شہر کا نام شہرِ نَوید تھا، مگر اُس رات شہر میں کسی کو نَوید کی خبر نہ تھی۔ آسمان پر بادل ٹھہرے ہوئے تھے۔ ہوا میں نمی تھی اور سڑکوں پر معمول کی چہل پہل۔ شہر کے وسط میں واقع دارُالشفا ہسپتال کی نرسری میں چودہ ننھے چراغ اپنی اپنی شیشے کی دنیا میں سانس لے رہے تھے۔ کسی کی مٹھی بند تھی، کسی کی انگلیاں بے اختیار ہل رہی تھیں، کوئی آنکھیں بند کیے ایسے سو رہا تھا جیسے ابھی خواب میں ماں کی گود تلاش کر رہا ہو۔
نرسری کے باہر ایک عورت لکڑی کی بنچ پر بیٹھی تھی۔ اُس کا نام زینب تھا۔ اُس نے دونوں ہاتھوں میں اپنے دوپٹے کا پلو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔ اس کے ہونٹ ہل رہے تھے۔ ’’یا اللّہ! بس میرا بچّہ بچا لینا۔ باقی سب تُو جانتا ہے۔‘‘
اُس کے برابر بیٹھا حامد بار بار گھڑی دیکھ رہا تھا۔
’’زینب! ڈاکٹر نے کہا ہے بچہ بہتر ہے۔‘‘
زینب نے دھیرے سے مسکرا کر پوچھا: ’’سچ؟‘‘ ’’ہاں، بالکل۔‘‘ ’’پھر وہ گھر کب آئے گا؟‘‘
حامد نے جواب دینے کے بجائے نظریں چرا لیں۔ ’’جلد۔ بہت جلد۔‘‘
زینب نے اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرا، جیسے بچے کی پہلی حرکت ابھی بھی وہاں محسوس ہو رہی ہو۔
’’میں نے اس کے لیے چھوٹا سا نیلا کپڑا خریدا ہے۔ سوچا ہے گھر آئے گا تو اسی میں لپیٹوں گی۔‘‘
حامد ہنس دیا۔ ’’اور میں نے نام سوچ لیا ہے۔‘‘ ’’کیا؟‘‘ ’’اگر لڑکا ہوا تو ’اَیمن‘۔‘‘
زینب نے فوراً کہا: ’’اور اگر لڑکی ہوئی؟‘‘
حامد نے کچھ دیر سوچ کر کہا: ’’تو پھر… ’جگنو‘۔‘‘
زینب ہنس پڑی۔ ’’بچّی کا نام جگنو؟‘‘
’’ہاں! اندھیرے گھر میں روشنی کرے گی نا!‘‘
دونوں کچھ دیر خاموش رہے۔ انھیں کیا خبر تھی کہ اُن کے خوابوں کا امتحان چند ہی گھنٹوں بعد شروع ہونے والا ہے۔ رات کے تقریباً ساڑھے گیارہ بجے ہسپتال کے پچھلے حصے میں واقع برقی کمرے سے دھواں اٹھا۔ ایک ملازم نے دھواں دیکھا تو گھبرا کر چیخا: ’’آگ! آگ لگ گئی ہے!‘‘
کسی نے دوڑ کر فائر الارم کا بٹن دبایا۔ مگر الارم خاموش رہا۔
’’یہ تو بج ہی نہیں رہا!‘‘
ایک اور ملازم چلّایا۔ دھواں اب راہداری میں پھیلنے لگا تھا۔کسی نے پانی کی بالٹی اٹھائی۔ کسی نے فون نکالا۔ کسی نے ویڈیو بنانا شروع کر دی۔ اور کوئی بھاگ گیا۔
ہسپتال کی نرسری میں موجود ایک نرس نے دھواں دیکھا تو اُس کا رنگ فق ہو گیا۔ ’’بچّے!‘‘ وہ چیخی۔ ’’نرسری میں بچّے ہیں!‘‘ وہ دروازے کی طرف دوڑی۔ دروازہ کھولنے کی کوشش کی۔ دروازہ نہ کھلا۔
’’چابی کہاں ہے؟‘‘ وہ چلّائی۔
کوئی جواب نہ آیا۔ دوسری نرس دوڑتی ہوئی آئی۔ ’’چابی گارڈ کے پاس ہے!‘‘ ’’گارڈ کہاں ہے؟‘‘ ’’پتہ نہیں!‘‘
نرس نے دروازہ زور سے پیٹا۔ اندر سے مشینوں کی مدھم آوازیں آ رہی تھیں۔ وہ آوازیں جو زندگی کی علامت تھیں۔ مگر اب اُن آوازوں کے درمیان موت کا دھواں داخل ہو رہا تھا۔
باہر مائیں چیخ رہی تھیں۔ ’’میرے بچّے کو نکالو!‘‘ ’’میرا بچہ اندر ہے!‘‘
’’دروازہ کھولو!‘‘ ’’خدا کے لیے دروازہ کھولو!‘‘
زینب بھی بھیڑ کو چیرتی ہوئی آگے بڑھی۔ ’’میرا بچہ اندر ہے!‘‘
ایک شخص نے اُسے روکنے کی کوشش کی۔ ’’بی بی! آگ بہت ہے، اندر نہیں جا سکتیں۔‘‘
زینب نے اُس کا ہاتھ جھٹک دیا۔ ’’وہ میرا بچہ ہے!‘‘ ’’آپ اندر جائیں گی تو—‘‘ زینب چیخی: ’’تو کیا؟ وہ اندر اکیلا مر جائے؟‘‘
حامد نے اُسے پکڑ لیا۔ ’’زینب! رک جاؤ!‘‘ ’’تم مجھے مت روکو!‘‘
وہ حامد کے سینے سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ ’’وہ ابھی اتنا سا ہے… اُس نے مجھے ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں… میں نے اُسے گود میں لیا بھی نہیں… حامد! اُسے نکالو… خدا کے لیے اُسے نکالو!‘‘
حامد کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔
وہ صرف دروازے کو دیکھ رہا تھا۔
دھواں گاڑھا ہو چکا تھا۔
فائر بریگیڈ پہنچی تو آگ قابو سے باہر ہو چکی تھی۔ ایک فائر فائٹر نے چیخ کر پوچھا:’’ایمرجنسی ایگزٹ کہاں ہے؟‘‘ ہسپتال کا ایک اہلکار خاموش رہا۔ ’’میں پوچھ رہا ہوں، ایمرجنسی ایگزٹ کہاں ہے؟‘‘
’’شاید… پچھلی طرف۔‘‘ ’’شاید؟‘‘
فائر فائٹر نے غصے سے اُس کی طرف دیکھا۔ ’’تم لوگوں نے یہاں بچّوں کی نرسری بنائی ہے یا موت کا کمرہ؟‘‘
کوئی جواب نہ آیا۔
کچھ دیر بعد دروازہ توڑا گیا۔ مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔ ایک ایک کرکے ننھے جسم باہر لائے جانے لگے۔
وہ جسم جن میں ابھی زندگی نے پوری طرح آنکھ بھی نہیں کھولی تھی۔
ایک ماں نے اپنے بچے کو دیکھا تو چیخ مار کر زمین پر گر پڑی۔ ’’نہیں… یہ میرا نہیں ہو سکتا!‘‘
وہ اپنے بچے کے چہرے کو چھونے لگی۔ ’’اُٹھو… میرے لال! اُٹھو… تمہیں تو گھر جانا تھا…‘‘
دوسری عورت دیوار سے سر ٹکرا رہی تھی۔ تیسری خاموش تھی۔
اتنی خاموش کہ اُس کی خاموشی پوری دنیا پر الزام بن گئی تھی۔
صبح ہوئی تو شہر جاگ گیا۔
اخباروں کی سرخیاں نکلیں: ’’دارُالشفا ہسپتال میں آتش زدگی، چودہ نومولود جاں بحق۔‘‘
ٹیلی وژن پر وزرا کے بیانات آنے لگے۔
’’ہم متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔‘‘
’’واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔‘‘ ’’ذمہ داروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔‘‘
’’متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔‘‘
زینب نے ٹیلی وژن بند کر دیا۔ حامد نے حیرت سے پوچھا: ’’کیوں بند کیا؟‘‘
زینب نے خالی نظروں سے اسکرین کو دیکھا۔ ’’یہ لوگ میرے بچے کا نام بھی نہیں جانتے۔‘‘
حامد خاموش ہو گیا۔
زینب نے آہستہ سے کہا: ’’میرا بچہ بیان نہیں تھا… میرا بچہ میرا خواب تھا۔‘‘
تحقیقاتی کمیٹی بنی۔ فائلیں کھلیں۔
بیانات لیے گئے۔ نقشے بنائے گئے۔ کاغذوں پر دستخط ہوئے۔ افسر آئے۔
افسر گئے۔ اور پھر فائل ایک میز سے دوسری میز پر منتقل ہوتی رہی۔
زینب ایک دن عدالت پہنچی۔ اس نے وکیل سے پوچھا: ’’صاحب! انصاف کب ملے گا؟‘‘
وکیل نے عینک درست کرتے ہوئے کہا:
’’مقدمہ وقت لیتا ہے۔‘‘ ’’کتنا وقت؟‘‘
’’کچھ سال۔‘‘ زینب نے حیرت سے پوچھا: ’’کچھ سال؟‘‘ ’’جی۔‘‘
زینب نے اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا۔
وہاں بچے کے لیے خریدی ہوئی ایک چھوٹی سی جراب تھی۔ وہ اسے کئی دنوں سے سنبھال کر رکھے ہوئے تھی۔ ’’میرا بچہ تو چودہ دن بھی دنیا میں نہیں رہ سکا… انصاف کو اتنے سال کیوں چاہییں؟‘‘
وکیل کے پاس بھی کوئی جواب نہ تھا۔ کچھ دن بعد ایک صحافی زینب سے ملنے آیا۔
اس نے پوچھا: ’’آپ حکومت سے کیا چاہتی ہیں؟‘‘ زینب نے کچھ دیر سوچا۔ پھر بولی: ’’میں اپنا بچہ واپس چاہتی ہوں۔‘‘
صحافی خاموش ہو گیا۔ ’’لیکن یہ ممکن نہیں…‘‘
زینب نے اُس کی بات کاٹ دی۔ ’’پھر ایسا انصاف دو کہ کسی دوسری ماں کو یہ سوال نہ کرنا پڑے کہ میرا بچہ کیوں نہ بچ سکا۔‘‘ صحافی نے قلم روک لیا۔
زینب نے کہا: ’’مجھے تعزیت نہیں چاہیے۔ مجھے جواب چاہیے۔‘‘
اسی رات حامد نے خواب دیکھا۔
ایک وسیع میدان تھا۔ نہ ہسپتال تھا، نہ دھواں، نہ آگ، نہ عدالت، نہ فائلیں۔ چودہ ننھے بچے سفید روشنی میں کھیل رہے تھے۔
کچھ تتلیوں کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ کچھ جگنو پکڑ رہے تھے۔ ایک بچہ اُس کے قریب آیا۔
حامد نے جھک کر پوچھا: ’’تم کون ہو؟‘‘
بچے نے معصومیت سے کہا: ’’میں وہ ہوں جسے تم گھر لانے والے تھے۔‘‘
حامد کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔ ’’بیٹا… مجھے معاف کر دو۔‘‘ بچے نے سر ہلایا۔ ’’تم نے کیا کیا تھا؟‘‘ حامد رو پڑا۔ ’’میں تو تمہیں بچا بھی نہیں سکا۔‘‘
بچے نے پوچھا: ’’لیکن کیا تم نے اُن لوگوں سے پوچھا کہ ہمیں کیوں نہیں بچایا گیا؟‘‘
حامد کے پاس جواب نہ تھا۔
بچے نے اپنی چھوٹی سی انگلی اٹھائی۔
دُور چودہ جگنو آسمان میں روشن ہو رہے تھے۔
پھر ایک آواز آئی:’’ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو…‘‘
حامد نے آنکھیں کھول دیں۔وہ پسینے میں شرابور تھا۔
زینب پاس ہی بیٹھی قرآنِ مجید پڑھ رہی تھی۔ حامد نے اُسے جگایا۔
’’زینب!‘‘ ’’کیا ہوا؟‘‘ ’’میں نے اُسے دیکھا ہے۔‘‘
زینب نے کچھ نہ پوچھا۔صرف اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
اگلے دن زینب نے ہسپتال کے سامنے ایک چھوٹا سا کاغذ چسپاں کیا۔
اس پر لکھا تھا: ’’یہاں چودہ بچے نہیں مرے تھے؛ یہاں چودہ خواب قتل ہوئے تھے۔‘‘
لوگ رک کر اسے پڑھنے لگے۔ ایک بوڑھا آدمی رکا اور بولا: ’’بیٹی! حادثہ تھا، ہو گیا۔ اب کیا کر سکتی ہو؟‘‘
زینب نے اُس کی طرف دیکھا۔ ’’اگر اسے حادثہ کہہ کر بھول گئے تو اگلی بار یہی آگ کسی اور ماں کے گھر جائے گی۔‘‘
بوڑھے نے کہا: ’’لیکن ہم غریب لوگ کیا کر سکتے ہیں؟‘‘
زینب نے جواب دیا: ’’خاموشی تو نہیں کر سکتے۔‘‘
وقت گزرتا گیا۔ شہر نے دوسری خبریں پڑھنا شروع کر دیں۔
نئی سڑک، نیا پل، نیا افتتاح، نئی تقریریں۔ چودہ بچے اخبارات کی پرانی کٹنگ بن گئے۔ مگر زینب نے انہیں بھولنے سے انکار کر دیا۔
وہ ہر سال اُس رات ہسپتال کے سامنے چودہ چھوٹے چراغ روشن کرتی۔
لوگ پوچھتے:’’اب بھی؟‘‘
وہ جواب دیتی: ’’جب تک اس شہر میں کوئی ماں اپنے بچے کو ہسپتال کے دروازے پر چھوڑتے ہوئے خوف زدہ ہو کر یہ نہ سوچے کہ ’یہاں میرا بچہ محفوظ ہے یا نہیں؟‘، تب تک یہ چراغ جلتے رہیں گے۔‘‘
ایک سال اُس کے ساتھ بہت سے لوگ کھڑے تھے۔ ایک بچی نے پوچھا: ’’خالہ! یہ چودہ چراغ کیوں؟‘‘ زینب نے جھک کر اُس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
’’یہ اُن بچوں کے لیے ہیں جو دنیا میں آئے تو تھے، مگر دنیا نے انہیں جینے کی مہلت نہ دی۔‘‘
بچی نے پوچھا: ’’کیا وہ واپس آئیں گے؟‘‘
زینب نے آسمان کی طرف دیکھا۔’’وہ واپس تو نہیں آئیں گے، مگر اگر ہم نے اُن کی موت سے سبق سیکھ لیا تو اُن کی روشنی ضرور واپس آئے گی۔‘‘
اُسی لمحے ہوا کا ایک نرم جھونکا آیا۔ چودہ چراغوں کی لو ایک ساتھ لرزی۔ پھر کسی نے جیسے بہت دور سے گنگنایا: ’’ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو… کہ ہم کو تتلیوں کے، جگنوؤں کے دیس جانا ہے…‘‘
زینب نے آنکھیں بند کر لیں۔
اُسے لگا جیسے چودہ ننھے ہاتھ ہوا میں لہرا رہے ہوں۔
وہ کہہ رہے ہوں: ’’ہمیں بھولنا مت۔‘‘
’’ہماری موت کو حادثہ کہہ کر فائل میں دفن مت کرنا۔‘‘ ’’ہماری راکھ سے سوال اٹھاؤ۔‘‘ ’’پوچھو کہ دروازے کیوں بند تھے؟‘‘ ’’پوچھو کہ الارم کیوں خاموش تھا؟‘‘ ’’پوچھو کہ راستہ کیوں نہ تھا؟‘‘ ’’پوچھو کہ ہمیں بچانے والا نظام کہاں تھا؟‘‘
اور پھر سب سے آخری سوال:’’کیا ہماری جان کی کوئی قیمت تھی؟‘‘
زینب نے آنکھیں کھولیں۔ اُس نے چراغوں کو دیکھا اور دھیرے سے کہا: ’’ہاں… تمہاری جان کی قیمت تھی۔ بہت زیادہ قیمت تھی۔ مگر تمہارے بعد ہمیں یہ قیمت اپنے ضمیر سے وصول کرنی ہوگی۔‘‘
دُور کہیں اذان کی آواز بلند ہوئی۔شہر جاگ رہا تھا۔ مگر اس بار صرف سورج کی روشنی سے نہیں۔ چودہ ننھے چراغوں کی روشنی سے بھی۔
اور شاید پہلی بار شہر کو سمجھ آ رہا تھا کہ حادثے ہمیشہ حادثہ نہیں ہوتے؛ بعض حادثے ہماری غفلت، ہماری خاموشی اور ہمارے بے حِس نظام کے دستخط لیے ہوئے قتل ہوتے ہیں۔اور جب کسی معاشرے میں ظلم کے بعد صرف تعزیتی بیانات رہ جائیں، انصاف کے بجائے فائلیں چلنے لگیں اور ذمہ داری کے بجائے لفظ ’’حادثہ‘‘ ڈھال بن جائے، تو پھر سوال صرف قاتلوں سے نہیں ہوتا۔سوال پورے معاشرے سے ہوتا ہے:
’’کُچھ شہر دے لوگ وی ظالم سَن…
کُچھ سانوں مرن دا شوق وی سی؟‘‘
چودہ چراغ جلتے رہے۔اور شہر کے ماتھے پر ایک سوال لکھا رہا:
’’اگلی بار کس کے بچے ہوں گے؟‘‘



تبصرہ لکھیے