اب جینا اور مرنا تمھارے ساتھ ہے - رضی الاسلام ندوی

اب جینا تمھارے ساتھ ہے____\n__________اور مرنا بھی تمھارے ساتھ\nمکہ مکرمہ فتح ہوا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے عام معافی کا اعلان کردیا. آپ نے فرمایا : "جو ابو سفیان کے گھر میں چلا جائے اس کے لیے امان ہے، جو ہتھیار ڈال دے اس کے لیے امان ہے، جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے اس کے لیے امان ہے."\nیہ سن کر انصار کے درمیان چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں:\n" لگتا ہے، آپ پر مکہ کی محبت غالب آگئی ہے، اسی لیے اس طرح کھلے دل سے عام معافی دے رہے ہیں." \n"اب مکہ فتح ہوگیا ہے، لگتا ہے، اب آپ یہیں رک جائیں گے."\n" لگتا ہے، اب ہم آپ کی صحبت سے محروم ہو جائیں گے."\n" لگتا ہے......" \n" لگتا ہے......" \nیہ باتیں ایک سے دوسرے تک، دوسرے سے تیسرے تک، تیسرے سے چوتھے تک پہنچ گئیں. اس طرح ان کا چرچا ہونے لگا.\nوحی الہی نے آپ کو اس صورت حال سے مطلع کیا تو آپ جذباتی ہوگئے. آپ نے انصار کو جمع کیا اور ان سے خطاب کیا. آپ نے تین مرتبہ ان سے دریافت کیا :\n" بتاؤ، میرا کیا نام ہے؟ " سب خاموش رہے، تب آپ نے فرمایا:\n"میرا نام محمد ہے. میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، میں نے اللہ کے لیے، تمھاری طرف ہجرت کی ہے. اب میرا جینا بھی تمھارے ساتھ ہے اور میرا مرنا بھی تمھارے ساتھ ہے. (المحیا محیاکم و الممات مماتکم) "\nیہ سن کر انصار سراپا معذرت بن گئے.\n(بخاری :1780) \nاس واقعہ سے سماجی اور سیاسی زندگی کے لیے ایک زرّیں اصول کا علم ہوتا ہے. اسی ذمے دار، سربراہ اور حکمراں کو اپنے ماتحتوں اور عوام کی محبت ملتی ہے جس کا جینا اور مرنا ان کے ساتھ ہو، جن کے درمیان اس کا رہنا سہنا، اٹھنا بیٹھنا اور چلنا پھرنا ہو، جسے وہ اپنے اندر کا ایک فرد اور اپنے جیسا ایک انسان سمجھتے ہوں.\nجن حکمرانوں نے یہ اصول اپنے پیش نظر رکھا اور اسے حرزِ جان بنایا، انھیں اپنے عوام سے غیر معمولی محبت ملی. اس موقع پر میں شیرِ میسور ٹیپوسلطان کی مثال دوں گا. انھوں نے عوام کی فلاح و بہبود کے ایسے کام کیے کہ وہ ان پر جان چھڑکتے تھے. انگریزوں کی سازش اور اپنوں کی غدّاری کے نتیجے میں جب شکست یقینی ہوگئی تو وفاداروں نے ٹیپوسلطان کو راہِ فرار اختیار کرنے کا مشورہ دیا اور اس کا انتظام بھی کردیا، لیکن ٹیپو نے یہ گوارا نہ کیا اور کہا کہ میرا جینا اور مرنا تمھارے ساتھ ہوگا، چنانچہ انھوں نے دشمن سے دو بدو لڑتے ہوئے جان دے دی\nمجھے کئی بار میسور سفر کرنے کا موقع ملا ہے. میں نے وہاں ریلوے اسٹیشن، بس اسٹینڈ، بازاروں، ہوٹلوں، چائے خانوں اور دوسرے عوامی مقامات پر لوگوں اور خاص طور پر ہندوؤں سے ٹیپو کے بارے میں تاثرات لینے کی کوشش کی تو سب کو ان کے بارے میں رطب اللسان پایا. ان کی شہادت پر دو سو سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود اس میں ادنی سا بھی فرق نہیں آیا ہے.\nترکی میں حالیہ ناکام فوجی بغاوت کے موقع پر وہاں کے صدر رجب طیب اردگان کا بھی یہی موقف سامنے آیا. انھیں بغاوت کی اطلاع دی گئی تو انھوں نے راہِ فرار اختیار کرنے کو نہیں سوچا، بلکہ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر عوام سے تعاون کی اپیل کی، پھر ان کے درمیان پہنچنے کے لیے بذریعہ ہوائی جہاز استنبول کا قصد کیا، حالانکہ معلوم ہو گیا تھا کہ استنبول ائیرپورٹ کا باغی فوجیوں نے محاصرہ کرلیا ہے -گویا انھوں نے بھی اپنے عوام سے زبان حال سے یہی کہا تھا کہ میرا جینا اور میرا مرنا دونوں تمھارے ساتھ اور تمھارے درمیان ہوگا. اس موقع پر عوام کی ان سے محبت کے بھی بہت دل کش نظارے سامنے آئے.\nحکمرانوں کے لیے اس میں بڑا سبق موجود ہے. ہے کوئی جو اس پر کان دھرے اور اس پر عمل کرنے کے لیے تیار ہو ؟

Comments

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

محمد رضی الاسلام ندوی نے ندوۃ العلماء لکھنؤ سے فراغت کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے BUMS اورMD کیا. ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی ہند کے رفیق رہے. سہ ماہی تحقیقات اسلامی کے معاون مدیر اور جماعت اسلامی ہند کی تصنیفی اکیڈمی کے سکریٹری ہیں. قرآنیات اور سماجیات ان کی دل چسپی کے خاص موضوعات ہیں. عرب مصنفین کی متعدد اہم کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.