ہوم << ہمارا قومی داستان گو – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
600x314

ہمارا قومی داستان گو – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ایک مسلمان ملک کے چند مسیحی شہریوں پر بعض نامعلوم لوگوں کی جانب سے حملے ہوتے ہیں۔ ایک تحقیقاتی ادارہ جس کا کام ملک کے اندر غیر ملکی سازشوں پر نظر رکھنا ہوتا ہے، کارروائی شروع کرتا ہے کیونکہ کچھ غیر ملکی بھی ان مسیحی شہریوں کے پاس آتے جاتے ہیں۔ اس ادارے کا ایک اہم اہلکار ایک عام بھولے بھالے شخص کی صورت ان مسیحی شہریوں کے ساتھ گھل مل جاتا ہے اور جلد ہی معلوم کرلیتا ہے کہ یہ مسیحی شہری نیک دل اور امن پسند ہیں لیکن کچھ پراسرار سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور ان کے پاس آنے والے غیر ملکیوں میں النگھم نامی ایک شخص کی حرکتیں مشکوک ہیں۔

ان مسیحی شہریوں کی بعض پالتو بھیڑوں کی موت واقع ہوتی ہے اور بظاہرآثار دم گھٹنے کے ہوتے ہیں۔ اہلکار معلوم کرلیتا ہے کہ ان بھیڑوں کے گلے میں ایک مخصوص آلہ ہوتا ہے جو لہریں نشر کرتا ہے اور ایک دوسرا آلہ جو انسانی ہاتھ کی صورت میں ہوتا ہے، ان لہروں کے ذریعے بھیڑوں تک پہنچ کر ان کے گلے کو مضبوطی سے پکڑتا ہے، تو نتیجے میں ان بھیڑوں کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ وہ اندازہ لگاتا ہے کہ یہ ایک خطرناک تجربے کا ابتدائی مرحلہ ہے جس کے اگلے مرحلے میں انسانوں کی باری آئے گی۔ پھر واقعی ایک نیک دل مسیحی شہری کی موت اسی طرح واقع ہوتی ہے۔ اہلکار معلوم کرلیتا ہے کہ النگھم ہی ان اموات کے پیچھے ہے۔ اس موقع پر نیک دل مسیحی شہریوں کا یہ گروہ سرکاری اداروں کے سامنے اپنی حقیقت کھول دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ اصل میں شام و فلسطین پر صہیونی قبضے کے خلاف جدوجہد کرنے والی مسیحی تحریک کا حصہ ہیں، اور یہ کہ وہ النگھم کو بھی اپنی تحریک کا حصہ سمجھ رہے تھے لیکن وہ درحقیقت صہیونی تنظیم کا اہم رکن تھا۔ اکثر کسی چالاک دشمن کے خلاف جدوجہد کرنے والے سادہ لوح لوگ انجانے میں اسی دشمن کے لیے استعمال ہوجاتے ہیں!

النگھم ملک سے فرار ہونے کی کوشش کرتا ہے اور اہلکار اسے پکڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ کئی ایسے لوگوں کو قتل ہونے سے بچا لیتا ہے جنھیںالنگھم نے ایک دوسرے کو قتل کرنے پر لگایا ہوتا ہے تاکہ اداروں کی رسائی ان درمیانی واسطوں تک ہو بھی جائے، تو النگھم تک رسائی نہ ہوسکے۔ اہلکار معلوم کرلیتاہے کہ النگھم ترکی اور یونان کے قریب ایک اپنے جزیرے’النگھم آئل‘کی طرف بھاگ گیا ہے جو خود اسی کی ملکیت ہے۔ وہ اس کا پیچھا کرتے ہوئے وہاں تک پہنچتا ہے، تو انکشاف ہوتا ہے کہ اس جزیرے میں بہت بڑے پیمانے پر فحش فلمیں اور تصاویر بنائی جاتی ہیں اور پھر انھیں مسلم ممالک، بالخصوص مشرق ِوسطیٰ میں پھیلایا جاتا ہے۔ یہ اہلکار النگھم کو مار دینے میں تو کامیاب ہوجاتا ہے، لیکن اس جزیرے کو تباہ کرنے کا موقع اسے نہیں ملتا۔ کچھ عرصے بعد یہ اہلکار ایک پڑوسی مسلمان ملک میں ایک اور خطرناک غیر ملکی سازش کے تار و پود بکھیر کر واپس اپنے ملک کے سرحدی قبائلی علاقے میں داخل ہوتا ہے، تو اس پر انکشاف ہوتا ہے کہ وہاں بعض لوگ ایک عجیب وبا کا شکار ہوگئے ہیں۔

ان کے سارے بدن کے بال اتنے زیادہ بڑھ جاتے ہیں کہ وہ کپڑوں کے بغیر ہی ان کے پورے بدن کو ڈھانپ لیتے ہیں اور ان لوگوں اور گوریلوں میں صرف یہ فرق نظر آتا ہے کہ یہ سیدھے کھڑے ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی ذہنی سطح انسانوں والی ہی ہوتی ہے اور وہ آپس میں اپنی زبان ہی بولتے ہیں۔ اس علاقے کے لوگ جفا کش اور اپنی آزادی کے لیے لڑنے مرنے والے لیکن جدید دنیا اور علوم سے دور ہوتے ہیں۔ وہ اسے ایک آسمانی بلا سمجھتے ہیں، لیکن یہ اہلکار سمجھ لیتا ہے کہ اس کے پیچھے مجرمانہ ذہنیت والے انسان ہی ہیں۔ یہ اہلکار اس قبائلی علاقے میں اپنے پرانے تعلقات استعمال کرتے ہوئے اس وبا کے شکار تمام افراد کو آبادی سے نکال کر جنگل میں اکٹھا کرلیتا ہے اور خود بھی گوریلے کی کھال اوڑھ لیتا ہے۔ وہ معلوم کرلیتا ہے کہ جنگل کے کچھ مخصوص مقامات میں مخصوص قسم کے پودے ہیں جو لمبے ریشوں کی صورت اختیار کرلیتے ہیں اور آدمی کو پکڑ لیتے ہیں، پھر جب آدمی بے ہوش ہوجاتا ہے، تو کچھ لوگ انھیں ایک مخصوص انجکشن لگا دیتے ہیں جس کے اثر سے ان کے بال بڑھنے لگتے ہیں اور وہ انسانی زبان بولنے والے اور انسانوں کی طرح سوچنے والے گوریلے بن جاتے ہیں۔ جنگل میں خفیہ کیمرے بھی لگے ہوئے ہیں جن کے ذریعے ان کی نگرانی ہوتی ہے۔

یہ اہلکار یہ بھی دریافت کرلیتا ہے کہ جنگل کے قریب ایک خطرناک پہاڑ جو بظاہر بالکل سیدھا کھڑا اور ناقابلِ عبور نظر آتا ہے، اس میں ہی ایک خفیہ اڈا ہے جو دوسری جنگِ عظیم میں بنایا گیا تھا لیکن پھر خالی چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس اڈے پر ایک خطرناک تنظیم نے قبضہ کیا ہوتا ہے اور وہاں سے یہ ساری کارروائی کرتی ہے۔ وہ ان گوریلا نما انسانوں کو ساتھ ملا کر بالآخر اس اڈے پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے، لیکن وہاں انکشاف ہوتا ہے کہ ’وبا‘ پھیلانے والے انجکشن کا توڑ ان لوگوں کے پاس نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ بھی کسی اور کے گماشتے ہوتے ہیں اور انھیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان گوریلا نما انسانوں کا مصرف کیا ہے؟ یہ اہلکار اپنے ساتھیوں کو اس پر آمادہ کرلیتا ہے کہ انھیں اس مرکز تک جانا چاہیے جہاں سے یہ سارا معاملہ چلایا جارہا ہے۔ چنانچہ یہ سارے لوگ قیدیوں کی صورت میں وہاں پہنچادیے جاتے ہیں۔ وہاں معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی النگھم آئل جزیرہ ہے جو صہیونی تنظیم کا مرکز تھا اور اس تجربے کا مقصد گوریلوں کی شکل میں انسانوں کو غلام بنا کر نفسیاتی تسکین حاصل کرنا تھا! اس بار وہ اس جزیرے کو تباہ کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔

کیا اس داستان میں آپ کو ایپسٹین کے جزیرے اور وہاں فحاشی کی بد ترین شکلوں اور انسانیت سوز تجربات یا کورونا اور دیگر وباؤں کی صورت نظر آتی ہے؟ دراصل یہ 1960ء کی دہائی کے اواخر میں ابن ِصفی کے’عمران سیریز‘ کے آٹھ ناولوں کا خلاصہ ہے۔ ابنِ صفی ہمارے پہلے، اور اب تک کے آخری، ’قومی داستان گو‘ تھے۔ وہ یقیناً اپنے وقت سے بہت آگے تھے۔ ان کے ناول صرف تفریح کا ذریعہ نہیں ہوتے تھے، بلکہ ان کے پیشِ نظر بہت اعلی مقاصد بھی تھے۔ اپنے ناولوں کے ذریعے انھوں نے اپنے قارئین کے ذہنوں میں قانون کی حکمرانی کا تصور اور ان کے دلوں میں باطل پر حق کے حتمی غلبے کا یقین راسخ کیا۔ اگرچہ ادب کے ٹھیکیدار’ادبِ عالی‘ میں ان کے مقام کے منکر ہیں لیکن ان کے ناول منظر نگاری، زبان و بیان، تشبیہ و استعارات اور زندگی کی تلخ و شیریں سچائیوں کی تصویر کشی میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ سوال یہ ہے کہ آرتھرکوننڈوئل، ارل سٹینلے گارڈنر اور اگاتھاکرسٹی کے ناولوں پر ٹی وی سیریز اور فلمیں بن سکتی ہیں، تو ہماری ڈراما اور فلم انڈسٹری اپنے قومی داستان گو کی کہانیوں پر ٹی وی سیریز اور فلمیںکیوں نہیں بنا پارہی؟

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد شفاء تعمیرِ ملت یونیورسٹی اسلام آباد میں پروفیسر اور سربراہ شعبۂ شریعہ و قانون ہیں۔ اس سے پہلے چیف جسٹس آف پاکستان کے سیکرٹری اور شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔قبل ازیں سول جج/جوڈیشل مجسٹریٹ کی ذمہ داری بھی انجام دی۔ اصولِ قانون، اصولِ فقہ، فوجداری قانون، عائلی قانون اور بین الاقوامی قانونِ جنگ کے علاوہ قرآنیات اور تقابلِ ادیان پر کئی کتابیں اور تحقیقی مقالات تصنیف کرچکے ہیں۔

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment