انصار عباسی نے کہا، اسلام آباد میں خواتین اور مرد ایک ہی جگہ فٹنس کلبز میں آتے ہیں۔ ورزش کے لباس میں مرد و خواتین ایک جگہ ہونے سے شرعی اور اخلاقی ان کمفرٹنیس اور خرابی پیدا ہوتی ہے۔ کلبز میں دونوں کے لیے ورزش کے اوقات الگ الگ کر دئیے جائیں۔
اس پر فواد چودھری نے کہا ،ہم قرون وسطیٰ میں واپس نہیں جا سکتے۔ انصار عباسی کو افغانستان بھیج دیا جائے۔ لاہور میں اورنج لائن ٹرین میں خواتین اور مردوں کیلئے الگ الگ کمپارٹمنٹ کر دئیے گئے۔ پاکستان میں متعدد مقامات پر خواتین کے یا تو پارک الگ ہیں یا ان کے لیے گوشے مخصوص کر دئیے گئے ہیں، پبلک مقامات پر ہم خواتین کے واش روم بھی الگ دیکھتے ہیں، تاکہ انھیں دقت نہ ہو، ہر جگہ خواتین کیلئے احترام اور حفاظت کیلئے ہم الگ انتظام دیکھتے ہیں۔ ظاہر ہے، ہمارا دین اسلام ہے۔ اس میں عورت کے خصوصی پروٹوکول ہیں۔ سیدہ فاطمتہ کا جنازہ اٹھا تو ان کی وصیت کے مطابق ایک ایسی چارپائی پر جسد اطہر رکھا گیا، جس کے چاروں طرف باڑ سی تھی۔
یہ انھوں نے مرنے کے بعد بھی اپنے لئے زیادہ حیا اور زیادہ پردے کے لیے بندوبست کروایا۔ یہی ہمارا کلچر اور یہی ہمارا دینی فریضہ ہے۔ اس پر ایسی بات کہنا جس کی براہ راست مدنی معاشرے پر ،رسول اطہر کی موجودگی والے مدینے پر اور صحابیات پر زد پڑے، یہ کہاں کی انسانیت یا شرافت ہے؟
اگر ہمارے فواد چوہدری پاکستان میں پاکستانیت سے اتنے ہی تنگ ہیں کہ کبھی وہ یہاں کھلے عام شراب کے بار نہ ہونے پر پریشان ہونے لگتے ہیں، کبھی وہ مرد و عورت کو غیر مخلوط شرم و حیا سے جیتے دیکھ کر تنگ پڑ جاتے ہیں تو وہ خود کیوں یورپ نہیں چلے جاتے۔ جہاں کے دین و کلچر میں یہ سارا کچھ ان کی مرضی کے مطابق موجود ہے۔ انصار عباسی نے درست بات کی ہے۔ جو ہمارے کلچر ، خواتین کے کمفرٹ اور دین کے عین مطابق ہے۔
ویسے فواد چوہدری کے بیان سے بھی یہی لگتا ہے کہ انھیں مسئلہ انصار عباسی سے نہیں، قرون وسطیٰ کے دین اور دین لانے والے سے ہے۔ تاہم اتنی جرات نہیں کہ نام لیکر دل کی نفرت آشکار کر سکے۔ کیسے کیسے لوگ سیاستدان بن کے ہم پر مسلط ہیں۔ یہ آپ دیکھ اور سوچ لیجیے۔



تبصرہ لکھیے