ہوم << اخبارِ جہاں، ایک جہاں (2) – اُم ماریہ کاظمی
600x314

اخبارِ جہاں، ایک جہاں (2) – اُم ماریہ کاظمی

گزشتہ سے پیوستہ۔ قسط نمبر ۲

دفتر میں نوکری کرنے کے متعلق میرے گھر میں بھی وہی خدشات تھے جو اس بارے میں ہمارے معاشرے کے ایک بڑے طبقے کے ہیں۔ اس سے قبل بڑی بہنیں اسکول اور کالج میں پڑھاتی رہی تھیں۔ دفتر کی نوکری کسی خاتون نے نہ کی تھی۔ کیسا ماحول ہوگا، کیسے لوگ ہوں گے، کام کیا ہوگا، اور حفاظت کی ضمانت کون دے گا۔ سب کو یہی فکر تھی۔

جب اخبار جہاں سے فائنل کال آئی اور میرا دل بلیوں اچھل رہا تھا، باقی گھروالوں کے دل میں خدشات گھر کررہے تھے۔ ماسٹرز میں شعبہ ابلاغِ عامہ کے انتخاب کے وقت ہی ابو نے جزبز ہوکر کہا تھا، “بیٹا، یہ راستہ تو دفتروں کی طرف جاتا ہے۔۔۔ دیکھ لو!”

ابو کی ماسٹرز کے دوران وفات اور بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے اب سب ہی گھر والے میری ذمہ داری اپنے اپنے کاندھوں پر محسوس کرتے تھے۔ شاید میر جاوید الرحمان صاحب کو اس بات کا اندازہ تھا۔ وہ ایک زیرک انسان تھے۔ جب انہوں نے نو آموز، غیر تجربہ کار لڑکیوں کو نوکری پر رکھا ہوگا تو غالباً یہ اندازہ بھی ہوگا کہ ان کے گھر والے کن تحفظات کا شکار ہوسکتے ہیں۔ مجھے اس بات کا احساس بعد میں ہوا۔ اس بارے میں آپ کو اگلی اقساط میں بتاؤں گی۔

ٹیسٹ اور انٹرویو کے دوران ہی اخبار جہاں کے ایڈیٹر جناب اخلاق احمد اور ایگزیکٹو ایڈیٹر جناب نعیم ابرار سے تعارف ہوچکا تھا۔ اخلاق صاحب نے ٹیسٹ کے دن ہی تمام امیدواروں سے آکر اخبار جہاں کے متعلق رائے پوچھی تھی۔ یہ بھی بتایا تھا کہ ہم قیمت میں پانچ تا دس روپے اضافہ کرنے والے ہیں، اور یہ بھی بتایا تھا کہ اخبار جہاں دنیا کے تمام ممالک کے بڑے شہروں میں فروخت ہونے والا اُردو کا واحد رسالہ ہے۔

اپنی رائے دینے کی باری آئی تو میں نے بتایا کہ درمیانی صفحات پر آنے والی تصاویر اب یکسانیت کا شکار ہوتی جارہی ہیں۔ وہاں موجود میری یونیورسٹی کی ہم جماعت نے بھی شاید کچھ بولا تھا، کیا بولا تھا یہ یاد نہیں۔ کچھ اور لوگوں نے بھی اپنی رائے دی۔

کچھ دیر بعد میر جاوید الرحمان صاحب اس کمرے میں آئے اور ٹیسٹ دینے والوں سے اخلاق صاحب نے ان کا تعارف کروایا۔ پھر سب کی رائے سے انہیں آگاہ کیا اور مجھے مخاطب کرکے کہا، “آپ کیا کہہ رہی تھیں؟”

میں نے اپنی بات دہرائی اور بتایا کہ اب اخبارِ جہاں آنے سے قبل اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ تصاویر کیسی ہوں گی۔ جاوید صاحب نے پُرسوچ انداز میں “ہوں” کہا اور بولے، “یہ بات میں بھی کچھ وقت سے یہی نوٹ کررہا ہوں جو آپ کہہ رہی ہیں۔”

ان کی نگاہ جانچنے والی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ وہ محض دیکھ نہیں رہے، بولنے والے کو پرکھ بھی رہے تھے۔

۱۵ اپریل ۲۰۰۷ء، صبح ۱۰ بجے میں اخبار جہاں کے دفتر میں موجود تھی۔ یہ تیسری منزل پر واقع تھا۔ پہلی اور دوسری منزل پر جنگ اخبار کے دفاتر تھے اور تیسری منزل سے اوپر جیو ٹی وی کی گہماگہمی۔ یوں لگتا تھا کہ تیسری منزل اور اخبارِ جہاں، اخبار اور ٹی وی کا transition phase ہے۔

اخبار جہاں کے فلور پر سب سے پہلے عاشق بھائی سے سامنا ہوا، جو اس ادارے کے بہت پرانے کام کرنے والے تھے اور میر جاوید الرحمان صاحب کے بااعتماد ملازم۔ انہوں نے مجھے ایک بڑے کمرے میں بٹھا دیا، جہاں میرے علاوہ ایک لڑکی پہلے سے موجود تھی اور کچھ دیر بعد ایک اور آگئی۔

ان میں سے ایک میری ہی طرح پہلی بار کسی نوکری کے تجربے سے آشنا ہونے جارہی تھی۔ اس کا نام کنول تھا، جب کہ دوسری ایک میگزین میں بطور ایڈیٹر کام کررہی تھی اور وہاں سے چند دن کی رخصت لے کر یہاں کام کرنے آئی تھی۔ یعنی وہ بھی transition phase میں تھی۔ تاہم اس کا نام ذہن سے محو ہوگیا ہے، کیوں کہ دو ہفتے مکمل ہونے پر اُس کا اخبار جہاں کا سفر بھی مکمل ہوگیا تھا اور وہ اسی جگہ واپس چلی گئی جہاں سے آئی تھی۔

ہم سب کے لیے الگ الگ میز کرسیاں لگی ہوئی تھیں، جس سے اندازہ ہورہا تھا کہ یہ جگہ خاص طور پر ہمارے لیے ہی ترتیب دی گئی ہے اور آنے والے وقت میں ہم نے یہیں کام کرنا ہوگا۔ اخبارِ جہاں میں اُس وقت تمام اسٹاف میل تھا، یعنی مرد حضرات پر مشتمل۔ چناں چہ تینوں خواتین کو ایک ساتھ ایک ہی جگہ بٹھانے کا فیصلہ یقیناً دانش مندانہ تھا۔

ہم کچھ دیر ساتھ بیٹھے، ایک دوسرے سے جھجھکتے ہوئے تعارف کی کوشش کرتے رہے۔ میں فطرتاً introvert رہی ہوں، اس لیے بمشکل ایک یا دو جملے بول پائی۔ زیادہ وقت خاموشی نے لیا۔

کمرے میں کچھ دیر بعد چند غیر ملکی رسالے بھیجے گئے، جو شوبز، معاشیات اور حالاتِ حاضرہ کے متعلق تھے۔ ہم سب نے اپنی پسند کے مطابق رسالہ منتخب کرکے اس کی ورق گردانی شروع کردی۔ مجھے یاد ہے، میں نے Times Magazine لیا تھا، جس میں کچھ سمجھ آرہا تھا اور کچھ نہیں۔

غالباً بارہ بجے ہوں گے کہ دروازہ کھٹکھٹا کر اخلاق صاحب آئے اور حال احوال پوچھ کر بولے، “آئیے، آپ کو یہاں کے لوگوں سے ملوائیں۔”

ہم تینوں ان کی رہ نمائی میں چل پڑے اور ایک ایک کرکے ہر کمرے اور ہر فرد سے تعارف ہوا۔ اس میں ہمارا کام محض سلام کرنا تھا، باقی تمام تعارف اخلاق صاحب کی ذمہ داری رہی۔ سب کے چہرے یاد ہوئے نہ عہدے، بس اس تیسری منزل سے کچھ شناسائی ہوئی۔

اس سب سے فارغ ہوکر ہم ایک بار پھر اسی کمرے میں آن بیٹھے اور رسالوں کی ورق گردانی کرنے لگے۔ شاید ایک یا ڈیڑھ گھنٹہ ایسے ہی گزرا اور پھر عاشق بھائی نے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹا کر کھولا اور بولے، “بڑے صاحب آپ سب کو بلا رہے ہیں۔”

دل اچھل کر حلق میں آن اٹکا۔ پہلی نوکری، وہ بھی جنگ میں، یہ سب حقیقت ہرگز نہیں لگ رہا تھا۔ مجھے گمان تھا کہ کسی بھی وقت مجھے کہا جائے گا، “آپ کا انتخاب نہیں ہوا۔ آپ جاسکتی ہیں۔”

میر جاوید الرحمان صاحب کے کمرے میں ایک بڑی میز تھی، جس کے پیچھے ان کی مخصوص کرسی تھی اور وہ اس پر براجمان تھے۔ سامنے تین کرسیاں لگائی گئی تھیں اور سائیڈ پر ایک ایک کرسی رکھی تھی۔ ایک جانب اخبار جہاں کے ایڈیٹر اخلاق احمد صاحب بیٹھے تھے تو دوسری جانب ایگزیکٹو ایڈیٹر نعیم ابرار صاحب۔

ہم سب نے سلام کیا اور بیٹھ گئے تو اخلاق صاحب نے بات شروع کی۔ انہوں نے بتایا کہ آپ سب کو اس رسالہ کا حصہ بنایا گیا ہے، کیوں کہ ہمیں ایسا لگتا تھا کہ اخبار جہاں میں مردوں کی سوچ کی نمائندگی ہورہی ہے اور خواتین کے خیالات اور معاملات کو شامل نہیں کیا جارہا، جب کہ ہمارے رسالے کے قارئین میں اکثریت خواتین کی ہے۔

مزیدبرآں، ہماری تنخواہوں اور کام کے اوقاتِ کار کے بارے میں بھی ہمیں بتایا گیا اور ہمارے نگران کار نعیم ابرار صاحب قرار پائے۔ پھر دو صفحات پر مشتمل معاہدہ ہم تینوں کو دے دیا گیا۔

میں نے اخلاق صاحب سے پوچھا، “کیا اسے پڑھ سکتی ہوں؟”

انہوں نے جواب دیا، “جی جی، بالکل! آپ پڑھیے۔”

میں نے پڑھنا شروع کیا۔ اس میں میرا نام لکھا تھا، ساتھ ہی عہدہ Senior Sub Editor لکھا تھا، تنخواہ لکھی تھی اور پھر دیگر بہت سی شرائط و ضوابط۔ جس میں سے کچھ میں نے پڑھے اور کچھ نہیں، کیوں کہ میری دونوں ساتھی دستخط کرکے معاہدہ واپس کرچکی تھیں۔ چناں چہ میں نے بھی وقت زیادہ نہ لگایا اور دستخط کرکے اخلاق صاحب کو واپس کردیا۔

انہوں نے کہا، “اس کی ایک کاپی آپ کو بھی ملے گی۔ پھر آپ دوبارہ پڑھ لیجیے گا۔”

شاید وہ بھانپ گئے تھے کہ میں اس کو بغور اور مکمل پڑھنا چاہتی ہوں۔ معاہدہ کی تمام کاپیاں میر جاوید الرحمان صاحب کے سپرد کی گئیں، جس پر انہوں نے دستخط ثبت کرتے ہوئے ہم تینوں خواتین کو ادارے میں خوش آمدید کہا۔

اور اب، میں ادارہ جنگ کے مطبوعہ “ہفت روزہ اخبار جہاں” کی ادارتی ٹیم کا باضابطہ حصہ بن گئی تھی اور میرے نام کے ساتھ Sr. Sub Editor کا اضافہ ہوچکا تھا۔

(دوسرا حصہ ختم شُد)

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ام ماریہ کاظمی

ام ماریہ کاظمی صحافت و تدریس سے وابستہ ہیں۔ ابلاغ عامہ میں ماسٹرز کے بعد ہفت روزہ اخبار جہاں میں بطور سینئر سب ایڈیٹر کام کرنے کے دوران فیچرز اور بچوں کی کہانیاں لکھیں، کئی صفحات کی انچارج رہیں۔ ان کی تحاریر مختلف رسائل اور ویب سائٹس کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ سماجی مسائل، نفسیات اور لوگوں پر اثرانداز ہونے والے مسائل ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں۔ ان پر بلاگ، فیچر اور تاثراتی تحاریر کے علاوہ افسانہ نگاری بھی کرتی ہیں۔

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment