مقرر: ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب فیصل مسجد اسلام آباد
درسِ حدیث بعد نمازِ ظہر
حدیث مبارکہ
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ
ترجمہ:ہر بندہ قیامت کے دن اسی حالت پر اٹھایا جائے گا جس حالت پر اس کی موت آئی ہوگی۔(صحیح مسلم)
حدیث کی تشریح اور اہم پیغام
ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب نے اس مبارک حدیث کی روشنی میں نہایت مؤثر انداز میں فرمایا کہ انسان کی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ اس کا خاتمہ ہے۔ موت کا کوئی مقررہ وقت نہیں نہ یہ جوانی اور بڑھاپے کی قید میں ہے نہ دن اور رات کی۔ انسان کسی بھی لمحے اپنے رب کے حضور حاضر ہوسکتا ہے۔اسی لیے عقل مند وہی ہے جو ہر وقت ایسے اعمال میں مشغول رہے جن پر قیامت کے دن شرمندگی نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور رحمت نصیب ہو۔آپ نے فرمایا کہ یہ حدیث ہمیں ہر لمحہ اپنی زندگی کا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن ایمان، عبادت، ذکرِ الٰہی، تلاوتِ قرآن، خدمتِ خلق اور نیکی کی حالت میں اٹھائے جائیں تو ہمیں اپنی پوری زندگی انہی اعمال سے آراستہ کرنی ہوگی۔ کیونکہ انسان کا انجام اسی کے معمولات کا آئینہ دار ہوتا ہے۔
قرآن و حدیث: مکمل ضابطۂ حیات
ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ دینِ اسلام ہمارے لیے بہترین نصیحت اور کامل رہنمائی ہے۔ قرآنِ مجید اور سنتِ رسول ﷺ نے زندگی کے ہر شعبے کی رہنمائی فرمائی ہے۔ کوئی بڑا یا چھوٹا عمل ایسا نہیں جس کے بارے میں اسلام نے اصول و آداب بیان نہ کیے ہوں۔ عبادات ہوں یا معاملات، اخلاق ہوں یا معاشرت، ہر پہلو میں قرآن و سنت ہماری بہترین رہنمائی کرتے ہیں۔انہوں نے زور دے کر فرمایا کہ اگر ہم دنیا و آخرت کی کامیابی چاہتے ہیں تو قرآن کریم کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کریں۔ اس کے معانی و تعلیمات کو سمجھیں اور انہیں اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ یہی دنیا میں سکون، سعادت اور آخرت میں کامیابی کا راستہ ہے۔
فیصل مسجد کے درسِ حدیث کا مقصد
ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ فیصل مسجد میں نماز کے بعد مختصر درسِ حدیث کا سلسلہ اسی مقصد کے لیے قائم ہے تاکہ یہاں آنے والے نمازی، خواہ وہ پاکستان سے ہوں یا بیرونِ ملک سے، روزانہ *رسول اللہ ﷺ* کی ایک حدیث سن کر اپنی زندگی سنوارنے کا سامان حاصل کریں۔ انہوں نے حاضرین سے درخواست کی کہ ان مبارک احادیث کو صرف سننے تک محدود نہ رکھیں بلکہ خود بھی ان پر عمل کریں اور اپنے اہلِ خانہ، دوستوں اور رشتہ داروں تک بھی پہنچائیں کیونکہ دین کی بات آگے پہنچانا بھی بڑی سعادت ہے۔
قرآن سے مضبوط تعلق کی ضرورت
خصوصی طور پر بزرگوں اور گھر کے سربراہان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اپنے گھروں میں قرآن کریم کی تلاوت کا ماحول پیدا کریں۔ خود بھی روزانہ تلاوت کریں اور اپنے بچوں اور اہلِ خانہ کو بھی اس کا عادی بنائیں۔ جب ہر گھر میں قرآن کی آواز گونجے گی۔ اس کی تعلیمات پر عمل ہوگا اور اس سے محبت پیدا ہوگی تو *اللہ تعالیٰ* کی رحمتیں، برکتیں اور سکونِ قلب بھی انہی گھروں پر نازل ہوں گے۔
سبق اور نصیحت
موت کسی بھی وقت آسکتی ہے اس لیے ہر لمحہ نیکی اور اطاعت میں گزارنا چاہیے۔ انسان قیامت کے دن اسی حالت میں اٹھایا جائے گا جس حالت میں اس کی موت ہوگی۔ قرآن و سنت ہی کامیاب زندگی کا مکمل راستہ دکھاتے ہیں۔ روزانہ قرآن کریم کی تلاوت اور اس پر عمل کو اپنی زندگی کا لازمی معمول بنایا جائے۔ احادیثِ نبویہ کو سیکھنا، ان پر عمل کرنا اور دوسروں تک پہنچانا عظیم نیکی ہے۔ ہر مسلمان کو اپنے خاتمہ کی فکر کرتے ہوئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں زندگی گزارنی چاہیے۔
دعا
اللہ رب العزت ہمیں قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ سے سچی محبت عطا فرمائے۔ ان کی تعلیمات پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق دے۔ ہماری زندگی کو ایمان، تقویٰ اور نیک اعمال سے مزین فرمائے۔ ہمارے گھروں کو قرآن کی برکتوں سے آباد کرے اور ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے۔اللہ تعالیٰ مرتے وقت ہماری زبان پر لا إله إلا الله محمد رسول الله ﷺ جاری فرمائے اور قیامت کے دن ہمیں اپنے نیک بندوں کے ساتھ اٹھائے۔
آمین یا رب العالمین۔



تبصرہ لکھیے