ہوم << اخبارِ جہاں ، ایک جہاں – اُم ماریہ کاظمی
600x314

اخبارِ جہاں ، ایک جہاں – اُم ماریہ کاظمی

ایک نوآموز، ابلاغِ عامہ کی طالبہ جس کا آج تک کسی بھی قسم کی نوکری یا انٹرن شپ کا کوئی تجربہ نہیں، اسے امتحانات کے دوران ہی ملک کے سب سے بڑے اخباری گروپ کے میگزین میں بطور سینئر سب ایڈیٹر نوکری مل جائے تو اس کے دل و دماغ کس کیفیت میں ہوں گے، شاید آپ کے لیے سمجھنا آسان نہ ہو۔ میں سمجھاتی ہوں۔

یہ سال تھا ۲۰۰۷ ء اور میں فیڈرل اُردو یونیورسٹی سے ایم اے فائنل ایئر کے امتحانات دے رہی تھی۔ ہمارا کیمپس مولوی عبدالحق روڈ پر واقع تھا، جو سول اسپتال اور جامعہ کلاتھ مارکیٹ سے نزدیک تھا۔ قریب ہی ریڈیو اسٹیشن، اُردو بازار، اور پھر آئی آئی چندریگر روڈ۔ ہم سب کے خوابوں کا نگر۔ ابلاغ عامہ کے تمام طالب علم اس جگہ کی بار بار زیارت کرنے کے بہانے ڈھونڈتے تھے، کسی نہ کسی چینل یا اخبار کے دفتر میں انٹرن شپ کے لیے، دوست سے ملاقات کے بہانے ، اور پھر وہاں راہ و رسم بڑھانے کے نئے پرانے طریقے آزماتے۔ ہم سب کے لاشعور میں یہ کہیں نہ کہیں موجود تھا کہ نوکری تو سفارش کے بغیر ملتی ہی نہیں۔ سی وی بھی کسی جان پہچان کے آدمی کے حوالے سے آگے جائے تو بات بنتی ہے۔میں اپنے ساتھیوں کو دیکھ کر رشک کرتی، کہ کوئی پی ٹی وی میں کسی کی معاونت کررہا ہے تو کوئی جسارت، کاوش ، ریڈیو پاکستان یا پاکستان ٹیلی ویژن میں انٹرن شپ۔ ایک ساتھی جو عمر اور تجربہ میں بڑے تھے اور اس فیلڈ میں پہلے سے کام کررہے تھے، وہ اُمت اخبار سے وابستہ تھے اورمیرےلیے وہ ایک مثال تھے۔

کاش!
میں بھی کچھ ایسا ہی کرسکوں۔ لیکن نہ تو انٹرن شپ تھی اورنہ ہی دفتروں کے چکر لگانے یا تعلقات بنانے آتے تھے۔ خاموشی کے ساتھ محض ایک ہی کام آتا تھا. لکھنا۔ اور وہ میں اپنے کالج کے زمانے سے کررہی تھی ۔ کرکٹ کے میگزین اخبارِ وطن میں میری پہلی تحریر چھپی جو انعام یافتہ قرار پائی تھی۔ پھر جنگ کے مڈویک میگزین اور سنڈے میگزین کے وہ تمام سلسلے، جن میں قارئین کو لکھنے کی ترغیب دی جاتی تھی، مجھے لگتا تھا محض میرے لیے کہا گیا ہے۔ چناچہ مدیر کے نام خطوط، ہوا کے بگولے، پتھروں کے خواص اور تعلیمی مسائل، جس پر جو سمجھ آیا وہ لکھا۔ اور یہی کام میں ماسٹرز کے دوران بھی کرتی رہی۔اس کی فائل بھی مرتب کرتی رہی۔ گھر میں جنگ اخبار کے ساتھ اخبارِ جہاں رسالہ بھی آتا تھا۔سالِ آخر کے امتحانات جاری تھے کہ اس رسالہ میں ایک اشتہار چھپا۔
“خواتین سب ایڈیٹرز کی ضرورت ہے۔”

دل کے ساتھ جگر، گردہ، پھیپھڑا ، سب ہی چیخ چیخ کر مجھے اس کے لیے درخواست بھیجنے کا کہ رہے تھے۔ انکار کیسے کرتی۔ لیکن میں جانتی تھی کہ اتنے بڑے ادارے میں میرے جیسوں کی دال کہاں گلے گی۔ پھر سوچا۔ چلو، اس بہانے جنگ کا دفتر ہی دیکھ لیں گے۔اور پھر دیکھ لیا۔ جنگ کا دفتر، اس کے کمرے، اپنا کمرا۔ اب سوچو تو لگتا ہے خواب تھا۔ لیکن وہ حقیقت تھی۔ایک امتحانی پرچہ دے کر یونیورسٹی سے براہ راست ہی جنگ کے دفتر بہن کے ساتھ پہنچی تو بہن کو باقی انتظار کرنے والوں کے ساتھ الگ بٹھایا گیا اورمجھے ایسے کمرے میں بھیجا گیا جہاں قریباًبیس درخواست گزاروں کا تحریری ٹیسٹ ہونا تھا۔ اتفاق سے ایک ہم جماعت بھی مل گئی جو اس وقت ریڈیو پاکستان میں کام کررہی تھی۔ میری امیدوں پر مزید پانی پڑگیا۔ ہاں یہ بتادوں کہ تین ماہ بعد جب امتحانی نتائج آئے تو اُس کا ڈیپارٹمنٹ میں اول درجہ رہا تھا اور میرا کچھ نمبروں کے فرق سے دوسرا۔بہرحال! ہم سب کو ایک creed دے کر خبر بنوائی گئی اور پھر شاہ رخ خان کے ایک آرٹیکل کی اصلاح کرکے دوبارہ لکھنے کا کہا گیا۔

ٹیسٹ تو میں نے دے دیا۔ لیکن جب معلوم ہوا کہ ایک ہفتے سے دن میں کئی شفٹوں میں یہ ٹیسٹ ہورہے ہیں تو لگا کہ یہ اس بلڈنگ کا شاید آخری دورہ ہے ۔ بہرحال دس دن بعد ایک کال گھر کے پی ٹی سی ایل پرآئی۔ کہ آپ انٹرویو کے لیے آجائیں۔ دل چاہ رہا تھا چھلانگیں لگاوں۔ میں تو نہ لگاسکی البتہ دل نے خوب لگائیں۔دفتری نوکریوں کے بارے میں ہمارے گھروں میں جو خدشات پائے جاتے ہیں ان کی وجہ سے ایک بار پھر بہن کے ساتھ مجھے اخبارِجہاں کے دفتر بھیجا گیا۔یہاں آنے پر معلوم ہوا کہ ساری تپسیا کے بعد چھے خواتین کو میر جاوید الرحمان صاحب سے انٹرویو کے لیےمنتخب کیا گیا ہے۔ اس کے بعد تین کو فائنل کال آ جائے گی۔ میں نے اپنے اردگرد نظر دوڑائی۔ میری وہ ہم جماعت ان میں شامل نہ تھی۔ سب ہی نوجوان تھیں ۔جب ایک دوسرے سے تعارف ہوا تو کوئی کسی میگزین کی ایڈیٹر تھی، کوئی کسی ادارے سے منسلک، ایک لڑکی کراچی یونیورسٹی ابلاغ عامہ ڈیپارٹمنٹ کی گولڈ میڈلسٹ تھی۔دل ایک بار پھر اُمید ہارنے لگا۔

کچھ دیر بعد ہم ایک بڑے کمرے میں ایک بارعب شخصیت کے سامنے بیٹھے تھے۔ وہ طویل القامت، مضبوط جثے اور بھاری آوازکے مالک، اس رسالے کے مالک میر جاوید الرحمان تھے۔
ان کا اور اس ماحول کا رعب اس قدر تھا کہ میں نے ایک یا دو بار ہی ان کی جانب نظر اُٹھاکردیکھا۔ وہ باری باری ہر ایک سے سوالات کررہے تھے۔
ہم سب دھیمی آواز میں جواب دے رہے تھے۔ میری دائیں جانب دو اور بائیں جانب تین لڑکیاں تھیں ۔سچ بتاوں تو میری سٹی گم تھی۔ جب میری باری آئی تو میر جاوید الرحمان صاحب نے پوچھا “آپ کی کیا قابلیت ہے؟”
میں نے بتایا کہ ابھی ماسٹرز فائنل ایئر کے پرچے دیئے ہیں۔انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں “ہوں” کہا اور پھر میرے ساتھ بیٹھی اس گولڈ میڈلسٹ لڑکی سے بھی یہی سوال کیا۔اس نے انگریزی زبان میں خاصا طویل جواب دیا جس میں گولڈ میڈل بھی شامل تھا۔

میر صاحب نے اس سے پوچھا “آپ ٹی وی پر کام کریں گی”
اس نے سر جھٹک کر کہا “well! It depends on the opportunity; I will cross the bridge when I will get there.”
اس پر جاوید الرحمان صاحب نے مجھے دیکھا اور پوچھا “کیا آپ ٹی وی پر کام کرنا پسند کریں گی؟”
میں اس بارے میں زمانہ طالب علمی میں ہی فیصلہ کرچکی تھی چناں چہ میں نے کہا :
“نہیں سر، میں لکھنے میں دلچسپی رکھتی ہوں ، خصوصاً اردو۔ اور میں یہی کروں گی۔”

اس پر جاوید صاحب نے پُر سوچ انداز میں سر ہلایا اور کہا۔
” جی ! ضرور لکھیے گا۔ آپ کو میں یہ کہوں گا کہ ضرور لکھیں۔ چاہے ہمارے ساتھ کام کریں یا کہیں اور، لیکن آپ ضرور لکھیے گا۔”
آج بھی جب لکھنے بیٹھتی ہوں تو یاد آتا ہے، کیسے کچھ مہربان جملے آپ کی زندگی کا زاویہ بدل دیتے ہیں۔
دو دن تک کوئی جواب نہ آیا تو بے قرار ہوکر خود ہی فون کرلیا۔ ایڈیٹرمحترم اخلاق صاحب سے بات ہوئی۔ میں نے پوچھا
” سر میری اپائنٹمنٹ ہوئی ہے یا میں نوائے وقت میں اپلائی کردوں؟” وہ ہنس پڑے۔ بولے۔
“نہیں آپ کہیں اپلائی نہ کریں ۔ آپ کو اخبار جہاں میں اپائنٹ کرلیا گیا ہے۔”

ایک نوآموز، ابلاغِ عامہ کی طالبہ ، جو یکم اپریل کو اپنی زندگی کا پہلا جاب ٹیسٹ دینے جائے اور ۱۵ اپریل کو اسی دفتر میں بطور سینئر سب ایڈیٹر جوائن کررہی ہو، تو اس کے دل و دماغ کس کیفیت میں ہوں گے، شایداب آپ کے لیے سمجھنا آسان ہو۔

(پہلا حصہ ختم شد)

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ام ماریہ کاظمی

ام ماریہ کاظمی صحافت و تدریس سے وابستہ ہیں۔ ابلاغ عامہ میں ماسٹرز کے بعد ہفت روزہ اخبار جہاں میں بطور سینئر سب ایڈیٹر کام کرنے کے دوران فیچرز اور بچوں کی کہانیاں لکھیں، کئی صفحات کی انچارج رہیں۔ ان کی تحاریر مختلف رسائل اور ویب سائٹس کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ سماجی مسائل، نفسیات اور لوگوں پر اثرانداز ہونے والے مسائل ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں۔ ان پر بلاگ، فیچر اور تاثراتی تحاریر کے علاوہ افسانہ نگاری بھی کرتی ہیں۔

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment