معاصر اصطلاح میں جسے ’بین الاقوامی قانون‘ کہا جاتا ہے، وہ یورپ میں ’قومی ریاستوں کے نظام‘کی تخلیق ہے۔ اس لیے اس کی تاریخ بہت مختصر ہے۔ جنگ سے متعلق بین الاقوامی قانون کیلئے جس معاہدے کو ایک طرح سے نقطہ آغاز سمجھا جاتا ہے، وہ 1864ء کا جنیوا معاہدہ ہے جس کے ذریعے یورپی اقوام نے آپس میں یہ طے کرلیا کہ جنگ میں زخمی ہونے والوں کی دیکھ بھال کی جائے گی اور اس مقصد کیلیے جنگ میں غیر جانب دار بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کو اپنا کام کرنے کیلئے ممکنہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
اسی دور کے لگ بھگ امریکی خانہ جنگی کے تناظر میں امریکی فوج کیلیے تیار کیے گئے ضابطے ’لِیبر کوڈ‘کا بھی خصوصا ذکر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں جاری کیے گئے ’اعلان‘ کو بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس میں قرار دیا گیا کہ ’’جنگ کا واحد جائز مقصد فریقِ مخالف کو شکست دینا ہے، نہ کہ اسے ملیا میٹ کرنا‘‘۔ بین الاقوامی قانونِ جنگ کے ارتقا میں ہیگ میں 1899ء اور 1907ء میں منعقد ہونے والی کانفرنسوں کا کردار بھی بہت اہم ہے کیونکہ ان کانفرنسوں کے ذریعے کوشش کی گئی کہ بین الاقوامی عرف اور تعامل سے اصول مستنبط کرکے انھیں باقاعدہ معاہدات کی صورت میں مدوَّن کیا جائے۔ پہلی جنگِ عظیم (1914ء -1918ء ) میں جب پہلی دفعہ ہزاروں کی تعداد میں جنگی قیدیوں کا مسئلہ سامنے آیا، تو 1929ء میں ایک اور جنیوا معاہدہ طے پایا جس میں جنگی قیدیوں کے متعلق قانونی اصول ذکر کیے گئے۔
دوسری جنگِ عظیم (1939ء -1949ء ) کے بعد ایک تفصیلی ڈپلومیٹک کانفرنس کے بعد چار ضخیم جنیوا معاہدات طے پائے جنھیں اب قانون کے اس شعبے کے بارے میں بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ ان میں پہلا جنیوا معاہدہ بری جنگ میں زخمی ، بیمار یا معذور ہونے والے فوجیوں کے حقوق سے متعلق ہے جبکہ دوسرا جنیوا معاہدہ بحری جنگ میں زخمی ، بیمار یا معذور ہونے والے فوجیوں کے حقوق کے بارے میں ہے۔ تیسرا جنیوا معاہدہ جنگی قیدیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہے اور چوتھا جنیوا معاہدہ جنگ کے دوران میں غیر مقاتلین اور عام شہریوں کے تحفظ اور مقبوضہ علاقوں کے متعلق امور کے لیے ہے۔ان چار معاہدات کے ساتھ 1977ء میں دو مزید معاہدات ملحق کیے گئے جنھیں ’اضافی پروٹوکول‘ کہا جاتا ہے۔ ان معاہدات کے ذریعے عام شہریوں کے تحفظ کیلئے مزید پیش رفت ہوئی۔ تفہیم میں آسانی کی خاطر آداب القتال کے بین الاقوامی قانون کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:
ایک، ’قانون جنیوا‘ جو مسلح تصادم سے متاثر ہونے والے افراد کا تحفظ کرتا ہے؛ ان افراد میں عام شہری ، زخمی ، بیمار اور معذور جنگجو اور جنگی قیدی، نیز مقبوضہ علاقوں کے رہنے والے شامل ہیں؛
اوردوسری قسم کو ’قانون ہیگ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ قانون جنگ کے طریقوں اور ہتھیاروں کی تحدیدکرتا ہے۔ اس قانون کا اطلاق ’مسلح تصادم‘ پر ہوتا ہے۔ چنانچہ جس صورتِ حال کو مسلح تصادم نہ کہا جاسکے، اس پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔ 1949ء کے چار جنیوا معاہدات میں یہ بنیادی اصول ذکر کیا گیا ہے کہ جب کسی ریاست کی جانب سے جنگ کا اعلان ہو، تو جنیوا معاہدات اور دیگر قوانین کا اطلاق ہوتا ہے، خواہ عملا ایک گولی بھی نہ چلائی گئی ہو، اور خواہ جنگ میں حصہ لینے والی ریاستوں میں کوئی ریاست حالتِ جنگ سے انکاری ہو۔
مزید قرار دیاگیا ہے کہ جب کسی ریاست پر قبضہ ہو تو اسے مسلح تصادم کے مفہوم میں شامل سمجھا جاتا ہے اور مسلح تصادم کی یہ صورت اس وقت تک برقرار رہتی ہے جب تک قبضہ برقرار ہے۔ مقبوضہ یا استعماری تسلط کے تحت علاقوںمیں کی جانے والی مسلح مزاحمت کو قابض یا استعماری ریاست کا ’اندرونی معاملہ‘ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ یہ قانون اسے ’بین الاقوامی مسلح تصادم‘قرار دیتا ہے۔ یہی اصول ان علاقوں کے لیے ہے جن کیلیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے آزادی کا حق تسلیم کرلیا ہو۔نیز پہلے اضافی پروٹوکول نے آزادی کی جنگ لڑنے والوں کیلیے ’مقاتل‘کی حیثیت بھی تسلیم کی ہے اور یہ بھی قرار دیا ہے کہ مخالف فریق کی قید میں آنے پر ان کو ’جنگی قیدی‘ کی حیثیت حاصل ہوگی۔ جنگی قیدی وہ ہوتے ہیں جنھیں سزا کے طور پر قید نہ کیا گیا ہو، بلکہ جنگ میں مزید حصہ لینے سے روکنے کیلئے قید کیا گیا ہو، اور جنگ کے خاتمے پر انھیں آزاد کرانا لازم ہوتا ہے۔
انھیں صرف قانونِ جنگ کی خلاف ورزی پر سزا دی جاسکتی ہے، اور وہ بھی باقاعدہ مقدمہ چلا کر اور صفائی کا پورا موقع دینے کے بعد۔ جنیوا معاہدات کی صرف دفعہ 3 ، جو ان چاروں معاہدات میں مشترک ہے ، کا اطلاق کسی ملک کے اندر مسلح تصادم، یعنی خانہ جنگی یا بغاوت،پر بھی ہوتا ہے۔ تاہم کسی ریاست کے اندر حکومت کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو’مسلح تصادم‘ نہیں کہا جاسکتا، خواہ وہ مظاہرے پْرتشدد بھی ہوں۔ البتہ بعض علامات ایسی ہیں جن کی بنا پر ایسی صورتحال کو ’امن و امان کا مسئلہ‘قرار دینے کے بجاے مسلح تصادم کہا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے لوگ کسی علاقے میں اپنی حکومت قائم کرلیں اور مرکزی حکومت کی باقاعدہ مزاحمت کریں؛ یا’شر پسندوں ‘ سے نمٹنے کے لیے حکومت نے فوج کو باقاعدہ تمام اختیارات دے دیے ہوں ؛ یا مزاحمت کا سلسلہ ایک طویل عرصے پر محیط ہوجائے ؛ یا مزاحمت میں ہونے والا جانی و مالی نقصان بہت زیادہ ہو؛ یا حکومت خود تسلیم کرلے کہ یہ محض امن و امان کا مسئلہ نہیں ہے۔ اس قانون کا ایک اور مسلمہ اصول ’جرم کے ارتکاب کے لیے انفرادی ذمہ داری‘ہے۔
مثال کے طور اگر کسی کمانڈر کے حکم کی اطاعت میں ماتحتوں نے کسی عبادت گاہ پر حملہ کرکے اسے مسمار کردیا، تو ماتحت یہ عذر نہیں پیش کرسکتے کہ وہ اس مجرمانہ فعل کے ارتکاب پر مجبور تھے کیونکہ ان پر لازم تھا کہ وہ اپنے کمانڈر کا حکم مانیں۔ اگر ثابت کیا گیا کہ ماتحت عملاً اس کام پر مجبور تھے اور انھوں نے نہ چاہتے ہوئے اس کام کا ارتکاب کیا، تب بھی وہ سزا سے نہیں بچ سکیں گے، لیکن ان کی سزا میں تخفیف کی جاسکے گی۔ اسی طرح کمانڈر اپنے تمام افعال کے لیے بھی ذمہ دار ہوتا ہے اور اپنے ماتحتوں کے افعال کے لیے بھی۔ پس اگر کسی کمانڈر کے ماتحتوں نے کسی علاقے پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں کی آبادی پر مظالم ڈھائے، تو کمانڈر لاعلمی کا عذر نہیں پیش کرسکتا۔ پس جنگ میں ’سب کچھ‘ جائز نہیں ہے ، بالکل اسی طرح جیسے محبت میں بھی ’سب کچھ‘جائز نہیں ہوتا ؛ یقین نہیں، تو کرکے دیکھ لیں!



تبصرہ لکھیے