ہوم << ابراہیم بن ادھم کے پڑوس میں – ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ
600x314

ابراہیم بن ادھم کے پڑوس میں – ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ

ابراہیم بن ادھم: مسلمانوں کا بدھا
گارڈن ٹومب ایک مسلم قبرستان کے کنارے واقع ہے ۔ اس محلے کا نام باب الزاہرہ ہے ۔ یہ بہت بڑا قبرستان کونراڈ شک سٹریٹ اور صلاح الدین سٹریٹ کے درمیان، ہمارے گولڈن وال ہوٹل کے عقب اور بائیں جانب، سلطان سلیمان سٹریٹ تک پھیلا ہوا ہے ۔ اس قبرستان کے کئی نام ہیں ۔

ایک نام باب الزاہرہ محلے اور دروازے کی نسبت سے باب الزاہرہ قبرستان ہے ۔ لیکن اسے مجاہدین کا قبرستان بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کئی درجن قبریں سلطان صلاح الدین کے ساتھ آنے والے مجاہدین کی ہیں ۔ستمبر گیارہ سو ستاسی میں جب صلاح الدین ایوبی نے یروشلم کا محاصرہ کیا تو پہلے پانچ دن تک اس کی فوجیں اسی جگہ خیمہ زن تھیں، اور اس دوران شہید ہونے والے مجاہدین کو یہیں دفنایا گیا تھا ۔ پھر انہی قبروں کے گرد ایک بڑا قبرستان وجود میں آ گیا ۔ہم گارڈن ٹومب کی سیر کے بعد ان مجاہدوں کی قبروں کی زیارت کے لیے قبرستان میں داخل ہوئے ۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں دفن ہونے والے ان مجاہدین کی تعداد سینکڑوں میں تھی ۔ لیکن اب صرف چند ہی قبریں ایسی تھیں جن کی نشاندہی ممکن تھی ۔ اکثریت کی قبریں گردشِ زمانہ کا شکار ہو کر کتبوں سے محروم ہو چکی ہیں ۔ تاریخ نے ان کے لشکر کا نام محفوظ رکھا ۔۔ ان کی فتح کو یاد رکھا، وقت نے ان کے کتبے مٹا دیے ۔

ہمیں کبھی احساس تک نہیں ہوا تھا کہ ہمارے ہوٹل کے عقب میں اتنا بڑا اور اہم تاریخی قبرستان موجود ہے ۔ہم بڑی دیر تک اس شہر خموشاں میں پھرتے رہے صلاح الدین ایوبی کے مجاہدوں کی آخری آرام گاہوں کو شناخت کرتے رہے ۔ انہیں سلام بھیجتے رہے ان کی قبروں پر فاتحۂ پڑھتے رہے . اسی دوران ظہر کی اذان بلند ہوئی ۔ اذان کی یہ آواز قبرستان ہی میں موجود ایک بڑی خوبصورت اور جدید مسجد سے آ رہی تھی ۔ ہم اذان کے سمت چل دیئے اور جب ہم مسجد کے قریب پہنچے تو ایک اور بہت بڑا انکشاف ہمارا منتظر تھا ۔ اس مسجد کا نام “العدھمیہ مسجد” تھا ۔ اور اس کے ساتھ ہی ملحق ایک بڑا احاطہ تھا جس کے باہر لکھا تھا ۔
“زاویہ ابراہیم بن ادھم”
میں ٹھٹک کر رک گیا ۔ ابراہیم بن ادھم کا تعلق بھی کبھی یروشلم سے رہا ہے ۔ یہ میرے لیے انکشاف تھا ۔ کبھی نہیں سوچا تھا کہ یروشلم میں ابراہیم بن ادھم سے بھی واسطہ پڑے گا ۔

پانچویں صدی قبل مسیح میں پیدا ہونے والے لمبینی نیپال کے شہزادے سدھارتھ گوتم اور سات سو اٹھارہ عیسوی میں پیدا ہونے والے بلخ افغانستان کے حکمران ابراہیم بن ادھم کی زندگیوں میں حیرت انگیز مماثلت ہے ۔ دونوں بڑی سلطنتوں کے مالک تھے ۔ دونوں نے اپنی جوانی ہی میں دنیاوی سلطنت کو چھوڑ کر فقر کی بادشاہی اختیار کی ۔ دنیاوی زندگی کے عیش و آرام اور جاہ و حشمت کو ٹھوکر مار کر زہد اور درویشی کی زندگی اپنائی ۔ ابراہیم بن ادھم بلخ کے بادشاہ تھے ۔ شکار کے دوران ایک غیبی آواز نے انہیں متنبہ کیا ۔۔ جس پر انہوں نے فوراً اپنا گھوڑا اور شاہی لباس ایک چرواہے کو دے دیا اور دنیا چھوڑ دی ۔ سدھارتھ گوتم نیپال کے شہزادے تھے ۔ انہوں نے اپنے محل کی چار دیواری کے باہر غربت، بیماری اور موت کو دیکھا ۔ اور ایک سنیاسی کے انتباہ پر اپنے بیٹے راہول کی پیدائش کے فوراً بعد ایک رات اپنا محل، اپنی بیوی یشودھرا اور تمام شاہی ساز و سامان چھوڑ کر دنیاوی دکھوں سے نجات کے لیے جنگل کی راہ اختیار کی ۔ ابراہیم بن ادھم کو ایک غیبی آواز نے حق کی راہ دکھائی اور گوتم کو آنکھوں دیکھے مناظر نے ۔

ایک کو کان نے جگایا ، دوسرے کو آنکھ نے ۔ دونوں زندگی کی ساری آسائشیں، محلات کی شاہی زندگی، عیش و آرام چھوڑ کر سکون کی تلاش میں اپنے اپنے طویل روحانی سفر پر نکل کھڑے ہوئے ۔ ابراہیم بن ادھم کو خانہ کعبہ تک پہنچنے میں چودہ برس لگے ۔ سدھارتھ کو چھ برس کی سخت ریاضت اور مراقبے کے بعد گیا شہر کے باہر ایک برگد کے درخت کے نیچے نروان ملا ۔ ابراہیم بن ادھم اپنے اسی روحانی سفر کے دوران بھٹکتے ہوئے یروشلم آ نکلے اور شہر کی فصیل کے باہر ایک غار میں آن پناہ گزین ہوئے ۔۔ وہ غار آج بھی العدھمیہ مسجد کے پہلو میں موجود ہے ۔ مشہور ہے کہ مملوک حکمران بیبرس نے اس پر ایک بڑا زاویہ بنوایا تھا جو گردشِ دوراں کی ایسی نذر ہوا کہ مسجد کے پہلو میں اب اس کے صرف چند نشانات باقی تھے ۔ ابراہیم یروشلم سے مکہ اور مدینہ گئے ۔ کئی برس وہاں مقیم رہے ۔ اور پھر شام میں آن رہائش پذیر ہوئے جہاں روایات کے مطابق سات سو بیاسی عیسوی میں ان کا انتقال ہوا ۔ ان کا مقبرہ شام کے شہر جبلہ میں ہے ۔

ابراہیم بن ادھم کو تصوف کی دنیا کا بادشاہ سمجھا جاتا ہے ۔ ذوالنون مصری اور بایزید بسطامی جیسے بزرگ ان کے افکار سے متاثر نظر آتے ہیں ۔ اور مولانا روم نے اپنی مثنوی میں ان کے واقعات لکھ کر انہیں امر کر دیا ہے ۔ جس نے تخت چھوڑ دیا، تاریخ نے اسے تخت سے بڑا مقام دے دیا ۔ ہم نے مسجد میں نمازِ ظہر ادا کی اور ابراہیم بن ادھم کی غار کی زیارت کے لیے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ ہمیں بتایا گیا کہ زاویے کے متولی کی اجازت کے بغیر یہ ممکن نہیں ۔ متولی کو ڈھونڈا تو پتہ چلا کہ وہ ترکی کے دورے پر ہیں ۔ اور ان کی غیر موجودگی میں کوئی دوسرا شخص اس اجازت کا مجاز نہیں تھا ۔ یوں ہم کنوئیں کے کنارے پہنچ کر بھی پیاسے کے پیاسے رہ گئے اور زاویہ ابنِ ادھم نہ دیکھ سکے جو باب الزاہرہ قبرستان کے نیچے ایک غار میں واقع ہے ۔ بس اس کے اوپر کھڑے کھنڈرات دیکھ کر واپس آ گئے ۔ ان کے زاویے کا دروازہ ہم پر نہ کھلا ۔ ایک اور بند دروازہ ۔ اس شہر میں کچھ دروازے کبھی نہیں کھلتے ۔

واپسی پر میں نے مڑ کر دیکھا ۔۔ قبرستان دھوپ میں چپ چاپ پڑا تھا ۔۔ اس کے پار فصیل کھڑی تھی ۔۔ اور فصیل کے اندر وہ شہر جس کے آٹھوں دروازے ہم دیکھ آئے تھے ۔ ہر دروازے کے گرد قبریں تھیں اور ہر قبر کے اوپر زندگی رواں دواں تھی ۔ فصیل ایک بند کتاب ہے اور ہر دروازہ اس کا ایک باب ۔۔ ہم نے اس کے سارے باب پڑھ لیے تھے ۔ لیکن اس کتاب کی آخری سطر ہم سے پانچ سو برس پہلے لکھی جا چکی تھی ۔ مشہور مورخ مجیر الدین الحنبلی نے چودہ سو پچانوے عیسوی میں لکھی گئی اپنی مشہور کتاب “الانس الجلیل فی تاریخ القدس والخلیل” میں اس زاویے کے بارے میں صرف ایک جملہ لکھا تھا ۔ اور پانچ سو برس میں اس شہر پر اس سے سچا جملہ کوئی نہیں لکھ سکا ۔
“زندہ لوگ مُردوں کے نیچے رہتے ہیں ۔”

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment