وزیراعلی پنجاب میاں شہبازشریف کے نام قوم کی بیٹی کا خط

وزیراعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف کے نام\nقوم کی بیٹی ڈاکٹر رابعہ خرم درانی کا درد دل سے لکھا خط ..\nمحترم جناب\nالسلام علیکم .\nمیرا آج کا خط لاہور اور گردونواح پہ چھائی سموگ کی وجوہات، اس سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور مستقبل میں پیش آ سکنے والے خطرات سے آگاہ کرنا اور ان کے سدباب سے متعلق ہے. میرا سیاست سے کچھ واسطہ نہیں. میرے اس خط کو محض آنے والی نسل کی حفاظت کے لیے بلند کی جانے والی پکار، ایک مےڈے کال سمجھا جائے..\n\nمحترم خادم اعلی صاحب! تصور کیجیے ایک ایسا شہر جو خوبصورت حسین ترین ہائی رائز بلڈنگز اور عظیم الشان فلائی اوورز سے مزین ہو. چمکتی دمکتی گاڑیاں اور دن رات چمنیوں سے دھواں اگلتی فیکٹریاں ملک کی بےمثال ترقی کا نقشہ پیش کرتی ہوں. کسی سائنس فکشن اینیمیشن کی طرح اس تصویر میں ایک غیرفطری فیکٹر نوٹ کیجیے کہ درخت کہیں نہ ہوں، چمکتی گاڑیوں کے ایگزاسٹ پائپس سے نکلتا دیدہ یا نادیدہ دھواں آب و ہوا کو مسموم کرتا ہو، شہری علاقوں میں قدرتی حسن کو نگلتے کنکریٹ اسٹرکچرز اور فیکٹریز کی چمنیاں شہر کو زہریلی ہواؤں کا تحفہ دیتے ہوں.. کتنا غیر فطری تصور ہے نا.. یہ کیسی تعمیر ہے جس کی کوکھ سے تخریب کا جنم ہو رہا ہے ..\n\nدرخت قدرت کا انمول عطیہ جو ہمارے لیے قدرت کے پھیپھڑوں کا کردار ادا کرتے ہیں . ہمارے پھیپھڑے خون میں سے فاسد ضرر رساں گیسز مثلا کاربن ڈائی آکسائیڈ نکال کر سانس کے ذریعے جسم سے خارج کر دیتے ہیں جبکہ ہوا میں سے حیات بخش آکسیجن حاصل کر کے اسے خون میں شامل کر دیتے ہیں، اس طرح جسم میں اچھی اور بری گیسز کا تناسب درست مقدار میں برقرار رہتا ہے اور انسانی جسم اپنے افعال بخیر و خوبی سرانجام دیتا ہے..\n\nقدرت کے پھیپھڑے درخت ہیں. درختوں کے سرسبز پتوں میں موجود کلوروفل (سبز رنگ کا نامیاتی مادہ) دھوپ کی موجودگی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ سے آکسیجن تیار کرتا ہے اور فضا میں بکھیر دیتا ہے. جبکہ آکسیجن کے بدلے یہ فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور کاربن مونو آکسائیڈ جیسی زہریلی گیسز چوس لیتا ہے جسے یہ اپنی سانس اور خوراک کے لیے استعمال کرتا ہے. اس طرح قدرت کے یہ پھیپھڑے کھلی فضا میں گیسز کے تناسب کو حیات انسانی کے لیے مفید تناسب میں برقرار رکھتے ہیں.. اسی طرح درخت ہوا میں نمی کا تناسب بڑھا کر درجہ حرارت کم کرتے ہیں اور بارش کے برسنے کا سبب بنتے ہیں جس سے فضا دھل کر صاف شفاف ہو جاتی ہے. جیسے سگریٹ پینے سے یا دھویں سے بھری زہریلی فضا میں ہمارے پھیپھڑے کم کام کرنے لگتے ہیں اسی طرح اگر ماحول میں گاڑیوں اور فیکٹریوں کے مقابلے میں درختوں کا تناسب کم ہوتا چلا جائے تو فضا میں گیسز کا تناسب بگڑ جائے گا..\n\nاب ہو کیا رہا ہے؟ پچھلے کچھ سالوں میں لاہور کی ترقی و تعمیر کے نام پر ان گنت درخت کاٹ دیے گئے ہیں، ان درختوں کی ہریالی اور تازگی کو اسٹیل اور کنکریٹ کے جناتی سائز کے اسٹرکچرز سے ری پلیس کر دیا گیا ہے. شہری تازہ ہوا اور دھوپ دونوں سے نہ صرف محروم ہوگئے ہیں بلکہ فضا کو صاف کرنے والے درختوں کی عدم موجودگی میں زہریلی گیسز کا تناسب بڑھ گیا ہے، آکسیجن کم ہو گئی ہے. زہریلی گیسز، گرد اور دھویں نے مل کر زہریلی دھند کی چادر لاہور اور گرد و نواح پر تان دی ہے. جسے سموگ (سموک +فوگ) کا نام دیا گیا ہے. باغات اور زندہ دلان کا شہر کہلانے والا لاہور اب اوور ہیڈ فلائی اوورز کے سائے میں گم پژمردہ بیماروں کا شہر بن چکا ہے.\n\nیہ سموگ پہلی چیز ہے.. میٹرو کے بننے کے بعد کا ڈیٹا جمع کرنا شروع کیجیے، آپ کو دھوپ کی محرومی سے وٹامن ڈی کی کمی کے نتیجے میں رکٹس rickets میں مبتلا بچے اور جوڑوں، گردوں،سانس ، جلدی بیماریوں اور کینسر کے مریض پچھلے سالوں سے زیادہ ملیں گے. وٹامن ڈی کی کمی اور فضائی آلودگی نمونیا تپ دق اور دمہ کے مریضوں میں بھی اضافہ کرے گی اور اس کے ساتھ ساتھ آرتھرائٹس اور بانجھ پن میں بھی اضافہ دیکھنے میں آئے گا.. دھوپ کی کمی مختلف جلدی بیماریوں مثلا خارش اور سورائسس ( scabies and psoriasis ) میں اضافے کا باعث بھی ہو گی. .\n\nبعض لوگ کہیں گے کہ یہ فلائی اوورز پہلے سے موجود سڑکوں کے اوپر بنائے گئے ہیں، آبادی کے اوپر نہیں، تو ان کی وجہ سے ایسا کیوں ہوگا.. درست فرمایا. لیکن ہمارے ملک میں جہاں دن کے زیادہ اوقات میں تیز دھوپ رہتی ہے، جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ گھروں یا سایہ دار جگہوں تک محدود رہتے ہیں .خواتین گھرداری اور پردے کی وجہ سے گھروں میں محدود ہیں.. ان کا دھوپ سے سامنا عموما دوران سفر ہی ہوتا ہے. سکول، کالج، آفس، دکان یا بازار آتے جاتے عوام اپنے حصے کی دھوپ اور نتیجتا سن شائن ہارمون یعنی وٹامن ڈی کا اپنا حصہ پاتے ہیں..\nHead outside for at least 20 minutes each day and expose a minimum of 40 percent of body to the sun for maximum D3 synthesis. During cold months, pill or liquid supplements may be necessary for many adults. Because of the preoccupation with the harmful effects of too much sun, most people do not get enough of it. Increased pigmentation due to which more prolonged exposure to sun is required, use of sun block, purdah observation and possibly the reason that women in general do not go outside the home may be responsible for Vitamin D Deficiency …\nhttp://medicalopedia.org/2387/vitamin-d-deficiency-in-pakistan-a-consequence-of-undervaluing-natures-endowment/\n\nاب سڑکوں پر پائی جانے والی دھوپ فلائی اوورز کے سائے نے روک لی. یا تو فلائی اوورز نہ ہوتے یا اتنے اونچے ہوتے کہ دھوپ نہ رکتی. تیسرا طریقہ سوراخ دار فلائی اوورز بنانے کا بھی ہو سکتا تھا. جس کے روزن سے دھوپ چھن کر نیچے چلتے پھرتے عوام تک پہنچتی رہتی. درختوں کی کمی، اسٹیل کنکریٹ اور شیشے سے بنے اسٹرکچرز میں اضافہ، گرمی میں اضافے کا باعث بنیں گے. گلوبل وارمنگ کا یہ ایک بہت بڑا فیکٹر ہے. خصوصا درختوں کی کمی. .\nhttps://en.m.wikipedia.org/wiki/Environmental_impact_of_concrete.\nماحولیاتی گرمی بڑھنے کے منطقی نتیجہ کے طور پر گاڑیوں اور گھروں میں اے سی کا استعمال بڑھے گا، جو کاربن مونو آکسائیڈ کے فضا میں مزید اضافے کا باعث ہوگا، جس سے اوزون لئیر کو نقصان پہنچےگا نتیجتا انسانی صحت کے لیے مضر اثرات کی حامل شعائیں بلا روک ٹوک زمین تک پہنچنے لگیں گی. یعنی بظاہر ترقی نظر آتے عوامل قدرتی ماحول کی ”تنزلی“ (deterioration) کا باعث ہیں.\n\nاس سب کا حل ہنگامی بنیادوں پر شجر کاری میں اضافہ اور میٹرو / اورنج فلائی اوورز کا روٹ میپ سرکلر یا رنگ روڈ کی طرز پر شہری آبادی سے باہر شفٹ کیے جانے میں ہے. جو آبادیاں ان فلائی اوورز کے سائے میں آ کر اپنے حصے کی دھوپ سے محروم ہو چکی ہیں، انہیں ترجیحی بنیادوں پر حکومتی سرپرستی میں کھلی فضا اور بہترین پلاننگ والے علاقوں میں بسایا جائے. یہ ہماری آنے والی نسلوں کی صحت اور بقا کا معاملہ ہے.\n\nایک ڈچ آرٹسٹ نے فضائی آلودگی دور کرنے والے مصنوعی درخت تیار کیے ہیں جو ہوا میں سے زہریلی گیسز اور کاربن کو اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں جبکہ اس جذب شدہ کاربن کو ہیروں میں بھی تبدیل کیا جا رہا ہے. ان ہیروں کو جیولری میں جڑ کر بیچا جاتا ہے اور اس سے حاصل شدہ آمدنی سے مزید مصنوعی درخت لگائے جاتے ہیں.. یہ بھی ایک حل ہو سکتا ہے لیکن اس میں وہ مولوی مدن کی سی بات کہاں..\n\nآپ ترقی اور انفرادی سٹرکچر ڈویلپمنٹ کو لازم و ملزوم سمجھتے ہیں لیکن مغربی ممالک کے تجربے سے یہ معلوم ہوا کہ ماحول کے تحفظ کے اقدامات بھی ساتھ ہی لیے جانے اہم ہیں، ورنہ صحت کی مد میں بڑھتے مسائل اور اخراجات ملکی وسائل پر ایک غیر متوقع بوجھ بھی ڈالتے ہیں اور رائے عامہ کو بھی حکومت بیزاری کی طرف دھکیل سکتے ہیں.\n\nخیر اندیش\nقوم کی بیٹی\nڈاکٹر رابعہ خرم درانی\n\n(جملوں کی صورت مجسم ہو جانے والے دل کے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو ڈاکٹر رابعہ خرم درانی شاعرہ ہیں .. سلسلہ روزگار ”ڈاکٹری“ ہے. فیس بک صفحہ)

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam