ہوم << ایک بستی، تین بھینسیں اور قانون کا لاغر ترازو – محمد شفیق اعوان
600x314

ایک بستی، تین بھینسیں اور قانون کا لاغر ترازو – محمد شفیق اعوان

دیہات میں یہ کہاوت ( ”مَجّاں مَجّاں دیاں پیناں ہوندیاں نے۔“ یعنی بھینسیں بھینسوں کی بہنیں ہوتی ہیں۔) بڑی معصوم لگتی ہے، مگر جب یہی کہاوت سیاست، اقتدار، سرکاری اداروں، بااثر طبقات اور مفاداتی گروہوں کے بیچ آ بیٹھے تو اس کے سینگ نکل آتے ہیں۔ پھر یہ محض کہاوت نہیں رہتی، ایک مکمل سیاسی فلسفہ بن جاتی ہے۔

اس فلسفے کا پہلا اصول یہ ہے: اپنا آدمی غلط نہیں ہوتا، صرف حالات کا شکار ہوتا ہے۔
دوسرا اصول: دوسرے کا آدمی غلطی کرے تو قانون حرکت میں آتا ہے۔
اور تیسرا، سب سے اہم اصول: اگر اپنا آدمی قانون کے شکنجے میں آ جائے تو پہلے قانون ہی کو سمجھایا جائے کہ تمہیں یہ حق کس نے دیا؟

یہ فلسفہ کسی یونیورسٹی میں نہیں پڑھایا جاتا۔ یہ ہماری اجتماعی زندگی کی غیر اعلانیہ نصابی کتاب میں درج ہے۔

ایک بستی تھی۔ نام تھا ”مصلحت پور۔“ بستی کے بیچوں بیچ ایک سرکاری دفتر تھا۔ دفتر کے باہر تختی لگی تھی: ”قانون سب کے لیے برابر ہے۔“ تختی بہت خوب صورت تھی۔ بس ایک معمولی سی خرابی تھی۔ تختی کے نیچے چھوٹے حروف میں لکھا تھا: ”شرائط و ضوابط لاگو ہیں۔“ وہ شرائط و ضوابط کسی نے کبھی نہیں دیکھے تھے۔
اسی بستی میں تین بااثر بھینسیں رہتی تھیں۔ مَجّو، مَجّی اور مَجّاں۔ تینوں بہنیں تھیں۔ تینوں کا اثر و رسوخ تھا۔ تینوں کی اپنی اپنی چراگاہیں تھیں۔ تینوں کے اپنے اپنے بندے تھے۔ اور تینوں کے پاس ایک دوسرے کے رازوں کی ایسی فہرست تھی جسے دیکھ کر بڑے بڑے دفتر لرز جائیں۔ مَجّو کے پاس مَجّی کی فائل تھی مَجّی کے پاس مَجّاں کا راز تھا۔اور مَجّاں کے پاس دونوں کے دستخط شدہ کاغذات۔ اس لیے تینوں میں اختلاف ضرور ہوتا تھا، دشمنی کبھی نہیں۔

یہ بھی ہماری سیاست کا ایک خوب صورت اصول ہے: لڑو اتنا کہ عوام کو لگے تم دشمن ہو، مگر جڑو اتنا کہ مفاد کو کوئی خطرہ نہ ہو۔
ایک دن بستی میں انتخابات کا اعلان ہوا۔ مَجّو نے جلسہ کیا۔
اس نے کہا: ”ہم بستی کو بدل دیں گے!“
مَجّی نے دوسرے جلسے میں کہا: ”ہم تبدیلی لائیں گے!“
مَجّاں نے تیسرے جلسے میں اعلان کیا: ”ہم حقیقی تبدیلی لائیں گے!“
بستی کے ایک بوڑھے نے اپنے پوتے سے پوچھا: ”بیٹا! یہ تینوں تبدیلیاں الگ الگ ہیں؟“
پوتے نے کہا: ”نہیں دادا! صرف نعرے الگ ہیں، گاڑی ایک ہی ہے۔“

بوڑھا ہنسا۔ پھر بولا: ”پتر! تم سیاست جلدی سمجھ گئے ہو۔“
وعدوں کی بارش ختم ہوٸی، انتخابات مکمل ہوئے۔ نتائج آئے تینوں کامیاب ہو گئیں۔
اگلے دن مَجّو نے اعلان کیا: ”ہم نے عوام کے لیے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔“
مَجّی نے کہا: ”یہ جمہوریت کی فتح ہے۔“
مَجّاں نے کہا: ”یہ عوام کے اعتماد کی جیت ہے۔“
بستی والوں نے پوچھا: ”لیکن ہماری سڑک؟“ جواب آیا: ”فائل چل رہی ہے۔“ ”پانی؟“ ”منصوبہ زیرِ غور ہے۔“ ”اسکول؟“ ”ٹینڈر جاری ہے۔“ ”ہسپتال؟“ ”فنڈز منظور ہونے والے ہیں۔“

ایک نوجوان نے پوچھا: ”اور آپ کے باڑے؟“ تینوں بہنوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ مَجّو بولی: ”وہ تو نجی معاملہ ہے۔“ نوجوان نے کہا: ”مگر سرکاری زمین پر ہے۔“ مَجّی بولی: ”یہ تکنیکی معاملہ ہے۔“
نوجوان نے کہا: ”زمین کے کاغذات تو کہتے ہیں کہ یہ عوام کی ملکیت ہے۔“
مَجّاں نے مسکرا کر کہا: ”آپ کو سیاست کی سمجھ ابھی نہیں آئی۔“
ایک دن خبر آئی کہ قانون کی ٹیم بستی میں آ رہی ہے۔ لوگ خوش ہوئے۔ کسی نے کہا: ”اب انصاف ہوگا!“ کسی نے کہا: ”اب تجاوزات ختم ہوں گی!“ کسی نے کہا: ”اب طاقت ور بھی پکڑے جائیں گے!“

قانون کی گاڑی آئی۔ تینوں بہنوں کے باڑے کے سامنے رکی۔ افسر نیچے اترا۔ کاغذات دیکھے۔ پھر مَجّو کے ساتھ چائے پی۔ مَجّی کے ساتھ تصویر بنوائی۔ مَجّاں کے ساتھ مسکرا کر ہاتھ ملایا۔ اور جاتے جاتے کہا:”معاملہ پیچیدہ ہے، اعلیٰ سطح پر دیکھا جائے گا۔“ قانون کی گاڑی چلی گئی۔
ایک بچہ پوچھنے لگا: ”ابا! قانون کہاں گیا؟“ باپ نے کہا: ”بیٹا، وہ اعلیٰ سطح پر چلا گیا ہے۔“ ”کب واپس آئے گا؟“ باپ نے آسمان کی طرف دیکھا: ”جب نچلی سطح پر کوئی بچا ہی نہ ہو۔“
مزے کی بات یہ تھی کہ تینوں بہنیں کبھی حکومت میں ہوتیں، کبھی اپوزیشن میں۔ مَجّو حکومت میں ہوتی تو مَجّی اپوزیشن میں مَجّی حکومت میں آتی تو مَجّاں اپوزیشن سنبھال لیتی۔ اور جب کوئی پوچھتا: ”آپ تینوں ایک دوسرے کے خلاف اتنا شور کیوں کرتی ہیں؟“ جواب ملتا: ”جمہوریت کا حسن ہے۔“
لیکن جب احتساب کا سوال آتا تو تینوں ایک ہی آواز میں کہتیں: ”یہ سیاسی انتقام ہے!“

عوام حیران رہ جاتے کہ جو چیز کل تک ”شفاف احتساب“ تھی، آج ”سیاسی انتقام“ کیسے بن گئی؟
پھر انہیں معلوم ہوا کہ فرق صرف کرسی کا تھا۔ کرسی بدلی، اصطلاح بدل گئی۔
بستی میں ایک اخبار بھی تھا۔اخبار کا نام تھا: ”روزنامہ حق سچ“ اس کے مالک نے ایک دن اعلان کیا: ”ہم حق اور سچ کی آواز ہیں!“
اسی رات تینوں بہنوں نے اخبار کے مالک کو دعوت پر بلایا۔ اگلے دن اخبار میں سرخی لگی: ”مَجّو کی تاریخی خدمات: بستی ترقی کی شاہراہ پر!“ دوسرے دن: ”مَجّی کے دور میں بے مثال خوش حالی!“ تیسرے دن: ”مَجّاں نے عوام کے دل جیت لیے!“
ایک صحافی نے مدیر سے پوچھا: ”سر! یہ سچ کہاں ہے؟“
مدیر نے کہا: ”سچ وہی ہے جو اشتہار کے بعد بچ جائے۔“ صحافی نے کہا: ”اور اگر اشتہار ہی نہ آئے؟“

مدیر نے فائل بند کرتے ہوئے کہا: ”پھر سچ لکھنے کی ضرورت بھی نہیں۔“
عوام کہاں ہیں؟ یہ سوال سب سے اہم ہے۔ عوام کہاں ہیں؟ وہ وہیں ہیں۔ قطار میں کھڑے ہیں۔ ٹیکس دے رہے ہیں۔ ووٹ دے رہے ہیں شکایت لکھ رہے ہیں۔ درخواستیں دے رہے ہیں۔ عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں۔ اور ہر الیکشن میں نئے وعدے سن رہے ہیں۔
ان سے کہا جاتا ہے: ”آپ ہی اصل طاقت ہیں۔“ پھر انہیں پانچ سال بعد بتایا جاتا ہے کہ: ”آپ نے ہمیں منتخب کیا تھا، اب صبر بھی آپ ہی کریں۔“
عوام کی حالت اس بچے جیسی ہے جو ہر سال نئی کتاب خریدتا ہے مگر امتحان کا نتیجہ وہی رہتا ہے۔

اصل مسئلہ بھینسوں کا نہیں اس تمام قصے میں بھینسوں کا کوئی قصور نہیں۔ بھینسیں آخر بھینسیں ہیں۔
اصل مسئلہ انسانوں کا ہے۔ وہ انسان جو عہدہ ملتے ہی اصول بدل لیتا ہے۔ وہ شخص جو اپنے دوست کی غلطی کو ”مجبوری“ اور مخالف کی معمولی لغزش کو ”سنگین جرم“ قرار دیتا ہے۔
وہ افسر جو فائل دیکھ کر نہیں، فون سن کر فیصلہ کرتا ہے۔ وہ سیاست دان جو کل تک جس کام کو قومی جرم کہتا تھا، آج وہی کام اپنے لیے قومی مفاد قرار دیتا ہے۔ وہ کارکن جو اپنے لیڈر کی ہر بات پر تالیاں بجاتا ہے، چاہے کل تک وہی بات حرام اور آج حلال کیوں نہ ہو گئی ہو۔ اور وہ شہری جو اپنے آدمی کی غلطی پر کہتا ہے:”چھڈو جی، ساڈا بندہ اے!“ بس یہی ”ساڈا بندہ“ ہماری اجتماعی تباہی کا سب سے بڑا سہولت کار ہے۔

عدل و انصاف کا ترازو عجیب چیز ہے۔ اس کی آنکھوں پر پٹی اس لیے باندھی گئی تھی کہ وہ شخص کو نہیں، عمل کو دیکھے۔ لیکن ہمارے ہاں بعض اوقات ترازو کی پٹی تو رہتی ہے، مگر ترازو پکڑنے والے کی آنکھ کھلی ہوتی ہے۔
وہ دیکھ لیتا ہے: یہ کس کا آدمی ہے؟ کس جماعت سے ہے؟ کس خاندان سے ہے؟ کس افسر کا دوست ہے؟ کس وزیر کا عزیز ہے؟ کس کاروباری گروہ سے تعلق ہے؟ اور پھر ترازو خاموشی سے ایک طرف جھک جاتا ہے۔
کمزور آدمی پوچھتا ہے: ”انصاف کہاں ہے؟“ جواب آتا ہے: ”توازن برقرار ہے۔“ وہ پوچھتا ہے: ”مگر ترازو تو جھکا ہوا ہے!“
جواب ملتا ہے: ”آپ کو تکنیکی معلومات نہیں۔“
دِینِ اسلام نے عدل و انصاف کو رشتہ داری، جماعت، قبیلے اور مفاد سے آزاد رکھا ہے۔

قرآن مجید میں اللّہ کا حکم ہے:
ترجمہ:”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علمبردار اور اللّہ واسطےکے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔ فریقِ معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب ، اللّہ تم سے زیادہ خیر اُن کا خواہ ہے۔ لہٰذا اپنی خواہشِ نفس کی پَیروی میں عدل سے باز نہ رہو۔ اوراگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائیسے پہلو بچاا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللّہ کو اس کی خبر ہے۔ (سورۃالنساء آیت135) ،ترجمہ قرآن مجید مع مختصر حواشی از مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی، ادارہ ترجمان القرآن پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور اشاعت مارچ 1998ء، صفحہ 273

ان آیات میں دو باتیں مرکزی حثییت رکھتی ہیں : اللّہ کے لیے کھڑا ہونا، اور ہر حال میں انصاف کرنا۔ دشمنی، رشتہ، غربت، امارت، کوئی چیز بھی میزان عدل کو نہ جھکا سکے۔ یہی تقویٰ کی روح ہے۔اسی طرح احادیثِ نبوی ﷺ میں بھی عدل کا حکم اور وضاحت آئی ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

حضرت بریدہ رضی اللّہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّہ صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا:
”قاضی تین قسم کے ہیں ۔ایک قسم جنت میں جائے گی اور دو قسمیں دوزخ میں ۔جنت کا حقدار وہ شخص ہو گا جس نے حق کو پہچان کر اس کے مطابق فیصلہ کیا ۔اور جس نے حق کو پہچان کر فیصلہ کرنے میں ظلم کیا وہ دوزخ میں ہے۔ اسی طرح جس شخص نے جہالت میں لوگوں کے فیصلے کیے وہ بھی دوزخ میں ہو گا ۔( ابوداود، ابنِ ماجہ، مشکوٰۃ)،انتخاب حدیث از مولانا عبد الغفار حسن عمر پوری، ناشر:اسلامک پبلیکشنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ لاہور،اشاعت اگست 1988ء، صفحہ 333

یہ آیت اورحدیث پڑھنا آسان ہے، اس پر تقریر کرنا بھی آسان ہے، اسے جلسے کے بینر پر لکھنا بھی آسان ہے۔ مشکل صرف یہ ہے کہ جب معاملہ اپنے آدمی کا ہو تو اسی آیت اور حدیث کو اپنے خلاف استعمال کیا جائے۔ ہمیں انصاف دوسروں کے لیے بہت پسند ہے۔ اپنے لیے ہمیں ”مصلحت“ زیادہ پسند ہے۔ہمارے معاشرے میں شاید سب سے خطرناک جملہ یہ نہیں:
”قانون کیا کہتا ہے؟“ بلکہ یہ ہے: ”دیکھو، بندہ کس کا ہے!“

اس ایک سوال سے پورا نظام سمجھا جا سکتا ہے۔اگر بندہ طاقت ور کا ہے تو راستہ نکل آئے گا۔ اگر بندہ کمزور کا ہے تو قانون نکل آئے گا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قانون کی حکمرانی ختم اور تعلقات کی حکمرانی شروع ہو جاتی ہے۔مَجّاں کی بہنیں صرف باڑے میں نہیں ہیں۔ ہمیں یہ خوش فہمی بھی نہیں ہونی چاہیے کہ مَجّو، مَجّی اور مَجّاں صرف کسی ایک سیاسی جماعت، ایک ادارے یا ایک طبقے کی علامت ہیں۔

نہیں!
یہ تینوں ہمارے اندر بھی موجود ہیں۔جب ہم اپنے بھائی کی غلطی چھپاتے ہیں، ایک مَجّو پیدا ہوتی ہے۔جب ہم دوست کے جرم پر پردہ ڈالتے ہیں، ایک مَجّی جنم لیتی ہے۔جب ہم اپنے گروہ کے مفاد کے لیے سچ کو قربان کرتے ہیں، ایک مَجّاں پیدا ہو جاتی ہے۔اور جب پورا معاشرہ مل کر یہ فیصلہ کر لے کہ ”اپنا آدمی کچھ بھی کرے، ہم اس کے ساتھ ہیں“ تو پھر تین بھینسیں نہیں رہتیں؛ پورا ریوڑ بن جاتا ہے۔کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر مَجّو، مَجّی اور مَجّاں واقعی ہماری بستی میں رہتی ہوتیں تو شاید ان سے اتنی شکایت نہ ہوتی۔ وہ تو اپنی فطرت کے مطابق ایک دوسرے کی بہنیں ہیں۔ اصل حیرت تو ان انسانوں پر ہے جو عقل، شعور، قانون، آئین، اخلاق اور دین سب کچھ جاننے کے باوجود ایک دوسرے کے جرموں کی حفاظت کرتے ہیں۔پنجابی کہاوت کہتی ہے:
”مَجّاں مَجّاں دیاں پیناں ہوندیاں نے۔“

ہمیں شاید اس کہاوت کا آخری حصہ بدلنے کی ضرورت نہیں۔صرف اتنا کرنا ہے کہ یہ طے کر دیں کہ انسان انسان دے پین کیوں نہ بنے، مگر قانون تو قانون دا رہوئے۔رشتہ اپنی جگہ۔ دوستی اپنی جگہ جماعت اپنی جگہ۔ سیاست اپنی جگہ۔ مفاد اپنی جگہ۔ مگر قانون سب سے اوپر۔ ورنہ کل تاریخ ہمارے بارے میں بھی یہی لکھے گی:
”اس بستی میں سب اپنے تھے، اسی لیے کسی کا حساب نہیں ہوا۔“

اور پھر شاید تاریخ کے حاشیے پر کوئی بے رحم سا کالم نگار صرف ایک جملہ لکھے: ”مَجّاں مَجّاں دیاں پیناں ہوندیاں نے؛پر جے سارے مَجّاں بن جان، تے بستی وچ انصاف کِتھے رہندا اے؟“

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

محمد شفیق اعوان

محمد شفیق اعوان ،ناظم امن لاٸبریری ،محلہ منشیاں ،گاٶں و ڈاک خانہ شمس آباد ،تحصيل حضرو ،ضلع أٹک پوسٹ کوڈ 43490 موبائل نمبر 03085040024

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment