ہوم << ڈیجیٹل انقلاب کا دوسرا چہرہ – ڈاکٹر سیف ولہ رائے
600x314

ڈیجیٹل انقلاب کا دوسرا چہرہ – ڈاکٹر سیف ولہ رائے

جب شہر کی روشنیاں ایک ایک کرکے خاموش ہونے لگتیں، سڑکیں اپنے ہی قدموں کی بازگشت سننے لگتیں اور نیند انسانوں کی پلکوں پر اپنی حکمرانی قائم کر لیتی، تب ایک ایسا ان دیکھا مسافر شہر میں داخل ہوتا جس کی آمد کا نہ کوئی اعلان ہوتا، نہ کوئی آواز سنائی دیتی۔ اس کے ہاتھ خالی تھے، مگر واپسی پر وہ سینکڑوں لوگوں کی زندگیوں کا سب سے قیمتی سرمایہ اپنے ساتھ لے جاتا۔

وہ نہ دروازے توڑتا، نہ تالے کھولتا، نہ دیواروں میں نقب لگاتا، پھر بھی صبح ہونے تک کسی کا بینک اکاؤنٹ خالی ہو چکا ہوتا، کسی کی برسوں کی محنت ایک کلک میں ضائع ہو جاتی، کسی کی عزت جعلی ویڈیو کی شکل میں نیلام ہو رہی ہوتی، کسی بچے کی معصومیت نامعلوم چیٹ رومز میں شکار بن جاتی، اور کسی ریاست کے راز خاموشی سے دشمن کے سرورز تک پہنچ چکے ہوتے۔حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جرم کا کوئی نشان باقی نہ رہتا؛ نہ ٹوٹا ہوا تالا، نہ خون کا کوئی دھبہ، نہ کسی گواہ کی گواہی۔ صرف اسکرین پر ابھرتا ایک معمولی سا پیغام، موبائل پر آنے والی ایک بے ضرر سی اطلاع، یا ایک معصوم دکھائی دینے والا لنک، جو درحقیقت تباہی کا دروازہ ثابت ہوتا۔تب احساس ہوتا کہ انسان نے سہولت، رفتار اور ترقی کی جس ڈیجیٹل دنیا کو اپنے ہاتھوں سے آباد کیا تھا، اسی دنیا نے ایک ایسا تاریک چہرہ بھی جنم دیا ہے، جو نظر تو نہیں آتا، مگر ہر لمحہ ہماری شناخت، ہماری معیشت، ہماری عزت اور ہماری قومی سلامتی کو خاموشی سے چیلنج کر رہا ہے۔

پاکستان تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انٹرنیٹ، اسمارٹ فونز، آن لائن بینکاری، موبائل والٹس، ای کامرس، فری لانسنگ اور ای گورننس کے فروغ نے معاشی اور سماجی سرگرمیوں کو ایک نئی جہت عطا کی ہے۔ یہ تبدیلی بلاشبہ ترقی کی علامت ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک تلخ حقیقت بھی جڑی ہوئی ہے کہ جس رفتار سے ڈیجیٹل سہولیات عام ہو رہی ہیں، اسی رفتار سے سائبر جرائم بھی پیچیدہ اور منظم ہوتے جا رہے ہیں۔پاکستان میں آن لائن فراڈ، شناخت کی چوری، جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، بلیک میلنگ، مالیاتی دھوکہ دہی اور نجی معلومات کے غیر قانونی استعمال کے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سائبر کرائم کے تفتیشی شعبے متعدد کارروائیاں ضرور کر رہے ہیں، لیکن ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی کے مقابلے میں جرائم کی نوعیت بھی ہر روز تبدیل ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائبر سیکیورٹی اب صرف تکنیکی ماہرین کا موضوع نہیں رہی، بلکہ قومی پالیسی، معاشی استحکام اور سماجی تحفظ کا بنیادی مسئلہ بن چکی ہے۔

مالیاتی فراڈ اس وقت سائبر جرائم کی سب سے تیزی سے پھیلنے والی صورت ہے۔ ڈیجیٹل بینکاری اور آن لائن ادائیگیوں نے جہاں کاروباری لین دین کو آسان بنایا، وہیں مجرموں کے لیے بھی نئے راستے کھول دیے۔ فشنگ ای میلز، جعلی بینک کالز، اسمشنگ، وشنگ، OTP کی چوری، QR کوڈ فراڈ، کرپٹو کرنسی میں فرضی سرمایہ کاری، جعلی ای کامرس ویب سائٹس اور موبائل والٹس کے ذریعے رقوم کی منتقلی جیسے جرائم اب روزمرہ کا معمول بنتے جا رہے ہیں۔جدید سائبر مجرم صرف کمپیوٹر پروگراموں پر انحصار نہیں کرتے، بلکہ انسانی نفسیات کو بھی اپنے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ وہ خوف، لالچ، اعتماد اور جلد بازی جیسے جذبات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے متاثرہ افراد سے حساس معلومات حاصل کر لیتے ہیں۔ انٹرپول کی حالیہ رپورٹس اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مصنوعی ذہانت نے مالیاتی فراڈ کو پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر، تیز رفتار اور عالمی نوعیت کا مسئلہ بنا دیا ہے، جہاں چند سیکنڈ میں ہزاروں افراد کو ایک ساتھ نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا، جسے کبھی عالمی رابطے اور اظہارِ رائے کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، اب اپنی ایک تاریک حقیقت بھی آشکار کر رہا ہے۔غلط معلومات، جعلی خبریں، کردار کشی، نفرت انگیز مہمات، سائبر اسٹاکنگ، آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور جعلی شناختوں کا جال معاشرتی ہم آہنگی کو شدید متاثر کر رہا ہے۔مصنوعی ذہانت نے اس خطرے میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کی مدد سے کسی بھی شخص کی آواز، تصویر یا ویڈیو کو اس مہارت سے تبدیل کیا جا سکتا ہے کہ حقیقت اور جعل سازی میں فرق کرنا عام انسان کے لیے تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ یہی ٹیکنالوجی سیاسی انتشار، انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے، کاروباری مفادات کو نقصان پہنچانے اور سماجی بے چینی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔یوروپول کی تازہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق، منظم جرائم پیشہ گروہ اب مصنوعی ذہانت، ڈیپ فیک اور خودکار سوشل انجینئرنگ کو اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کا بنیادی حصہ بنا چکے ہیں، جس سے ڈیجیٹل دنیا میں اعتماد کا بحران مزید گہرا ہو رہا ہے۔

اس پورے منظرنامے میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات بچے اور خواتین ہیں۔بچے آن لائن گیمز، چیٹ رومز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ایسے افراد کے رابطے میں آ جاتے ہیں، جو دوستی، انعام، ملازمت یا ہمدردی کا جھانسہ دے کر انہیں استحصال کا نشانہ بناتے ہیں۔خواتین کو جعلی اکاؤنٹس، تصاویر میں ردوبدل، ڈیپ فیک ویڈیوز، آن لائن ہراسانی، سائبر بلیک میلنگ اور کردار کشی جیسے جرائم کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے جرائم کا نقصان صرف مالی یا قانونی نہیں ہوتا، بلکہ متاثرہ افراد کی ذہنی صحت، سماجی وقار اور خاندانی زندگی بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔

اقوامِ متحدہ، یونیسیف اور دیگر عالمی ادارے مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار ہونے والا جعلی بصری مواد بچوں اور خواتین کے خلاف سائبر جرائم کو ایک نئی اور زیادہ خطرناک شکل دے رہا ہے، جس کے سدباب کے لیے بین الاقوامی تعاون، جدید قانون سازی اور عوامی آگاہی ناگزیر ہو چکی ہے۔قومی سلامتی کے تناظر میں بھی سائبر اسپیس کی اہمیت غیر معمولی ہو چکی ہے۔ آج جنگیں صرف سرحدوں، فضاؤں یا سمندروں میں نہیں، بلکہ سرورز، ڈیٹا سینٹرز اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس میں بھی لڑی جا رہی ہیں۔اگر کسی ملک کے مالیاتی نظام، بجلی کی ترسیل، اسپتالوں، ٹیلی کمیونی کیشن، ہوائی اڈوں یا دفاعی مواصلاتی نظام کو چند گھنٹوں کے لیے بھی مفلوج کر دیا جائے، تو اس کے نتائج کسی روایتی عسکری حملے سے کم نہیں ہوتے۔ اسی لیے دنیا کی بڑی طاقتیں سائبر دفاع، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انٹیلی جنس اور سائبر فرانزک پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

عالمی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آئندہ جنگوں میں ہتھیاروں سے زیادہ فیصلہ کن کردار معلومات، ڈیٹا، الگورتھمز اور سائبر صلاحیتیں ادا کریں گی۔ پاکستان کے لیے بھی یہ ناگزیر ہے کہ وہ سائبر سیکیورٹی کو قومی سلامتی کی بنیادی حکمتِ عملی کا حصہ بنائے، مقامی تحقیق کو فروغ دے، جامعات میں سائبر سیکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کے تحقیقی مراکز قائم کرے، اور ایسے ماہرین تیار کرے جو مستقبل کے ڈیجیٹل خطرات کا مؤثر مقابلہ کر سکیں۔ عالمی تحقیقی اداروں کی رپورٹس اس حقیقت پر متفق ہیں کہ سائبر جرائم اب صرف کمپیوٹر یا انٹرنیٹ تک محدود مسئلہ نہیں رہے، بلکہ یہ معیشت، سیاست، صحت، تعلیم، جمہوریت اور بین الاقوامی امن کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ چوری شدہ ڈیٹا آج ایک نئی عالمی کرنسی کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جسے منظم جرائم پیشہ گروہ خریدتے، فروخت کرتے اور مختلف جرائم میں استعمال کرتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت نے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کی صلاحیتوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے، جبکہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی نے سچ اور جھوٹ کے درمیان موجود حدِ فاصل کو پہلے سے کہیں زیادہ دھندلا دیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سائبر تحفظ اب کسی ایک وزارت، ادارے یا قانون نافذ کرنے والے محکمے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ریاست، تعلیمی اداروں، نجی شعبے، میڈیا اور ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری بن چکا ہے۔ڈیجیٹل عہد میں وہی قومیں محفوظ اور مضبوط رہیں گی، جو سائبر آگاہی، جدید تحقیق، مؤثر قانون سازی، اخلاقی ذمہ داری اور تکنیکی خود انحصاری کو اپنی قومی ترقی کا لازمی حصہ بنائیں گی۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ڈاکٹر سیف ولہ رائے

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment