کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی محض بلند و بالا عمارتوں، کشادہ سڑکوں اور جدید سہولیات کا نام نہیں، بلکہ اصل ترقی انسان کی فکری، اخلاقی اور شعوری تربیت سے عبارت ہے۔ جس معاشرے میں انسان علم، کردار اور احساسِ ذمہ داری سے محروم ہو، وہاں ترقی کے ظاہری مظاہر زیادہ دیر تک پائیدار نہیں رہ سکتے۔تعلیم معاشرے کی تعمیر کا وہ بنیادی ستون ہے جس پر ترقی کی پوری عمارت استوار ہوتی ہے۔
تعلیم انسان کو صرف پڑھنا لکھنا نہیں سکھاتی بلکہ اسے سوچنے، سوال کرنے، درست اور غلط میں تمیز کرنے اور اپنے فرائض کو سمجھنے کا شعور عطا کرتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ فرد اپنے حقوق کے ساتھ دوسروں کے حقوق کا بھی احترام کرتا ہے. معاشرے میں امن، برداشت، رواداری، انصاف اور باہمی احترام کو فروغ دینے میں تعلیم کا کردار بنیادی ہے۔ اگر ہمارے تعلیمی ادارے صرف امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے والے افراد پیدا کریں، مگر اچھے انسان، ذمہ دار شہری اور باکردار نسل تیار نہ کر سکیں تو ہماری تعلیمی ترجیحات پر نظرثانی ضروری ہے۔اساتذہ اس پورے عمل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ استاد صرف کتاب کا سبق نہیں پڑھاتا بلکہ وہ نسلوں کی فکری سمت متعین کرتا ہے۔ اس کے الفاظ، رویے، کردار اور تربیت طلبہ کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اسی لیے استاد کو معاشرے میں وہ مقام اور عزت ملنی چاہیے جس کا وہ مستحق ہے۔
آج ہمیں ایسی تعلیم کی ضرورت ہے جو نوجوانوں کو جدید علوم اور ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ اخلاق، انسانیت، محنت، دیانت اور خدمت کا درس بھی دے۔ علم اگر کردار سے جدا ہو جائے تو وہ معاشرے کو روشن کرنے کے بجائے کبھی کبھی مسائل میں اضافہ بھی کر سکتا ہے۔معاشرے کی حقیقی ترقی اس وقت ممکن ہے جب گھر، مدرسہ، اسکول، کالج، یونیورسٹی اور معاشرتی ادارے مل کر نئی نسل کی تعلیم و تربیت کا فریضہ انجام دیں۔ والدین بچوں کو وقت دیں، اساتذہ محبت اور ذمہ داری سے تعلیم دیں اور ریاست معیاری تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرے۔ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ آج کے طالب علم ہی کل کے معمار ہیں۔ اگر ان کے ہاتھ میں علم، دل میں انسانیت اور کردار میں دیانت دے دی جائے تو آنے والا معاشرہ یقیناً زیادہ روشن، مہذب اور مضبوط ہوگا۔قوموں کی تعمیر اینٹوں اور پتھروں سے نہیں، انسانوں سے ہوتی ہے؛ اور باشعور، باکردار انسان تعلیم ہی کے ذریعے تشکیل پاتے ہیں۔لہٰذا تعلیم کو محض ڈگری کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرے کی تعمیر، کردار سازی اور قومی ترقی کا بنیادی وسیلہ سمجھنا ہوگا۔ جب علم روشنی بن کر کردار میں اترے گا تو معاشرہ بھی حقیقی معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔



تبصرہ لکھیے