خواجہ سرا بھی انسان ہیں، ان کے لیے بھی سوچیں - عین علی

عین علی ہمارا معاشرہ یوں تو بہت سے مسائل کا شکار ہے جن سے نجات حاصل کرنے کے لیے معاشرے کا ہر طبقہ اک مسلسل جدوجہد میں لگا دکھائی دیتا ہے جس میں سماجی کارکن اور علمائے کرام نمایاں نظر آتے ہیں۔ مگر کچھ مسائل ایسے ہیں جن کے بارے میں اگر انسان سوچے اور اپنی ذات کو بھی شمار کر کے ارد گرد نظر دوڑائے تو اپنا آپ بہت چھوٹا نظر آتا ہے۔ چھوٹے کے بجائے اگر حقیر کا لفظ استعمال کیا جائے تو شاید زیادہ مناسب ہوگا۔\n\nآئے دن بیشمار لکھاریوں کی اعلیٰ معیار ی ڈوریوں میں عمدہ لفظوں سے پروئی تحریریں نظر سے گزرتی ہیں جو احساس سے زیادہ شوق کا لباس اوڑھے صفحہ اول کی ڈور میں مقابلہ کرتے دکھائی دیتی ہیں۔ جب کوئی نیا فیشن بازار میں آتا ہے تو اسے اپنانے کے لیے اپنی ذاتی پسند ناپسند کا خیال نہیں رکھا جاتا، بس نیا انداز ہے تو اسے اپنانا خود پر لازم کر لیا جاتا ہے، اسی طرح ایسے عنوان جن پر ہر لکھنے والے لکھتے جارہےہیں ان کی تجدید فرض سمجھ لینا ضروری نہیں۔\n\nمیرے کہنے کا مقصد یہاں ہرگز یہ نہیں کہ اچھا نہیں لکھا جا رہا یا اس شعبے میں محنت نہیں ہورہی۔ بس درد فقط اتنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسے اور بہت سے مسائل ہیں جن کا تعلق الفاظ سے زیادہ احساس سے جڑا ہے۔ جو لفظوں کی بھیڑ میں موجود ہونے کے باوجود دھندلے ہوتے جارہے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک ہمارے معاشرے کے وہ زندہ افراد ہیں جنہیں ہم ”خواجہ سرا“ کے نام سے پکارتے ہیں۔ ہر جاندار و بےجان چیز کا خالق اللہ ہے۔ اور وہ سب کا ہے۔ ہر چھوٹی بڑی نعمت اسی کی عطا کردہ ہے۔جس میں سے انسان کا دل ایک بہت قیمتی اور نایاب نعمت ہے۔ جو اپنے ارد گرد موجود لوگوں کے رویوں سے ، ان کی باتوں سے زخمی ہوتا ہے۔\n\nہم میں سے کبھی کسی نے یہ سوچا ہے کہ اگر ہمارا دل کسی کی باتوں سے یا رویوں سے درد محسوس کرتا ہے تو اس دل پر کیا گزرتی ہو گی جسے خود اس کے والدین اس معاشرے کی آگ میں جھلسنے کے لیے تنہا چھوڑ دیتے ہیں؟ ان کی رگوں میں بھی تو وہی سرخ خون دوڑتا ہے جو میری اور آپ کی رگوں میں دوڑ رہا ہے، مگر شاید حقیقت اس دہلیز تک آ پہنچی ہے کہ جہاں یہ کہہ دینا درست ہو گا کہ ہمارا خون بے حسی کے پانی سے وضو کر کرکے سفید ہوچکا ہے۔\n\nاولاد اللہ کی دین ہے اور وہ ہی قادر ہے بیٹا یا بیٹی دینے پر، ان میں سے کچھ بھی نہ دینے یا ”خواجہ سرا“ پیدا کرنے پر۔ یہ بھی اللہ کی مخلوق ہے اور اللہ کی کسی بھی تخلیق کو حقیر سمجھنا انسان کا سب سے بڑا گناہ ہے، مگر آج ہم بے حسی کی اس دہلیز پر آپہنچے ہیں کہ امت کا وہ طبقہ جن کے ذمہ اللہ نے محض اپنے ہی فضل و کرم سے معاشرے کی اصلاح، برابری، مساوات، حقوق کا پیغام دیناسونپا ہے وہ بھی اس سے غافل ہیں۔ ان کی محفلوں میں بھی خواجہ سراؤں کا ذکر جب کبھی بھی آتا ہے تو اکثر تذلیل کی ہی صورت دکھائی دیتی ہے۔\n\nحالات سے مجبور، زخموں سے چور ان لوگوں کے حق میں جب کبھی کسی نے بھی آواز اٹھانے کی کوشش کی اس کی حوصلہ افزائی کے بجائے اس کے سامنے خواجہ سراؤں کےا عمال رکھ دیئے جاتے ہیں کہ یہ تو وہ لوگ ہیں جو معاشرہ برباد کرنے پر تلے ہیں۔ جسم فروشی، ناچ گانے میں مگن رہتے ہیں۔ ان پر بات کرنے ان کے مسائل کو سامنے لانے میں کوئی فائدہ نہیں اس لیے ان پر وقت برباد نہ کیا جائے۔ کیوں؟ کیا یہ انسان نہیں؟ ان کے جذبات و احساسات نہیں؟ کیا ان کے سینے دلوں سے خالی ہیں جن کے خیالوں میں کوئی خواب کوئی خواہش نہیں؟\n\nجس بچے کی معصومیت اپنے ہی گھر والوں کی نفرت کی نذر ہوچکی ہو۔ آنسو اس کے کھلونے اور ڈر، خوف اس کا بستر بن جائے۔ جسے خود اس دنیا میں لانے کا سبب بننے والے کسی گرو کے حوالے کرکے بھول جائیں۔ اس کے سامنے 2 وقت کا کھانا کمانے کے لیے ناچ گانے جسم فروشی کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ رکھا جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پھر اس سب کا قصور وار بھی اسی کو ٹھہرایا جائے تو پھر اللہ ہی خیر کرے۔\n\nمشہور ہے کہ کہنے والا کہہ جاتا ہے، سننے والا کمال کرتا ہے۔ کبھی کسی نے ماں کی گود سے لے کر ہوس کی سلوٹوں میں ان ٹوٹے جسموں کے سفر نامے کو جاننے کی کوشش کی ہے؟ ان کی خیر دل میں رکھ کر کبھی کسی نے دوستی کا ہاتھ ان کی جانب بڑھایا ہے؟ کہنے کو تو ان کو با عزت پاکستانی ہونے کا قومی کارڈ دینے کے اعلانات بھی ہوئے۔ دوسرے عام شہریوں کی طرح سکول کالجز، ہسپتالوں میں حقوق دینے کے پر فریب دعوے بھی سامنے آئے، پر سب دعوے محض الفاظ کی حد تک رہے۔ ہمارے گلی محلوں، شہروں میں کہیں ایسا سکول، کالج نظر کیوں نہیں آتا جو ان کو بھی تعلیم دے کر اِک باعزت طریقے سے روزگار کمانے کی خود اعتمادی دے۔\n\nکیوں ایسے علماء، سکالرز نظر سے اوجھل ہیں جو ماں باپ کی راہنمائی کریں معاشرے کی اس موضوع پر اصلاح کریں۔ کیوں کوئی ایسا ادارہ ، مدرسہ دکھائی نہیں دیتا جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوں۔ ہر طرف کی دیواریں دروازے راستے بند ملنے کے بعد اگر کوئی کسی گرو کی کھلی دہلیز پر ہی پہنچتا ہے تو اس کا ذمہ دار وہ نہیں ہم سب ہیں۔ اور آج نہیں تو کل ہم سب کو اس کا جواب دینا پڑے گا۔