ہوم << اہداف سے عاری بے ہنگم زندگانی – شاکر اللہ چترالی
600x314

اہداف سے عاری بے ہنگم زندگانی – شاکر اللہ چترالی

بھائی، کارنامے ہر ایک کےحصے میں کیوں نہیں آتے؟
ایک بالکل آسان اور لاجواب جواب ہے :

1. زندگی کے اہداف طے نہیں، ہمت نہیں، عزم نہیں
بیشتر لوگ “بس چل رہا ہے” والے موڈ میں گزار دیتے ہیں۔ کوئی بڑا خواب نہیں، کوئی واضح منزل نہیں، کوئی ٹائم ٹیبل نہیں۔ جب منزل ہی طے نہ ہو تو راستہ کہاں لے جائے گا؟
عزم کا مطلب ہے: اپنی اوقات سے بہت بڑھ کر خواب دیکھنا۔اپنے آپ سے پوچھو کہ 5 سال بعد میں کہاں ہونا چاہتا ہوں؟
میری صحت، پیسہ، رشتے، علم، دین، کاروبار… ہر شعبے میں کیا تصویر بنانی ہے؟بڑے خواب دیکھنے سے ڈرو مت۔ اللہ نے آپ کوتخیل کی طاقت دی ہے تو اسے استعمال کرو۔ چھوٹے لوگ چھوٹی سوچ رکھتے ہیں، بڑے لوگ بڑی سوچ رکھتے ہیں۔

2. اہداف نہیں تو کامیابی کے لیے دعا بھی نہیں
جب کسی کا دل کسی بڑے اہداف سے جڑ جائے تو خود بخود دُعا نکلتی ہے۔دُعا بغیر عمل کے بے اثر ہے، اور عمل بغیر دُعا کے ادھورا۔دُعا کا مطلب ہے: اللہ سے مانگنا + یقین رکھنا کہ وہ بہترین دے گا۔ہر صبح اور رات یہ دُعا پڑھو:
“اے اللہ! مجھے میرے اہداف تک پہنچنے کی توفیق دے، میرے لیے آسان کر دے، میرے راستے کھول دے اور جو میرے لیے بہتر ہے وہ عطا فرما۔”
دُعا عزم کو مضبوط کرتی ہے اور ناممکن کو ممکن بناتی ہے۔

3. جو کر سکتے ہیں وہ کرتے نہیں (احسان/احسن طریقے سے کرنا)
یہ سب سے بڑا قاتل ہے۔ لوگ جانتے ہیں کہ آج کیا کرنا چاہیے، پھر بھی ٹال مٹول کرتے رہتے ہیں۔احسان کا مطلب ہے: جو فی الحال کر سکتے ہو، اسے بہترین اور احسن طریقے سے کرو۔اگر آج صرف 30 منٹ پڑھ سکتے ہو تو وہ 30 منٹ دل لگا کر پڑھو۔
اب کرنا کیا ہے؟ (Practical Action Plan): آج ہی اہداف لکھو (عزم کا پہلا قدم)
ایک کاغذ نکالو اور لکھو:میرے بڑے بڑے خواب (اپنی اوقات سے بڑھ کر)ہر شعبے میں 1 سال، 3 سال اور 5 سال کے اہدافاگلے 30 دن میں کیا کرنا ہے؟
روزانہ دُعا: صبح اٹھتے ہی اور رات سوتے وقت اپنے اہداف کے لیے خاص دُعا کرو۔ دل سے مانگو۔
روزانہ کا “احسن کام”: اپنے اہداف کی فہرست سے آج کے لیے 1-3 چھوٹے کام نکالو اور انہیں بہترین طریقے سے مکمل کرو۔ رات کو خود سے پوچھو: “آج میں نے جو کر سکتا تھا، کیا احسن طریقے سے کیا؟”
ٹریک رکھو: ہفتے کے آخر میں جائزہ لو۔ کہاں کامیابی ملی، کہاں ناکامی ہوئی، اگلے ہفتے کیا بہتر کرنا ہے۔

اہم بات:
کارنامے اچانک نہیں آتے۔ وہ روزانہ کے عزم، دُعا اور احسن عمل کا نتیجہ ہوتے ہیں۔جو آج شروع کر دے گا، وہی کل کامیاب ہو گا۔اب تمہاری باری ہے بھائی۔آج ہی ایک کاغذ نکالو اور لکھنا شروع کرو۔تم کر سکتے ہو۔

یہاں ایک شبہ ہوتا ہے کہ ’’اہداف میں ناکامی ‘‘ بعض مرتبہ تکلیف دہ اور اذیت کا باعث ہے لہذا عافیت اسی میں ہے کہ اہداف ہی نہ ہوں تاکہ نہ رہے بھانس نہ نجے بھانسری ۔غالباً علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ کی کتاب کا اردو ترجمہ ’’لطائف علمیہ‘‘ میں عرصہ پہلے پڑھا تھا جس میں حضرت نے بھی کچھ اسی طرح کی بات لکھی تھی :
’’دنیا میں مزے ان کے ہوتے ہیں جو ہمت اور ذکاوت میں کم ہوں ورنہ عالی ہمتوں اور اعلیٰ صلاحتیوں والے لوگ اپنے ادھورے خوابوں کی وجہ سے پریشان ہی رہتے ہیں‘‘ ۔

اس شبہ کی تائید علامہ کے اس قول سے بظاہر ہوتی ہے البتہ بغائر نظر دیکھا جایا تو علامہ کے قول سے اس شبہ کا جواب ملتا ہے وہ اس طرح کہ ہمارے پاس دو ہی آپشن ہیں :
(۱)دنیا کی لذات اور مزے لیکن قیمت ہمت کی کمی اور ذکاوت سے محرومی
(۲) علو ہمت اور اعلی ذکاوت لیکن ادھورے خوابوں کی پریشانیوں کی قیمت پر

گویا یہ وہی بات ہوگئی کہ دنیا کے عام قانون یا فطرت کے عمومی ضابطے کے مطابق کہ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے لہذا لذتوں کی قیمت پست ہمتی اور علو ہمت کی قیمت ادھورے خوابوں کی پریشانی ایک ہوتی ہے عام درجے کی پریشانی اوردوسرا محرومی سے نفسیاتی طور پر اثر لینا جس کے نتیجے میں لوگ خود کشی کرلیتے ہیں بعض غم غلط کرنے کو نشہ آور چیز وں کی لت میں پڑ جاتے ہیں اوربعض ناعاقبت اندیش انتہائی خطرناک جرائم یعنی صنم کو ساتھ لے ڈوبنے میں لگ جاتے ہیں۔ پہلی قسم کا جواب آگیا اور ایک اور دلچسپ بات آگے آرہی ہے ۔باقی نفسیاتی اثر لینا یہ واقعتاً تشویشناک بات ہے لیکن یہ بڑے خوابوں کا نتیجہ کم غلط خوابوں کا اثر زیادہ ہوتا ہے ۔

المیہ یہ ہے کہ اچھی وژننگ اور درست اہداف کی تعیین نہیں ہوتی ہے یا سرے سے کچھ نہیں ہوتا اب پانی نے اپنا راستہ توبنانا ہے تو غلط ہداف کے پیچھے انسان چلنا شروع ہوتا ہے کبھی ٹھوکر کھاکر سنبھلتا ہے کبھی علم پاکر سدھرتا ہے اور کبھی چلتا ہی جاتا ہے اور پھر گڑھوں میں گرتا ہے تو سبب اہداف کا نہ ہونا یا غلط اہداف کا ہونا ہے ۔اس لیے ضروری ہے کہ صحیح اہداف کی تعیین ہو ۔ اچھا جی دوسرا جواب بھی حاضر ہے کہ عمومی نوعیت کی پریشانی بلا شبہ پریشانی تو ہے لیکن ایک مثبت پہلو اس میں یہ ہے کہ یہ پریشانی بڑے اہداف اور اہداف کے حصول میں سنجیدگی کی دلیل ہے ۔ہدف کا عدم حصول ہی اس کے بڑے ہونے کی دلیل ہے اور عدم حصول میں پریشانی اس کے حصول میں سنجیدگی کی دلیل ہے ۔ لوگ دیکھا دیکھی میں بعض مرتبہ اہداف کی فہرست کی مرتب کرلیتے ہیں لیکن سنجیدگی ایک فیصد بھی نہیں ہوتی اس لیے اہداف کے عدم حصول پر بھی برابر شادان و فرحان رہتے ہیں ۔

ایک اور دلچسپ جواب یہ ہے کہ اہداف سرے سے پریشانیوں کا سبب نہیں بلکہ حقیقی خوشیوں کا باعث ہیں ۔ جی بالکل سنجیدگی کے ساتھ لکھا جا رہا ہے کوئی مذاق نہیں ۔ تکلف مکمل طور پر برطرف ہی جی ۔اہداف کی صحیح تعیین میں یہ شامل ہے کہ کچھ اہداف نہایت سہل الحصول ہوں جس میں وقت ، دولت اور جسمانی محنت کم سے کم لگے جیسے نماز ۔نماز کوئی معمولی ہدف نہیں ہے انسانیت کے مقصد ِ تخلیق عبادت کی سب سے افضل ترین شکل ۔اسی طرح اہداف میں تدریج ہو کہ بعض دوسرے بعض کے لیے سیڑھی ہوں، جیسے ایک جملہ ایک پیراگراف کے لیے کڑی اور پیراف گراف مضمون کا ابتدائی حصہ اور ایک مضمون ایک کتاب کی بسم اللہ ۔اس طرح اہداف میں تدریج ہو تو اہداف حاصل کرتا لذتیں پاتا منزل کی بڑھتا چلا جاتا ہے ۔

بات بہت لمبی ہو رہی ہے بس آخری بات بلکہ سو باتوں کی ایک بات کہہ کر رخصت لی جاتی ہے کہ اہداف وژن سے لیے جاتے ہیں اور وژن مذہب اور مذہبی تعلیمات سے ۔ پھرمذھب اور دین کا ہر عمل راستہ ہو یا وسیلہ حقیقت میں منزل ہی ہوتا ہے اس لیے فرمایا کسی بہت بڑے نے کیا خواب فرمایا :

قدم ہیں راہِ الفت میں تو منزل کی ہوس کیسی
یہاں تو عین منزل ہے تھکن سے چور ہوجانا

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment