ہوم << بغاوت اور 'انتقام' --- غلام اصغرساجد

بغاوت اور 'انتقام' --- غلام اصغرساجد

عجب ہے کہ جس بات پر ترک قوم، حکومت، اپوزیشن جماعتوں اور فوج میں کسی ایک کو بھی اعتراض نہیں بلکہ وہ اس تاریخی لمحے کے تاریخی حالات سے اتحاد و یکجہتی کے ساتھ نبٹنےکے لیے باہم ایک ہوچکے ہیں، اسی معاملے پر باہر والے گہری تشویش کا شکار ہیں. وہ اپنے خیالوں میں صرف ایک سال کے اندر اردوان دور کا خاتمہ دیکھ رہے ہیں اور خانہ جنگی کی پیش گوئیاں فرما رہے ہیں. دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سُر وہاں سے اٹھا ہے جو ہر رات اردوان حکومت کے دھڑن تختے کا خواب دیکھتے ہیں، ان کی 'حساس' طبعیتوں نے سیاسی نجومیوں کی شکل اختیارکر لی ہے. درحقیقت ایسے منظرنامے میں جینے والے ترکی میں پچھلے کئی سالوں سے جو کچھ ہوتا رہا ہے اس کا درست ادراک نہیں رکھتے. اگر انہیں کچھ معلوم ہے تو صدارتی محل، کرپشن الزامات، صحافیوں کی گرفتاریاں اور اب ناکام بغاوت کے بعد گرفتاریاں اور معطل سرکاری ملازمین.
ہمیں ابتداء میں ہی کچھ باتیں سمجھ لینی چاہییں
اولا: اگر اردوان ایسے عناصر کو مزید ریاستی اداروں میں رکھتے ہیں تو انھیں مزید سازشوں کے لیے تیار رہنا پڑے گا- یہ بات محض اگر کی بنیاد پر نہیں کہی جا رہی بلکہ ان کی طرف سے ایک بڑا ثبوت دیا گیا ہے. ناکام خونی بغاوت کے بعد بدقسمتی سے وہ مزید کوئی خطرہ نہیں پالنا چاہتے، اور آج کی پریس کانفرنسز کے بعد تو اپوزیشن جماعتیں بھی نہیں چاہتیں کہ ایسے عناصر ریاستی اداروں میں پھلیں پھولیں جو نظام کے لیے دوبارہ خطرہ بن سکیں
CHP head meeting with PM Turkey
13692555_1264321536934853_7801799383434534571_n
دوم: ترک قوم ابھی اردوان سے بےزار نہیں ہوئی بلکہ غلطیوں کے باوجود ( وہ غلطیاں نہیں جو ہم سمجھ رہے ہیں بلکہ وہ غلطیاں جو خود ترک عوام سمجھ رہی ہے، مثال کے طور پر شامی شہریت جس پر عوام نے اردوان کی بات ماننے سے انکار کر دیا، مجبوراً انہیں وضاحت کرتے ہوئے مہارت فراہم کرنے کے ساتھ مشروط کر کے اس اوپن آفر کو محدود کرنا پڑا) ان کی حامیوں کی تعداد ترکی میں ہی نہیں دنیا بھر میں بڑھ رہی ہے. اگر ان سے کوئی بےزار ہوا ہے تو وہ ان کے مقصد سے عناد رکھنے والے ہی ہوئے ہیں. خوش قسمتی سے ان کے پاس اردوان کا اپنا ہی پرانا ساتھی ہے، لیکن ان کی بدقسمتی ہے کہ فتح اللہ گولن 2002ء والا گولن نہیں رہا، جس کی مدد کے بغیر شاید رجب طیب اردوان نہ جیت پاتے. اب فتح اللہ گولن 2016ء کا گولن ہے جو امریکی ریاست پینسلوانیا میں رہتا ہے، دنیا میں اس کا نیٹ ورک اگرچہ مضبوط سمجھا جاتا ہے لیکن ترکی میں وہ اپنی مقبولیت کھو چکا ہے. اس کا سب سے بڑا ثبوت تو یہی ہے کہ وہ اپنے اثر سے فوجی بغاوت کامیاب نہیں کروا سکا بلکہ ترک قوم کی نگاہ میں مزید ناپسندیدہ ہو چکا ہے. اس کا ثبوت یہ بھی ہے کہ اردوان نے اس کی مخالفت کے باوجود کئی ریفرنڈم اور انتخابات جیتے ہیں، حالیہ انتخابات میں جس میں ایک مرحلے پر ان کے ووٹوں کا تناسب کم ہوا تب بھی وہ عددی لحاظ سے اپنے سابقہ ووٹوں سے زیادہ ووٹ لے چکے تھے- ہمارے ہاں یہ عمومی تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ اردوان باغیوں کو پھانسی پر لٹکانا چاہتا ہے لیکن یہ تاثر بھی مغربی میڈیا کے زیراثر پیدا ہوا ہے البتہ جو احباب ترک حالات کو براہ راست مانیٹر کر رہے ہیں، وہ صاف دیکھ رہے ہیں کہ پھانسی کے نعرے عوام کی طرف سے اٹھ رہے ہیں. طوبٰی اوزکال، سرکاریا شہر کی رہائشی ہیں اور استنبول میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں، خوش قسمتی سے ایردوان کی کٹر مخالف ہیں مگر کہتی ہیں "وہ رات پاگل پن کی رات تھی، ٹینکوں اور گولیوں کے بجائے آگ کے الاؤ بھی ہوتے تو لوگ اردوان کو بچانے کے لیے ان میں بھی کود جاتے"، "لوگ سچ میں پاگل ہو چکے ہیں، وہ سڑکوں پر بیٹھے ہیں لیکن کچھ بھی کر سکتے ہیں، میرے والد نے مجھے سرکاریا میں واپس بلا لیا ہے". یہ ایک اردوان مخالف کی گواہی ہے اور حقیقت کی غماز بھی. اردوان جس مساوی ریاست کے خدشات کو ایک عرصے سے بیان کر رہے تھے وہ حقیقت بن کر سامنے آئے ہیں. یہ بغاوت کوئی راتوں رات نہیں اٹھی، 2007ء میں ایک ایسی فوجی بغاوت کا منصوبہ پکڑا گیا، 2012ء میں گولن پراسیکیوٹر کی طرف سے ایم آئی ٹی چیف کو گرفتار کر کے کرپشن تحقیقات کے لیے اردوان کو گرفتار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا، 2013ء میں دوبارہ کرپشن کے الزامات لگا کر بڑے پیمانے پر حکمران پارٹی کے وزراء، اردوان کے بیٹے اور اردوان کو پکڑنے کی ناکام کوشش کی گئی، 2014ء میں اے کے پارٹی کا انتخابی ترانہ جو رجب طیب اردوان کی آواز میں قومی ترانہ تھا اور ساتھ ایک ایسی فلم تھی جو ایسے ہی خطرات کو پیش نظر رکھ کر بنائی گئی تھی، ایک بڑے ٹاور پر لگے ترک جھنڈے کی رسی کوئی شخص کاٹ دیتا ہے، اردوان کی آواز ابھرتی ہے، لوگ دوڑ پڑتے ہیں اور ہزاروں لوگ اس ٹاور کے ساتھ چپک کر انسانی ٹاور کے ذریعے جھنڈے کو سنبھال لیتے ہیں، یہ سیاسی بصیرت کی انتہا تھی کہ اردوان نے ایسے خطرات کے لیے قوم کو پہلے سے تیار کیا، پھر 2015ء میں ترک انٹیلیجنس ایجنسی ایم آئی ٹی نے خطرات اور خدشات کا اظہار کیا تھا. یہ بغاوت کوئی اجنبی بغاوت نہیں تھی بلکہ عوام الناس اس سے آگاہ تھے، اسی لیے ایک زبردست جذباتی ردعمل دیکھنے کو ملا جس کے آگے ایک طاقتور منصوبہ بند بغاوت جسے ٹینکوں اور فضائی مدد بھی حاصل تھی، ناکامی سے دوچار ہو گئی- اسی لیے قوم اب پھانسی کے نعرے بلند کر رہی ہے، استنبول کی مسجد فاتح میں جب شہداء کی نماز جنازہ پڑھائی گئی تو اردوان کے سامنے زبردست نعرہ بازی کی گئی کہ باغیوں کو پھانسی پر لٹکایا جائے تو اس وقت اردوان نے بڑے ذمہ دارانہ انداز سے کہا کہ جمہوریت میں عوام کی رائے سے تجاہل نہیں برتا جاتا، یہ آپ کا حق ہے اور ہم اس رائے پر پارلیمان میں بحث کریں گے-
Erdogan news tweet1
کل تینوں اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم بن علی یلدرم سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں اور پریس کانفرنسز کیں، تینوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ اداروں کو باغی گولن عناصر سے پاک کرنا ضروری ہے اور اگر حکومتی پارٹی پارلیمنٹ میں پھانسی کی سزا بحال کرنے کی قرارداد لاتی ہے تو ہم اس کے حق میں ووٹ دیں گے-
MHP Leader tweet1
بظاہر پارلیمنٹ میں بیٹھی جماعتوں نے پھانسی کی بحالی کے معاملے کو اردوان اور قوم کا معاملہ بنا دیا ہے- غالب امکان ہے کہ نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا جس کے بارے اردوان نے کہا ہے کہ وہ اس اجلاس میں اہم فیصلے کریں گے-
دوسری طرف 79 ملین آبادی رکھنے والا ترکی عددی اعتبار سے دنیا کی آٹھویں اور ناٹو کی دوسری بڑی فوج رکھنے والا ملک ہے جو 7 لاکھ 20 ہزار نفوس پرمشتمل ہے جس میں جنرل/ایڈمرل کی تعداد 365 ہے، بغاوت کے الزامات میں 6000 (0.00383فیصد) فوجیوں کو حراست میں لیا گیا ہے جس میں جنرل کی تعداد 103(28فیصد) ہے جن میں سے 25 پر سنجیدہ الزامات ہیں، ترک ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں اساتذہ کی تعداد 2001ء میں 5لاکھ 78 ہزار سے زائد تھی، گولن عناصر 15000(2.6فیصد) کی تعداد میں محکمہ جاتی طور پر فارغ کر دیے گئے ہیں، اگرچہ اردوان کی تعلیمی اصلاحات اورمعاشی ترقی کے بعد یہ تعداد زیادہ ہو چکی ہوگی- 21 ہزار پرائیویٹ اساتذہ کے ٹیچنگ لائسنس منسوخ کیے گئے ہیں جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 1500 ڈینز کو استعفیٰ دینے کی تجویز دی ہے. ان تمام اقدامات میں قوم، حکومت، اپوزیشن جماعتوں اور فوج کی باہم اتفاق رائے سے نظام کے لیے خطرہ بننے والے عناصر کو اداروں سے علیحدہ کر کے تفتیش کی جاری ہے تو اس پر باہر کے حلقے کیوں پریشان ہیں؟ یہ عناصر ایک لمبے عرصے سے سازشوں اور بغاوتوں میں مصروف رہے ہیں اور اب ایک بڑی خونی کوشش کر بھی گزرے ہیں تو ایسے میں ان کے لیے جذبہ رحم کی اپیل کرنے والے دراصل یہ چاہتے ہیں کہ اردوان حکومت کو مسلسل تناؤ میں رکھا جائے تاکہ وہ ہدف 2023ء کو حاصل نہ کر پائیں جو دراصل ترکی تو ٹاپ ٹین میں لے جانے کا خواب ہے. ترک قوم اردوان کے کردار اور تاریخ سے واقف ہے کہ اگر اس نے عزم باندھا ہے تو یہ خواب تعبیر پا کر رہے گا- وہ اس کے لیے عملی اقدامات بھی اٹھا رہے ہیں- 'دشمن کم، دوست زیادہ' یہ ان کی تازہ خارجہ پالیسی ہے، اس کے پہلے مرحلے میں اسرائیل اور روس کے ساتھ تعلقات بحال کیے گئے، شام اور مصر اس کے اگلے، مگر مشکل مرحلے ہیں- درمیان میں یہ بغاوت پھوٹ پڑی لیکن ناکام ٹھہری، اب کون کم فہم اردوان کو یہ مشورہ دینا چاہتا ہے کہ جن منفی خارجی اثرات سے محفوظ بنا کر وہ اگلی منزل کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، ایسے منفی اندرونی عناصر کو وہ بغاوتوں کے مواقع دیتے رہیں اور ان کو سنبھالتے رہیں!!

Comments

Click here to post a comment