شہر سے کچھ دور ایک چھوٹا سا قصبہ تھا، جس کا نام امیر پور تھا۔ بظاہر یہ بھی دوسرے قصبوں جیسا ہی تھا؛ کچی پکی گلیاں، بازار میں شور، چائے کے ہوٹلوں پر بیٹھے تبصرہ نگار، مسجد کے مینار سے آتی ہوئی اذان اور شام ڈھلے گھروں کو لوٹتے پرندے۔ مگر اس قصبے کے سینے میں ایک ایسا خوف آباد تھا جس کا کوئی نام نہیں تھا۔لوگ اسے صرف اتنا کہتے تھے:
“یہاں قانون کی آنکھیں سب کو برابر نہیں دیکھتیں۔”
اسی قصبے کی ایک گلی میں مہرین اپنے بوڑھے والد بابا رحمت کے ساتھ رہتی تھی۔ مہرین ایک ہونہار طالبہ تھی۔ اس نے سرائیکی زبان و ادب میں یونیورسٹی سے اول پوزیشن حاصل کی تھی۔ کتابیں اس کی دنیا تھیں اور وسیب اس کی محبت۔
وہ سرائیکی میں نظمیں لکھتی تھی۔ اس کی شاعری میں دریائے سندھ کی روانی، مٹی کی خوشبو، ماں کی دعا اور کسان کے پسینے کی چمک تھی۔وہ کہا کرتی تھی:
“زبان صرف بولی نہیں ہوتی، زبان کسی قوم کی یادداشت ہوتی ہے۔ اگر ہم اپنی زبان کو بھول گئے تو اپنے بزرگوں کی آواز بھی کھو دیں گے۔”
بابا رحمت مسکرا کر کہتے: “بیٹی! تو قلم سے لڑتی ہے، یہ تیری سب سے بڑی طاقت ہے۔”
مہرین جواب دیتی: “ابا! قلم کسی سے لڑتا نہیں، صرف سچ لکھتا ہے۔”
مگر ایک رات سچ کو لکھنے والی اسی لڑکی کے گھر پر جھوٹ نے دھاوا بول دیا۔
رات گہری تھی۔ گلی میں کتے بھونک رہے تھے۔ اچانک دروازے پر زور دار دستک ہوئی۔
دھڑام!
بابا رحمت چونک کر اٹھ بیٹھے۔”کون ہے؟”
باہر سے سخت آواز آئی: “دروازہ کھولو!”
“کیا بات ہے؟” “دروازہ کھولو، تفتیش کرنی ہے!”
بابا رحمت نے کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھولا۔ اگلے ہی لمحے کئی لوگ اندر داخل ہو گئے۔ گھر کی خاموشی چیخوں سے بھر گئی۔ برتن گرنے لگے، کتابیں فرش پر بکھر گئیں اور مہرین کو سمجھ ہی نہ آیا کہ اس کے گھر میں یہ قیامت کیوں برپا ہو گئی ہے۔ “ہم نے کیا کیا ہے؟” اس نے خوف زدہ آواز میں پوچھا۔
ایک شخص نے غصے سے کہا:
“زیادہ سوال نہ کرو!”
بابا رحمت آگے بڑھے۔ “بیٹا! میری بچی کو کچھ نہ کہنا۔ اگر کوئی بات ہے تو مجھ سے کرو۔”
جواب میں ایک دھکا ملا بوڑھا دیوار سے جا ٹکرایا۔
مہرین چیخی: “ابا!”
وہ باپ کی طرف بڑھی تو ایک سخت وار نے اسے بھی زمین پر گرا دیا۔ اس کے سر سے خون بہنے لگا۔اس کا بازو مڑ گیا۔
مگر اس سے زیادہ کچھ ٹوٹا تو وہ اعتماد تھا جو ایک شہری اپنے ملک کے قانون سے رکھتا ہے۔
وہ فرش پر پڑی اپنی کتاب کو دیکھ رہی تھی۔ کتاب کا ایک صفحہ خون سے سرخ ہو چکا تھا۔ اس صفحے پر اس کی اپنی نظم لکھی تھی:
“میڈی مٹی، میڈا وسیب،
میڈی بولی، میڈا نصیب۔”
مہرین نے خون آلود ہاتھ سے صفحہ اٹھایا اور دھیرے سے کہا: “کیا جرم ہے میرا؟”
کوئی جواب نہ آیا۔
بابا رحمت پھٹے سر کے ساتھ دہائی دے رہے تھے: “ہم غریب لوگ ہیں صاحب! ہمارا قصور صرف اتنا ہے کہ ہم طاقتور نہیں ہیں۔”
رات گزر گئی۔
مگر امیرپور کی صبح نہ آئی۔ سورج نکلا تو گلی میں لوگوں کا ہجوم تھا۔ کوئی افسوس کر رہا تھا، کوئی سر ہلا رہا تھا، کوئی آہستہ سے کہہ رہا تھا: “جن لوگوں نے یہ کیا ہے، ان کے ہاتھ بہت لمبے ہیں۔”
ایک شخص نے دوسرے سے کہا: “خاموش رہو، کہیں ہمارا نام نہ آ جائے۔”
دوسرے نے گردن جھکا لی۔ مہرین نے یہ گفتگو سنی تو اسے یوں محسوس ہوا جیسے پورا شہر زخمی ہے، مگر ہر شخص اپنے زخم کو کپڑے سے چھپا رہا ہے۔
دوپہر کو ایک نوجوان صحافی سلمان ان کے گھر پہنچا۔ اس نے مہرین کو دیکھا تو چند لمحے خاموش رہا۔
“تم ٹھیک ہو؟”
مہرین نے مسکرا کر کہا: “یہ سوال مجھ سے نہیں، اس معاشرے سے پوچھو۔”
سلمان نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“تمہیں کس بات کا سب سے زیادہ دکھ ہے؟”
مہرین نے فرش پر بکھری کتابیں سمیٹتے ہوئے کہا: “بازو کا درد چند دن رہے گا، سر کا زخم بھی بھر جائے گا۔ مگر اگر لوگوں کے دلوں سے قانون کا خوف اور انصاف کا یقین نکل گیا تو یہ زخم نسلوں تک نہیں بھرے گا۔”
سلمان خاموش ہو گیا۔بابا رحمت نے آہستہ سے کہا:
“بیٹا! ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ طاقتور لوگوں نے یہ سب کیا ہے۔ ہم کیا کر سکتے ہیں؟”
سلمان نے ان کی طرف دیکھا۔ “آپ اکیلے نہیں ہیں، بابا۔” بابا رحمت ہنسے، مگر ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔”بیٹا! یہ جملہ اچھا ہے، مگر غریب آدمی کو صرف جملے نہیں، انصاف چاہیے۔” یہ بات سلمان کے دل میں تیر کی طرح لگی۔
اگلے روز اس نے اپنی رپورٹ لکھی۔ اس نے کسی پر الزام تراشی نہیں کی، کسی عدالت کا فیصلہ خود نہیں سنایا۔ اس نے صرف سوال اٹھائے: اگر قانون سب کے لیے ہے تو اس کی حفاظت سب کو برابر کیوں نہیں ملتی؟
اگر ریاست شہری کی محافظ ہے تو خوفزدہ شہری کس دروازے پر جائے؟
اور اگر ایک طالبہ کے ٹوٹے بازو اور پھٹے سر کے باوجود انصاف کا راستہ خاموش رہے تو کل کس گھر کی باری ہوگی؟
رپورٹ شائع ہوئی تو امیرپور میں ہلچل مچ گئی۔پہلے لوگ سرگوشیوں میں بات کرتے تھے، اب کھل کر سوال کرنے لگے۔
یونیورسٹی کے طلبہ مہرین کے گھر پہنچے۔
ایک طالبہ نے اس کا ہاتھ تھاما: “آپ ہماری آواز ہیں۔”
مہرین نے سر ہلا کر کہا: “نہیں، میں اکیلی آواز نہیں ہوں۔ تم سب آواز بنو۔”
اگلے دن اس کے استاد بھی آئے۔
انہوں نے کہا: “بیٹی! تم نے سرائیکی میں اول پوزیشن حاصل کی تھی۔ آج تم نے ایک اور امتحان پاس کیا ہے۔”
مہرین نے پوچھا: “کون سا امتحان؟”
استاد نے کہا: “ظلم کے سامنے خاموش نہ رہنے کا امتحان۔”
بابا رحمت کی آنکھیں بھیگ گئیں۔انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا۔”یا اللّٰہ! میری بچی کے زخموں کو گواہی بنا دے۔”
دن گزرتے گئے۔تحقیقات شروع ہوئیں۔ متعلقہ افسران سے سوالات ہوئے۔ بیانات قلم بند ہوئے۔ مہرین اور اس کے خاندان کو قانونی مدد فراہم کی گئی۔
قصبے کے لوگوں نے پہلی بار محسوس کیا کہ خوف کی دیوار اتنی مضبوط نہیں ہوتی جتنی وہ سمجھتے ہیں۔
ایک شام مہرین اپنے گھر کے صحن میں بیٹھی تھی۔ سر پر پٹی بندھی تھی، بازو پر پلستر تھا۔ سامنے اس کی کتاب کھلی تھی۔
سلمان نے پوچھا: “کیا لکھ رہی ہو؟”
مہرین نے قلم اٹھایا اور کہا:
“ایک نظم۔”
“کس موضوع پر؟”
وہ کچھ دیر خاموش رہی، پھر بولی:
“اس دن پر، جب ایک زخمی آدمی نے قانون سے نہیں، انصاف سے امید باندھی تھی۔”
سلمان نے پوچھا: “اور عنوان؟”
مہرین نے دور ڈوبتے سورج کو دیکھا۔
“ٹوٹے بازو کی گواہی۔”
وہ لکھنے لگی۔
“ہم کمزور سہی، بے آواز نہیں،
ہم غریب سہی، بے وقار نہیں،
زخم ہمارے بولیں گے،
سچ کے چراغ جلیں گے۔”
بابا رحمت نے یہ شعر سنا تو مسکرا دیے۔
“بیٹی! اب تیرا بازو ٹوٹا نہیں، قلم بن گیا ہے۔”
مہرین نے باپ کی طرف دیکھا۔ “اور آپ کا زخم؟”
بابا رحمت نے اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔ “یہ؟”
پھر آہستہ سے بولے: “یہ صرف میرا زخم نہیں۔ یہ اس معاشرے کے ماتھے کا نشان ہے۔ جب تک انصاف زندہ ہے، امید بھی زندہ ہے۔”
باہر اذان کی آواز بلند ہوئی۔
مہرین نے اپنی کتاب بند کی۔
اور پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ امیرپور کی گلیوں میں خوف کے ساتھ ساتھ آواز بھی چل رہی ہے۔ وہ آواز کسی ایک مہرین کی نہیں تھی۔ وہ ہر اس شخص کی آواز تھی جو ظلم سہہ کر بھی یہ کہنے کی جرأت رکھتا تھا: “میں اکیلا نہیں ہوں، اور قانون کسی کی جاگیر نہیں۔”



تبصرہ لکھیے