ہوم << تلاشی لیے جانے کے بعد کا سوشل میڈیائی منظرنامہ - سید اسرارعلی

تلاشی لیے جانے کے بعد کا سوشل میڈیائی منظرنامہ - سید اسرارعلی

سید اسرارعلی پانامہ لیکس پرعدالتی کاروائی کو بنیاد بناکر سوشل میڈیائی جہادی اور الیکٹرانک میڈیائی ’’دانش گرد‘‘جو مصنوعی فضا بنارہے ہیں اور جس طرح سے یہ لوگ، معمول کی عدالتی کاروائی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرکے لوگوں کو جھوٹے دلاسے دلارہے ہیں، اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار کرنا مشکل ہے کہ سپریم کورٹ میں نواز شریف اینڈ کمپنی پر کرپشن ثابت کرنا ’’اونٹ کو رکشے میں بٹھانے‘‘ کے مترادف ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ محنت طلب کام ہے۔ ویسے یہ بھی حقیقت ہے کہ جو کام، اپنے وقت کے سیاہ و سفید کا مالک جرنیل پرویز مشرف، اپنی مکمل طاقت اور اثر رسوخ سے نہ کرسکا تھا۔ وہ اب کیسے ہوپائے گا کیونکہ تب نواز شریف جیل میں تھا جبکہ اب وہ وطن عزیز کا منتخب وزیر اعظم ہے۔
یہ ہماری بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ بڑے بڑے قدآور سیاسی شخصیات بھی انتہائی سطحی اور کمزور بنیادوں پر کیسز چلانا اور جیتنا چاہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پھر ان کے اپنے مقررہ کردہ ’’حَکم‘‘ کے فیصلے کو بھی ’’میں نہ مانو‘‘ کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے۔ یقین نہیں آتا تو انتخابی دھاندلی سے متعلق جوڈیشل کمیشن کے رپورٹ کو ہی دیکھ لیجئے جہاں فریقین کو کمیشن پر اعتماد تھا لیکن فیصلہ آنے کا بعد نہ رہا۔ اب پانامہ لیکس کے حوالے سے سپریم کورٹ کے متوقع فیصلے کا انتظار کیجئے۔ وہی طعنے، وہی گالیاں اور وہی اخباری بیانات ہوں گے بس نام بدل جائیں گے اور اس بار انور ظہیر جمالی اور اس کی ٹیم ’’نشانہ عبرت‘‘ بنیں گے۔
ایک لمحے کے لیے فرض کیجیے کہ سپریم کورٹ میں نوازشریف کے خلاف یہ کیس ثابت نہیں ہوپاتا جس کے چانسز موجودہ حالات میں کافی زیادہ ہیں۔ یقین کیجیے کہ جیسے ہی فیصلہ سنایا جائے گا، اسی وقت ہی ایک طوفانِ بدتمیزی نے برپا ہوجانا ہے کیونکہ ہمارے سیاسی جماعتوں کے نزدیک فیصلہ تبھی ’’مبنی بر انصاف‘‘ ہوتا ہے، جب وہ ان کے حق میں ہو ورنہ انصاف اندھا، منصف کانہ دجال اورعدالت کوٹہ قرار دیا جاتا ہے ۔
فیصلہ آتے ہی کسی دل جلے نے پوسٹ کرکے آیان علی کو بیچ میں گھسیٹنا ہے۔ دل جلے کی پوسٹ کچھ اس طرح ہوگا۔ ’’جو سسٹم ایک بڑے کی رکھیل کو بند نہ رکھ سکا، وہ سسٹم ایک بڑے کو اندر کیسے کرتا؟‘‘۔ اس پوسٹ پر مخالف کیمپ سے جواب آئے گا ’’میرے بھائی کے اس دکھ میں میری آواز کو شامل سمجھئے! یہ خبیث سسٹم بیرون ملک رکھیل رکھنے والے کو بھی کچھ نہیں کہہ رہا۔ یہاں تک کہ اس سے پیدا ہونے والی اولاد پر بھی چپ سادھ رکھی ہے۔ لعنت ہو اس سسٹم پر‘‘۔
ایک صاحب لکھے گا، ’’آسان بھاشا میں مطلب یہ ہے کہ، نہ آیان علی نے اسمگلنگ کی، نہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی، نہ نوازشریف نے کوئی کرپشن کی، نہ کوئی پانامہ ہے اور نہ کچھ لیک ہوا ہے اور بولو۔۔۔ مجھے تو پتہ تھا یہ سب ہوئے گا۔ اگر فیصلہ اس کے برعکس آتا تو حیرت ہوتی۔ ڈھونگی حکومت، جعلی اسمبلی، بکاؤ عدلیہ۔
ایک حضرت کو مرحوم ابوالکلام آزاد یاد آئیں گے اور ان کی تصویر پوسٹ کرکے لکھے گا’’ اس شخص نے جج کے روبرو کہا تھا۔’تاریخ عالم کی سب سے بڑی ناانصافیاں جنگ کے میدانوں کے بعد عدل کے ایوانوں میں ہوئی ہیں‘‘۔ دوسرا لکھے گا سب کرپٹ سسٹم کے پہرے دار ہیں۔ ہرطرف اس نظام سے فائدہ اٹھانے والے بٹھائے گئے ہیں۔
مخالف کیمپ سے بھرپور وار کے طور پر لکھا جائیگا کہ خان صاحب نے بات دل پہ لی ہے، حالانکہ 126دن تک پوری قوم کو انٹرٹین کیا۔ دھرنا پلس کیا۔ احتساب مارچ کیا۔ اسلام آباد لاک ڈاؤن کرکے یوم تشکر منایا۔ بس کافی ہے۔ تھینک یو۔ جواب میں سیاسی کارکن مگر قدرے مہذب انسان جواب دے گا ’’سڑکیں اور فلائی اوورز بنانے والے شریف میسرز (پرائیویٹ) لیمیٹڈ کی جانب سے تمام اہل وطن کو عیدِ پانامہ کمیشن مبارک ہو
بار بار ناکامیوں کا طعنے دیتے ہوئے ایک صاحب لکھے گا کہ اگر زندگی نسیم حجازی کا ناول ہوتی تو عمران خان پوری دنیا کا حکمران ہوتے۔ جواب میں کوئی محترم سیاسی کارکن ایک کارٹون پوسٹ کرے گا۔ اس میں بکری کو عدالت میں دکھایا گیا ہوگا اور ساتھ لکھا ہوگا ’’ تم کہتے ہو، یہ ایک بکری ہے۔ سار ا شہر کہتا ہے کہ یہ ایک بکری ہے۔ میں بھی دیکھ رہاہوں کہ یہ بکری ہے۔ لیکن ثبوت کہاں ہے کہ یہ بکری ہے؟
ایک مایوس کارکن کپتان کو آخری مشورے کے طور پر پوسٹ کرے گا۔ ’’عدالتیں کرکٹ میچ نہیں ہے۔ یہاں پیشگی ادائیگی کرنا پڑتی ہے اور جو زیادہ مال لگاتا ہے وہی انصاف کا حقدار قرار پاتا ہے۔ عدالت کے باہر آویزاں ترازو پر آپ نے غور نہیں کیا‘‘۔ دوسرے کوشورش کاشمیری یاد آئے گا۔ ’ انصاف بک رہا ہے زرو سیم کے عوض۔ ان حاکموں سے خوف خدا کون لے گیا ؟۔ ان ادیبانہ اعتراضات پر مخالف کیمپ کے ادیب اٹھ کھڑے ہوں گے اور جواب دیں گے۔ ’’جو لوگ ابوحنیفہؒ اور بخاریؒ کی رائے بلال دلیل نہیں مانتے ان یہ توقع رکھنا کہ وہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ محض عقیدت کی بنا پر مان لیں گے آبلہ فریبی کے سو کچھ نہیں‘‘۔
ایک صاحب الزامات کی آخری حدوں کو چھوتے ہوئے لکھے گا ۔’’شریف برادران کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ وکیل نہیں کرتے جج کرلیتے ہیں اب تو ان کے بارے میں مشہور ہورہا ہے کہ یہ جج نہیں کرتے بلکہ ساری عدلیہ ہی خرید لیتے ہیں‘‘۔ ایک صاحب فوٹو شاپ کے ذریعے سے محترم ججوں کو تابوت اٹھاتے ہوئے دکھائے گا اور اوپر لکھا ہوگا ’’پاکستان میں انصاف کا جنازہ ہر بار دھوم دھام سے ہی نکلا ہے‘‘۔۔۔۔۔ ایک اور صاحب بھی ایسے ہی منظر کشی کرنے کے لیے جج صاحبان کی تصویروں کو ایڈیٹ کرکے لکھے گا’’یہاں تہذیب بکتی ہے یہاں فرمان بکتے ہیں۔۔۔ ذرا تم دام تو بدلو، یہاں ایمان بکتے ہیں‘‘۔
قدرے حوصلہ مند ایک کارکن نے لکھا ہوگا ’’لیڈر دل جیتا کرتا ہے، کیس تو آیان علی بھی جیت جاتی ہے‘‘۔
ان میں سے گالیوں، ذاتیات اور انتہائی غلیظ زبان استعمال کرنے والوں کو تو میں نے شامل ہی نہیں کیا۔ یہ ان شریف لوگوں کے متوقع سوشل میڈیائی تبصرے ہیں جو پڑھے لکھے لوگ ہیں اور اعلیٰ اداروں میں کام کررہے ہیں۔ ان میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے اور پڑھانے والے بھی شامل ہیں اور ظاہر سی بات ہیں سارے اعلیٰ درجے کے سیاسی کارکن کہلائے جاتے ہیں۔ باقی کا اندازہ آپ خود لگاسکتے ہیں۔
اس لیے ہم تو چیف جسٹس صاحب کو یہی کہہ سکتے ہیں کہ ’’چیف صاحب، سوچھ لیجے‘‘۔

Comments

Click here to post a comment