پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ یہ وہی نعرہ تھا جس کی تکمیل کے لیے لاکھوں مسلمان جان کی بازی ہار گئے۔لیکن حیرت انگیز طور پر گزشتہ روز فواد چوہدری نے ایک انٹرویو میں کہا کہ قائد اعظم نے لاالہ الااللہ کا نعرہ نہیں لگانے دیا ۔قائد اعظم اسلامی نظام چاہتے تھے یا نہیں سیکولرزم کے حامی تھے یا نہیں اس پر مفصل بحث و مباحثہ ہوچکا ہے مزید لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کیونکہ جو تسلیم از جان ہے وہ مان چکا ہے تسلیم کر چکا ہے۔ جو نہیں مانتا وہ کبھی نہیں مانے گا۔
اس لیے کہ ان کے بڑوں نے پاکستان کی مخالفت کرکے اپنا بیج بو دیا تھا آج ان کی اولادیں پاکستان اور قائد اعظم کے خلاف بارے بات کرنے سے ذرا نہیں ہچکچاتے۔کیونکہ ان کی رگوں میں باپ دادا کا مخالف پاکستان کاخون گردش کرتا رہتا ہے۔ میں نے ایک مضمون بہ عنوان ” احراریوں کی عیاشیاں “ پر اقساط پر Daleel.pk لکھا ہے۔موجود ہے۔ جس میں فواد چوہدری جیسے ایک مولوی نے کہا تھا کہ پاکستان بنانا تو بہت دور کی بات پاکستان کی پ نہیں بنا سکتا۔الحمد اللہ آج پ بھی بن گئی پاکستان بھی وجود ہستی پر قائم و دائم ہے۔
آج لے ان کی پناہ مدد مانگ ان سے
فواد چوہدری نے جس واقعہ کو ذکر کیا ہے اس نے حقیقت سے منہ موڑا ہے ۔ یہ واقعہ کچھ اس طرح سے پیش آیا تھا۔ جولائی 1946ء میں قائد اعظم یہ مجلس اتحاد المسلمین کے صدر مولانا مظہر علی کامل کی دعوت پر حیدر آباد کن تشریف لے گئے ۔ 12 جولائی 1946ء کو آپ نے حیدر آباد کی وسیع و عریض مکہ مسجد میں نماز جمعہ ادا کی ۔ قائد اعظم پینیہ کی موجودگی کی وجہ سے نمازیوں کی کثرت کا یہ عالم تھا کہ صفیں سڑک پر چار مینار تک پھیلی ہوئی تھیں، جیسے سارا شہر وہاں نماز پڑھنے سمٹ آیا ہو۔ اس مجمع میں مولوی بادشاہ اور مولوی ولی اللہ جیسے بہت سے اور مشائخ بھی شامل تھے۔ نماز کے بعد قائد اعظم کو مسجد کے صحن سے منبر تک پہنچایا گیا اور ان پر پھول برسائے گئے ۔ اس دوران پر جوش حاضرین مختلف نعرے لگاتے رہے۔ مسجد سے واپسی پر مولانا مظہر علی سے قائد اعظم پینے کی یہ گفتگو ہوئی ۔
قائد اعظم: مولانا صاحب ! مسجد میں یہ جو عثمان علی خان زندہ باد اور قائد اعظم پی یہ زندہ باد کے نعرے لگائے جا رہے تھے، آپ نے سنے ہوں گے؟
مولانا: جی ہاں، عوام و خواص ان نعروں سے اپنے جوش و ولولہ کا اظہار کر رہے تھے۔
قائد اعظم یہ مجھے جوش و ولولہ پر اعتراض نہیں۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ نعرہ تکبیر، اللہ اکبر کے بعد ان نعروں کی کوئی ضرورت ہے نہ گنجائش ۔
قوم کو ان نعروں سے ہٹائے۔ لیکن ایک دم نہیں، بتدریج ۔ قائد اعظم کے اصل الفاظ جو انہوں نے زور دے کر ادا کیے تھے، وہ یہ تھے:
Not at Once……..
اس سے واضح ہوتا ہے اگر کسی وجہ سے نعرہ کو رکوایا تو خود قائد اعظم نے وضاحت بھی دے دی۔ عملی میدان نعروں سے نہیں۔ عملی اقدام سے سجتا ہے۔
قائد اعظم اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے کوشاں تھے۔ فواد چوہدری کے کے شہر کے ایک افسر لیفٹیننٹ کرنل گلزار احمد جو 1946ء میں بغاوت کا منصوبہ بنا رہے تھے۔اس منصوبے میں سردار عبد الرب نشتر بھی شامل تھے قائد اعظم کو جب خبر ملی تو آپ نے فرمایا۔
”نہیں یہ ٹھیک نہیں میں اس طرح کی کارروائیاں پسند نہیں کرتا یہ غیر اسلامی ہے دیکھو اسلام اور عیسائیت میں یہی بنیادی فرق ہے۔اسلام کا مقصد بھی اہم ہے اور ذریعہ بھی۔اگر مقصد اچھا ہو اور ذریعہ غلط یہ غیر اسلامی ہے۔ ( گفتار و کردار قائد اعظم 172)
اسلامی نظام اور فواد کی گیدڑ بھبکی
ایک بار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں قائد اعظم سے کوکب زریں نے کہا۔”آپ کے ذہن میں پاکستان کا معاشی ڈھانچہ کیا ہے؟
قائد اعظم نے کہا۔ وہ اسلامی سوشلزم پر بنی ہوگا۔ کو کب نے کہا آپ سیدھے سوشلزم کی بات کیوں نہیں کرتے۔ ساتھ اسلام کا نام کیوں لیتے ہیں۔
قائد اعظم نے کہا اسلامی سوشلزم سے میری مراد اسلامک سوشل جسٹس ہے۔(قائد اعظم گفتار و کردار 334)
پاکستان کی نظریاتی بنیاد
تحریک پاکستان کے ایک کارکن ڈاکٹر سید بدرالدین احمد نے ایک مشہور مسلم لیگی اخبار ڈان کے ایڈیٹر مسٹر الطاف حسین سے بعض سیاسی مسائل پر تبادلہ خیالات کیا۔ لیکن تشقی نہ ہوئی تو قائد اعظم ﷺ کی خدمت میں 26 نومبر 1946 ء کو حاضر ہوئے. اس وقت قائد اعظم پی ، را جاغضنفر علی خان اور مولوی تمیز الدین خان سے مصروف گفتگو تھے۔ ان سے فارغ ہونے کے بعد بدرالدین کی طرف متوجہ ہوئے۔
قائد اعظم!
مجھے الطاف حسین نے آپ کے بارے میں فون کیا ہے۔ آپ کی ان سے گفتگو ہو چکی ہے؟
بدرالدین: جی ہاں! میں کچھ مطمئن نہیں ہو سکا۔ اس لیے انہوں نے آپ کی خدمت میں بھیج دیا۔ قائد اعظم یہ سب سے پہلے تو یہ کہ آپ یہ چند قرآنی آیات نوٹ کر لیجئے اور ان کا ترجمہ بھی۔
إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ وَمَنْ يَكْفُرُ بِأَيْتِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ
بیشک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے اورجنہیں کتاب دی گئی انہوں نے آپس میں اختلاف نہ کیا مگر اپنے پاس علم آجانے کے بعد،اپنے باہمی حسد کی وجہ سے۔ اور جواللہ کی آیتوں کاانکار کرے تو بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔(سوره آل عمران آیت : 19)
وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْهُۚ-وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ
اور جو کوئی اسلام کے علاوہ کوئی اوردین چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔(عمران 85)
مسٹر بدر!
میرا ایمان ہے کہ قرآن وسنت کے زندہ جاوید قانون پر مبنی ریاست پاکستان دنیا کی بہترین اور مثالی ریاست ہوگی۔ میں کسی ازم پر یقین نہیں رکھتا۔ میں اسلام کے کامل نظام زندگی پر ایمان رکھتا ہوں ۔ مجھے علامہ اقبال ہے سے پورا اتفاق ہے کہ دنیا کے تمام مسائل کا حل اسلام سے بہتر کہیں نہیں ملتا۔ ان شاء اللہ پاکستان کے نظام حکومت کی بنیاد لا الہ الا اللہ ہو گی اور یہ ایک فلاحی و مثالی ریاست ہوگی۔ پاکستان میں کمیونزم یا سرمایہ دارانہ نظام کی کوئی جگہ نہیں اور مجھے پختہ یقین ہے کہ خدا وند کریم اسے ہمیشہ قائم و دائم رکھے گا۔ لیکن حیرت انگیز طور پر ابالٹی گنگا بہنے لگی ہے اور نظریہ پاکستان ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ مسلمانان پاکستان نے خود پر جو بدترین ظلم کیا، وہ یہ تھاکہ تحریک پاکستان کی تاریخ میں کوئی خاص دلچسپی نہ لی۔ لہذا وقت گزرنے کے ساتھ جن کے دل میں اسلام کانٹے کی طرح چبھ رہا تھا یا ان کی عیش و عشرت اور رنگین زندگی میں رکاوٹ پڑنے کا امکان تھا، انہوں نے حقائق پر جھوٹ اور دروغ گوئی کا اتنا ملبہ گرا دیا کہ آج عام آدمی مکمل طور پر کنفیوز ہوکر رہ گیا۔
تحریک پاکستان کے دوران سیاسی جلسوں میں کیا نعرے لگتے تھے؟ قائداعظم کی ایک صد سے زائد تقاریر کا خلاصہ اور نچوڑ کیا ہے؟
11 اگست 1947 ء والی تقریر کا پس منظر اور اصل مقصد کیا تھا۔ پاکستان ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے حاصل کیا گیا تھا۔ وہ اسمبلی جس نے قرار داد مقاصد منظور کی تھی ، وہ قیام پاکستان سے پہلے وجود میں آئی تھی اور اسے ہی بطور آئین ساز اسمبلی کے بحال رکھا گیا تھا۔ یہ وہی اسمبلی تھی ، جس کے سامنے قائد اعظم نے 11 اگست 1947ء کو تقریر کی تھی۔ جب قرارداد مقاصد منظور کی گئی تو اس اسمبلی میں موجود سیکولر لوگوں نے یہ تو کہا کہ آج ہمارا سر شرم سے جھک گیا ہے۔ کہ
اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں
انہوں نے قرارداد مقاصد کی بھر پور مخالفت کی اور ان میں سے ادب کا ذوق رکھنے والوں نے اپنا غصہ شعر و شاعری سے بھی نکالا لیکن ان میں سے کسی ایک اسمبلی ممبر نے سیکولر ہوتے ہوئے بھی یہ نہیں کہا کہ یہ غلط ہے، پاکستان بنانے کا یہ مقصد نہیں تھا۔ یہ تو قریب قریب ہیں بائیس برس بعد ذاتی ناکامیوں اور پاکستان کے دگرگوں حالات سے مایوس ہو کر سردار ایس حیات کو یاد آ گیا کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا الله کا نعرہ مسلم لیگ کا نعرہ نہیں تھا، بلکہ بعض چھوکروں نے یہ نعرہ لگایا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے یا خود قائد اعظم نے یہ آل انڈیا مسلم لیگ کے کسی بھی عہدیدار نے اس نعرے کی تردید میں ایک لفظ بھی کہا ؟ کیا خود مسلم لیگ کا یہ آفیشل نعرہ نہں تھا۔
” مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ“ کیا وہ تمام مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے کوئی سیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے۔ بدنیتی، بد دیانتی اور ضمیر فروشی حائل نہ ہوتو صاف واضح اور غیر ہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان صرف اور صرف ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے حاصل کیا گیا تھا۔ ہم تاریخ مسخ کرنے والے ایسے تمام لوگوں کی خدمت میں عرض کیے دیتے ہیں کہ وہ اس بات کو سمجھیں کہ ریاست کو ڈی ٹریک کرنے سے ملک میں جو تباہی و بربادی آئی ہے، اس کا وبال ان کی گردنوں پر ہوگا۔ کیا اس حقیقت سے انکار کیا جاسکا ہے کہ نصف صدی سے زائد عرصہ ہوا پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت زبان سے جو چاہے کہتی رہی عملاً سیکولر ازم پرعمل پیرا ہے کبھی کبھار اسلام کانام کمپنی کی مشہوری کے لیے استعمال کرلیا جاتا ہے اگر یہ لوگ سیکولر ازم ہی کو پاکستان کے مسائل کا حل سمجھتے ہیں تو پھر مسائل میں جھلتے ہوئے عوام کو ریلیف دینے میں دیر کیوں ہے؟
یہ حکومت ہی نہیں سابقہ حکومتیں بھی معاشی، معاشرتی اور سیاسی سطح پر کیوں نا کام ہو جاتی ہیں اور عسکری سطح پر ہمیں ہمیشہ کیوں ہتھیار پھینکنے پڑتے ہیں یا اعلانیہ اختیار کردہ موقف سے خاموشی سے پسپائی اختیار کرنا پڑتی ہے۔ ناکامیاں ہمارا مقدر کیوں ہیں؟ کاش ہم تاریخ کو مسخ کرنے سے باز آجائیں کاش ہم اس حقیقت کو تسلیم کر لیں کہ پاکستان بنانے کا مقصد ایک اسلامی فلاحی ریاست کو وجود میں لانا تھا۔ 1947 میں برصغیر میں جوائن کی گئی تھی سیکولرازم اور اسلام کو الگ الگ کرنے کے لئے ہی کھنچی گئی تھی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم تمام مصلحتیں ایک طرف رکھ کر اس مقصد کے لیے ڈٹ جائیں جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے اور خصوصا اپی نوجوان نسل کونظریہ پاکستان سے آشناکریں تا کہ وہ اپنی منزل کا صیح تعین کر سکیں۔ لہذا فواد چوہدری تسلسل غلط بیانی کرکے اپنے پیش رو کا مقدمہ لڑ رہیں ہیں۔ سو لڑتے رہیں۔فواد چوہدری کے لیے بس اتنا ہی
تیرے در سے جو یار پھرتے ہیں
در بہ در یونہی خوار پھرتے ہیں



تبصرہ لکھیے