ٹرمپ کی للکار، دہشت گردی اور اسلام - ڈاکٹر رانا تنویر قاسم

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کا صدارتی منصب سنبھالنے کے بعد پہلے خطاب میں ’بنیاد پرست اسلامی دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر عسکریت پسندی کے خطرے کو ختم کیا جائے گا۔ اوباما نے بھی آغاز میں تقریبا ایسے ہی عزائم ظاہر کیے تھے۔ پھرافغانستان، عراق، لیبیا، شام کو جس آگ میں جھونکا گیا وہ سب کے سامنے ہے۔

ٹرمپ نے دہشت گردی کے ساتھ جس طرح اسلامی کا لفظ جوڑا ہے۔ اس سے مسلمانوں میں بے چینی کی لہر کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔ ٹرمپ نے دہشت گردی کو اسلام کے ساتھ کے ساتھ جوڑ کر اپنے بغض کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا دہشت گردی کا کوئی مسلک یا مذہب ہو تا ہے۔ میرے نزدیک ٹرمپ نےمذاہب کو لڑانے کے لیے کی خوفناک اصطلاح استعمال کی ہے، اب یہ سلسلہ دور تک جائے گا۔ اس طرح متحارب گروہ بھی مخالفین کے مذاہب کے ساتھ اس کو نتھی کریں گے۔ کل کو مسیحی دہشت گردی، یہودی دہشت گردی اور ہندو دہشت گردی کی اصطلاحات بھی نکلیں گی۔ نئے امریکی صدر کے خیالات دنیا کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس خدشہ کا پیدا ہونا غیر فطری نہیں ہوگا کہ کیا ٹرمپ کا نشانہ اب باقی اسلامی ممالک ہوں گے۔ کیا اسے سعودی عرب، پاکستان اور ایران کے خلاف بھڑکایا جاسکتا ہے۔ اسلامی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ان کا میدان کون سا خطہ ہوسکتا ہے۔ اس طرح کے سوالات پیدا ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ امت مسلمہ اور اس کی قیادت کا امتحان ہے کہ وہ سپر پاورکی نئی للکار کا کس طرح سامنا کرتی ہے۔

اگر دیکھا جائے تو دہشت گردی کی اصطلاح اٹھارویں صدی عیسوی کے اختتام پر بنی جبکہ اسلام اس سے بارہ سو سال پہلے سے دنیا میں موجود ہے. یہ اصطلاح سب سے پہلے جن قوموں کے لیے اسعتمال ہوئی، وہ سب کی سب یورپی اقوام ہیں. ان میں سے کوئی بھی قوم عرب ہے نہ دنیا کی کوئی اور مسلم قوم. یہ ممکن ہےکہ اسلام کی طرف منسوب کچھ افراد یا جماعتوں پر دہشت گردی کی یہ اصطلاح منطبق ہوتی ہو، مگر دین اسلام کو ان کی دہشت گردی کا سبب قرار دینا درست نہیں.

دور حاضر کے جدید قوانین میں جن افعال اور حرکات کو دہشت گردی قرار دیا ہے، اسلام نے چودہ سو سال پہلے ہی ایسی تمام حرکتوں کو سنگین قرار دے کر ان کے مرتکبین کے سخت سزائیں تجویز کیں، تاکہ کوئی بھی متبع اسلام ان کے ارتکاب کی جرات نہ کر سکے.

اب تک دہشت گردی کی کوئی جامع تعریف سامنے نہیں آئی ہے، اور نہ اس کا مفہوم واضح اور متعین ہوا ہے کہ دہشت گردی ہے کیا؟ دہشت گرد ہیں کون؟ کوئی فرد، جماعت یا حکومت دہشت گرد کب اور کیسے بنتی ہے؟ یہ سب باتیں عالمی سطح پر ابھی غیر واضح ہیں. بعض دانشوروں کا کہنا ہے کہ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت ہی اس کی واضح اور متعین تعریف نہیں کی جارہی ہے. دہشت گردی کے لفظی معنی دہشت پھیلانے اور خوف زدہ کرنے کے ہیں. دنیا کے کونے کونے میں دہشت گردی اور دہشت گرد افراد موضوع بحث بنے ہوئے ہیں، دنیا کا ہر ملک، ہر مذہب، ہر قوم، ہر جماعت اس کی مذمت میں رطب اللسان ہے. سیاسی انسائیکلوپیڈیا میں اس کی تعریف یوں منقول ہے:
”دہشت گردی نام ہے غیرقانونی تشدد پھیلانے یا تشدد آمیز دھمکیاں دینے کا، خفیہ رازوں کو معلوم کرنے، یا مال حاصل کرنے کے لیے افراد کے اندرپائی جانے والی مدافعانہ روح کو ختم کرنے یا تنظمیوں اور اداروں کی نفسیات کو کچلنے وغیرہ جیسے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے حقائق کی غلط ترجمانی کرنا، یا قتل وغارت گری، ایذا رسانی اور خون خرابہ کرنا.“
عام اور مختصر الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ دہشت گرد تنظیم کا اپنے ناجائز مقاصد منوانے کے لیے مدمقابل پرسختی اور زبردستی کا نام دہشت گردی ہے.
آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق ”دہشت گرد وہ شخص ہے جو کسی سیاسی مقصد کے حصول کے لیے منظم طریقے سے تشدد پھیلائے۔“

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کے دورہ امریکہ کا مثبت پہلو - حبیب الرحمن

ان تمام تعریفات سے جو مفہوم سامنے آتا ہے وہ ہے ”معاشرے میں خوف و اہراس اور وحشت پھیلانا دہشت گردی ہے.“ مگر ان میں کچھ الفاظ غیر واضح ہیں. مثلا: ایک تعریف میں لفظ ”غیرقانونی“ کی شرط ہے. سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کس قانون کو معیارحق قرار دیا جائے؟ جس کی خلاف ورزی پر کسی عمل کو دہشت گردی کہا جا سکے. اگر ہر ملک اپنا ملکی قانون مراد لے تو ایک ملک کی دوسرے ملک پر دست درازی اور ظلم وزیادتی کو کس بنیار پر دہشت گردی قرار کیا جا سکتا ہے. اسی طرح اس تعریف میں ایک اور لفظ ”مدمقابل“ ہے. یہاں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اعتدال پسند گردہ کا معیار کیا ہے؟ اور کیا ہر مدمقابل دہشت گرد کہلائے گا؟

دوسری تعریف میں تشدد کے ذریعے دہشت پھیلانے کو دہشت گردی کہا گیا ہے. کیا ہر تشدد جس سے دہشت پھیلتی ہو، اسے دہشت گردی کہا جائے گا؟ نہیں !! کیونکہ ہم روزہ مرہ میں ایسے ہزاروں حادثات کا مشاہدہ کرتے ہیں جن سے دلوں میں کچھ نہ کچھ دہشت پیدا ہوتی ہے، مگر ان کو دہشت گردی نہیں کہا جاتا. اسی طرح آکسفورڈ ڈکشنری میں جو تعریف کی گئی ہے، وہ جامع نہیں کیونکہ ہر دہشت گردی مقصود سیاسی مفاد کا حصول نہیں ہوتا، بلکہ سیاسی اغراض کے علاوہ دیگر مقاصد کے حصول کے لیے بھی دہشت گردی کی راہ اپنائی جاتی ہے. خلاصہ کلام یہ ہے کہ ان تمام تعریفات سے اس بات کی وضاحت نہیں ہوتی کہ خوف و اہراس کس طریقے سے ہو، کس درجے میں ہو، یا کس حد کو پہنچے، جسے دہشت گردی سمجھا جائے.

اگر ہم تاریخی تناظر میں دیکھیں تو یہ اصطلاح 1779ء سے 1789ء کے دوران انقلاب فرانس کے وقع پر وجودمیں آئی. جس وقت حملہ آور اپنے دشمنوں کے خلاف فرانس پر بزور قوت قابض ہوئے. ان کایہ عہد تاریخ میں دور دہشت گری کے نام سے مشہور ہے. اس کے بعد دہشت گرد تحریکوں، تنظمیوں اور جماعتوں کا سلسلہ شروع ہوا، جس میں کوکلوس کلات شامل ہے، یہ ایک امریکی دہشت گرد تنظیم ہے جس کا ظلم و ستم کا نشانہ امریکہ کے سیاہ فام باشندے اور ان کے ہمنوا بنے ہوئے ہیں. اسی طرح بیسویں صدی کی چھٹی دہائی میں اٹلی میں الآلویۃ الحمراء (سرخ جھنڈی والی جماعت ) اور جرمنی میں جیش احمر (ریڈ آرمی) نامی جماعت وجود میں آئی. یہ دونوں جاعتیں اپنے اپنے ملک میں فرسودہ نظام ہٹا کر نیا نظام قائم کرنے کے لیے سیاسی اور اقتصادی تنظمیوں کو تباہ و برباد کرنے میں لگی ہوئی ہیں. جن لوگوں نے اپنے دشمنوں کو زیر کرنے کے لیے دہشت گردی کی راہ اپنائی، ان میں جرمنی کے ہٹلر، اٹلی کے مسولینی اور روس کا جوزف اسٹالن وغیرہ ہیں، جنہوں نے کروڑوں معصوم افراد کو بے دردی سے قتل کیا.

جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، اس نےمعاشرے میں قیام امن کے لیے باقاعدہ قانون سازی کر رکھی ہے، جس کے مطابق معصوم جان کے قتل کا اگر کوئی کا ارتکاب کرے تو اس کی سزا قتل ہے، جیسا کہ سورہ البقرہ میں ارشاد ہے.
[pullquote] يَا أيُّھَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَی سورة البقرة 178[/pullquote]

یہ بھی پڑھیں:   دس میں سے آٹھ نمبر - محمد عامر خاکوانی

اے ایمان والو!تمھارے لیے قتل کے مقدموں میں قصاص کا حکم لکھ دیا گیا ہے.

زمین میں فساد اور بگاڑ پھیلانا ڈاکہ زنی، اور امن پسند لوگوں کو خوف زدہ کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے. بم دھماکے، خودکش حملے اور ہوائی جہاز اور بس وغیرہ کا اغوا بھی اسی میں داخل ہے. اسلام کے نزدیک امن کے یہ غارت گر اور دہشت پسند دنیا اور آخرت دونوں میں سزائے کے مستحق ہوں گے. سورہ مائدہ میں ارشاد ہے.
[pullquote]]نَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللہ وَرَسُولَہ وَيَسْعَوْنَ فِي الْارْضِ فَسَادًا أنْ يُقَتَّلُوا أوْ يُصَلَّبُوا أوْ تُقَطَّعَ أيْدِيھِمْ وَأرْجُلُھُمْ مِنْ خِلَافٍ أوْ يُنْفَوْا مِنَ الْارْضِ ذَلِكَ لَھُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَھُمْ فِي الْآخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِيمٌ (33سورۃ المائدۃ)[/pullquote]

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ و دو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپا کریں ان کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں ، یا انہیں سولی پر چڑھایا جائے یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں یا ان کو جلاوطن کردیا جائے ـ یہ ذلت و رسوائی تو ان کے لیے دنیا میں ہے اور آخرت میں ان کے لیے اس سے بھی بڑی سزا ہے.

شرعی اعتبار سے قائم شدہ حکومت کے خلاف افراد یا تنظیموں کا مسلح کوشش کرنا، یہ بھی بڑا جرم ہے. رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
[pullquote]من أتاكم و أمركم جميع على رجل واحد يريد أن يشق عصاكم أو يفرق جماعتكم فاقتلوہ ۔مسلم [/pullquote]

”کسی امیر پر تمہاری بیعت ہوجانے کے بعد اگر کوئی تمہارے درمیان پھوٹ ڈالنے یا تمہاری جماعت میں انتشار پھیلانے کی کوشش کرے تو اس کو قتل کردو.“

اس طرح چوری کی سزا ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے، جیساکہ ارشاد ہے
[pullquote] وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوا أيْدِيَھُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِنَ اللہ وَاللہ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (38سورة المائدة)[/pullquote]

”اور چور خواہ مرد ہو یا عورت دونوں کے ہاتھ کاٹ دو ، یہ ان کی کمائی کا بدلہ ہے اور اللہ کی طرف سے عبرت ناک سزا.“

اس طرح کی بہت سی تعیلمات ہیں جن کی بنیاد پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ صرف الہی قانون ہی دنیا میں امن وسلامتی کا واحد ذریعہ ہے. اس کا نفاذ ملک و وطن ، رنگ و نسل اور اقوام و ملل کے اختلاف کے باوجود ساری انسانیت کی فلاح اور سعادت کا باعث ہے. اور پھر اگر کسی جگہ پر کوئی متحارب گروہ ایسی سرگرمی کا حصہ بھی ہیں تو یہ ان کا انفرادی فعل ہے۔ امت مسلمہ اور اس کے سنجیدہ علماء نے القاعدہ یا اس کے بعد داعش کے جہادی نظریات کی کبھی حمایت نہیں کی۔ لہذا ان کی کارروائیوں کو اسلام کے ساتھ جوڑنا سراسرناانصافی ہے۔ بلکہ ایسے گروہوں نے تو اسلامی ممالک کو بھی معاف نہیں کیا۔ یہاں تک حرمین شریفین کو بھی نہیں بخشا۔ اس لیے دہشت گردی کو اسلامی دہشت گردی قرار دینے سے مسلمانوں کے ہاں امریکہ کےخلاف نفرتیں پیدا ہوں گی، نئے صدر کو زمینی حالات کا ادراک کرنا ہو گا۔ انہیں چاہیے کہ وہ اسلامی ممالک کی سفارتی اور سیاسی حمایت سے دنیا میں قیام امن کی کوشش کرے، نہ کہ وہ اسلام کو ہی مورد الزام ٹھہرانا شروع کردیا جائے۔

Comments

ڈاکٹر رانا تنویر قاسم

ڈاکٹر رانا تنویر قاسم

ڈاکٹر رانا تنویر قاسم انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کے اسلامک سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، مذاہب ثلاثہ میں امن اور جنگ کے تصورات کے موضوع پر پی ایچ ڈی کر رکھی ہے، تدریسی و صحافتی شعبوں سے برابر وابستہ ہیں، ایک ٹی وی چینل میں بطور اینکر بھی کام کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.