ہوم << عورت، فیشن، پردہ اور شریعت - در صدف ایمان

عورت، فیشن، پردہ اور شریعت - در صدف ایمان

اﷲ عزوجل نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا۔
اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بنائو نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہو اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں۔
سورۃ النور میں رب کائنات اپنے نور کی مثال کے ساتھ ساتھ عورتوں کے لیے حجاب کے احکام نازل فرماکر حقیقتاً عورتوں کے لیے نور کا ساماں پیدا کیا ہے، نورانیت کی پرنور چادر تانی ہے بشرطیکہ کہ ہم ناداں نسواں ان احکام کو سمجھتے ہوئے قلوب کو پرسکون کرلیں۔
فیشن
دیکھ کر اے بنت حوا یہ ادائیں یہ شعار
آج ہے چشم فلک بھی دم بخود اور سوگوار
دور حاضر میں پردہ خواتین کے لیے ایک محاذ اور فیشن ایگو، عزت اہم ضرورت بن گیا۔ ہم ناداں نسواں احکام شرعی کو نظر انداز کرتے اپنے لیے نار جہنم کا ساماں پیدا کر رہی ہیں۔ اﷲ عزوجل نے ہمارے لیے نور اتار اور ہمارے لیے روشنی نازل فرمائی اور ہم نے نور و روشنی میں منور ہونے کے بجائے اندھیرے و تاریکی کو اپنا لباس بنالیا، جہنم کے راستے پر گامزن ہوگئیں۔ اپنا تقدس، وقار معیار مسلمان عورت ہونا سب بھول کر ایک چیز یاد رکھیں۔
معزز بہنو! ہم صنف نازک سے ہیں کائنات کے رنگوں کو عورت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بیٹی کی صورت میں گھر کی چہکار، بہن کی صورت میں رونق، بیوی کی صورت میں سکون اور ماں کی صورت محبت خالص، لیکن ان سب کو بھول کر ہم نے صرف اپنا ہی نقصان کیا ہے۔
عورت جس کا نام ہی پردہ ہے، حجاب ہے۔ آج وہ اپنا حجاب بھول کر فیشن کی بھول بھلیوں میں اپنی ترقی و بقاء سمجھنے لگی ہے۔ بے پردگی میں اپنا عروج ماننے لگی ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس نے بے پردگی کو اپناکر نہ صرف مغربی تہذیبوں کو فروغ دیا بلکہ ایک مسلم عورت کو گرایا ہے حجاب کے تقدس کو پامال کیا، وقار نسواں مجروح کیا۔
اُمّت مصطفیﷺ ہوکر بھی بے پردہ؟ بے حجاب؟
آج اگر ہم سے پوچھا جائے کہ پردہ کیا ہوتا ہے تو بے حد اعتماد و مطمئن انداز میں جواب دیا جاتا ہے۔
’’پردہ تو آنکھوں کا ہوتا ہے‘‘
تو ایک اور سوال ہے کہ کیا وہ اتنے ہی اعتماد سے یہ جواب دے سکتی ہے کہ ان کی طرف اٹھنے والی ہر نگاہ میں احترام تھا، ادب تھا، عزت تھی، پاکیزگی تھی۔
٭ ایک مسلمان عورت ہو کر کیسے برداشت کر لیا کہ اس کے چہرے کو کوئی نامحرم دیکھے؟
٭ اُمّت مصطفی ﷺ ہوکر کیسے برداشت کرلیا بے پردہ رہنا؟
٭ غیر مسلموں کی تقلید کرنا؟
٭ عریاں ہونا کیسے برداشت کرلیا؟
ہوا تجھ پر قلم بھی اشک باراں عورت ہے رنگ کائنات تجھ میں
فخر مرداں بن، ناموس خانگان بن، رشک مسلم بن
عروج، ترقی، بقا، بےحجابی، بے پردگی میں نہیں ہے حجاب وپردے میں امہات المومنین رضی اﷲ عنہن کی مثال شمع فروزاں کی طرح ہمارے سامنے روشن ہے۔ اچھی بیٹی، اچھی بہن، اچھی ماں، اچھی بیوی ہونے کے ساتھ ساتھ کائنات کی حسین ترین خواتین کے درجے پر فائز ہیں۔ کیا انہیں عروج نہ ملا؟ کیا انہوں نے شرعی احکام کے ساتھ ایسا کیا تھا؟ کیا انھوں نے بے حجابی کو شعار بنایا تھا؟
بہن! انہوں نے ہرحال میں شرعی احکام کی پاسداری کی، تعلیم رسول اﷲﷺ کو تھامے رکھا۔ اطاعت رسولﷺ کو شعار بنایا، حقیقت تو یہ ہے کس انہیں یہ عظیم مرتبہ ملا ہی اس شریعت محمدیﷺ کی تعظیم و احکام کی بجا آوری کرنے سے ہے۔
دور حاضر اور خواتین
دور حاضر میں آزادی کے نام پر بے پردگی اور ترقی کے نام پر بے حجابی اور عریانیت کو اپنا شعار بنالیا۔ ہر طرف بے حیائی و فحاشی سے مناظر عام ہیں، مغرب کی طرف سے آنے والی یہ رنگ و ہوا کو قوس قزح کے خوبصورت و ناپاک رنگ سمجھ کر اپنے آپ کو اس میں ڈھال لیا۔
تیرے حجاب و حیاء پر لکھے گئے کل تک دیوان نازاں
کیوں اتار لیا تونے اپنے آپ کو پستی و مغرباں میں
شریعت اور فیشن
معزز بہنو! شریعت نے ہمیں فیشن سے نہیں منع کیا۔ ہماری شریعت ہم پر بے جا پابندیاں عائد نہیں کی۔ اگر ہم سمجھیں کہ شریعت محمدیﷺ ہمارے لیے کیسا انمول خزانہ ہے اور اس میں ہمارے لئے کتنے بیش و بہا موتی ہیں، یہ انمول و نایاب خزانہ ہمارے لئے جس کو اپنانے میں ہماری اپنی شخصیت کا نکھار ہے۔
شریعت نے ہمیں ہار سنگھار سجنے سنورنے سے منع نہیں کیا۔ صرف اتنا حکم ہے کہ فیشن کیا جائے مگر حد میں رہ کر۔ اپنی روایات اپنی شریعت، کتاب اﷲ کے احکامات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیا جائے۔ تاریخ و حال گواہ ہے جب بھی کوئی حد سے بڑھا ہے وہ تباہ و برباد ہوا ہے، فنا ہوا ہے، سینکڑوں قومیں تباہ ہوئیں اور عبرت کا نشان بن گئیں حد سے بڑھنے کی پاداش میں۔ مثال کے طور پر سوچیں پانی بھی حد سے زیادہ پکایا جائے تو وہ بھی ختم ہوجاتا ہے، عورت تو پھر صنف نازک ہے اور یہ ہماری شریعت کا ہم پر احسان ہے، کہ ہم پر حدیں مقرر کرکے ہمیں برباد ہونے سے بچالیا۔
٭ فیشن کے نام پر پستی میں جا پڑنے پر حد قائم کردی۔
٭ فیشن کے نام پر عریانیت سے بچنے کے لئے ہم پر حد قائم کردی۔
٭ فیشن کے نام پر ہماری تابناکی کا سورج مغرب میں غروب ہونے سے بچالیا۔
کیا یہ ہم پر ہماری شریعت کا احسان نہیں ہے؟
فیشن کیا جائے ضرور کیا جائے۔ قرآن و حدیث نے ہمیں کسی جگہ جبر کا حکم نہیں دیا۔ ہار سنگھار سے منع نہیں کیا بلکہ شوہر کے لئے سجنے سنورنے پر اجر عظیم رکھا۔
قرآن و حدیث اور سنگھار
سنگھار سے سجنے سنورنے سے بالاجماع منع نہیں ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔
کنواری لڑکیاں سنگھار کیا کریں، تاکہ ان کی منگنیاں (رشتے) آئیں، پھر ظاہر ہے شوہر والیوں کے لیے تو اور بدرجہ اولیٰ سنگھار وزیب وزینت کا حکم ہے۔ سجنے سنورنے سے منع نہیں، ممانعت ہے تو فیشن کے نام پر بے پردگی سے۔ اس ناجائز فیشن سے ہے جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو۔ گھر میں جھگڑا ہو، عبارت میں رکاوٹ اور شیطان ساتھی ہو ایسے فیشن سے منع کیا گیاہے، حد مقرر کی گئی ہے، سلیولیس، کیپری جیسے ملبوسات جن سے ستر عورت ظاہر ہو، ایسے فیشن سے ممانعت کی گئی۔
دور حاضر اور چند فیشن
ناخن بڑھانا:
ناخن بڑھانے سے اپنے آپ کو ہی دقت میں ڈالنا ہے، نامکمل طور پر غسل نہ ہی کامل وضو، اس کے علاوہ شرعی طور پر بھی اس کی ممانعت ہے۔ صحیح مسلم میں حدیث پاک کا جز ہے جو ناخن نہ تراشے وہ ہم میں سے نہیں۔ نیل پالش: نیل پالش اور ٹاپ کوٹ وغیرہ سے احتراز برتا جائے کہ عبادت میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے، پانی کے جسم تک پہنچنے میں حائل ہوجاتی ہے۔
اپر لپس ویکس، تھریڈنگ
جائز ہے لیکن اگر حاجت نہ ہو تو بلا ضرورت نہ کرنا بہتر ہے، جائز ہے اگر بکثرت ہو اگر انسانی فطرت کے تحت ہلکا رواں ہو تو جائز نہیں کیونکہ حاجت بھی نہ تھی۔
لینس لگانا جائز ہے، بشرطیکہ نامحرم کی توصیف نہ ہو، نہ ہی بے پردگی کا احتمال ہو، کیونکہ عباء و نقاب میں بھی صرف آنکھیں ہی نظر آتی ہیں۔ اگر نظر کمزوری کی بناء پر ہے تب بھی جائز ہے اور اس کو لگائے ہوئے وضو و غسل بھی ہوجائے گا۔
پارٹی مہندی
آج کل لال مہندی جس سے لگنے سے کھال پر جرم دار تہہ آجاتی ہے، لگانا جائز ہے مگر نہ لگانا بہتر ہے کہ اپنے آپ کو مشقت میں ڈالناہے۔ اس لئے تقاضائے تقویٰ یہی ہے کہ اس کی جگہ سادہ مہندی استعمال کرلی جائے۔
بالوں کی کٹنگ
عوت کے سر کے بال کٹوانا جیسا کہ اس زمانے میں عیسائی ونصرانی عورتوں کی تقلید میں یا میڈیا کی دیکھا دیکھی مسلم خواتین نے کٹوانا شروع کردیئے ہیں، ناجائز وگناہ ہیں اور ایسی عورت پر لعنت آتی ہے۔ لیکن اگر بال نیچے سے خراب ہورہے ہوں یا بیمار، دو موئے یا نولیس کی ان کے لمبے ہونے میں حائل ہورہی ہو تو ان کی نشوونما کے لئے صرف بیمار و خراب بال کٹوانا جائز ہوں گے۔ لیکن اسٹائلٹس انداز میں کٹوائے جائیں اور نیت یہ بال کھول کر داد و تحسین سمیٹا تو سخت حرام ہے۔
اگر شوہر ہے (فیشن کے طور پر) کٹوانے کو کہا تو بھی یہی حکم ہے کہ ایسا کرنے میں عورت گناہ گار ہوگی کیونکہ شریعت کی نافرمانی میں کسی کا کہا نہیں مانا جائے گا (رد المحتار)
پرفیوم، باڈی اسپرے
عورتوں کے لیے ناجائز ہے کہ نامحرم اس کے وجود سے آتی خوشبو سونگھیں، جس عورت کی خوشبو نامحرم کو جائے وہ بدکاروں میں شمار کی جاتی ہے۔ اس لیے ہلکی خوشبو استعمال کی جائے کہ اس کے اپنے تک محدود رہے تو جائز ہے لیکن تقویٰ یہ ہے کہ بچا جائے۔
برقع عبایا
عبایا اور برقع پردے کی چیز ہے حجاب لینے کے لیے استعمال کیا جاتاہے، نہ کہ بے حجابی کے لیے، اس لیے اس پر ضرورت سے زیادہ ایمبرائیڈری (فینسی ورک) سے پرہیز کیا جائے۔ کوشش کی جائے کہ سادہ ہی استعمال کیا جائے تاکہ جس مقصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے وہ مقصد تکمیل تک جا پہنچے۔
رب عزوجل سے دعا ہے کہ امت مسلمہ کی ہر مسلمان عورت، تمام مسلم بہنوں کو اپنا حجاب و تقدس قائم رکھنے شرعی احکام کی پاسداری کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے اور بے ہودہ فیشن سے ہمیں محفوظ رکھے۔ آمین بجاہ النبی الامین

Comments

Click here to post a comment