فقہ العولمی (Cosmopolitan fiqh) کیا ہے؟ محمد ابوبکر صدیق

آج عقل ِانسانی جس مقام پرپہنچی ہے اور جس سرعت سے ترقی کی منازل طے کر رہی ہے، ابتدائے آفرینی تا ماضی قریب اس کی مثال نہیں ملتی۔ عقل کا یہ ارتقاء علم کی مرہونِ منت ہے۔ عقل نے کائنات کے جن سربستہ اسرار کو طشت ازبام کیا ہے وہ ماضی قریب میں عقدہ لاینحل رہ چکے ہیں۔ فی زمانہ علم اورعقل نے وہ پیچیدہ معاملات تک سلجھا دیے ہیں کہ ماضی بعید کے باشندوں کو جن کی بھنک تک نہیں پڑی ہوگی۔ گزشتہ ایک صدی سے زمانے کی صراحی سے مے حوادث قطرہ قطرہ اتنی تیزی سے ٹپک رہے ہیں کہ جنہیں صرف زمانے کی تسبیح روز و شب پر ہی شمار کیا جا سکتا ہے۔ ایجادات کا ایک سیلِ رواں ہےکہ جسے اگرگزشتہ صدی کا انسان دیکھ لے تو ورطہ حیرت میں پڑ جائے کہ ستاروں پر کمند ڈالنا انسان کے لیے کیونکر ممکن ہوا؟ سینکڑوں لائبریریاں ایک چھوٹی سے فیتے یا انگلیوں کے پوروں پر پڑی مائیکرو چپ میں کیسے سما گئیں؟ مہینوں مسافت کا سفر چند ساعتوں میں کیسے طے ہو رہا ہے؟ شیشے کی اسکرین پر افراد کے اجسام کی تھرتھراہٹ اور دوسری دنیاؤں کے نظارے کیسے ممکن ہوئے؟ تمدن کی اسی ترقی کی بدولت فقہائے اسلام کے لیے بھی عبادات سے لےکر معاملات تک نت نئے چلینجز سامنے آتے گئے۔ لیکن جب صنعتی انقلاب آیا جو بعد میں معیشت و تجارت میں انقلاب کا سبب بنا تو بہت سے ایسے مسائل نے جنم لیا جن کا حل اجتہادی آراء پر منحصر تھا ۔

عولمیت یعنی گلوبلائزیشن کا مغربی تصور:
گزشتہ صدی کی استعماری قوتیں اب نئے انداز میں اپنے تصورِ عولمیت کو دنیا پر نافذ کر کے اُن کا استحصال کرنےکی کوشش میں ہیں۔ فی زمانہ یہ کوشش اقتصادیات اور ثقافت کے میدان میں کی جا رہی ہے جیسے سرمایہ دارانہ نظام معیشت کے تحت مالیاتی اور بینکنگ اداروں کا قیام، فلم انڈسٹری اور میڈیا ہاؤسز کا قیام وغیرہ۔ نیز اپنے حملے کو مہلک بنانے کے لیے مغرب نے اپنا طرزِحیات اس انداز میں مرتب کیا کہ جس میں انسانی ہوس پرستی کے کوئی اصول مقرر نہیں کیے گئے، خواہ اس کا تعلق جنسی تسکین سے ہو یا معاشی تسکین سے۔ انسان کو ہر قسم کی حدود و قیود سے آزاد کردیا گیا، اس لیےمغرب نے جنسی تسکین کے لیے کسی قانونی بندھن اور معاشرتی تقاضوں کو خاطر میں لائے بغیر کھلی آزادی دے دی، صرف ایک قانونی پابندی عائد کردی کہ یہ سب کچھ باہم رضامندی سے ہونا چاہیے اور بس۔ اس کے علاوہ دیگر پابندیاں تو مذہب نے لگانی تھیں، اس لیے مغرب نے مذہب پر ہی پابندی لگادی کہ یہ ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہے، اس طرح مذہب کو ثانوی حیثیت دے کر زندگی کی ترویج میں اُس کا کردار غیر مؤثر کر دیا گیا۔ مغرب نے ایک انسان کو ہوائے نفس کا قیدی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔گویا انسان جنسی تسکین کے لیے بھی آزاد کہ جنسی تفریق کے بغیرجس کے ساتھ، جیسے بھی، جب بھی اور جہاں بھی جی چاہے وہ تعلقات استوار کرلے۔ اسی طرح معاشی تسکین کے لیے بھی آزاد کہ حلال وحرام کی تفریق کیے بغیر سود، جوا، میسر، عصمت فروشی، جیسے جی چاہے اپنے لیے دولت کمائے۔ لہذا یہ ہے وہ یکسانیت جو مغربی نظام اپنی گلوبلائزیشن کے ذریعے پیدا کرنا چاہتا ہے۔

اسلامی تہذیب پر عَوْلَمه (Globalization) کے اثرات:
یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ ہر تہذیب کسی نہ کسی حد تک حوداثاتِ زمانہ سے ضرور متاثر ہوتی ہے، البتہ اُس کے متاثر ہونے کا انداز اُس کی اپنی تہذیبی قوت اور پختگی پر منحصر ہوتا ہے۔ چشمِ فلک نے کئی تہذیبوں کو کئی تہذیبیں نگلتے دیکھا ہے، اور کچھ ایسی بھی تھیں کہ جنہوں نے حملہ آور تہذیب کو ہی حرفِ غلط کی طرح مٹا دیا۔ اس اعتبار سے اسلامی تہذیب انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ طاقتور ترین تہذیب ثابت ہوئی کہ جس پر کئی تہذیبوں نے حملے کیے لیکن یہ نہ صرف محفوظ رہی بلکہ حملہ آور تہذیب کے باشندوں کو بھی اپنی طرف مائل کر لیا، اور کعبے کے لیےصنم خانے سے ہی پاسبان چن لیے۔ اسلامی تہذیب اس اعتبار سے بھی دائمی اوصاف سے متصف ہے کہ یہ اپنے باشندوں کی تربیت توحید و رسالت، احتساب، جزا وسزا، انسانی تکریم، مساوات، تقویٰ، عفت اور پاکبازی جیسے مضبوط نصاب کے ذریعے کمال منہج پر کرتی ہے، جو اُن میں ہر زمانے کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت، ہمت اور قابلیت پیدا کر دیتی ہے۔ مستثنیات اپنی جگہ ہیں اور ان کے اسباب بھی کچھ اور ہیں، جو یہاں موضوع بحث نہیں۔ چناں چہ اسلامی تہذیب کا ہی یہ کمال ہے کہ اِس کے علما نے معاصر ترقی کی بدولت نو پیدا مسائل کا حل پیش کرنے کے لیے اپنے اسلاف کے اجتہادات سے استفادہ کر تے ہوئے اجتہاد کے میدان میں اجتماعی اجتہاد کی روش کو اپنایا اور امت مسلمہ کی رہنمائی میں اپنا کردار ادا کیا اور کر رہے ہیں۔

اجتماعی اجتہاد کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ فی زمانہ علم کی دنیا میں فرد کی سطح پر کوئی ایسا فقیہ نہ رہا جسے شرائط ِاجتہاد کا جامع کہا جاسکتا اور جس سے اجتہاد کا مطالبہ کیا جاتا۔ مجتہد تو دور کی بات فی زمانہ کوئی بھی فقیہ اصحاب ِتمییز کے منصب پر بھی نہیں کہ جس سے اُمت کی رہنمائی ممکن ہوتی۔ لیکن نو پیدا مسائل میں امت کی رہنمائی بھی فقہائے وقت کا فرض منصبی تھا کہ وہ ان مسائل کی نوعیت کو سمجھیں اور کتب فقہ میں منصوص مسائل کی روشنی میں ان کے احکام دریافت کریں۔ اسی ضرورت کے پیش ِنظر قومی اور بین الاقوامی سطح پر فقہی تحقیقاتی اداروں کا قیام عمل میں آیا تاکہ امت مسلمہ کے اجتماعی نوعیت کے نَوپیدا مسائل اجتماعی اجتہاد کے ذریعے حل کیے جائیں۔ اس سے فقہ اسلامی کا ایک نیا انداز سامنے آیا کیونکہ ان اداروں نے مسائل کے حل کو پوری امت کے لیے قابل ِعمل بنانے کی کوشش کی ہے، جس سے ایک نئی فقہ کا وجود عمل میں آیا جسے فقہ العولمی (Cosmopolitan fiqh) کہا جاتا ہے۔

Comments

محمد ابوبکر صدیق

محمد ابوبکر صدیق

محمد ابوبکرصدیق بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس، اسلامی بینکنگ میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ماسٹر، اسلامی یونیورسٹی سے ایم ایس اسلامک بینکنگ کیا، اب پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.