ہوم << عدالتی نظام ناکارہ ہو چکا ہے - جہانگیر بدر ایڈووکیٹ

عدالتی نظام ناکارہ ہو چکا ہے - جہانگیر بدر ایڈووکیٹ

جہانگیر بدر شاہ زیب قتل کیس، ایان علی کیس اور قصور سکینڈل کیس اور اب مظہر حسین کیس ہمارے عدالتی نظام کے ناکارہ ہونے کا تازہ تازہ ثبوت ہیں۔ مظہر حسین انیس سال قید میں رہنے کے بعد با عزت بری ہوا۔ پراسیکیوشن کو اس بات کا علم تک نہیں تھا کہ مظہر حسین دو سال پہلے جیل میں وفات پا چکا ہے۔
ہمارے ملک میں لوگ شیطان، بری بیماری، غربت،ظالم کے ساتھ ساتھ تھانہ کچہری سے بھی خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔ کام کے بوجھ، تربیت یافتہ سٹاف اور ججز کی کمی کی وجہ سے عدالتی نظام تقریبا مفلوج ہو چکا ہے۔یہاں اگر کسی کو انصاف مل بھی جائے تو اتنی دیر بعد ملتا ہے کہ اس کی کوئی قدر قیمت باقی نہیں رہتی۔یہ عدالتی نظام صدیوں پرانا ہے اور آج تک ویسے کا ویسا ہے۔قانون تو نئے بہت بن گئے ہیں لیکن طریقہ کار وہی پرانا ہے۔ عدالتوں کا ماحول قابل رحم ہے۔ یہاں پر عزت ماب صرف ججز ہیں اور قابل احترام صرف وکیل۔ میں روز دیکھتا ہوں کہ کس طرح گواہ ان عدالتوں میں ذلیل و خوار ہو رہے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی کسی مقدمے میں گواہ ہے تو اسے عدالت کے اتنے چکر لگوائے جاتے ہیں اور اس طرح بے دردی سے اس کے وقت کا ضیاع کیا جاتا ہے کہ ایک شریف آدمی جس نے کام کاج کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالنا ہوتا ہے بہت جلد ہی تنگ آکر یا کسی لالچ میں آکر گواہی سے منحرف ہو جاتا ہے۔
ایک لطیفہ ہے کہ کچھ صحافی ایک جیل گئے۔ ایک قیدی کے بارے پوچھا تو معلوم ہواکہ وہ ایک سنگین مقدمے میں گواہ ہے اور اس کی جان کو خطرہ ہے اس لئے اسے قید کیا ہوا ہے۔ اور جب اس مقدمے کے ملزمان کے بارے میں پوچھا گیا تو پتہ چلا وہ سب ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ فوجداری مقدمات میں پولیس کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ایک جامع، قانون کے مطابق اور بغیر کسی خوف اور لالچ کے مقدمے کی تفشیش ہی کسی مجرم کو سزا دلوا سکتی ہےیا کسی بے گناہ کو با عزت بری کروا سکتی ہے۔ لیکن ہماری پولیس کا کردار انتہائی شرمناک ہے۔ اگر انہوں نے کسی بے گناہ کو پکڑنا ہو گا تو فورا مقدمہ درج کر کے گرفتار کر لیں گے لیکن ایک جائز مقدمے کے اندراج کے لئے کئی بہانے کریں گے۔ جب مقدمہ درج نا ہو تو سائل سیشن کورٹ میں درخواست دے سکتا ہے۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ روز سینکڑوں کی تعداد میں عدالت میں صرف یہی درخواستیں ہوتی ہیں کہ تھانیدار ان کا مقدمہ نہیں درج کر رہا۔
ابھی سوشل میڈیا پر عدالتی نظام پر شدید تنقید ہو رہی ہے۔ یہ صرف ہماری عدالتوں کی ناکامی نہیں ہے بلکہ ہم سب کی بحیثیت قوم ناکامی ہے۔ ہمارا کوئی بھی ادارہ خود مختار اور آزاد نہیں ہے۔ جب تک آپ اداروں کو مظبوط نہیں کرتے ترقی اور اچھائی کا ہر نعرہ اور ہر دعوی جھوٹ ہے فریب ہے۔

Comments

Click here to post a comment