ہوم << کیا موبائل فون لوگوں کو تنہا کررہا ہے؟ – انزیلا جنید
600x314

کیا موبائل فون لوگوں کو تنہا کررہا ہے؟ – انزیلا جنید

ہر انسان دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے کمروں میں بند رہنا پسند کرتے ہیں، جبکہ کچھ نئے تجربات کے جوش اور سنسنی کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ تاہم، ۲۰۲۰ کی عالمی وبا (کو وڈ۱۹)نے بہت سے ایسے نوجوانوں اور نو عمر افراد کو، جو اپنی نشوونما کے نہایت اہم مرحلے میں تھے، طویل عرصے تک گھروں میں رہنے پر مجبور کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ تنہائی کے عادی ہو گئے۔

۲۰۲۵ءمیں شائع ہونے والی ایک سائنسی تحقیق کے مطابق، ہفتے میں کئی مرتبہ اپنے دوستوں سے ملنے والے نوجوانوں کی تعداد میں ۷ اعشاریہ۷ فیصد کمی واقع ہوئی۔ اسے دیکھتے ہوئے لوگ سوال کرتے ہیں، کیا تنہا رہنا، یعنی گوشہ نشینی اور اس کے بجائے انٹرنیٹ کا استعمال نقصان دہ ہے؟
ماضی میں، جب انٹرنیٹ اور ہماری جیبوں میں موجود یہ چھوٹا سا آلہ، یعنی موبائل فون، ایجاد نہیں ہوا تھا تو لوگ تنہائی کا سامنا کرتے ہوئے خود کو مصروف رکھنے کے لیے مختلف سرگرمیاں تلاش کرتے تھے۔ چاہے وہ بیکنگ جیسی کوئی مہارت سیکھنا ہو یا کسی کتاب کا مطالعہ کرنا، انسان کے پاس اپنے وقت کو مفید انداز میں گزارنے کے بے شمار ذرائع موجود تھے ۔ یا پھر وہ اسی وقت کو دنیا کی خوبصورتی پر غور و فکر کرنے اور ایک طویل دن کے بعد ذہنی سکون حاصل کرنے کے لیے استعمال کر تے تھے ۔

لیکن جب آپ کسی تنہا شخص کے ہاتھ میں ایک موبائل فون تھمادیتے ہیں، تو اس کی توجہ اپنی ذات کی بہتری، کسی مشغلہ یا ذہنی سکون کے بجائے آن لائن روابط استوار کرنے، صوتی پروگرام (پوڈکاسٹس)سننے یا جو سامنے آئے، وہ دیکھتے جانے کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ کہ سکتے ہیں کہ وہ ایسی معلومات بھی حاصل کررہا ہوتا ہے جس کی اسے پوری زندگی کوئی ضرورت نہ ہوگی۔ اس صورتِ حال میں، جب کسی شخص کی حقیقی زندگی میں سماجی میل جول بہت کم ہو لیکن انٹرنیٹ پر اس کی سماجی سرگرمیاں بڑھ گئی ہوں،وہ اپنا زیادہ تر وقت سوشل میڈیا پر مواد دیکھنے اور اسکرولنگ میں گزارنے لگے، تو یہ تنہائی ہی کہلائے گی، جو اُس کے لیے نہایت نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کی یادداشت متاثر ہوتی ہے یعنی attention span مختصر ہوجاتا ہے۔ اسے عموماًیہ یاد نہیں رہتا کہ اس نے دس ریلز/وڈیوز پہلے کیا دیکھا تھا۔

آن لائن تعلقات پر حد سے زیادہ توجہ دینے کے باعث وہ آہستہ آہستہ حقیقی دنیا میں گفتگو کرنے اور تمیز و تہذیب کو سمجھنے کی صلاحیت کھونے لگتا ہے۔ ایسا خاص طور پر نوجوانوں کے ساتھ ہورہا ہے، جو اپنا زیادہ تر وقت انٹرنیٹ پر گزارتے ہیں، سوشل میڈیا انفلوئنسرکو مثالی سمجھنے لگتے ہیں اور اپنا موازنہ ان سے کرتے رہتے ہیں۔ یہی مسلسل موازنہ بہت سےنوجوانوں کو یہ یقین دلانے لگتا ہے کہ ان کی شخصیت یا ظاہری وضع قطع دنیا میں موجود معیار کے لیے ناکافی ہیں یا ان کی کوئی قدر نہیں۔ ایک اور بڑا مسئلہ اس وقت سامنے آتا ہے جب ویڈیو گیمز سے حاصل ہونے والے خوشی کے جذبات (Dopamine) بعض نوجوانوں اور بچوں کو حقیقی زندگی میں آگے بڑھنے کی جستجو اور مقصد کے حصول سے روکے رکھتے ہیں۔ ایسے میں وہ مایوسی یا غصہ کا شکار ہوجاتے ہیں کیوں کہ حقیقی زندگی انہیں وہی فوری خوشی فراہم نہیں کررہی ہوتی جوگیمز کی دنیا میں مل رہی ہوتی ہے۔ ڈوپامین اگر گیم جیت جانے سے حاصل ہوجائے تو اصل زندگی میں محنت کرنے کی حُب کسے رہے!

لیکن زندگی تو ایک حقیقت ہے، اس سے فرار ممکن نہیں، اسی لیےیہ ڈوپامین اندر ہی اندرانسان کو مایوس کرتا اور تھکا دیتا ہے۔ اسے کسی بھی کام کو کرنے کی ترغیب باقی نہیں رہتی۔ ان ذہنی مسائل کے علاوہ جسمانی سرگرمیوں کی کمی کے باعث عمومی صحت کے مسائل بھی سر اٹھاتے ہیں۔ انسان گھنٹوں ایک ہی جگہ بیٹھا یا لیٹا رہے تو موٹاپے اور پٹھوں کی بیماریوں کے ساتھ جسم میں درد کی شکایت بھی پال لیتا ہے۔ تو ہمارے ابتدائی سوال کا جواب کیا ہے؟

ہاں ، اور نہیں ۔ زندگی کی اکثر چیزوں کی طرح، اگر تنہائی میں توازن نہ رکھا جائے تو یہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ہم حقیقی زندگی میں جب لوگوں سے ملتے ہیں تو ان کے جسمانی طور پر موجود ہونے، لمس اور تاثرات کو محسوس کرتے ہیں، تجربہ کرتے ہیں جو انٹرنیٹ پر ممکن نہیں۔ مزید برآں، اگر کوئی شخص اپنے وقت کو اپنی بہتری کے لیےغور و فکر کرنے اور اپنی ذات کو بہتر بنانے میں صرف کرے، توپھر لوگوں اور ڈیجیٹیل میڈیا سے تنہائی اس کے لیے فائدہ مند بھی بن سکتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پارک میں کی گئی ایک پرسکون چہل قدمی انسٹاگرام پر دیکھی جانے والی چہل قدمی کی ریل سے کئی گنا زیادہ خوشگوار محسوس ہو سکتی ہے۔ اصل بات صرف یہ ہے کہ آپ اپنی تنہائی اور ڈیجیٹل تنہائی کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment