نبوی سیرت؛ پُرامن معاشرے کی بنیاد
انسانیت پر اللہ تعالیٰ کے عظیم احسانات میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے حضرت محمدؐ کو ہدایت اور رحمت بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپؐ ایسے وقت تشریف لائے جب طاقت ور کمزور کو کچلتا، مال دار غریب کو حقیر سمجھتا، بیٹیوں کو زندہ دفن کیا جاتا اور اخلاقی نظام اپنی بنیادوں سے ہل چکا تھا۔ نبوی بعثت نے انسان کو انسان کے ظلم سے نکالا، عورت کو عزت دی، کمزور کو حق دلایا اور علم، عدل اور رحمت پر قائم معاشرے کی بنیاد رکھی۔
مسجد اقصیٰ بیت المقدس کے خطیب محترم جسٹس محمد سرندح نے اپنے حالیہ خطبۂ جمعہ میں واضح کیا کہ رسول اللہؐ کی ولادت اور سیرت کا تذکرہ صرف ایک تاریخی یاد نہیں؛ یہ امت کو اپنے منہج، ذمہ داریوں اور اصلاحی کردار کی طرف لوٹنے کی دعوت ہے۔ شمائلِ مصطفیؐ کا بیان محبت کرنے والوں کے دل زندہ، بھٹکے ہوؤں کی رہنمائی، ثابت قدم لوگوں کا حوصلہ مضبوط اور شکستہ دلوں کو سہارا دیتا ہے۔ آپؐ نے دعوت کا آغاز تنہا کیا، جبکہ معاشرہ شرک، ظلم اور فتنوں سے بھرا ہوا تھا۔ مال، اقتدار اور مرتبے کی پیش کش بھی آپؐ کو حق سے نہ ہٹا سکی۔ نبوی سیرت امت کو امید دلاتی ہے کہ جہالت اور ظلم کتنا ہی بڑھ جائے، اللہ کی مدد سے روشنی کی صبح ضرور آتی ہے۔ آج بھی ترغیب، دباؤ اور خفیہ تدبیروں کے ذریعے اہلِ حق کو راستے سے ہٹانے کی کوشش ہوتی ہے، لیکن نبوی استقامت انہیں اصولوں پر قائم رہنے کا راستہ دکھاتی ہے۔
سیرت کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ ہر شخص اپنے وقت کی سب سے ضروری ذمہ داری پہچانے۔ رسول اللہؐ نے مختلف مواقع پر ایمان، بروقت نماز، کھانا کھلانے اور زبان سے دوسروں کو محفوظ رکھنے کو افضل عمل قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حالات کے بدلنے سے ترجیحات بھی بدل سکتی ہیں۔ خطیب محترم کے مطابق موجودہ حالات میں ایک بڑی عبادت فتنہ بجھانا، خون ریزی روکنا اور باہمی صلح کرانا ہے۔ قرآن اہلِ ایمان کو باہم بھائی قرار دے کر ان میں مصالحت کا حکم دیتا ہے۔ جب جانیں خطرے میں ہوں اور خاندان دشمنی کی آگ میں جل رہے ہوں تو خاموش تماشائی بننے کے بجائے امن کی کوشش کرنا دینی فریضہ ہے۔نفل عبادات انسان کو فرائض اور حقوق سے غافل نہیں کرسکتیں۔ حدیث میں ایسی عورت کے برے انجام کا ذکر ہے جو نفل نماز اور روزے کا اہتمام کرتی، مگر پڑوسیوں کو اذیت دیتی تھی۔ اسی طرح والدین اپنی مصروفیات یا نوافل کا عذر پیش کرکے اولاد کی نگرانی اور تربیت سے دست بردار نہیں ہوسکتے۔ بچے ہمارے جگر کے ٹکڑے، نوجوان امت کا سرمایہ اور ہمارے پاس امانت ہیں۔
ہر بچہ پاک فطرت پر پیدا ہوتا ہے؛ جرم، نفرت اور خون ریزی اسے گھر، ماحول اور بری صحبت سے ملتی ہے۔ اگر اسے احترام، درگزر اور اختلاف کے آداب سکھائے جائیں تو وہ امن کا علم بردار بنے گا، اور اگر گلی، اسکرین اور بے مقصد صحبت کے حوالے کردیا جائے تو اس غفلت کا نقصان پورا معاشرہ اٹھائے گا۔خاندان تربیت کی پہلی درس گاہ ہے۔ نبوی تعلیم نے بڑوں کے احترام، چھوٹوں پر شفقت، صلہ رحمی اور پڑوسیوں سے حسنِ سلوک پر گھر کی بنیاد رکھی۔ آج انا، خود پسندی اور اپنی رائے پر اصرار نے رشتوں میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔ معمولی اختلاف دشمنی بن جاتا اور معافی کو کمزوری سمجھا جاتا ہے، حالانکہ رسول اللہؐ نے بتایا کہ ظلم پر صبر اور درگزر کرنے والے کی عزت اللہ مزید بڑھاتا ہے۔ اہلِ ایمان کے سامنے جھک جانا شکست نہیں بلکہ اخلاقی بلندی ہے۔ بچوں کو ابتدا ہی سے یہ شعور دیا جائے تو خاندان نفرت اور انتقام کی آماج گاہ بننے کے بجائے محبت اور تعاون کا مرکز بن سکتا ہے۔
اس تعمیر میں ماں کا کردار بنیادی ہے۔ وہ نسلوں کی معمار اور بڑے انسانوں کی پہلی مربیہ ہے؛ اسے اپنی تربیتی ذمہ داری پر شرمندہ کرنے والا تصور خاندان کو کمزور کرتا ہے۔ اسی طرح تعلیمی ادارے کو اخلاقی اور علمی روح سے خالی کردیا جائے تو جہالت، سطحی سوچ اور انتقام کی نفسیات فروغ پاتی ہے۔ جس معاشرے میں استاد کی ہیبت اور قدر باقی نہ رہے، وہاں علم کردار سازی کے بجائے محض سند کا وسیلہ بن جاتا ہے۔ خطیب محترم نے ان منصوبوں سے خبردار کیا جو بچوں کی زندگی سے قرآن و اسلام کی تعلیمات، خاندان سے ماں کا حقیقی کردار اور درس گاہ سے استاد کا وقار ختم کرنا چاہتے ہیں۔قومیں صرف اپنے اداروں سے نہیں، اپنی معتبر شخصیات اور علمی مرجعیت سے بھی راستہ پاتی ہیں۔ خطیب محترم نے توجہ دلائی کہ ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کے ذریعے علماء، مفکرین اور مصلحین کو مشکوک بنانے اور نوجوانوں کے سامنے سطحی کرداروں کو ہیرو بنا کر پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ جب لوگوں کا اپنی معتبر قیادت سے اعتماد اٹھ جائے تو معاشرہ فکری انتشار کا شکار ہوجاتا ہے۔ افواہ، بدگمانی اور اشتعال انگیز تبصرہ معمولی واقعے کو خونیں نزاع میں بدل سکتا ہے۔ نبوی ہدایت یہ ہے کہ بدگمانی، جاسوسی، حسد، بغض اور قطع تعلقی سے بچو اور بھائی بھائی بن کر رہو۔ فتنہ بھڑکانے والا اپنی پھیلائی ہوئی خرابی کا بوجھ خود ہی اٹھائے گا۔
اسی تناظر میں ذکرِ مولد اور مطالعۂ سیرت کا حقیقی مقصد سامنے آتا ہے۔ اس کا مطلب کسی غیر شرعی رسم کو رواج دینا نہیں۔ خطیب نے فحش تقریبات اور شریعت کے خلاف اختلاط سے صاف براءت کا اظہار کیا۔ رسول اللہؐ سے تعلق کا درست اظہار یہ ہے کہ امت اپنے ہدایت بخش منہج کو زندہ کرے، بچوں کے اوقات کو مفید بنائے، رشتہ داروں سے تعلق جوڑے، پڑوسی کا احترام کرے اور مخالف سے صلح کی گنجائش پیدا کرے۔ اسلام کی تعلیمات انسانوں اور معاشروں کی رہنمائی کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں؛ شرط یہ ہے کہ انہیں تقریبات اور نعروں تک محدود کرنے کے بجائے عملی زندگی میں نافذ کیا جائے۔محبتِ رسولؐ جب دل میں حرکت پیدا کرتی ہے تو انسان غریب کے ساتھ نرمی، مظلوم کی مدد اور کمزور کے سامنے تواضع اختیار کرتا ہے۔ حدیث کا مفہوم ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے محبوب لوگ وہ ہیں جو دوسروں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچاتے ہیں؛ کسی کی پریشانی دور کرنا، قرض میں سہارا دینا، بھوکے کو کھانا کھلانا اور ضرورت پوری ہونے تک اس کے ساتھ چلنا بڑی نیکی ہے۔
گویا سیرت سے محبت کا ثبوت محض زبان نہیں بلکہ وہ ہاتھ ہے جو گرتے ہوئے کو تھامے، وہ قدم ہے جو حاجت مند کے ساتھ چلے اور وہ دل ہے جو دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے۔بیت المقدس کے اہلِ اصلاح خون ریزی روکنے اور شہری امن قائم کرنے کے لیے جو کوششیں کررہے ہیں، خطیب محترم نے انہیں سراہا اور مصیبت زدہ خاندانوں کے صبر کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس مقدس شہر میں ہر سال حفاظِ قرآن کی نئی نسل تیار ہونا امید کی روشن علامت ہے۔ اہلِ بیت المقدس میں علماء، بزرگ اور دانش مند موجود ہیں جو اپنے زخموں پر مرہم رکھ سکتے ہیں۔ جان، عزت اور املاک کا تحفظ دینی ذمہ داری ہے؛ اس لیے ہر ایسا قدم قابلِ قدر ہے جو دلوں سے بغض نکالے، باہمی اعتماد بحال کرے اور جاری فتنے کو ختم کرے۔
نبوی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ پُرامن معاشرہ صرف قانون سے نہیں بنتا؛ اس کے لیے پاکیزہ تربیت، مضبوط خاندان، باوقار استاد، معتبر رہنمائی، ذمہ دار ذرائع ابلاغ، خدمتِ خلق اور معاف کرنے کا حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ رسول اللہؐ سے محبت اسی وقت معتبر ہوگی جب آپؐ کی رحمت ہمارے رویوں، عدل ہمارے فیصلوں، صداقت ہماری گفتگو اور شفقت ہمارے گھروں میں دکھائی دے۔ ذکرِ رسولؐ ہمیں اپنی کوتاہیاں درست کرنے، رشتے جوڑنے اور امت کے زخم بھرنے پر آمادہ کرے۔ یہی سیرت کا عملی پیغام اور پُرامن معاشرے کی مضبوط بنیاد ہے۔



تبصرہ لکھیے