ہوم << ہم کیا ہیں؟ – محمد شفیق اعوان
600x314

ہم کیا ہیں؟ – محمد شفیق اعوان

ہم کیا ہیں، کیا بننا چاہتے ہیں اور کیا بن رہے ہیں؟
انسان کی زندگی کا سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ وہ کہاں رہتا ہے یا اس کے پاس کتنی دولت ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کیا ہے، کیا بننا چاہتا ہے، اور حقیقت میں کیا بن چکا ہے؟

یہی سوال انسان کی شخصیت، کردار اور مستقبل کا تعین کرتا ہے۔ جو قومیں اور افراد اس سوال کا دیانت داری سے جواب تلاش کر لیتے ہیں، وہ ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو جاتے ہیں، جبکہ جو لوگ خود احتسابی سے گریز کرتے ہیں، وہ دوسروں کی کامیابیوں کے قصے سنانے اور ماضی کے کارناموں پر فخر کرنے تک محدود رہ جاتے ہیں. ہمارے معاشرے میں ایک عجیب رجحان پیدا ہو چکا ہے۔ بہت سے لوگ اپنی ذات کو سنوارنے، علم حاصل کرنے اور عمل کی راہ اختیار کرنے کے بجائے دوسروں کی کامیابیوں کے ڈھول پیٹنے میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہمارے بزرگ ایسے تھے، ہمارے آباؤ اجداد نے یہ کارنامے انجام دیے، ہمارے اسلاف نے دنیا کو علم و تہذیب کا نور دیا۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ درست ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے خود کیا کیا ہے؟ کیا ہم بھی اپنے اسلاف کی طرح علم و کردار کے پیکر ہیں، یا صرف ان کے نام پر داد وصول کرنے والے بن گئے ہیں؟

تاریخ گواہ ہے کہ عظمت کسی خاندان، قوم یا نسب سے نہیں ملتی بلکہ علم، کردار، محنت اور قربانی سے حاصل ہوتی ہے۔ جن لوگوں کا آج دنیا احترام کرتی ہے، وہ محض زبانی دعوے کرنے والے نہیں تھے بلکہ عمل کے میدان کے شہسوار تھے۔ انہوں نے اپنی زندگیوں کو مقصد کے تابع کیا، مسلسل جدوجہد کی، ناکامیوں سے سبق سیکھا، مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور اپنے کردار سے دنیا کو متاثر کیا۔ ان کے پاس صرف الفاظ نہیں تھے بلکہ عمل کی طاقت تھی۔ بدقسمتی سے آج ہمارے ہاں گفتار کے غازی بہت ہیں، مگر کردار کے غازی کم نظر آتے ہیں۔ ہم تقریریں تو بڑی شاندار کرتے ہیں، مگر عمل کی باری آتی ہے تو سستی، غفلت اور بہانے ہمارے راستے میں حائل ہو جاتے ہیں۔ دوسروں کی کامیابیوں پر تالیاں بجانا آسان ہے، لیکن خود کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے لیے محنت، قربانی، صبر اور استقامت درکار ہوتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چلنے والے لوگ تاریخ رقم کرتے ہیں۔

حقیقی کامیابی اس شخص کا مقدر بنتی ہے جو علم حاصل کرے، پھر اس علم کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائے۔ علم اگر عمل سے خالی ہو تو محض معلومات کا انبار رہ جاتا ہے، لیکن جب علم کردار میں ڈھل جائے تو انسان کی شخصیت دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتی ہے۔ قرآنِ کریم میں بارہا ایمان کے ساتھ عملِ صالح کا ذکر ہوا ہے، کیونکہ علم اور عمل ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔ کامیاب انسان کبھی آسانیوں کا منتظر نہیں رہتا۔ وہ مشکلات سے گھبرانے کے بجائے انہیں اپنی تربیت کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ آزمائشیں اس کے حوصلے کو توڑتی نہیں بلکہ مزید مضبوط بناتی ہیں۔ وہ جانتا ہے کہ بلندیاں صرف انہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہیں جو مسلسل جدوجہد کرتے ہیں۔ دریا کی موجوں سے لڑنے والا ہی ساحل تک پہنچتا ہے، جبکہ کنارے پر کھڑا رہنے والا صرف تماشائی بن کر رہ جاتا ہے۔

صبر اور قناعت بھی کامیابی کی بنیاد ہیں۔ صبر انسان کو مایوسی سے بچاتا ہے اور قناعت اسے لالچ، حسد اور بے چینی سے محفوظ رکھتی ہے۔ جو شخص ہر ناکامی کے بعد ہمت ہار دیتا ہے، وہ کبھی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ لیکن جو ثابت قدمی کے ساتھ سفر جاری رکھتا ہے، وقت بالآخر اس کی محنت کو کامیابی میں بدل دیتا ہے۔ دنیا کی ہر بڑی کامیابی کے پیچھے برسوں کی خاموش محنت، مسلسل جدوجہد اور بے شمار قربانیاں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کامیاب لوگوں کے گیت گانے کے بجائے ان کی زندگیوں سے سبق سیکھیں۔ ان کی محنت، دیانت، نظم و ضبط، وقت کی قدر، اعلیٰ اخلاق اور عزم کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ کسی شخصیت کی تعریف اس وقت مفید بنتی ہے جب وہ ہمیں عمل پر آمادہ کرے، ورنہ صرف تعریفیں دہرانا اور ماضی کے قصے سنانا ہماری تقدیر نہیں بدل سکتا۔

آج ہماری قوم کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو خواب بھی دیکھیں اور ان خوابوں کی تعبیر کے لیے دن رات محنت بھی کریں۔ جو علم کو اپنا زیور، کردار کو اپنی پہچان، دیانت کو اپنی طاقت اور خدمتِ خلق کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں۔ ایسے افراد ہی قوموں کی تقدیر بدلتے ہیں۔ وہ دوسروں کے سہارے نہیں جیتے بلکہ اپنے بازوؤں کی طاقت، اپنے علم کی روشنی اور اپنے کردار کی بلندی سے نئی تاریخ رقم کرتے ہیں۔ آخر میں ہر انسان کو آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود سے تین سوال ضرور پوچھنے چاہییں:
میں کیا ہوں؟
میں کیا بننا چاہتا ہوں؟
اور کیا میں اس منزل کے لیے عملی جدوجہد کر رہا ہوں؟

اگر ان سوالوں کا جواب اخلاص، محنت اور عمل کی صورت میں مل جائے تو کامیابی یقیناً انسان کے قدم چومتی ہے۔ ہمیں دوسروں کی عظمت کےقصے سنانے کے بجاٸے، اپنی محنت، علم، کردار، ایثار اور خدمت سے نئی مثال قائم کرنے والے انسان بننا چاہیے۔ یہی انفرادی کامیابی کا راز ہے اور یہی قوموں کی ترقی کا حقیقی راستہ بھی۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

محمد شفیق اعوان

محمد شفیق اعوان ،ناظم امن لاٸبریری ،محلہ منشیاں ،گاٶں و ڈاک خانہ شمس آباد ،تحصيل حضرو ،ضلع أٹک پوسٹ کوڈ 43490 موبائل نمبر 03085040024

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment