہاں ہٹلر نے اپنا ایک زنداں بنوایا تھا اور یہودیوں کو اس میں طرح طرح کے تشدد کر کے مار دیتا تھا۔ گائیڈ نے سامنے لگے بورڈ پر کندہ ایک نقشے پر انگلی پھیری، لیکن اب کی بار حیرانی یا اثبات میں سر ہلنے کے بجائے منہ سے ایک ٹھنڈی سی سسکی نکل سکی، کیونکہ ٹھنڈی ہوائیں جسم سے ٹکرا کر خون تک کو منجمد کر رہی تھیں، پاؤں تلے جمی برف پر اب مزید کھڑے ہونے کی سکت نہیں تھی۔

ہم سب نے ہی اک امید بھری نظر سے گائیڈ کی طرف دیکھا،
آؤ... میرے پیچھے چلو ۔۔
وہ ہمارا مدعا سمجھ چکا تھا یا پھر اس کی بات ختم ہوگئی تھی۔
ہم اس کی راہنمائی میں چل رہے تھے، لمبی سڑک پر برف کی تہیں جمی تھیں، درخت سفید پوش اور آسمان اب بھی برف کے ذرے برسا رہا تھا۔
لمبی کشادہ سڑک کے سامنے بلند و تاریک عمارت کھڑی تھی، ہم میں سے ہر ایک کو اس کے اندر جانے کی جلدی تھی، اس لیے نہیں کہ اس عمارت میں کیا ہے؟ بلکہ اس لیے کہ ٹھنڈ سے کچھ بچنے کا امکان تھا، عمارت کا دروازہ کھلتے ہی ہم اندر داخل ہوگئے، تاریک لمبی راہداری تھی جس کے دونوں جانب قطار میں کمرے بنے ہوئے تھے، اس میں طرح طرح کے آلات اور اسلحہ جات رکھے تھے، یہ زنداں تھا جہاں ہٹلر نے لاکھوں افراد کو گرفتار کر کے ان پر تشدد کیا تھا، انہیں جسمانی و ذہنی اذیتیں دی تھی، اس کے قریب ہی دوسری عمارت تھی جہاں بڑے بڑے تندور بنائے گئے تھے، جہاں ہٹلر لوگوں کو زندہ آگ میں جلایا کرتا تھا، ان کے جلنے اور راکھ نکل کر بکھرنے کا باقاعدہ انتظام کیا گیا تھا، یہاں ہر طریقے کا جبر و تشدد بلا امتیاز مذہب و جنس کیا جاتا رہا۔

یہ بھی پڑھیں:   اگر ہمیں بھی ہٹلر نصیب ہوتا - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

یاد نہیں کہ اس تاریک عقوبت خانے میں بھی سردی کیوں لگتی رہی اور جسم کیوں کانپتا رہا؟ بس اتنا یاد ہے کہ گائیڈ نے آخر میں بتایا تھا کہ ہٹلر نے خود کشی کر لی تھی اور وہ مرگیا تھا. گائیڈ کی یہ پہلی بات تھی جس سے مجھے اتفاق نہیں ہوا تھا، ہٹلر شاید مر گیا ہو لیکن اس کی روایات آج بھی زندہ ہیں، ابوغریب کے عقوبت خانے میں، شام کے زندہ و آباد زمیں کے اجاڑ میں، برما کے مظلوموں کی چیخوں میں، اور پاکستان میں ہونے والے ہر دھماکے میں ہٹلر کا عکس ابھرتا ہے، اور اس کی ظالمانہ و جارحانہ روایات پھر زندہ ہوجاتی ہیں اور ان پر تو کوئی ماتم کرنے والا بھی نہیں ۔

Comments

حیا حریم

حیا حریم

حیا حریم ماہنامہ حیا کراچی کی مدیرہ ہیں۔ علوم فقه میں تخصص کے بعد اب علوم قرآن میں ایم فل کر رہی ہیں۔ آن لائن تعلیم و تربیت اکیڈمی برائے قرآن و علوم عربیہ کی انچارج ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.