ہوم << اسرائیل، وجود سے بڑھتا ہوا سایہ – فرخ شہزاد
600x314

اسرائیل، وجود سے بڑھتا ہوا سایہ – فرخ شہزاد

تین سال بعد بدھ کے روز نیتن یاہو ایک بار پھر جبلِ الشیخ پہنچے تو اس بار انہوں نے سیاہ پائلٹ چشمہ پہن رکھا تھا، جبکہ شن بیٹ کی سکیورٹی یونٹ 730 کی بلٹ پروف جیکٹ اور فوجی دوربین بھی ان کے ساتھ تھی۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اس دورے کا مقصد کا مقصد آئندہ اکتوبر میں ہونے والے کینیسیٹ کے انتخابات کی تیاری ہے جسے آئندہ انتخابات میں سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

اسرائیل 27 اکتوبر 2026 کو کنیسٹ کے انتخابات کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ 7 اکتوبر کے حملے کے بعد ہونے والے پہلے پارلیمانی انتخابات ہوں گے۔حالیہ رائے عامہ کے جائزوں میں نیتن یاہو کی قیادت میں دائیں بازو کے دھڑے اور موجودہ حکومتی اتحاد کی مقبولیت میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔اس کے مقابلے میں اپوزیشن نے مجموعی سیاسی منظرنامے میں نمایاں مقبولیت حاصل کی ہے۔سروے میں ان کے بعض حریفوں، جن میں غادی آیزن کوٹ بھی شامل ہیں، کو وزیراعظم کے عہدے کے لیے موزوں امیدوار کے طور پر ذاتی مقبولیت میں بھی نیتن یاہو پر برتری حاصل ہورہی ہے۔ اسرائیلی عوام کی ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ نیتن یاہو کو اب مستعفی ہو جانا چاہیے اور ان انتخابات میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔اس کی سب بڑی وجہ 7 اکتوبر کو حماس کے طوفان الاقصی کے حملے اور سنگین سکیورٹی ناکامیوں اور اس کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی، سماجی اور معاشی بحران ہیں جس سے اسرائیل کا سماج گزر رہا ہے ۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے یہودی نئے سال کے موقع پر بدھ کے روز شام میں کوہِ حرمون پر تعینات اسرائیلی فوجیوں کا دورہ کیا۔یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ نیتن یاہو اور ان کی حکومت کے وزراء نے شام میں ان علاقوں کا دورہ کیا ہے جنہیں اسرائیل ‘سیکیورٹی زونز’ قرار دیتا ہے اور جن پر اس نے 8 دسمبر 2024 کو اسد حکومت کے خاتمے کے بعد قبضہ کیا تھا۔اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی 25 اگست کو کوہِ حرمون کی چوٹی کا دورہ کیا تھا اور وہاں سے کہا تھا کہ جب تک اسرائیل کو خطرات لاحق رہیں گے، ان کی افواج شام کے ان علاقوں میں موجود رہیں گی جن پر ان کا کنٹرول ہے؛ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فوج “یہاں سے نہیں ہٹے گی۔اسرائیل جنوبی شام میں متعدد فوجی ٹھکانے برقرار رکھے ہوئے ہے، جس کی وجہ وہ سیکیورٹی خدشات بتاتا ہے کہ کہیں شامی سرحد پرطوفان الاقصی کی سی صورتحال نہ پیدا ہو جائے ۔
بی بی سی اردو کی ویب سائٹ نے اس دورے کو یوں رپورٹ کیا.

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے بدھ کی شام جبل الشیخ میں تعینات اسرائیلی فوجیوں کا دورہ کیا اور کہا کہ اسرائیل ایران میں ’نظام کے خاتمے‘ کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اگر ایسا ہوا تو ایران کے حمایت یافتہ علاقائی اتحاد کا پورا ڈھانچہ بھی منہدم ہو جائے گا۔ بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد دسمبر 2024 میں اسرائیلی افواج جنوبی شام کے بعض علاقوں میں داخل ہو گئیں اور اس کے بعد سے شامی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے سینکڑوں فضائی حملے کر چکی ہیں۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی شامی صدر احمد الشرع کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج نام نہاد سکیورٹی زون میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گی اور وہاں سے انخلا نہیں کرے گی۔ ان کے اس بیان کو دمشق کی قیادت کے لیے ایک واضح سیاسی اور سکیورٹی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب شام کی وزارتِ خارجہ نے نیتن یاہو کے دورۂ جبل الشیخ کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ’غیر قانونی‘ اور ’اشتعال انگیز‘ اقدام قرار دیا۔ وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ دورہ شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے اور خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ بی بی سی اردو ۔ 11 ستمبر 2026

لیکن بات یہیں تک محدود نہیں رہی۔ جمعرات 11 ستمبر کی رات اسرائیل نے جنوبی لبنان میں شدید ترین بمباری کی اور خوفناک دھماکے رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سب سے بڑا دھماکا اسرائیلی فوج کی جانب سے علی الطاہر رِج (پہاڑی سلسلے) پر کیا گیا ہے۔ اس کارروائی میں اسرائیل نے 1,100 ٹن سے زائد بارودی مواد کا استعمال کرتے ہوئے حزب اللہ کے ایک بڑے زیرِ زمین بیس اور سرنگوں کے نیٹ ورک کو دھماکے سے اڑا دیا۔ یہ دھماکا اس قدر ہولناک تھا کہ اس سے پیدا ہونے والے زلزلہ نما جھٹکوں کو امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) نے 4.1 شدت پر ریکارڈ کیا ہے اور اس کی گونج دور دراز علاقوں تک سنی گئی۔ اسرائیلی فوج کے مطابق انہوں اہم ترین ہدف علی الطاہر رِج نبطیہ کے قریب واقع اس اسٹریٹجک پہاڑی کے نیچے 2 کلومیٹر طویل زیرِ زمین نیٹ ورک کو مکمل طور پر مسمار کر دیا ہے۔ اس کمپلیکس میں کمانڈ سینٹرز اور اسلحے کے ذخائر موجود تھے۔ علی الطاہر کے علاوہ جنوبی لبنان کے قصبے المنصوری اور صور کے اضلاع میں اسرائیلی جنگی طیاروں نے رہائشی محلوں پر پے در پے حملے کیے ہیں۔ ان تازہ فضائی حملوں اور دھماکوں کے نتیجے میں جانی نقصان اور قریبی عمارتوں کی تباہی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

جمعہ کے روز اقوام متحدہ میں 40 سے زائد ممالک جن میں عرب دنیا، افریقہ، ایشیا، یورپ اور لاطینی امریکہ کے خطے شامل ہیں نے شام کی بڑی بےچارگی سے حمایت کی۔ یہ حمایت اس وقت سامنے آئی جب شام کے مندوب نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ اس نے رواں ہفتے اپنے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کو جبل الشیخ (Mount Hermon) کی چوٹی پر بھیج کر شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی ہے۔

اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب، ابراہیم اولابی نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی جانب سے مسلسل دراندازی ملک کی جنگ کے بعد کی نازک بحالی کے عمل کو درہم برہم کرنے کا خطرہ پیدا کر رہی ہے۔اولابی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اسرائیلی حکام “شامی عرب جمہوریہ کے خودمختار علاقے” میں داخل ہوئے اور پہاڑ کی چوٹی تک گئے؛ انہوں نے ان اقدامات کو “اسرائیل کی مسلسل فوجی موجودگی اور شامی علاقے میں بار بار دراندازی” کے سلسلے کا حصہ قرار دیا۔انہوں نے مزید کہا: “خودمختاری کا معاملہ منتخب نوعیت کا نہیں ہوتا اور نہ ہی علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ بین الاقوامی نظام کا ایک ناگزیر ستون اور عالمی عدم استحکام کے خلاف دفاع کی اولین لائن ہے۔” اقوام متحدہ کے چارٹر اور اسرائیلی و شامی افواج کے درمیان 1974 کے ‘انخلاء اور علیحدگی’ (disengagement) کے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے اولابی نے کہا کہ دونوں دستاویزات میں یہ بات واضح ہے کہ طے شدہ حدود اور انتظامات کا “مکمل احترام اور پاسداری کی جانی چاہیے۔

سعودی عرب نے شام کے مؤقف کی حمایت میں عرب اور اسلامی ممالک کے ایک وسیع اتحاد میں شمولیت اختیار کی، جس میں مصر، اردن، عراق، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین، عمان، لبنان اور ریاستِ فلسطین شامل ہیں۔ اسی طرح چین، روس، برازیل، انڈونیشیا، پاکستان، ترکی اور جمہوریہ کوریا بھی دمشق کے ساتھ کھڑے نظر آئے، اور ان کے ساتھ الجزائر، لیبیا، مراکش، موریطانیہ، تیونس، سوڈان، صومالیہ، جبوتی اور کوموروس جیسے افریقی ممالک بھی شامل تھے۔ مغربی ممالک میں فرانس، کینیڈا، اسپین، پرتگال، ناروے اور سویڈن موجود تھے، جبکہ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور یورپی یونین کے دیگر ارکان نے بھی ان کا ساتھ دیا۔اولابی نے کہا کہ شام نے “مسلسل خود کو خطے میں جاری کشیدگی میں اضافے سے دور رکھا ہے” اور بارہا اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ اسے اپنے پڑوسیوں سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے؛ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری نے بھی اس موقف کا “بارہا اعتراف” کیا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی مزید عسکری یا سیاسی کارروائی سے اس پیش رفت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے جو دسمبر 2024 میں تقریباً 14 سالہ خانہ جنگی کے بعد اسد حکومت کے خاتمے کے بعد سے نئی شامی حکومت نے حاصل کی ہے۔

اس پیش رفت میں انسدادِ دہشت گردی کی کوششیں، ‘کیپٹاگون’ (captagon) کی پیداوار اور اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن، اسد حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کے ورثے سے نمٹنے کے اقدامات، جوہری مسائل کا حل، ہتھیاروں کو ریاستی کنٹرول میں یکجا کرنا، بے گھر افراد اور پناہ گزینوں کی واپسی، اور معاشی بحالی شامل ہیں۔اجتماعی طور پر موجود ممالک کی جانب سے بیان کا اختتام کرتے ہوئے اولابی نے کہا، “یہ سب کچھ شام کے عوام، خطے اور عالمی امن و سلامتی کی خاطر ہے۔

جبل شیخ کی تزویراتی اہمیت :
جبل شیخ پر 1967 کی جنگ میں اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں کے ساتھ جبل الشیخ کے جنوبی اور مغرب مغربی علاقوں پر قبضہ حاصل کر کے وہاں چوکیاں قائم کر لی تھیں۔ 1973 کی عرب اسرائیل جنگ کے پہلے دن شامی کمانڈر نے ایک حملہ کیا اور یہاں پر قائم ایک ابزرویٹری پوسٹ تھی اس کو واپس چھین لیا لیکن اکتوبر کے اخر میں اکتوبر 1973 کے اخر میں اسرائیلی فوج نے دوبارہ جوابی کاروائی کی اور اس پر اپنا قبضہ دوبارہ حاصل کر لیا 1974 میں اسرائیل اور شام کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا اور جولان کی پہاڑیاں اور یہ علاقہ جو ہے ایک بفر زون کے تحت اقوام متحدہ کے غیر عسکری علاقے میں شامل ہو گیا تھا۔ 2024 کے اواخر میں جب بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور احمد شرح نے شام پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا اس کے فورا بعد دسمبر میں اسرائیل نے شام کے خلاف ایک فوجی کارروائی کر کے اس پورے علاقے کو اپنے قبضے میں لے لیا ۔لیکن اس پہاڑ کی تزویراتی یا سٹریٹیجک پوزیشن کوبہت اہمیت حامل ہے کہ یہاں سے لبنان اور دمشق براہ راست اسرائیل کی زد میں ہیں ۔

یہ چوٹی 2,814 میٹر (9,232 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے، جو اسے شام کا بلند ترین مقام اور مشرقی بحیرہ روم کے ساحل پر سب سے اونچا مقام بناتی ہے۔ جدید دور کے لبنان، شام اور اسرائیل کی سرحدوں پر واقع ایک نمایاں پہاڑی چوٹی اپنی کثیر جہتی اہمیت کے باعث طویل عرصے سے محققین اور ماہرینِ الہیات، دونوں ہی کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ یہ چوٹی مشرقی بحیرہ روم کے ساحل پر بلند ترین مقام کی حیثیت رکھتی ہے۔دمشق سے اس چوٹی کا زمینی فاصلہ محض 56 کلومیٹر کا ہے ۔ اس کی چوٹیاں اور پہاڑی سلسلے لبنان، شام اور شمالی اسرائیل/گولان کی پہاڑیوں کے سنگم کو چھوتے ہیں۔جبل الشیخ (Mount Hermon) سے پگھلنے والی برف اہم آبی نظاموں، بشمول دریائے اردن اور بحیرہ گلیلی (Sea of Galilee) کو پانی فراہم کرتی ہے، جس سے خطے کو تازہ پانی کا انتہائی اہم ذریعہ میسر آتا ہے۔اپنی نمایاں بلندی کے باعث، یہ چوٹی عسکری نگرانی، ریڈار کی تنصیب اور الیکٹرانک انٹیلی جنس کے لیے ایک بہترین اور کلیدی مقام کا کردار ادا کرتی ہے۔اس چوٹی پر کنٹرول کی بدولت گولان کی پہاڑیوں، گلیلی لبنان کی حزب اللہ کے زیرِ اثر بقاع وادی کے کچھ حصوں اور شام میں دمشق کے مضافاتی علاقوں کے وسیع حصوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔ اسی لئے عسکری تجزیہ نگار اسے مشرق وسطی کی آنکھ قرار دیتے ہیں۔

پہاڑی سلسلے کے کچھ حصوں میں اقوام متحدہ کا بفر زون قائم ہے، جہاں بلند مقامات پر اقوام متحدہ کے مبصرین کی چوکیاں بھی موجود ہیں۔اسرائیل کے لیے، جنوبی ڈھلوانیں اور چوٹی پر موجود تنصیبات شام، ایران اور حزب اللہ جیسے گروہوں یا ریاستوں کی جانب سے فضائی اور میزائل حملوں کے ممکنہ خطرات کے خلاف ‘ابتدائی انتباہی ریڈار شیلڈ’ (early-warning radar shield) کا کام دیتی ہیں۔شام نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے شامی علاقے میں غیر قانونی داخلے اور جبل الشیخ (Mount Hermon) کے دورے کی مذمت کی ہے۔بدھ، 9 ستمبر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں، شامی وزارت خارجہ نے اس اقدام کو “اشتعال انگیز کارروائی اور شام کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی” قرار دیا۔وزارت نے شامی علاقے کے اندر اسرائیلی دراندازیوں اور حملوں کے تسلسل کو ایک خطرناک پیش رفت قرار دیا جو خطے میں سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہے۔وزارت خارجہ نے ان خلاف ورزیوں کا مکمل ذمہ دار اسرائیلی قابض قوت کو ٹھہرایا اور اقوام متحدہ، بین الاقوامی تنظیموں اور بااثر ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔اس نے ان حملوں کے خاتمے اور 1974 کے ‘فوجوں کی علیحدگی کے معاہدے (disengagement agreement) کی طرف واپسی کا مطالبہ کیا۔