ہوم << ووٹ کے بعد کیا ؟ – ڈاکٹر سیف ولہ رائے
600x314

ووٹ کے بعد کیا ؟ – ڈاکٹر سیف ولہ رائے

آج گاؤں میں ایک عجیب سا سوال گردش کر رہا تھا۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ سوال کس نے اٹھایا، مگر ہر شخص اپنی بات کے ساتھ اسی کی طرف لوٹ آتا تھا۔ ڈیرے پر پر معمول کی سیاسی بحث جاری تھی کہ اچانک ایک نوجوان نے پوچھا،
’’اگر ہمارے گاؤں کے مسائل کے فیصلے کا اختیار بھی ہمارے اپنے ہاتھ میں ہو تو؟‘‘

چند لمحوں کے لیے گفتگو رک گئی۔ کسی نے سوال کو مذاق سمجھا، کسی نے اسے سیاست کی نئی چال قرار دیا، مگر ایک بزرگ نے گہری نظر سے نوجوان کو دیکھا اور کہا،
’’بیٹا! اگر ایسا ہو جائے تو پھر ہمارے ووٹ کی قیمت شاید ہمیں پہلی بار سمجھ آئے۔‘‘
اس کے بعد گفتگو کا رخ بدل گیا۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ ڈیرے پر پوچھا جانے والا یہ معمولی سا سوال دراصل جمہوریت کے ایک بڑے مسئلے کی طرف اشارہ کررہا ہے: کیا جمہوریت صرف پارلیمنٹ تک محدود ہے یا اس کا اصل چہرہ گاوں کی گلی میں بھی دکھائی دینا چاہیے؟
جمہوریت کو عموماً انتخابات، پارلیمنٹ، حکومت اور اقتدار کی تبدیلی کے تناظر میں سمجھا جاتا ہے، لیکن جمہوریت کی اصل معنویت اس وقت سامنے آتی ہے جب ریاست دیہاتی کی روزمرہ زندگی کے مسائل سے براہِ راست جڑتی ہے۔ قومی اسمبلی میں ہونے والی بحثیں اپنی جگہ اہم ہیں، صوبائی حکومتوں کے بڑے منصوبے بھی اپنی جگہ ضروری ہیں، لیکن ایک عام شہری یا دیہاتی کے لیے ریاست کا سب سے پہلا اور سب سے واضح تعارف اکثر اس کی اپنی گلی، محلے اور بستی میں ہوتا ہے۔

گلی میں کھڑا گندا پانی، بند نالی، خراب سٹریٹ لائٹ، کچرے کا ڈھیر، غیر منظم بازار، پینے کے پانی کی کمی یا پیدائش و وفات کے اندراج جیسی ضرورتیں وہ مقامات ہیں جہاں شہری ریاست کی کارکردگی کو براہِ راست محسوس کرتا ہے۔ چنانچہ اگر جمہوریت کو محض اقتدار کی تبدیلی کے بجائے شہری اختیار، شرکت اور جواب دہی کا نظام سمجھا جائے تو مقامی حکومت اس کا بنیادی ستون بن جاتی ہے۔ پنجاب میں متعارف کرائے جانے والے نئے بلدیاتی نظام کو بھی اسی وسیع جمہوری تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے تحت مقامی حکومت کے مختلف درجات تشکیل دیے گئے ہیں، جن میں ٹاؤن کارپوریشن، میونسپل کارپوریشن، میونسپل کمیٹی، تحصیل کونسل اور یونین کونسل شامل ہیں۔ اس کثیر سطحی ساخت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ شہری امور کی ذمہ داری ایک ہی مرکزی یا صوبائی سطح پر مرکوز نہ رہے بلکہ مختلف نوعیت کے معاملات کو مناسب مقامی سطح تک منتقل کیا جائے۔ یہی تصور دراصل اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی یا decentralisation کی بنیاد ہے۔

اس نظام میں یونین کونسل سب سے زیادہ اہمیت اس لیے اختیار کرتی ہے کہ یہ شہری اور ریاست کے درمیان سب سے قریبی نمائندہ ادارہ بن سکتی ہے۔ ایک یونین کونسل میں تیرہ ارکان کی نمائندگی کا تصور رکھا گیا ہے۔ ان میں نو جنرل ارکان عوام کے براہِ راست ووٹ سے منتخب ہوں گے جبکہ چار نشستیں مخصوص ہوں گی، جن میں خواتین، کسان یا مزدور، نوجوان اور غیر مسلم شہریوں کی نمائندگی شامل ہے۔ اس ساخت کو محض نشستوں کی تقسیم سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اس کے پیچھے نمائندگی کا وہ اصول موجود ہے جس کے مطابق مقامی حکومت صرف اکثریتی آبادی کی نمائندگی نہیں بلکہ معاشرے کے مختلف طبقات کی آواز کو فیصلہ سازی میں جگہ دینے کا ذریعہ بھی ہونی چاہیے۔ جمہوریت کا حسن صرف اس بات میں نہیں کہ اکثریت فیصلہ کرے؛ اس کا حسن اس میں بھی ہے کہ کم تعداد میں موجود طبقات کی آواز بھی نظام میں سنائی دے۔ اگر کسی مقامی ادارے میں خواتین کی نمائندگی نہ ہو، نوجوانوں کو فیصلہ سازی سے دور رکھا جائے، کسان اور مزدور اپنی مشکلات بیان کرنے کے مؤثر فورم سے محروم ہوں یا اقلیتوں کی آواز ادارے تک نہ پہنچ سکے تو محض انتخابی اکثریت جمہوری نمائندگی کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتی۔

مخصوص نشستوں کا تصور اسی خلا کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ تاہم اس انتظام کی کامیابی اس وقت ثابت ہوگی جب یہ نمائندگی صرف کاغذی نہ رہے بلکہ ان ارکان کو حقیقی مشاورت، فیصلہ سازی اور نگرانی میں مؤثر کردار بھی حاصل ہو۔نئے بلدیاتی نظام کا ایک بنیادی پہلو انتخابی طریقۂ کار ہے۔ جنرل کونسلرز کو عوام براہِ راست منتخب کریں گے اور انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوگا۔ پوری یونین کونسل کو ایک ملٹی ممبر حلقے کے طور پر دیکھا جائے گا اور مقررہ انتخابی طریقۂ کار کے تحت سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار کامیاب قرار پائیں گے۔ اس طریقے سے مقامی نمائندے کا مینڈیٹ براہِ راست شہری سے وابستہ ہوجاتا ہے۔ یوں کونسلر کسی بالائی سیاسی سطح کا محض نامزد کردہ فرد نہیں رہتا بلکہ اپنے علاقے کے ووٹروں سے حاصل ہونے والے اعتماد کی بنیاد پر عوامی نمائندہ بنتا ہے۔

یہی مقام جمہوریت کے ایک نہایت اہم اصول، یعنی نمائندگی اور جواب دہی کے باہمی تعلق کو واضح کرتا ہے۔ جس شخص کو عوام براہِ راست منتخب کرتے ہیں، اس سے عوام سوال بھی کرسکتے ہیں۔ وہ کون سی گلی کی مرمت چاہتا ہے؟ پانی کا مسئلہ کہاں ہے؟ صفائی کا نظام کیوں خراب ہے؟ مقامی بجٹ کہاں خرچ ہوا؟ کس ترقیاتی منصوبے کو ترجیح دی گئی؟ ایک فعال مقامی حکومت ان سوالات کو محض شکایات نہیں بلکہ جمہوری نگرانی کا حصہ سمجھتی ہے۔ تاہم یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: اگر نمائندہ منتخب تو ہوجائے لیکن اس کے پاس مسئلہ حل کرنے کے لیے اختیار اور وسائل نہ ہوں تو اس انتخاب کی عملی اہمیت کیا رہ جاتی ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں بلدیاتی نظام کی اصل آزمائش شروع ہوتی ہے۔ انتخابات جمہوریت کا نقطۂ آغاز ہیں، اختتام نہیں۔ نمائندے کو اختیار، اختیار کے ساتھ وسائل اور وسائل کے ساتھ واضح ذمہ داری ملنا ضروری ہے۔

یونین کونسل کو مقامی سطح پر بجٹ، بعض فیسوں اور مقامی محصولات، ترقیاتی ضروریات اور شہری خدمات سے متعلق مختلف ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ پیدائش، وفات، شادی اور طلاق کے اندراج جیسے شہری معاملات، گلیوں اور نالیوں کی تعمیر و مرمت، مقامی سطح پر پانی کے ذرائع کی دیکھ بھال، صفائی، ویسٹ مینجمنٹ میں تعاون اور عوامی شکایات کی نشاندہی جیسے امور شہری زندگی سے اس ادارے کو براہِ راست جوڑتے ہیں۔ اس طرح یونین کونسل محض ایک انتخابی ادارہ نہیں رہتی بلکہ شہری انتظام کے روزمرہ نظام کا حصہ بنتی ہے۔یہاں ایک اصول ہمیشہ پیشِ نظر رہنا چاہیے: اختیار اگر وسائل سے خالی ہو تو ذمہ داری بوجھ بن جاتی ہے، اور وسائل اگر جواب دہی سے خالی ہوں تو اختیار بدعنوانی کا راستہ بن سکتا ہے۔ اس لیے کامیاب بلدیاتی نظام کے لیے سیاسی اختیار، انتظامی صلاحیت، مالی وسائل اور شفاف نگرانی ایک دوسرے سے الگ نہیں کیے جاسکتے۔ مقامی ادارے کو ذمہ داری دے کر اگر تمام وسائل بالائی سطح پر رکھے جائیں تو شہری آخرکار اسی پرانے سوال پر واپس آجاتا ہے کہ جس نمائندے کو ہم نے منتخب کیا، وہ کرسکتا کیا ہے؟

اسی لیے ایک مؤثر یونین کونسل کا تصور یہ ہے کہ شہری کو معمولی نوعیت کے مسئلے کے لیے بار بار ضلعی یا صوبائی دفتر کا رخ نہ کرنا پڑے۔ محلے کی صفائی کا مسئلہ مقامی سطح پر اٹھایا جاسکے، پانی کی خرابی کی فوری نشاندہی ہوسکے، سٹریٹ لائٹ کی شکایت متعلقہ ادارے تک پہنچے، گلی یا نالی کی ضرورت مقامی منصوبہ بندی میں شامل ہوسکے اور شہری کو معلوم ہو کہ اس مسئلے کا ذمہ دار کون ہے۔ یہی قربت مقامی حکومت کو محض انتظامی ادارے سے شہری اختیار کے ادارے میں تبدیل کرتی ہے۔یونین کونسل کی داخلی قیادت کا انتخاب بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ چیئرمین اور وائس چیئرمین کو عوام براہِ راست منتخب کرنے کے بجائے پہلے یونین کونسل کے ارکان منتخب کیے جائیں گے اور پھر منتخب ارکان اپنے اندر سے چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب کریں گے۔ دونوں عہدوں کے امیدوار مشترکہ امیدوار کے طور پر سامنے آئیں گے اور انتخاب شو آف ہینڈ کے ذریعے ہوگا۔ اس طریقۂ کار سے مقامی سیاست میں ایک دوسرا مرحلہ پیدا ہوتا ہے: پہلے عوام سے اعتماد حاصل کرنا اور پھر منتخب ارکان کے درمیان اعتماد پیدا کرنا۔

یہ مرحلہ دراصل مقامی جمہوریت کی عملی تربیت گاہ بن سکتا ہے۔ مختلف ارکان کو اختلافِ رائے کے باوجود مشترکہ فیصلے کرنا، ترجیحات طے کرنا، بجٹ پر بحث کرنا اور مقامی مسائل کے لیے اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا۔ اگر یہ عمل شفافیت، مشاورت اور سیاسی بلوغت کے ساتھ آگے بڑھے تو یونین کونسل ایک ایسی جمہوری درس گاہ بن سکتی ہے جہاں سیاست صرف تقریروں سے نہیں بلکہ روزمرہ فیصلوں سے سیکھی جائے گی۔یونین کونسل کے اوپر تحصیل اور شہری سطح کے ادارے اسی سلسلۂ اختیارات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ تحصیل کونسل اور میونسپل اداروں میں مقامی نمائندگی کا ربط اس لیے اہم ہے کہ ایک علاقے کے چھوٹے مسائل اکثر وسیع تر شہری یا تحصیلی منصوبہ بندی سے جڑے ہوتے ہیں۔ ایک گلی کی سڑک کا مسئلہ بعض اوقات پورے علاقے کے نکاسیٔ آب کے نظام سے وابستہ ہوتا ہے؛ پانی کی ایک مقامی شکایت بڑے واٹر سپلائی نیٹ ورک کا حصہ ہوسکتی ہے؛ تجاوزات کا ایک بازار شہر کے ٹریفک اور لینڈ یوز کے بڑے مسئلے سے جڑا ہوسکتا ہے۔ اس لیے مختلف سطحوں کے درمیان اختیارات اور ذمہ داریوں کا واضح تعین ضروری ہے۔

اگر ایک ہی کام کے لیے کئی ادارے ذمہ دار ہوں اور ہر ادارہ دوسرے کی طرف انگلی اٹھاتا رہے تو مقامی حکومت شہری کے لیے سہولت کے بجائے الجھن بن سکتی ہے۔ کامیاب نظام وہی ہوگا جس میں شہری کو معلوم ہو کہ کس مسئلے کے لیے کس ادارے سے رجوع کرنا ہے، کون سا نمائندہ ذمہ دار ہے، کس سطح پر فیصلہ ہوگا اور اگر فیصلہ نہ ہو تو شکایت کہاں کی جائے گی۔ جوابدہی کی واضح لکیر جمہوری حکمرانی کی بنیادی شرط ہے۔شہری سہولیات کا بڑا حصہ میونسپل اور تحصیل سطح کے اداروں سے بھی وابستہ ہوگا۔ پانی، سیوریج، صفائی، سڑکیں، سٹریٹ لائٹس، پارکس، قبرستان، پارکنگ، فائر بریگیڈ، بلڈنگ پلان، لینڈ یوز، زوننگ، ہاؤسنگ اسکیموں کی نگرانی اور تجاوزات جیسے معاملات شہری زندگی کے معیار پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ کسی شہر کی تہذیبی شناخت صرف اس کی بلند عمارتوں، وسیع شاہراہوں اور جدید مارکیٹوں سے نہیں بنتی؛ شہر کی اصل تہذیب اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب اس کی گلیاں صاف ہوں، پانی دستیاب ہو، راستے قابلِ استعمال ہوں، پارکس آباد ہوں اور شہری بنیادی سہولیات کے لیے سفارش یا غیر ضروری دفتری چکروں کا محتاج نہ ہو۔

اس پہلو سے دیکھا جائے تو بلدیاتی حکومت دراصل شہری تہذیب کے انتظام کا نام ہے۔ ریاست کی کارکردگی کا سب سے محسوس ہونے والا چہرہ اکثر یہی مقامی خدمات ہوتی ہیں۔ جب کچرا بروقت اٹھتا ہے، سڑک قابلِ استعمال رہتی ہے، پانی کا مسئلہ حل ہوتا ہے یا پیدائش کا اندراج آسانی سے ہوجاتا ہے تو شہری کو ریاست کی موجودگی محسوس ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جب ایک معمولی کام کے لیے شہری کو بار بار مختلف دفاتر کے چکر لگانے پڑیں تو ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور ہونے لگتا ہے۔نئے نظام میں مقامی سطح پر تنازعات کے حل اور مصالحت کا تصور بھی اہم ہے۔ بعض معاملات میں فریقین کی رضامندی سے مقامی سطح پر مصالحت کی کوشش کی جاسکتی ہے اور اس مقصد کے لیے ارکان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جاسکتی ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوسکتا ہے کہ ایسے معمولی نوعیت کے اختلافات، جنہیں قانون مقامی مصالحت کے ذریعے حل کرنے کی اجازت دیتا ہے، غیر ضروری طوالت اختیار نہ کریں۔ تاہم اس عمل کی حدود واضح رہنی چاہئیں۔ مقامی مصالحت عدالتی نظام کا متبادل نہیں اور نہ ہی اسے بنیادی حقوق یا قانونی تحفظ پر فوقیت حاصل ہوسکتی ہے۔ رضامندی، قانون اور انصاف کے اصولوں کے اندر رہتے ہوئے ہی یہ نظام مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

بلدیاتی اداروں کی اہمیت کا ایک اور پہلو سیاسی تربیت ہے۔ قومی سیاست میں پہنچنے سے پہلے ایک نوجوان اگر مقامی حکومت میں عوامی مسائل، بجٹ، منصوبہ بندی، انتظامی دشواریوں، اختلافِ رائے اور اجتماعی فیصلوں کا عملی تجربہ حاصل کرے تو اس کی سیاسی تربیت محض نعروں کے بجائے عملی حکمرانی سے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مضبوط جمہوری نظاموں میں مقامی حکومتوں کو سیاسی قیادت کی تربیت گاہ سمجھا جاتا ہے۔ مقامی سطح پر سیاست کرنے والا نمائندہ اگر اپنے علاقے کے چند ہزار یا لاکھوں شہریوں کے مسائل سمجھنے، ترجیحات طے کرنے اور وسائل تقسیم کرنے کا تجربہ حاصل کرے تو وہ مستقبل میں بڑی سیاسی ذمہ داریوں کے لیے زیادہ تیار ہوسکتا ہے۔لیکن سیاسی تربیت کے لیے ادارہ جاتی تسلسل بنیادی شرط ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بلدیاتی اداروں کا مسئلہ صرف نظام بنانے کا نہیں بلکہ انہیں تسلسل دینے کا بھی رہا ہے۔ کبھی انتخابات میں تاخیر ہوئی، کبھی مدت پوری ہونے سے پہلے ادارے تبدیل ہوئے، کبھی اختیارات واپس لے لیے گئے اور کبھی نیا نظام پرانے نظام کی جگہ لے آیا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ مقامی جمہوریت ایک مسلسل ادارہ بننے کے بجائے وقفوں سے ظاہر ہونے والا انتظام بن گئی۔ اگر ایک منتخب مقامی حکومت اپنی مدت مکمل نہ کرے تو نہ نمائندے مستقل تجربہ حاصل کرتے ہیں، نہ ادارہ مضبوط ہوتا ہے اور نہ شہری کو مقامی جمہوری عمل پر اعتماد پیدا ہوتا ہے۔پانچ سالہ مدت اسی لیے اہم ہے کہ منتخب ادارے کو اپنی ترجیحات، منصوبہ بندی اور ترقیاتی پروگرام پر کام کرنے کے لیے مناسب وقت مل سکے۔ مدت مکمل ہونے کے بعد بروقت انتخابات کا انعقاد بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ جمہوریت صرف انتخاب جیتنے کا نام نہیں؛ جمہوریت کا اصل حسن تسلسل ہے۔ اگر شہری جانتا ہو کہ منتخب حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور مقررہ وقت پر دوبارہ اس کے سامنے جائے گی تو ووٹ ایک وقتی سیاسی عمل کے بجائے مسلسل احتساب کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس پورے عمل میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ذمہ داری غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ حلقہ بندی، انتخابی فہرستوں کی درستگی، امیدواروں کے کاغذات، پولنگ، انتخابی نگرانی اور نتائج کی شفافیت مقامی جمہوریت کے بنیادی تقاضے ہیں۔

مقامی انتخابات میں چند سو یا چند ہزار ووٹ بھی نتیجہ بدل سکتے ہیں، اس لیے انتخابی عمل پر اعتماد مزید اہم ہوجاتا ہے۔ شہری کو یقین ہونا چاہیے کہ اس کا ووٹ محفوظ ہے، انتخابی عمل غیر جانب دار ہے اور نتیجہ عوامی رائے کی حقیقی عکاسی کرتا ہے۔اسی طرح اہلیت، نااہلی اور احتساب کے اصول بھی واضح، یکساں اور غیر جانب دار ہونے چاہئیں۔ عوامی عہدہ اعتماد کی ذمہ داری ہے، اس لیے بدعنوانی، غلط بیانی یا قانون شکنی کی صورت میں قانونی احتساب ضروری ہے۔ مگر احتساب اسی وقت جمہوری اصول بنتا ہے جب قانون سب کے لیے یکساں ہو۔ اگر ایک امیدوار کے لیے قانون کا معیار کچھ اور اور دوسرے کے لیے کچھ اور ہوجائے تو مقامی حکومت کا بنیادی تصور ہی سیاسی عدم اعتماد کا شکار ہوسکتا ہے۔مقامی سیاست میں سیاسی جماعتوں کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ جماعتی نظم سیاسی عمل کو منظم کرنے میں مدد دیتا ہے، لیکن بلدیاتی سیاست کی اصل بنیاد مقامی مسائل ہیں۔ اگر جماعتی وابستگی اتنی غالب ہوجائے کہ گلی، محلے، پانی، صفائی، سڑک اور شہری سہولتوں کے مسائل سیاسی نعروں کے پیچھے چھپ جائیں تو بلدیاتی نظام اپنی بنیادی روح کھو سکتا ہے۔

ایک اچھے مقامی نمائندے کے لیے ضروری ہے کہ وہ سیاسی وابستگی کے ساتھ اپنے علاقے کے مفاد کو بھی اہمیت دے، کیونکہ شہری نے اسے قومی یا صوبائی پالیسی پر بحث کے لیے نہیں بلکہ اپنے مقامی مسائل کی نمائندگی کے لیے بھیجا ہے۔اس تمام نظام کی کامیابی کا سب سے اہم پیمانہ شفافیت ہے۔ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ یونین کونسل کو کتنے وسائل ملے، کہاں خرچ ہوئے، کون سا منصوبہ کس بنیاد پر منتخب کیا گیا اور اس پر کتنی رقم صرف ہوئی۔ مقامی بجٹ کو عوام سے پوشیدہ رکھنے کے بجائے عوامی نگرانی کے لیے پیش کرنا چاہیے۔ اگر شہری اپنے نمائندے سے پوچھ سکے کہ ’’ہماری گلی کے لیے مختص رقم کہاں خرچ ہوئی؟‘‘ تو یہی سوال مقامی جمہوریت کو زندہ رکھتا ہے۔اسی طرح شہری شرکت کو بھی محض ووٹ ڈالنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ محلے کے شہری، اساتذہ، تاجر، نوجوان، خواتین، سماجی کارکن اور دیگر متعلقہ طبقات مقامی منصوبہ بندی میں اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ جو شخص برسوں سے کسی گلی میں رہتا ہے، وہ اس گلی کے مسئلے کی نوعیت کسی دور بیٹھے افسر سے بہتر جانتا ہوسکتا ہے۔ مقامی حکومت کی دانش مندی اسی میں ہے کہ وہ شہری کے تجربے کو فیصلہ سازی کا حصہ بنائے۔

یہی تصور دنیا بھر میں Subsidiarity کے اصول سے بھی جڑا ہوا ہے، جس کے مطابق فیصلہ حتی الامکان اسی سطح پر ہونا چاہیے جہاں مسئلہ پیدا ہوتا ہے اور جہاں اسے زیادہ مؤثر طریقے سے حل کیا جاسکتا ہے۔ ہر مسئلہ صوبائی دارالحکومت تک لے جانا انتظامی مرکزیت کو بڑھاتا ہے، جبکہ مناسب نوعیت کے مسائل کو مقامی سطح پر حل کرنا شہری اختیار اور انتظامی کارکردگی دونوں کو بہتر بنا سکتا ہے۔تاہم اختیارات کی منتقلی کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر ذمہ داری یونین کونسل کے سپرد کردی جائے۔ ایک ریاست میں قومی، صوبائی اور مقامی سطح کے اختیارات کا باہمی توازن ضروری ہے۔ دفاع، خارجہ پالیسی اور قومی معاشی پالیسی جیسے معاملات قومی سطح کے ہیں؛ صوبائی نوعیت کے امور صوبائی حکومت کے دائرے میں آتے ہیں؛ جبکہ روزمرہ شہری خدمات کے بہت سے معاملات مقامی سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں انجام دیے جاسکتے ہیں۔ اصل ضرورت اختیارات کی ایسی تقسیم ہے جس میں نہ غیر ضروری مرکزیت ہو اور نہ ذمہ داریوں کا انتشار۔

قدرتی آفات اور ہنگامی حالات میں مقامی حکومت کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ سیلاب، وبا، زلزلے یا کسی اور ہنگامی صورتِ حال میں سب سے پہلے متاثر ہونے والی آبادی مقامی ہوتی ہے اور ابتدائی معلومات بھی عموماً اسی سطح سے حاصل ہوتی ہیں۔ مقامی نمائندے متاثرہ خاندانوں کی نشاندہی، ضروریات کی اطلاع، عوامی رابطے اور امدادی سرگرمیوں میں معاون کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس لیے مضبوط مقامی حکومت صرف عام دنوں کی انتظامی ضرورت نہیں بلکہ بحران کے وقت ریاست کی ابتدائی دفاعی اور انتظامی دیوار بھی ہوسکتی ہے۔یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ بلدیاتی نظام کو صرف ’’گلی نالی کی سیاست‘‘ کہنا اس کے حقیقی دائرۂ کار کو محدود کرنا ہے۔ حقیقت میں مقامی حکومت شہری اور ریاست کے درمیان سب سے براہِ راست رابطے کا ادارہ ہے۔ ایک عام شہری شاید کبھی صدر، وزیراعظم یا وزیراعلیٰ سے نہ مل سکے، لیکن وہ اپنے کونسلر، چیئرمین یا میئر تک پہنچ سکتا ہے۔ یہی قربت مقامی حکومت کو جمہوریت کے لیے غیر معمولی اہمیت دیتی ہے۔

آخرکار ریاست شہری کے لیے اس وقت حقیقی بنتی ہے جب وہ اس کی روزمرہ زندگی میں نظر آتی ہے۔ ایک صاف گلی، روشن سڑک، دستیاب پانی، منظم بازار، فعال پارک، بہتر نکاسیٔ آب اور آسان شہری اندراج محض انتظامی کامیابیاں نہیں؛ یہ شہری اور ریاست کے درمیان اعتماد کی چھوٹی چھوٹی اینٹیں ہیں۔ ان اینٹوں سے ہی ریاستی اعتبار اور جمہوری اعتماد کی بڑی عمارت تعمیر ہوتی ہے۔پنجاب کا نیا بلدیاتی نظام اسی لیے ایک موقع بھی ہے اور ایک امتحان بھی۔ موقع اس لیے کہ مقامی نمائندگی، اختیارات اور شہری فیصلہ سازی کو ایک نئے انتظامی ڈھانچے میں منظم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے؛ امتحان اس لیے کہ قانون کی دفعات کاغذ سے نکل کر عام شہری کی زندگی میں کس حد تک تبدیلی پیدا کرتی ہیں، اس کا فیصلہ سرکاری فائلیں نہیں بلکہ عوام کریں گے۔چند برس بعد اس نظام کی کامیابی کا سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کتنے کونسلر منتخب ہوئے، کتنی نشستیں بنیں یا کتنے اجلاس منعقد ہوئے۔

اصل سوال یہ ہوگا کہ شہری کی زندگی کتنی آسان ہوئی۔ کیا شکایت پہلے سے جلد سنی جاتی ہے؟ کیا ترقیاتی کام ضرورت کے مطابق ہوتے ہیں؟ کیا بجٹ شفاف ہے؟ کیا خواتین، نوجوانوں، کسانوں، مزدوروں اور اقلیتوں کی آواز واقعی فیصلہ سازی میں شامل ہے؟ کیا منتخب نمائندے اپنے ووٹروں کے سامنے جواب دہ ہیں؟ کیا مقامی ادارے اپنی مدت پوری کرتے ہیں؟ کیا اختیار کے ساتھ مناسب وسائل بھی منتقل ہوتے ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا ایک عام شہری کو یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ اس کا ووٹ واقعی اس کے محلے کی سمت تبدیل کرسکتا ہے؟

پھر ذرا اسی گلی کے نکڑ پر واپس آئیے جہاں صبح یہ سوال اٹھا تھا۔ تصور کیجیے کہ اب وہاں وہی لوگ بیٹھے ہیں۔ بجلی کا بل اب بھی موجود ہے، مگر گفتگو کا انداز بدل چکا ہے۔ گلی کے پانی کے مسئلے کے لیے کسی منتخب نمائندے سے سوال کیا جاسکتا ہے، سٹریٹ لائٹ کے لیے ذمہ دار ادارے کا تعین ہوسکتا ہے، صفائی کے لیے مقامی سطح پر آواز اٹھائی جاسکتی ہے اور سب سے بڑھ کر شہری یہ جانتا ہے کہ اس کا ووٹ صرف کسی دور بیٹھے حکمران کے انتخاب کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کے اپنے محلے کی حکمرانی میں شرکت کا حق بھی ہے۔یہی بلدیاتی جمہوریت کی اصل روح ہے۔پارلیمانی جمہوریت ریاست کا بڑا نقشہ بناتی ہے، مگر بلدیاتی جمہوریت اس نقشے میں شہری کی گلی تلاش کرتی ہے۔ قومی حکومت بڑے فیصلے کرتی ہے، صوبائی حکومت وسیع منصوبہ بندی کرتی ہے، لیکن مقامی حکومت شہری کی روزمرہ زندگی کے ان گوشوں تک پہنچتی ہے جہاں ریاست کے فیصلے عملی صورت اختیار کرتے ہیں۔ اسی لیے جمہوریت کا سفر صرف ایوانِ اقتدار سے عوام تک نہیں ہونا چاہیے؛ اسے عوام کی گلیوں سے بھی ایوانوں تک پہنچنا چاہیے۔

بلدیاتی نظام دراصل اختیار، وسائل، ذمہ داری اور جواب دہی کے درمیان ایک ایسا سماجی و سیاسی معاہدہ ہے جس میں عوام نمائندے منتخب کرتے ہیں، نمائندوں کو اختیار ملتا ہے، اختیار کے ساتھ وسائل آتے ہیں، وسائل کے ساتھ ذمہ داری پیدا ہوتی ہے اور ذمہ داری کے ساتھ جواب دہی لازم ہوجاتی ہے۔ اس زنجیر کی کوئی ایک کڑی بھی کمزور پڑ جائے تو پورا نظام اپنی تاثیر کھو دیتا ہے۔جمہوریت ہمیشہ اوپر سے نیچے نہیں آتی۔ کبھی کبھی اسے اوپر تک پہنچنے کے لیے نیچے سے مضبوط ہونا پڑتا ہے۔ ایک فعال یونین کونسل، بااختیار کونسلر، جواب دہ چیئرمین، شفاف بجٹ، باخبر شہری اور مؤثر مقامی ادارہ بظاہر چھوٹی اکائیاں ہیں، مگر انہی چھوٹی اکائیوں سے جمہوری ریاست کی بڑی عمارت استوار ہوتی ہے۔اگر پنجاب کا نیا بلدیاتی نظام واقعی شہری کو اس کے اپنے محلے میں اختیار، نمائندگی اور جواب دہی کا احساس دینے میں کامیاب ہوگیا تو یہ محض ایک انتظامی اصلاح نہیں ہوگی۔ یہ اس تصور کی عملی تعبیر ہوگی کہ جمہوریت صرف پارلیمنٹ کے ایوانوں میں نہیں رہتی؛ وہ گلی کے نکڑ، محلے کی مجلس، یونین کونسل کے اجلاس اور شہری کے سوال میں بھی زندہ رہتی ہے۔

اور شاید پھر کسی صبح چائے کے اسی ہوٹل پر بیٹھا وہ بزرگ یہ سوال نہ کرے کہ ’’ہمارے ووٹ کس کام کے؟‘‘
بلکہ وہ اعتماد سے کہے:
’’ووٹ صرف حکومت بنانے کا اختیار نہیں؛ اپنی گلی، اپنے محلے اور اپنی زندگی کے فیصلوں میں شریک ہونے کا حق بھی ہے۔‘‘