ہوم << نفسیاتی انجینئرنگ اور اسلامی تعلیمات – عارف علی شاہ
600x314

نفسیاتی انجینئرنگ اور اسلامی تعلیمات – عارف علی شاہ

انسان کو اگر صرف اس کے ظاہری وجود سے پہچانا جائے تو اس کی حقیقت کا ایک معمولی حصہ سامنے آتا ہے۔ انسان کی اصل دنیا اس کے اندر آباد ہے؛ اس کے خیالات، خواہشات، خوف، امیدیں، محرکات، ترجیحات اور فیصلے اس کی شخصیت کی وہ پرتیں ہیں جو بظاہر دکھائی نہیں دیتیں، لیکن اس کی پوری زندگی انہی کے زیرِ اثر تشکیل پاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس نے انسان کے ذہن کو سمجھ لیا، اس نے دراصل اس کے رویے تک رسائی کا ایک اہم راستہ تلاش کر لیا۔

ماضی میں انسانی ذہن پر اثراندازی کے ذرائع محدود تھے۔ خاندان، مدرسہ، مسجد، معاشرتی روایات، استاد، خطیب اور اہلِ دانش انسان کی فکری تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے تھے۔ آج صورتِ حال یکسر مختلف ہے۔ ایک شخص بیک وقت درجنوں ایسے ذرائع کے درمیان زندہ ہے جو اس کی توجہ حاصل کرنے، اس کی پسند ناپسند تشکیل دینے، اس کے جذبات کو ابھارنے اور بعض اوقات اس کے فیصلوں کا رخ متعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ موبائل کی اسکرین، اشتہار، خبر، فلم، سیاسی بیانیہ، سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت اور الگورتھم یہ سب انسانی نفسیات کے ساتھ کسی نہ کسی درجے میں معاملہ کر رہے ہیں۔ اسی وسیع تناظر میں نفسیاتی انجینئرنگ (Psychological Engineering) کی اصطلاح سامنے آتی ہے۔ اس سے مراد ایسے منظم علمی، نفسیاتی، ابلاغی یا تکنیکی طریقوں کا استعمال ہے جن کے ذریعے انسانی سوچ، جذبات، ترجیحات یا رویے کو کسی مطلوبہ سمت میں متاثر کیا جائے۔ یہ اثراندازی کبھی خیرخواہی پر مبنی ہوتی ہے اور کبھی مفاد پرستی پر؛ کبھی اس کا مقصد انسان کی اصلاح ہوتا ہے اور کبھی اس کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں اسلامی فکر اس بحث کو ایک بنیادی اخلاقی سوال سے جوڑتی ہے انسان کو متاثر کرنے کا حق کس حد تک ہے، اور اسے manipulate کرنے کی حد کہاں سے شروع ہوتی ہے؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ ہر اثراندازی manipulation نہیں، اور ہر نفسیاتی تدبیر قابلِ مذمت بھی نہیں۔ ایک استاد طالب علم کو پڑھنے پر آمادہ کرتا ہے، ایک والد بچے میں نظم و ضبط پیدا کرتا ہے، ایک معالج مریض کو نقصان دہ عادت ترک کرنے میں مدد دیتا ہے اور ایک داعی حکمت کے ساتھ انسان کو خیر کی طرف بلاتا ہے۔ یہ سب انسانی نفسیات پر اثراندازی کی صورتیں ہیں۔ مگر دوسری طرف جھوٹ، خوف، فریب، لالچ، مصنوعی ضرورت اور جذباتی استحصال کے ذریعے کسی شخص سے ایسا فیصلہ کروانا جو وہ آزادانہ شعور کے ساتھ نہ کرتا، ایک بالکل مختلف معاملہ ہے۔
اسلامی تناظر میں اسی امتیاز کو سمجھنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

نفسیاتی انجینئرنگ: علم یا اختیار کی نئی صورت؟
نفسیاتی انجینئرنگ کو محض نفسیات کی ایک شاخ سمجھنا شاید اس کی وسعت کو محدود کر دینا ہوگا۔ یہ دراصل انسانی رویے کے بارے میں حاصل ہونے والے علم کو عملی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا ایک وسیع میدان ہے۔آج کسی شخص کی توجہ محض اتفاقاً کسی خبر، ویڈیو یا اشتہار پر نہیں رکتی۔ اس کے پیچھے اعداد و شمار، انسانی رویوں کے تجزیے، صارف کی ترجیحات، جذباتی محرکات اور بعض اوقات انتہائی پیچیدہ الگورتھم کام کر رہے ہوتے ہیں۔ جس چیز پر انسان چند سیکنڈ زیادہ رک جائے، جس خبر پر وہ غصہ کرے، جس تصویر کو پسند کرے اور جس ویڈیو کو دوبارہ دیکھے، یہ سب اس کے بارے میں معلومات پیدا کرتے ہیں؛ پھر انہی معلومات کی بنیاد پر اس کے سامنے مزید مواد پیش کیا جاتا ہے۔یوں انسان صرف مواد نہیں دیکھ رہا ہوتا، بلکہ اس کے لیے مواد کا ایک ایسا ماحول تشکیل دیا جا رہا ہوتا ہے جو بالآخر اس کی توجہ اور ترجیحات پر اثر ڈال سکتا ہے۔یہاں اصل مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، انسانی اختیار ہے۔

اسلام اور انسانی نفس
اسلام نے انسانی نفس کو کبھی معمولی چیز نہیں سمجھا۔ قرآن مجید نے نفس کی اصلاح کو کامیابی اور اس کی آلودگی کو ناکامی قرار دیا:
قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ۝ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا
“یقیناً کامیاب ہوا جس نے اسے پاک کیا اور نامراد ہوا جس نے اسے آلودہ کیا۔” (الشمس: 9-10)

یہاں قرآن ایک نہایت بنیادی حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے: انسان کا باطن جامد نہیں۔ اس میں تبدیلی کی گنجائش ہے۔ اسے سنوارا بھی جا سکتا ہے اور بگاڑا بھی جا سکتا ہے۔ اسی حقیقت کی بنیاد پر اسلامی تربیت کا پورا نظام قائم ہے۔نماز انسان کے اوقات کو منظم کرتی ہے، روزہ خواہش پر قابو پانے کی مشق کراتا ہے، زکوٰۃ مال کے ساتھ تعلق کو درست کرتی ہے، ذکر دل کو مرکز فراہم کرتا ہے، تلاوت فکر کو غذا دیتی ہے اور صحبت انسان کے رویے کو متاثر کرتی ہے۔ اس لحاظ سے اسلامی تربیت انسانی شخصیت کی تشکیل کا ایک جامع نظام ہے۔ لیکن یہاں ایک نہایت اہم فرق ہے: اسلام انسان کی شخصیت کو تعمیر کرنا چاہتا ہے، اسے خفیہ طور پر اپنے مفاد کے لیے manipulate نہیں کرنا چاہتا۔

نفسیاتی انجینئرنگ کا مثبت پہلو
نفسیاتی انجینئرنگ کا تصور اگر اخلاقی حدود کے اندر استعمال ہو تو اس کے فوائد سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

اچھی عادات کی تشکیل
انسان کی زندگی میں عادات کا کردار بنیادی ہے۔ بہت سے کام جو ابتدا میں ارادے سے کیے جاتے ہیں، مسلسل تکرار کے بعد عادت بن جاتے ہیں۔ اگر نفسیاتی اصولوں کو درست طور پر استعمال کیا جائے تو مطالعہ، وقت کی پابندی، ورزش، صفائی، عبادت اور نظم و ضبط جیسی عادات پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جدید تربیتی علوم اور اسلامی تربیت کے درمیان بعض مقامات پر قابلِ ذکر مماثلت نظر آتی ہے۔ فرق بنیادی طور پر مقصد اور اخلاقی بنیاد کا ہے۔اسلام صرف یہ نہیں چاہتا کہ انسان ایک کامیاب مشین بن جائے؛ وہ چاہتا ہے کہ انسان ایک صالح انسان بنے۔

تعلیم کے میدان میں نفسیاتی انجینئرنگ
تعلیم محض معلومات منتقل کرنے کا نام نہیں۔ ایک کامیاب استاد جانتا ہے کہ طالب علم کی توجہ کیسے حاصل کرنی ہے، اسے سوال کرنے پر کیسے آمادہ کرنا ہے، مشکل تصور کو قابلِ فہم کیسے بنانا ہے اور ناکامی کے بعد دوبارہ کوشش کا حوصلہ کیسے پیدا کرنا ہے۔یہ سب نفسیاتی عوامل ہیں۔اگر ایک استاد طالب علم کے ذہنی مزاج کو سمجھ کر تدریس کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو وہ دراصل انسانی نفسیات کے علم سے فائدہ اٹھا رہا ہوتا ہے۔ اس میں کوئی قباحت نہیں، بلکہ یہ اچھی تدریس کا حصہ ہے۔
قباحت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب استاد طالب علم کی کمزوری، خوف یا جذبات کو اس کے مفاد کے خلاف استعمال کرنے لگے۔

بری عادات کے خلاف نفسیاتی حکمتِ عملی
انسان بعض اوقات اپنی خواہشات کا مالک کم اور ان کا اسیر زیادہ بن جاتا ہے۔ غصہ، سستی، فضول خرچی، بے مقصد اسکرین ٹائم، جھوٹ، بدگمانی اور دوسری منفی عادات شخصیت کو اندر سے کمزور کرتی رہتی ہیں۔
نفسیاتی تربیت انسان کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ عادت کیسے بنتی ہے، محرک کیا ہے، ردِعمل کیسے پیدا ہوتا ہے اور اس پورے سلسلے کو کہاں توڑا جا سکتا ہے۔
اسلامی تعلیمات بھی انسان کو اسی بنیادی جدوجہد کی طرف لے جاتی ہیں، البتہ اس کے سامنے صرف نفسیاتی صحت نہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی پاکیزگی بھی مقصد ہوتی ہے۔

جہاں فائدہ ختم ہوتا ہے اور استحصال شروع ہوتا ہے نفسیاتی انجینئرنگ کا سب سے خطرناک پہلو اس وقت سامنے آتا ہے جب انسانی کمزوری کو انسانی فائدے کے بجائے کسی دوسرے کے مفاد کے لیے استعمال کیا جائے۔ کسی شخص کا خوف جان کر اسے مزید خوفزدہ کرنا، اس کی تنہائی سے فائدہ اٹھانا، اس کی خواہش کو بڑھا کر غیر ضروری چیز فروخت کرنا، اس کی لاعلمی سے فائدہ اٹھانا یا مسلسل جھوٹ دہرا کر اسے حقیقت کے بارے میں غلط تصور دینا—یہ سب نفسیاتی استحصال کی مختلف صورتیں ہیں۔ قرآن مجید کا اصول واضح ہے:
وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ
“حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ۔”(البقرۃ: 42)

اسلام میں مقصد کی پاکیزگی کے ساتھ طریقے کی پاکیزگی بھی ضروری ہے۔ اچھے مقصد کے نام پر فریب کو جائز نہیں بنایا جا سکتا۔

انسانی اختیار: اصل اخلاقی مسئلہ
نفسیاتی انجینئرنگ پر گفتگو کرتے ہوئے سب سے اہم سوال شاید یہی ہے کہ انسان کے آزاد ارادے کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے؟
اگر کسی شخص کو معلوم ہے کہ سامنے والا اسے قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، وہ دلیل سنتا ہے، اس پر غور کرتا ہے اور پھر اپنی مرضی سے فیصلہ کرتا ہے تو یہ persuasion ہے۔ لیکن اگر کسی کی نفسیاتی کمزوری کو اس سے چھپا کر استعمال کیا جائے، اسے ایسی معلومات دی جائیں جو دانستہ طور پر گمراہ کن ہوں اور اس کے فیصلے کو اس طرح موڑا جائے کہ اسے اپنے اختیار کا شعور ہی باقی نہ رہے، تو یہ manipulation کے قریب پہنچ جاتا ہے۔اسلامی تصورِ تکلیف، ذمہ داری اور جواب دہی انسان کے اختیار کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ جس انسان کو انتخاب کا حق ہی نہ دیا جائے، اس کے اعمال کی اخلاقی ذمہ داری کا تصور بھی متاثر ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا: نفسیاتی انجینئرنگ کی سب سے بڑی تجربہ گاہ؟
آج کا انسان اپنی جیب میں ایک ایسی اسکرین لیے پھرتا ہے جو اس کی توجہ کو مسلسل اپنی طرف کھینچ سکتی ہے۔ ایک notification، ایک مختصر ویڈیو، ایک پسند، ایک comment اور ایک نیا عنوان انسان کو چند لمحوں کے لیے دوبارہ اسی دنیا میں واپس لے آتا ہے۔مسئلہ یہ نہیں کہ سوشل میڈیا موجود ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ انسان اس کے استعمال کنندہ سے کب اس کا محصول بن جاتا ہے؟

اگر ایک شخص اپنی مرضی سے کسی پلیٹ فارم کو استعمال کرتا ہے تو یہ ایک بات ہے؛ لیکن اگر پلیٹ فارم کے ڈیزائن کا مقصد اس کی توجہ کو زیادہ سے زیادہ دیر تک اپنے اندر باندھے رکھنا ہو، تو پھر سوال صرف ٹیکنالوجی کا نہیں رہتا، انسانی نفسیات کے استحصال کا بھی بن جاتا ہے۔خاص طور پر ایسا مواد جو غصہ، خوف، حسد، شہوت یا احساسِ محرومی کو بار بار ابھارتا ہو، انسان کو جذباتی ردِعمل کے ایک مستقل چکر میں مبتلا کر سکتا ہے۔

ڈوپامائن اور خواہش کا چکر
انسان کے دماغ میں انعام اور تحریک سے متعلق نظام اس کی توجہ اور رویوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ڈیجیٹل دنیا نے اس انسانی میلان کو ایک نئی شکل دے دی ہے۔
notification کا انتظار، نئی ویڈیو، نیا comment، نئی پسند اور مسلسل بدلتا ہوا مواد انسان کو بار بار اسکرین کی طرف متوجہ کر سکتا ہے۔یہاں اسلامی اخلاقیات کا سوال نہایت سادہ مگر گہرا ہے:کیا انسان اپنی خواہشات کو استعمال کر رہا ہے یا خواہشات انسان کو استعمال کر رہی ہیں؟قرآن کہتا ہے:
وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
“خواہشِ نفس کی پیروی نہ کرو، ورنہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔”(ص: 26)

اسلام خواہش کے وجود سے انکار نہیں کرتا؛ وہ خواہش کو انسان کا حاکم بننے سے روکتا ہے۔

پروپیگنڈا اور اجتماعی نفسیات
نفسیاتی انجینئرنگ کا خطرناک ترین میدان شاید فرد نہیں بلکہ اجتماع ہے۔ایک فرد کو دھوکا دینا ایک مسئلہ ہے، لیکن ایک پوری قوم کے ذہن کو مسلسل ایک خاص سمت میں دھکیل دینا کہیں زیادہ سنگین مسئلہ ہے۔مسلسل ایک ہی پیغام دہرانا، مخالف کو غیر انسانی یا غدار ثابت کرنا، خوف پیدا کرنا، آدھی حقیقت پیش کرنا اور جذباتی نعروں کو دلیل کا متبادل بنا دینا—یہ سب اجتماعی نفسیات پر اثراندازی کے ذرائع بن سکتے ہیں۔اسی لیے قرآن خبر کے معاملے میں تحقیق کا حکم دیتا ہے:

فَتَبَيَّنُوا
“تحقیق کر لیا کرو۔”(الحجرات: 6)

یہ مختصر قرآنی ہدایت آج کے information age میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔آج جہالت کا مطلب صرف یہ نہیں کہ انسان کے پاس معلومات نہیں؛ ایک نئی جہالت یہ بھی ہے کہ انسان کے پاس بے شمار معلومات ہوں مگر وہ یہ نہ جانتا ہو کہ ان میں سچ کیا ہے اور ذہن سازی کیا۔

دعوتِ دین اور نفسیاتی اثراندازی
یہاں ایک بنیادی وضاحت ضروری ہے۔ اگر انسان پر اثر ڈالنا ہر صورت میں غلط ہے تو دعوت، تعلیم اور تربیت کیسے ممکن ہوگی؟قرآن نے دعوت کے لیے خود اصول مقرر فرمایا:
ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ
“اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعے بلاؤ۔”(النحل: 125)

اسلامی دعوت میں persuasion موجود ہے، مگر deception نہیں؛ حکمت ہے، مگر ذہنی غلامی نہیں؛ نصیحت ہے، مگر فریب نہیں۔
یہی وہ بنیادی فرق ہے جو اسلامی دعوت کو محض نفسیاتی manipulation سے الگ کرتا ہے۔

“لا إكراه في الدين” اور ذہنی آزادی
قرآن کا فرمان ہے:
لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ
“دین میں کوئی جبر نہیں۔”(البقرۃ: 256)

اس آیت کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلامی تصورِ ایمان میں شعور اور اختیار کی اہمیت بنیادی ہے۔ایمان محض کسی بیرونی دباؤ کا نتیجہ نہیں ہونا چاہیے۔ انسان کو حق دکھایا جائے، دلیل دی جائے، حکمت سے سمجھایا جائے، مگر اس کے شعور اور ارادے کو پامال نہ کیا جائے۔یہ اصول نفسیاتی انجینئرنگ کے لیے بھی ایک اہم اخلاقی معیار فراہم کرتا ہے۔

اسلامی نقطۂ نظر سے نفسیاتی انجینئرنگ کا اخلاقی ضابطہ
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں نفسیاتی اثراندازی کو چند بنیادی اصولوں کے تابع ہونا چاہیے:

اولاً: صداقت۔اثراندازی جھوٹ اور فریب کی بنیاد پر نہ ہو۔
ثانیاً: انسانی اختیار کا احترام۔ انسان کو ایک باشعور فریق سمجھا جائے، محض استعمال کی جانے والی شے نہیں۔
ثالثاً: انسانی کمزوریوں کا استحصال نہ کیا جائے۔ خوف، غربت، تنہائی، لاعلمی اور جذباتی کمزوری کو ناجائز مفاد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
رابعاً: مقصدِ خیر۔اثراندازی کا مقصد اصلاح، تعلیم، علاج، تربیت یا حقیقی منفعت ہو۔
خامساً: ضرر سے اجتناب۔کسی فرد یا معاشرے کو غیر ضروری ذہنی، اخلاقی یا سماجی نقصان نہ پہنچایا جائے۔
سادساً: عدل و امانت۔طاقت، معلومات اور ٹیکنالوجی کے عدمِ توازن کو استحصال کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔

اصل ضرورت: انسان کو manipulate نہیں، مضبوط کرنا
آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ نہیں کہ ہمارے پاس نفسیاتی علم بہت زیادہ ہو گیا ہے؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اخلاقی بصیرت اس رفتار سے نہیں بڑھی جس رفتار سے نفسیاتی طاقت بڑھی ہے۔ ہم انسان کی توجہ حاصل کرنا سیکھ گئے، لیکن یہ سوال ابھی باقی ہے کہ اس توجہ کے ساتھ امانت داری کیسے کی جائے۔ ہم انسان کی خواہش کو سمجھنے لگے، لیکن یہ فیصلہ مشکل ہے کہ اس خواہش کو ابھارنا کہاں تک درست ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ خوف انسان کے فیصلے بدل سکتا ہے، لیکن یہ اخلاقی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ خوف کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ ہمیں معلوم ہے کہ repetition ذہن پر اثر ڈالتی ہے، لیکن یہ طے کرنا ابھی باقی ہے کہ مسلسل تکرار کے ذریعے حقیقت کو سمجھایا جائے یا باطل کو حقیقت بنا کر پیش کیا جائے۔

اسلام اسی مقام پر ایک مضبوط اخلاقی معیار فراہم کرتا ہے۔اسلام انسان کو محض قابلِ اثر مخلوق نہیں سمجھتا؛ وہ اسے مکلف، بااختیار، باعزت اور جواب دہ انسان سمجھتا ہے۔

اختتامیہ
نفسیاتی انجینئرنگ نہ بذاتِ خود خیر ہے نہ شر۔ یہ ایک طاقت ہے، اور طاقت کی اخلاقی حیثیت اس کے استعمال سے متعین ہوتی ہے۔ چاقو سے جراحی بھی کی جا سکتی ہے اور ظلم بھی؛ ذرائعِ ابلاغ سے تعلیم بھی دی جا سکتی ہے اور فریب بھی؛ نفسیات سے علاج بھی کیا جا سکتا ہے اور استحصال بھی۔اصل سوال علم کا نہیں، علم کے اخلاقی استعمال کا ہے۔اسلام انسانی نفسیات کو سمجھنے سے نہیں روکتا؛ بلکہ نفس کی اصلاح، کردار کی تعمیر، ارادے کی تربیت اور اخلاقی بلندی کی دعوت دیتا ہے۔ تاہم وہ انسان کو اس مقام تک پہنچانے کے لیے فریب، ظلم اور جبر کو اختیار کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔اسلامی تصور کا حسن یہ ہے کہ وہ انسان کو دوسروں کے ذہن پر قبضہ کرنے کی تربیت نہیں دیتا؛ وہ انسان کو اپنے نفس پر قابو پانے کی تعلیم دیتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں نفسیاتی انجینئرنگ اور اسلامی تزکیۂ نفس کے درمیان بنیادی فرق سامنے آتا ہے۔

نفسیاتی انجینئرنگ کا ایک رخ پوچھتا ہے:
“میں انسان کے رویے کو اپنی مطلوبہ سمت میں کیسے بدل سکتا ہوں؟”
اسلام اس سوال کو ایک اور، زیادہ بنیادی سوال میں تبدیل کر دیتا ہے:
“میں انسان کو حق سمجھنے، خیر اختیار کرنے اور اپنے نفس پر قابو پانے کے قابل کیسے بنا سکتا ہوں؟”
پہلا سوال طاقت پیدا کرتا ہے؛ دوسرا کردار۔
اور شاید آج کے دور میں انسانیت کو طاقت سے زیادہ کردار کی ضرورت ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

عارف علی شاہ

عارف علی شاہ بنوں فاضل درس نظامی ہیں، بنوں یونیورسٹی میں ایم فل اسکالر ہیں، اور کیڈٹ کالج میں بطور لیکچرر مطالعہ قرآن اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ ان کی تحریروں میں عصرحاضر کے چلینجز کا ادراک اور دینی لحاظ سے تجاویز و رہنمائی کا پہلو پایا جاتا ہے

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment