ہوم << صفوریہ سے حطین تک – ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ
600x314

صفوریہ سے حطین تک – ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ

جنگ حطین کی کہانی آپ نے پڑھی جب صلیبی سلطان صلاح الدین ایوبی کے پھیلائے جام میں ایسے پھنسے کہ صف جنگ نہیں ہارے بلکہ فلسطین بھی ہار گئے
یہ اس وقت کی روداد ہے جب ہم نے صفورا سے حطین تک کا سفر کیا ۔ حطین کے اس گاؤں کی حالت زار کو دیکھا جہاں مسلمانوں نے اپنی تاریخ کی شاندار ترین فتح حاصل کی تھی

ناصرہ کا بلاوا ،جب دل نے کہا رکو اور وقت نے کہا چلو
میں اپنے خیالات کی انہی بھول بھلیوں میں گم تھا کہ ابو خالد کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ وہ پوچھ رہا تھا کہ
“کیا ہم ناصرہ شہر کے اندر جانا چاہیں گے؟”
میں نے گڑبڑا کر کھڑکی سے باہر جھانکا تو معلوم ہوا کہ ہم ناصرہ پہنچ چکے ہیں – وہ شہر جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پروان چڑھے تھے، جہاں انہوں نے اپنے بچپن اور جوانی کے زیادہ تر دن گزارے تھے۔ دل تو بہت چاہتا تھا کہ اس شہر کا دیدار بھی کر لیا جائے – لیکن وقت کی کمی آڑے آ رہی تھی۔ آدھا دن پہلے ہی گزر گیا تھا اور ہمیں حطین کے بعد عین جالوت بھی جانا تھا اور سورج ڈھلنے سے پہلے یروشلم واپس پہنچنا تھا۔ اس لیے میں نے ابو خالد کو ہدایت دی کہ ہم ناصرہ شہر میں نہیں جائیں گے – جس پر اس نے گاڑی ناصرہ کی طرف موڑنے کی بجائے صفوریہ کی طرف موڑ دی۔ کھڑکی سے باہر ناصرہ گزرتا رہا – جیسے کوئی خواب ہو جو آنکھ کھلتے ہی ہاتھ سے پھسل جائے۔ لیکن خوابوں کی تعبیر کبھی کبھی وقت کی قید سے آزاد ہو کر آتی ہے – شاید کسی اور سفر میں۔ ناصرہ کی یاترا کا موقعہ مل جائے ۔یہی آس دل کو بہلاتی تھی ۔

تسیپوری نیشنل پارک ، جب دو ہزار سال پرانا شہر زندہ ہو گیا
صفوریہ کے کھنڈرات ناصرہ سے چھ کلومیٹر کے فاصلے پر اسرائیل کے شہر تسیپوری کے نواح میں واقع ہیں – جہاں اسرائیلی حکومت نے “تسیپوری نیشنل پارک” بنا رکھا ہے۔ اس نیشنل پارک سے ہائی وے ستتر کا آغاز ہوتا ہے جو اس قدیم راستے کے متوازی حطین کی طرف جاتی ہے – جس پر چل کر گیارہ سو ستاسی عیسوی میں صلیبی فوج حطین پہنچی تھی۔ ہم بھی اسی راستے سے حطین جانا چاہتے تھے ،تاکہ اس ماحول اور اس جال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں جو سلطان صلاح الدین نے ان کے لیے بچھایا تھا۔ ہم دس منٹ میں تسیپوری نیشنل پارک پہنچ گئے۔ یہ نیشنل پارک دو ہزار سال پرانے صفوریہ شہر کے کھنڈرات پر مشتمل ہے – صفوریہ پہلے رومی اور بازنطینی اور پھر صلیبی دور میں اس علاقے کا ثقافتی، سیاسی، مذہبی اور فوجی مرکز رہا۔ جب ہم یہاں پہنچے تو دن کے گیارہ بج رہے تھے – سورج اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا اور گرمی کی شدت میں بہت اضافہ ہو چکا تھا۔ یہاں خاصی چہل پہل اور رونق نظر آئی – کار پارک گاڑیوں سے بھرا ہوا تھا اور کئی اسکولوں کے بچے بھی اپنے اساتذہ کے ساتھ اس پارک کی سیر کرتے نظر آئے۔

ربی یہودا ہناسی، جب شفوی تورات نے تحریری شکل پائی
یہودی تاریخ میں بھی اس شہر کو بے انتہا اہمیت حاصل ہے کیونکہ ستر عیسوی میں رومیوں کے ہاتھوں یروشلم کی تباہی اور یہودیوں کی فلسطین سے جلاوطنی کے بعد بھی کچھ یہودی صفوریہ اور طبریہ میں آباد رہے – اور یہ شہر دوسری صدی عیسوی میں یہودی علم و ثقافت کا مرکز تھا۔ ربی یہودا ہناسی نے یہیں شفوی تورات یعنی زبانی تورات کو تحریری شکل دی جسے “مشنہ” کہا جاتا ہے – اس سے پہلے تورات کی کوئی تحریری شکل موجود نہیں تھی۔ ربی یہودا ہناسی کا تعلق حضرت داؤد علیہ السلام کے خاندان سے تھا اسی لیے اسے “ہناسی” کہتے ہیں جس کا عبرانی میں مطلب ہے شہزادہ۔ یہودا نے اپنی زندگی کے آخری سترہ سال اس شہر میں شفوی تورات کو تدوین کرنے میں بسر کیے — کیونکہ اس کے تعلقات اس علاقے کے رومی حکمران اینٹونینس سے بہت اچھے تھے۔ اس لیے یہودیوں کو اس شہر میں اس مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا جس سے ان کا واسطہ یروشلم میں پڑاتھا ۔

ربی یہودا ہناسی کو اسرائیل میں اتنی زیادہ اہمیت دی جاتی ہے کہ اس کی تصویر سو شیکل یعنی اسرائیلی کرنسی کے نوٹ پر چھاپی گئی ہے – جس آدمی نے تورات کو قلم بند کیا اس کا چہرہ ہر نوٹ پر زندہ ہے۔ “مشنہ” یہودی مذہبی قانون اور روایت کا پہلا تحریری مجموعہ ہے جو شفوی تورات کو منظم تحریری شکل میں پیش کرتا ہے – یہ ربینک یہودیت کی بنیادی ترین قانونی کتاب ہے۔ یہ قوانین یہودیوں کی مذہبی، معاشی، معاشرتی اور سیاسی زندگیوں کے بارے میں راہنمائی کرتے ہیں۔ مشنہ عبرانی میں لکھی گئی تھی اور اسے لکھنے کا بنیادی مقصد رومی ظلم و ستم کے اس دور میں یہودی قانونی اور مذہبی نظام کو محفوظ کرنا تھا۔ تاریخی اعتبار سے یروشلم تورات کا گڑھ تھا جبکہ طبریہ تلمود اور صفوریہ مشنہ کی جنم بھومی تھی۔ صفوریہ طبریہ کے بعد سنہدرین یعنی اعلیٰ یہودی عدالت اور قانون ساز مجلس کا آخری صدر مقام بھی رہا — جس کے بعد اس کا خاتمہ ہو گیا۔

رومی تھیٹر اور کنیسہ، جب پتھروں نے تاریخ سنائی
اٹھائیس شیکل کا ٹکٹ لے کر ہم نیشنل پارک کے اندر داخل ہوئے تو داخلی دروازے کے بائیں جانب ایک بڑا دو ہزار سال پرانا ساڑھے چار ہزار افراد کی گنجائش والا بڑا رومی تھیٹر نظر آیا – جو اب بھی بڑی اچھی حالت میں محفوظ ہے۔ پتھر کی سیٹیں دھوپ میں سنہری چمک رہی تھیں – ایسے لگتا تھا جیسے ابھی تماشائی آ کر بیٹھ جائیں گے اور رومی ڈرامے کا پردہ اٹھے گا۔ اور کھیل شروع ہو جائے گا ۔ داخلی دروازے کے دائیں جانب ایک یہودی کنیسہ کے کھنڈرات ہیں جو غالباً دوسری صدی عیسوی میں ربی یہودا ہناسی کے دور سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کنیسہ کے باہر ایک تختی پر عبرانی اور انگریزی میں لکھا تھا:

“صفوریہ وہ مقام ہے جہاں یہودی قانون نے اپنی کتابی شکل پائی – جہاں شفوی روایت نے تحریری قانون کی شکل اختیار کی۔ یہ ربینک یہودیت کی جنم بھومی ہے اور آج بھی ہر یہودی جو مشنہ پڑھتا ہے وہ ربی یہودا ہناسی اور صفوریہ کا مقروض ہے۔”

اس کنیسہ کی چھت گر چکی تھی لیکن دیواریں اور فرش بڑی اچھی حالت میں نظر آئے — فرش کے موزائیک پر زودیاک دائرہ یعنی بارہ برج، تابوت سکینہ اور دیگر مذہبی علامتیں شوفار اور مینورہ کندہ ہیں۔

کارڈو اور واٹر سسٹم، جہاں سے صلیبیوں نے پانی بھرا
شہر کے مرکز میں رومی دور کی بنی آٹھ میٹر چوڑی شاہراہ ہے جس کے دونوں طرف دکانوں کے کھنڈرات ہیں- اس شاہراہ کو “کارڈو” کہتے ہیں۔ دو ہزار سال پہلے یہ سڑک رومی شہریوں سے گلزار ہوتی تھی. شہری ، تاجر ، فوجی، عبادت گزار ، راہگیر ، سب اسی شاہراہ سے گزرتے تھے۔ آج صرف پتھر بچے ہیں، جو گردش دوراں کی گرد تلے دبے ہیں، لیکن ان پتھروں پر رومی گاڑیوں کے پہیوں کے نشان آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ کارڈو سے کچھ فاصلے پر ٹوٹی پھوٹی عمارتوں کے نیچے تہ خانے میں رومی واٹر سسٹم کے آثار ہیں جو دو سو اسی میٹر لمبی اور بارہ میٹر گہری سرنگ اور تین کنوؤں پر مشتمل ہے – یہ وہی پانی کا نظام تھا جہاں سے صلیبی فوج نے حطین کی طرف کوچ کرنے سے پہلے پانی کا ذخیرہ جمع کر کے ساتھ لیا تھا۔ وہ پانی جو ان کی زندگی بچا سکتا تھا – لیکن جو پینتالیس کلومیٹر صحرائی سفر کے لیے کہاں کافی تھا۔ رومیوں کے واٹر سسٹم کے دائیں جانب “گرجا بشارت” ہے جو عیسائیوں کا پہلا گرجا مانا جاتا ہے – روایت ہے کہ اس جگہ کبھی حضرت مریم علیہا السلام کے والدین یوآخیم یعنی عمران اور حنہ کا گھر تھا۔

گیلیلی کی مونا لیزا، جو پتھروں میں مسکراتی ہے
لیکن اس نیشنل پارک کی اصل عالمگیر شہرت کا سبب وہ موزائیک ہیں جو اس شہر کی دیگر رومی عمارتوں کے فرش پر بنے ہیں۔ تیسری صدی کے ایک امیر اور دولتمند رومی کے ولا میں ڈائننگ روم کے فرش پر ایک نوجوان خوبصورت عورت کا پورٹریٹ بنا ہے جسے پندرہ شوخ رنگوں کے چھوٹے چھوٹے پتھروں کو جوڑ کر “ٹیسرہ” سے بنایا گیا ہے۔ ٹیسرہ قدیم رومی دور کا ایک فن تھا جس میں سلیکا، سنگ مرمر اور چونے کے چھوٹے رنگ برنگے پتھروں کو جوڑ کر عمارتوں کا فرش بنایا جاتا تھا۔ اس عورت کی انتہائی خوبصورت پراسرار ،مدھر مسکراہٹ لیونارڈو ڈاونچی کی مونا لیزا سے بڑی مشابہت رکھتی ہے – اس کی حساس اور خوبصورت زندگی سے بھرپور آنکھوں میں ایک سہ جہتی جادوئی تاثر ہے جو دیکھنے والوں کو اپنا غلام بنا لیتی ہیں۔

اس کے بالوں کی سجاوٹ کا پیچیدہ انداز اس دور کے رومی فیشن کی شاندار عکاسی کرتا ہے کانوں میں بندے ، کپڑوں کا کالر گلے کا نیکلیس ، صحرائی جیسی گردن . پتلے پتلے نقوش ، ستواں ناک اس کی امارت کی علامت ہیں۔ اس تصویر کا نام “مونا لیزا آف گیلیلی” ہے – ڈاونچی کی مونا لیزا تو پانچویں صدی میں بنی لیکن یہ مسکراہٹ اس سے بارہ سو سال پہلے سے پتھروں میں قید ہے۔ میں نے پیرس کے لوور میوزیم میں رکھی ڈاونچی کی آئل سے بنی مونا لیزا دیکھی تھی اس کا دیدار کرنے کے لئے آدھا گھنٹہ قطار میں انتظار کیا تھا لیکن مجھے جو کشش جو خوبصورتی گیلیلی کی مونا لیزا میں نظر آئی وہ ڈاونچی کی مونا لیزا میں نہیں تھی ۔ لیزا ڈیل جیوکونڈو فلورنس کے ایک تاجر کی بیوی تھی ۔ گلیلی کی یہ نامعلوم ہوش ربا حسینہ پتہ نہیں کس رومی کے گھر کی شمع تھی ۔ جس کی مسکراہٹ صدیوں بعد بھی پتھروں میں زندہ ہے ۔ ڈاؤنچی کی مونا لیزا پیرس کے سر کا تاج ہے تو گلیلی کی مونا لیزا اس علاقے کی ثقافتی علامت سمجھی جاتی ہے ۔

پانچویں صدی عیسوی سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے رومی ولا کے مرکزی ہال میں رومی دیوتا “ڈائنوسس” شراب کا پیالہ ہاتھ میں تھامے بیٹھا تھا — اور اس کے سامنے ایک طرف شراب بنانے کے سارے مراحل بنے تھے تو دوسری طرف دیوتا کے ساتھی رقص و سرود کی محفل میں شراب پیتے ہوئے رنگ رلیاں منا رہے تھے ۔ ڈائنوسس قدیم بت پرست رومیوں کا زرخیزی اور تہواروں کا دیوتا ہے۔ ایک اور تیسری صدی کی عمارت میں مرکزی ہال کے “نائل موزائیک” میں “نیلوس” کی تصویر بنی تھی جو زرخیزی اور فطرت کا دیوتا ہے – وہ دریائے نیل کے کنارے پانی کا برتن ہاتھ میں تھامے بیٹھا تھا اور اس کے سامنے نیل دریا کی بڑی خوبصورت منظرکشی کی گئی تھی جس میں بھینسیں، دریائی گھوڑے، مگرمچھ، پرندے، کشتیاں، ماہی گیر اور اسکندریہ کے مشہور لائٹ ہاؤس کی جھلک نظر آتی تھی ۔

صفوریہ کا قلعہ ، جہاں ریمنڈ نے آخری مشورہ دیا
نیشنل پارک کے عین مرکز میں ایک پہاڑی پر صفوریہ کا وہ مشہور قلعہ ہے جو حطین کی جنگ سے پہلے صلیبیوں کا مرکز تھا۔ آج بھی جب آپ صفوریہ قلعے کی چوٹی پر کھڑے ہو کر مشرق کی طرف حطین کو دیکھتے ہیں تو آپ وہی نظارہ دیکھ رہے ہوتے ہیں جو تین جولائی گیارہ سو ستاسی عیسوی کو ریمنڈ آف ٹرائپولی نے دیکھا تھا اور اپنا دانشمندانہ مشورہ دیا تھا۔ یہ تاریخ کا ایک زندہ منظر ہے ، آٹھ سو سال بعد بھی وہی پہاڑیاں ہیں، وہی خشک زمین ہے، وہی جلتا سورج ہے ،بس وہ لوگ نہیں ہیں جنہوں نے اس مشورے کو نظرانداز کر کے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی کی تھی ۔

تسیپوری صرف ایک آثار قدیمہ کا پارک نہیں ہے بلکہ تاریخی فیصلوں کا چوراہا بھی ہے . جن کے نتیجے میں یہاں رومیوں کی تہذیب پروان چڑھی، یہودیوں کے مذہب نے دوبارہ زندگی پائی اور صلیبیوں کی جنگی حکمت عملی اور ان کے حطین جانے کے آخری فیصلے نے اس علاقے میں صلیبی تہذیب کے خاتمے کا سامان کر دیا۔ ہم نے انتہائی عجلت میں نیشنل پارک کی صرف چند ایک اہم جگہوں کی ہی سیر مکمل کی – کیونکہ پورا نیشنل پارک تفصیل سے دیکھنے کے لیے کئی دن چاہیئں لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے یہاں زیادہ وقت گزارنا ہمارے لیے ممکن نہیں تھا۔ لہٰذا مزید دیکھنے کی تشنگی لیے ہم پارک سے باہر نکل آئے۔

صفوریہ سے حطین، جب قدیم راستے نے ہمیں بلایا
اب ہمارا رخ حطین کی طرف تھا جو یہاں سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور تھا۔ صفوریہ سے حطین کا قدیم راستہ کافی حد تک جدید تبدیلیوں کے ساتھ موجود اور محفوظ ہے، آج بھی اگر آپ اس راستے پر ڈرائیو کریں تو آپ کو بہت سے ایسے جغرافیائی مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جنہوں نے صلاح الدین کی فتح ممکن بنائی تھی۔ اس سفر کے تین حصے ہیں۔ پندرہ کلومیٹر لمبا پہلا حصہ صفوریہ سے لوبیا کے کھنڈرات تک کا ہے۔ لوبیا ایک فلسطینی گاؤں تھا جسے انیس سو اڑتالیس عیسوی میں اسرائیل بننے کے بعد “نکبہ” کے دوران اجاڑ دیا گیا ، یہاں کے کچھ باشندے قتل کر دیے گئے اور باقی ماندہ افراد کو جبری ہجرت پر مجبور کر دیا گیا۔ ایسے بے شمار گاؤں آپ کو اسرائیل کے طول و عرض میں نظر آتے ہیں، مٹے ہوئے نقشے، اجڑے ہوئے نام، بے نشان قبریں۔ ویران گھر ۔ شاہراہ ستتر پر لوبیا کی طرف سفر کرتے ہوئے زیادہ تر واسطہ زرعی زمینوں، زیتون کے باغات اور گندم کے بڑے بڑے کھیتوں سے پڑتا ہے جنہوں نے قدیم راستے کو بڑی حد تک مٹا دیا ہے . لیکن پھر بھی کئی جگہ پر سڑک کے متوازی قدیم راستے کے آثار، رومی اور عثمانی دور کے پتھر کے نشانات اور کہیں کہیں پرانے سنگ میل بھی نظر آتے ہیں۔ نو سو سال پرانے پتھر جن پر کبھی بیس ہزار فوجیوں کے قدموں کی دھمک گونجی تھی- آج خاموش گندم کے کھیتوں میں دبے پڑے ہیں۔

اجڑا لوبیا لیکن آباد لاوی کیوبتیس ،اسرائیل کا اجتماعی نوآبادیاتی اور معاشی نظام
اجڑے لوبیا سے دو کلومیٹر دور شمال مشرق میں لوبیا کی سرزمین پر ایک نئی یہودی بستی بسائی گئی ہے جس کا نام “لاوی” ہے جو ایک “کیبوتس” ہے۔ کیبوتس اسرائیل کا ایک اجتماعی نوآبادیاتی اور معاشی نظام ہے جو بیسویں صدی کے اوائل میں صہیونی تحریک کے تحت قائم ہوا – اس کی بنیاد زراعت پر تھی اور یہ اشتراکی اصولوں پر مبنی تھا جس میں چار سو سے پانچ سو افراد اکٹھے رہتے ہیں۔ ان کے کھانے پینے رہائش اور بچوں کی مکمل ذمہ داری ریاست کے ذمے ہوتی ہے اور وہ افراد اس کیبوتس کی زمینوں پر اپنی اہلیت کے مطابق کام کرتے ہیں – یہ اسرائیلی معاشرے کا ایک اہم ثقافتی و معاشی ادارہ رہا ہے جس نے اسرائیل کی معیشت اور خاص طور پر زراعت میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ وقت کے ساتھ اس نظام میں تبدیلی بھی آئی اور ان میں رہنے والے افراد کو ان زمینوں کی ملکیت دے دی گئی جن پر وہ نسلوں سے کھیتی باڑی کرتے تھے۔ پہلا کیبوتس “دیگانیہ” جھیل طبریہ کے کنارے انیس سو نو عیسوی میں قائم کیا گیا تھا۔

کفر ثبت ۔ سلطان کا ہیڈ کواٹر
اس سفر کا دوسرا حصہ لوبیا سے کفر ثبت تک کا ہے جو اٹھارہ کلومیٹر پر مشتمل ہے اور زیادہ تر پتھریلی سنگلاخ چٹانوں اور بے آب و گیاہ کھلے میدان کے درمیان سے گزرتا ہے۔ کفر ثبت حطین سے بارہ کلومیٹر دور وہ جگہ تھی جہاں سلطان صلاح الدین ایوبی کا جنگی مرکز قائم تھا — آج کل یہاں اسرائیلی فوج کا ٹریننگ زون ہے۔
بعض حصوں تک رسائی محدود تھی اور یہ ممنوع علاقہ گردانا جاتا ہے جس کی وجہ سے ہمیں شاہراہ ستتر چھوڑ کر متبادل راستہ لینا پڑا اور ہائی وے پینسٹھ کے ذریعے ہم دو گھنٹے میں حطین پہنچ گئے۔
سفر کا یہ تیسرا حصہ مکمل طور پر چڑھائی، آتش فشانی چٹانوں اور بے آب و گیاہ پتھریلی زمین پر مشتمل تھا۔

صلیبیوں کا مارچ ، جب پینتالیس کلومیٹر موت کا سفر بنا
گیارہ سو ستاسی عیسوی میں صلیبی فوج کا اصل مارچ بھی انہی تین مرحلوں پر مشتمل تھا جو انہوں نے دو دن میں طے کیا تھا۔ تین جولائی کے دن علی الصبح سورج نکلنے سے پہلے بیس ہزار پیدل فوج اور تقریباً ڈیڑھ ہزار آہن پوش نائٹس اپنے بھاری ساز و سامان کے ساتھ صفوریہ سے روانہ ہوئے – اور جولائی کی شدید گرمی ، چالیس سے پینتالیس ڈگری سینٹی گریڈ میں سفر کرتے ہوئے شام کو انہوں نے جب لوبیا پہنچ کر پڑاؤ ڈالا تو پانی ختم ہو چکا تھا اور تھکاوٹ اور پیاس کے مارے سب کا برا حال تھا — اس سارے راستے میں صرف دو جگہ پانی تھا جس میں سلطان ایوبی نے زہر ملا دیا تھا۔
دوسرے دن صبح چار بجے انہوں نے اپنے سفر کا دوبارہ آغاز کیا اور صبح آٹھ بجے کفر ثبت پہنچے جہاں سلطان کا فوجی مرکز قائم تھا — لیکن سلطان نے جنگ سے گریز کیا اور جنگ لڑنے کی بجائے پیچھے ہٹ گیا۔ یہ سلطان کی جنگی چال تھی — صلیبیوں کو مزید آگے کھینچنا، مزید تھکانا، مزید پیاسا رکھنا۔
دوپہر بارہ بجے صلیبی حطین کے سینگوں کے درمیان پہنچے تو سلطان نے ان کا مکمل گھیراؤ کر لیا — اور دوپہر دو بجے جب سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ آگ برسا رہا تھا تو سلطان نے حملہ کر دیا۔

ری انیکٹمنٹ – جب دو ہزار دس میں اس سفر کا تجربہ دہرایا گیا
دو ہزار دس عیسوی میں تاریخ دانوں اور آثار قدیمہ کے ماہرین کی ایک مشترکہ ٹیم نے “ری انیکٹمنٹ” کے نام سے اکتوبر کے مہینے میں اس قدیم راستے پر صفوریہ سے حطین تک کا تجرباتی اور مشاہداتی پیدل سفر کیا ۔ اس مہم کا مقصد اس قدیم راستے پر سفر کر کے صلیبیوں کی اس کفیت اور تکلیف وابتلاء کو محسوس کرنے کی کوشش تھی تاکہ حطین کے میدان میں ان کی شکست کے عوامل پر روشنی ڈالی جا سکے ۔ انہوں نے صفوریہ سے لوبیا تک کا سفر پانچ گھنٹے میں طے کیا جبکہ صلیبی فوج کو آٹھ گھنٹے لگے تھے، اور لوبیا سے حطین تک وہ سات گھنٹے میں پہنچے جس پر صلیبیوں نے مسلسل چڑھائی اور پتھریلی زمین کی وجہ سے دس گھنٹے لگائے تھے۔ اس دوران انہوں نے محسوس کیا کہ فی آدمی دس لیٹر پانی بھی ناکافی تھا -حالانکہ انہوں نے بڑے ہوادار کپڑے اور آرام دہ جوتے پہن رکھے تھے اور مہینہ بھی اکتوبر کا تھا جب اس علاقے میں سردیوں کا آغاز ہوتا ہے۔

انہوں نے اس سفر کے لیے اکتوبر کا مہینہ اس لیے چنا کہ جولائی میں گرمی کی شدت کی وجہ سے یہ سفر ممکن نہیں تھا۔ اس تجرباتی ٹیم میں ہیبریو یونیورسٹی یروشلم کے شعبہ تاریخ کے ڈائریکٹر پروفیسر بینیامین زیڈ کیدار، پیرس یونیورسٹی سوربون کے شعبہ عسکری تاریخ کے ماہر ڈاکٹر ایلن وی والرینڈ، تل ابیب یونیورسٹی کے شعبہ آثار قدیمہ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ایرن یالوم، قدیم راستوں کے ماہر اور اسرائیلی پارکس اتھارٹی کے ڈاکٹر روتم کہن، قدیم آب و ہوا کے ماہر اور بار ایلان یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر موشے شوارٹز اور گیلیلی کالج کی زمینی آثار کی ماہر ڈاکٹر لیہ دی سگنی شامل تھیں – ان کے علاوہ صلیبی تاریخ سوسائٹی اسرائیل کے پندرہ ارکان اور یورپی عسکری تاریخ فورم سے آٹھ شرکا بھی شریک سفر تھے۔ انہیں طبریہ کے مقامی گائیڈ اسحاق مرون کی راہنمائی حاصل تھی۔

ری انیکٹمنٹ رپورٹ – جب سائنس نے تاریخ کی تصدیق کی
اپنے دورے کے اختتام پر اس ٹیم نے اپنی مشترکہ رپورٹ شائع کی جس میں لکھا تھا:
“دو ہزار دس کا یہ ری انیکٹمنٹ ثابت کرتا ہے کہ سفر ناممکن نہیں تھا — صلیبی فوجی طے کر سکتے تھے۔ لیکن تھکاوٹ اور پیاس کی وجہ سے وہ لڑنے کے قابل نہ رہتے۔ پانی پر قبضہ کر کے صلاح الدین نے درست حکمت عملی اپنائی تھی جس کا نتیجہ فوری فتح کی صورت میں سامنے آیا۔”
رپورٹ میں مزید لکھا تھا:
“صفوریہ سے لوبیا تک ستر فیصد قدیم راستے کی شناخت ممکن ہے جبکہ لوبیا سے حطین تک صرف تیس سے چالیس فیصد اصلی راستہ محفوظ ہے۔”

پروفیسر کیدار نے اپنا ذاتی تجربہ بیان کرتے ہوئے لکھا:
“جب ہم حطین کے سینگ پر پہنچے تو ہم سب مرنا چاہتے تھے – حالانکہ ہمارے پاس پانی تھا، جدید جوتے تھے، گرمی نہیں تھی۔ گیارہ سو ستاسی عیسوی کے صلیبیوں کا کیا حال رہا ہو گا? یہ تجربہ ہماری تاریخ کی غلط فہمی کو دور کرتا ہے۔”

پروفیسر کیدار نے اپنے مضمون “جنگ حطین: فوج کشی کی جسمانی ضروریات” میں مزید بیان کیا ہے:
“صفوریہ سے حطین تک کا راستہ فوجی تاریخ کا ایک متنازع اور سبق آموز باب ہے – یہ پینتالیس کلومیٹر کا فاصلہ نہیں بلکہ بیس ہزار فوجیوں کی موت کا سفر تھا۔ ہر کلومیٹر پر پانچ سو فوجی پیاس، تھکاوٹ اور تیروں کا شکار ہوئے۔”

ڈاکٹر شوارٹز نے “پانی کی جنگ: حطین کی حکمت عملی” میں لکھا:
“یہ راستہ محض زمین کی پٹی نہیں بلکہ تاریخی فیصلے کی شاہراہ ہے — صفوریہ وہ مقام تھا جہاں صلیبیوں نے زندگی یا موت کا فیصلہ کیا اور حطین وہ مقام تھا جہاں ان کا فیصلہ ان کی موت ثابت ہوا۔ راستے کے پتھر آج بھی اس تاریخی غلطی کی گواہی دے رہے ہیں — صلاح الدین نے کنویں بند کر کے محض تین گھنٹے میں فتح حاصل کی۔”

” دو ہزار گیارہ عیسوی میں بی بی سی کے ڈائریکٹر تھامس ایل برج نے بی بی سی اور ہسٹری چینل کے مشترکہ تعاون سے ایک دستاویزی فلم “حطین: پیاس کی جنگ” کے نام سے بنائی جس میں پروفیسر کیدار اور ان کی ٹیم کو دکھایا گیا ہے – یہ فلم دو حصوں میں یوٹیوب پر موجود ہے۔

حطین یا جہنم کا میدان
ہم اڑھائی بجے کے قریب حطین پہنچے تو گو کہ سورج اپنے سفر کا زیادہ تر حصہ طے کر کے مغرب میں صفوریہ کی پہاڑیوں کی طرف گامزن تھا – لیکن ہم جیسے ہی گاڑی سے باہر نکلے گرمی کی شدت نے ہمیں نانی یاد دلا دی۔ چند ہی منٹوں میں جسم پسینے سے شرابور ہو گیا حالانکہ یہ اکتوبر کے آخری ایام تھے – موسم گرما رخصت ہو چکا تھا، خزاں چل رہا تھا اور موسم سرما کی آمد آمد تھی۔ مجھے یہ سوچ کر جھرجھری سی آ گئی کہ چار جولائی گیارہ سو ستاسی عیسوی کے دن سر سے پاؤں تک بھاری آہنی زرہ پوش نائٹس کا جولائی کے مہینے میں تھکاوٹ اور پیاس سے کیا حشر ہوا ہو گا – جب نہ ان کو پینے کا پانی میسر تھا اور نہ پچھلے چوبیس گھنٹے سے آرام کی نیند نصیب ہوئی تھی۔ وہ تو اپنی یہ جنگ لڑنے سے پہلے ہی ہار چکے تھے۔

اجڑا حطین -جب خوابوں کا شہر کھنڈر بنا نظر آیا
ہم حطین پہنچ تو گئے لیکن یہ وہ جگہ تو نہیں تھی جو خیالوں میں بسی تھی – جسے میں نے چشم تصور سے دیکھا تھا، جس کے بارے میں تاریخ کی کتابوں میں پڑھا تھا۔ اجڑا لٹا ہوا حطین کھنڈرات کی صورت میں ہماری نظروں کے سامنے تھا۔ انیس سو اڑتالیس تک یہ ایک ہنستا بستا پندرہ سو افراد پر مشتمل خوشحال گاؤں تھا جس کی معیشت کا دارومدار کھیتی باڑی، زیتون، اناج، پھلوں اور بھیڑ بکریوں کے کاروبار پر تھا – ان کی زمینیں سونا اگلتی تھیں خوشحالی آسمان سے برستی تھی لیکن پھر آسمان ان پر ناراض ہو گیا۔ چودہ مئی کو اسرائیل بنا اور پندرہ مئی کو اس علاقے کے فلسطینیوں پر وہ قیامت ٹوٹ پڑی جسے “نکبہ” کہتے ہیں – اسرائیلی تنظیموں ہگانہ اور لیہی نے “آپریشن ڈیکل” کے تحت راتوں رات حملہ کر کے دو سو سے زائد باشندوں کا قتل عام کیا اور باقی افراد کو زبردستی ہجرت پر مجبور کر دیا۔ زیادہ تر لوگ لبنان یا شام چلے گئے اور کچھ قریبی فلسطینی علاقوں جنین اور نابلس میں جا پناہ گزیں ہوئے۔ گاؤں مسمار کر دیا گیا – مکانات گرا دیے گئے – صرف دو عمارتیں باقی بچ گئیں۔

ایک صوفی بزرگ شیخ نعمان کا مقبرہ اور دوسری گاؤں کی مسجد ، جو اب بھی اجڑی ویران حالت میں گاؤں کے ان کھنڈرات کے درمیان اس حالت میں کھڑی نظر آتی ہیں کہ نہ مکمل مسمار ہیں اور نہ آباد۔ یوں لگتا تھا جیسے نکبہ کی علامت یہ عمارتیں گاؤں کی تباہی کی خاموش گواہی دے رہی ہوں – ان دونوں عمارتوں کی بھی آدھی چھتیں گر چکی تھیں۔ ہر طرف جھاڑ جھنکاڑ کا ڈیرہ تھا، کھڑکیاں اور دروازے غائب تھے – سیاہ آتش فشانی پتھر ۔۔۔ بسالٹ کی بنی دیواروں سے اداسی اور ویرانی جھلک رہی تھی۔
یوں لگتا تھا جیسے اس تباہ شدہ گاؤں کی اجڑی روحیں ان دیواروں سے جھانک رہی ہوں۔ کہیں کہیں جنگلی ببول اور کیکر کے خودرو درختوں اور جھاڑیوں کے درمیان کھڑے فلسطینی کاشتکاروں کے لگائے ہوئے قدیم زیتون کے درخت اس گاؤں کے باسیوں کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم کی گواہی دے رہے تھے –

گاؤں میں پتھر کے مکانوں کی بنیادیں، گھروں اور باڑوں کے برباد نشانات، کتبوں اور ناموں کے بغیر کچھ قبریں اور خشک اجڑے کنویں اپنی تباہی کی داستان بیان کرتے نظر آتے تھے۔ کبھی یہ اجڑی ویران بستی باغوں اور پھولوں والی بستی کہلاتی تھی۔ آئرلینڈ کے بشپ رچرڈ پوکوک نے سترہ سو ستائیس عیسوی میں اس گاؤں کی سیر کے بعد حطین کو مالٹے، لیموں اور زیتون کے باغوں والا خوبصورت گاؤں قرار دیا تھا۔ کونڈر نے اٹھارہ سو ستاسی عیسوی میں اس گاؤں کی سیر کی اور اپنی کتاب “کنگڈم آف یروشلم” میں لکھا: “حطین زیتون اور دوسرے پھلوں کے درختوں اور انگور کی بیلوں سے گھرا ایک خوبصورت گاؤں ہے جس میں بہار اپنا ایک الگ ہی منظر پیش کرتی ہے۔
” آج نہ وہ باغ ہیں نہ وہ بیلیں – نہ وہ بہار ہے نہ وہ منظر – بس خاموش پتھر ہیں اور ان پتھروں کے درمیان سے اگی ہوئی جنگلی جھاڑیاں۔
اور ویران کھنڈرات میں ۔ اجڑے گاؤں میں شکستہ حال درودیوار اپنی تباہی و بربادی کی کہانی سناتے نظر آتے ہیں ۔

شیخ نعمان کا مقبرہ – جب پرانے چراغوں نے داستان الم سنائی
ہم شیخ نعمان کے مقبرے کی طرف بڑھے – مقامی سیاہ آتش فشانی پتھر سے بنا یہ ایک چھوٹا سا چوکور کمرہ تھا جس کی گنبد نما چھت میں ایک بڑا سا شگاف تھا۔ محراب دار آدھا ٹوٹا ہوا دروازہ کھلا تھا – جس سے گزر کر جب ہم اندر داخل ہوئے تو ہر طرف ویرانی اور اداسی کا ڈیرہ تھا۔پشت کی جانب بنی کھڑکی کے کواڑ غائب تھے۔ گرد سے اٹے فرش پر بکھری جھاڑیوں، سوکھے پتوں اور گھاس پھوس کے درمیان بوسیدہ سبز کپڑے سے ڈھکی ایک قبر تھی- جس کے سرہانے تیل سے لتھڑے کئی پرانے چراغ پڑے تھے۔جنہیں دیکھ کر میں سوچنے لگا کہ جب سبز کپڑے سے ڈھکی قبر پر تیل کے یہ چراغ جلتے ہوں گے تو یہ نہ صرف ایک بزرگ کی یاد بلکہ ایک پورے گاؤں کی روح کو روشن کرتے ہوں گے — جو مٹی کے نیچے دفن تھا لیکن دلوں میں زندہ تھا۔قدرت کی اس ستم ظریفی پر دل مسوس کر رہ گیا کہ تاریخ کا یہ کیسا جبر ہے کہ نو سو سال پہلے اسی مقام پر مسلمانوں نے اپنی تاریخ کی ایک شاندار ترین جنگ جیتی تھی اور آج اسی جگہ پر ان کو خود امان میسر نہیں — اور اس بستی کے باسی عرصے سے جانے کہاں کہاں در بدر پھر رہے ہیں۔ صاف لگتا تھا جیسے عرصے سے یہاں کوئی نہ آیا ہو۔ ہم نے دکھی دل اور نم آنکھوں کے ساتھ وہاں فاتحہ پڑھی اور بھاری دل کے ساتھ باہر نکل آئے۔

ابو خالد نے بتایا کہ قادری سلسلے سے تعلق رکھنے والے شیخ نعمان عثمانی دور میں اس گاؤں اور گرد و نواح کے فلسطینیوں کے روحانی پیشوا تھے – انیس سو اڑتالیس سے پہلے دور دور سے لوگ منت ماننے آتے تھے۔یہاں ان کا شاندار سالانہ عرس ہوتا تھا اور میلہ لگتا تھا ۔ ہر جمعرات کے دن لنگر تقسیم ہوتا تھا – گاؤں والے انہیں حطین کا محافظ سمجھتے تھے۔ مقبرہ شیخ نعمان حطین گاؤں کی تباہ شدہ تاریخ کا آخری زندہ نشان ہے – یہ صرف ایک پتھر کی عمارت نہیں ہے بلکہ جہاں یہ عثمانی دور کی صوفی روایت کی یادگار ہے وہیں انیس سو اڑتالیس کی تباہی کا خاموش گواہ بھی ہے اور فلسطینی ثقافتی بقا کی علامت بھی۔ یہ مقبرہ تین صدیوں کی تاریخ کا امین ہے – اٹھارویں صدی کی تعمیر، بیسویں صدی کی تباہی اور اکیسویں صدی کی یادداشت ہے۔

عربوں کا اجڑا برباد حطین اور یہودیوں کا آباد وشاد کفر حطین
حطین کے تین ادوار – جب ایک اجڑی زمین نے تین کہانیاں سنائیں. حطین میں اب کوئی فلسطینی نہیں رہتا لیکن حطین اب بھی فلسطینیوں کے دلوں میں بستا ہے۔ اس کے در و دیوار تین ادوار پر مشتمل تاریخ کی داستان سناتے نظر آتے ہیں۔ پہلا دور گیارہ سو ستاسی عیسوی میں صلاح الدین کی فتح اور صلیبیوں کی شکست کا دور ہے تو دوسرا دور انیس سو اڑتالیس میں نکبہ کے نتیجے میں ہونے والی حطین کی بربادی اور فلسطینیوں کی بے دخلی کا زمانہ ہے۔ تیسرا اور موجودہ دور فلسطینیوں کے اجڑے دیار کے کھنڈرات پر بسی خوشحال جدید مکانات اور سہولتوں سے آراستہ اشکنازی یہودیوں کی بستی “کفر حطین” کی کہانی سناتا ہے – جسے صہیونی نوآبادکاری کی کامیابی کے طور پر پیش کرتے ہیں تو فلسطینی اسے اپنی تاریخی وراثت کی تباہی کی علامت سمجھتے ہیں۔

یہودیوں کی عبرانی بائیبل کی چھٹی جلد “بک آف جوشوا” کے مطابق کفر حطین کو کنعانی دور کی بستی صدوم کی جگہ بسایا گیا تھا – عبرانی میں کفر حطین کا مطلب ہے “اناج کا گاؤں”۔ رومی اور بازنطینی دور میں اسے “کفر حطایہ” کہا جاتا تھا۔ جنگ حطین کے بعد عربوں کے حطین نے اس کی جگہ لے لی – اور جب یہودیوں کا دور واپس آیا تو انہوں نے حطین کی جگہ اپنا کفر حطین پھر بسا لیا۔آج حطین کی ساری زمین اسرائیلی ریاست کے قبضے میں ہے جبکہ فلسطینی بھی اس زمین کے دعوے سے دستبردار نہیں ہوئے- ان کے پاس اپنی زمینوں کے عثمانی اور انتداب دور کے کاغذات اب تک محفوظ ہیں۔جنیوا کنونشن اور اقوام متحدہ کی قرارداد کی رو سے اس مقبوضہ زمین پر آبادی اور اس کی منتقلی ممنوع قرار دی گئی – لیکن فی الحال قبضہ اسی کا ہے جس کے پاس طاقت ہے۔ ایک طرف فلسطینی حطین کے کھنڈرات اور ان پر چھائی خاموشی اور ویرانی کا مظہر یہ اجڑا دیار ہے تو یہاں سے صرف دو کلومیٹر دور سر سبز باغات اور خوبصورت بیلوں میں گھری پھولوں سے سجی ، ترقی یافتہ جدید سہولتوں سے آراستہ یہودی بستی کفر حطین ہے -اور ان دونوں کے درمیان تاریخی جنگ حطین کا میدان ہے جس میں کھڑے حطین کے دو سینگ جن کے گرد یہ تاریخ ساز جنگ لڑی گئی تھی. یہ سینگ جنگ حطین کی ناقابل فراموش کہانی بیان کرتے نظر آتے ہیں۔

سینگوں کی طرف – جب سر فخر سے بلند اور آنکھیں آنسوؤں سے نم
گاؤں کی برباد فضا نے دل اتنا اداس کر دیا تھا کہ ہم زیادہ دیر یہاں قیام نہ کر سکے – ویسے بھی یہاں کھنڈرات کے سوا رکھا ہی کیا تھا لہٰذا ہم حطین کے میدان کی طرف چل دیے۔گاؤں سے ایک کچا راستہ حطین کے پہاڑیوں کی طرف جاتا تھا – حطین کے سینگوں کی شکل میں میرے سامنے میری تاریخ کے وہ روشن اوراق بکھرے تھے جن پر میں جتنا بھی فخر کرتا کم تھا۔ لیکن میرے پیچھے برباد اور اجڑے حطین کی صورت میں میری بے بسی اور مظلومیت کی داستان بھی لکھی تھی – اور آج کا یہ سفر انہی دونوں کہانیوں کا سفر تھا۔ حطین کے کھنڈرات اور اس کی پہاڑیاں مجھے رہ رہ کر دو ادوار کی یاد دلا رہی تھیں – ایک فتح کی اور دوسری مظلومیت اور بے بسی کی۔ ایک ہی سرزمین پر دو اتنے مختلف تجربات ہوئے تھے کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیسے اپنے جذبات کا اظہار کروں۔ میں حطین گاؤں کی بربادی پر آنسو بہاؤں یا جنگ حطین کی فتح پر خوشی مناؤں – یہ ایک ایسا سوال تھا جس کا جواب شاید اس سرزمین کے پتھروں کے پاس بھی نہیں تھا۔

سیاہ چٹانوں کی خاموشی – جب حطین کی ہوا نے جنگ کی کہانی سنائی
ہم پتھریلی زمین پر کچی ناہموار پگڈنڈیوں پر چلتے رہے ۔ سیاہ آتش فشانی چٹانوں پر اُگی جنگلی خاردار جھاڑیوں ، اونچی سنہری گھاس، کیکر ببول اور جنگلی زیتون کے اکا دکا درختوں کے درمیان سے راستہ بناتے حطین کے سینگوں کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ہر طرف ایک عجیب سی پراسرار گہری خاموشی طاری تھی – صرف حطین کے سینگوں سے ٹکرا کر لوٹنے والی ہوا کی سیٹی کی ایک مسلسل آواز سنائی دیتی تھی یا ہمارے قدموں سے ٹکرانے والے پتھروں کی صدا تھی جو اس خاموشی کا سینہ چیر رہی تھی۔ تیز ہوا کی وجہ سے گرمی کی شدت کچھ کم ہو گئی تھی۔ مجھے اپنے ارد گرد کے سارے پتھر اور چٹانیں گیارہ سو ستاسی عیسوی اور انیس سو اڑتالیس عیسوی میں رقم ہونے والی تاریخ کے دہرے بوجھ تلے دبی محسوس ہوتی تھیں۔ مجھے لگا جیسے حطین کے دامن میں بکھرے پتھر چیخ رہے ہیں

– ہوائیں سرگوشی کر رہی ہیں کہ یہ صرف ایک میدان نہیں ہے بلکہ بیس ہزار صلیبیوں کی آخری سانسوں کی قبر ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے حطین کی ٹوٹی دیواریں مظلوم فلسطینیوں کی کہانی سناتی محسوس ہوتی تھیں۔ طبیعت میں ایک عجیب سا دباؤ اور بے چینی، بے طرح سی سرشاری و خوشی اور بے نام سی اداسی محسوس تھی۔ مجھے اس فلسطینی بزرگ کی بات یاد آئی جس نے چند دن پہلے مسجد اقصیٰ میں حطین کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے مجھے کہا تھا:
“حطین کے میدان میں ہم دو المیے دیکھتے ہیں – گیارہ سو ستاسی کی صلیبی ہڈیاں اور انیس سو اڑتالیس کے اپنے گھروں کے کھنڈر۔ ”

یہ جگہ اتنی ویران بھی نہیں تھی – راستے میں ہمیں بہت سے لوگ ملے جو واپس جا رہے تھے۔ چار پانچ سیاحوں کا ایک گروپ ہمارے پیچھے پیچھے بھی چل رہا تھا۔ یہ سب اپنی وضع قطع سے یورپین لگ رہے تھے – اپنے جیسا کوئی دوسرا نظر نہ آیا۔ شاید میری نسل سے تعلق رکھنے والے اس طرف آتے ہی نہیں تھے ۔

دو سینگ – زمین سے نکلے دو گواہ
حطین کی دونوں پہاڑیاں جو جنگ حطین کا مرکز تھیں اس چٹیل وادی میں زمین سے یوں نکلی ہوئی نظر آتی ہیں جیسے دو سینگ ہوں۔ دائیں جانب والی پہاڑی تین سو چھبیس میٹر اور بائیں جانب والی چوٹی دو سو چوہتر میٹر بلند ہے – ان دونوں کے درمیان کوئی ایک میل چوڑی وادی ہے۔ یہاں جنگ حطین کی کوئی باقاعدہ یادگار قائم نہیں ہے – حطین آج خاموش تاریخ کا زندہ مقام ہے۔ نہ کوئی عظیم یادگار ہے نہ میوزیم۔ صرف پہاڑیاں، پتھر اور ہوا ہے – لیکن یہی خاموشی گیارہ سو ستاسی عیسوی کی چیخوں اور انیس سو اڑتالیس عیسوی کی آہوں کو زیادہ زوردار بناتی ہے۔ ایوبی دور کے ایک پتھروں سے اٹے ہوئے خشک کنویں کے نشان اور باقیات، صلیبی اور مملوک دور کی کچھ سیاہ پتھر سے بنی دیواریں اور ایک پرانے قلعے کے آثار، دور عثمانی کے حطین کے گاؤں کے کھنڈرات اور برطانوی زمانے کا ایک خستہ چھوٹا فوجی ٹاور — بس یہی اس تاریخی میدان کی متاع کل ہے۔ ہاں جنگ کے آثار ڈھونڈنے والے خوش نصیبوں کو نو سو سال بعد آج بھی یہاں سے تلواروں کے پرزے، تیروں کے سر، صلیبی دور کے سکے، ہتھیاروں کی باقیات، پتھروں پر تلوار اور تیر کے نشانات، لوہے کے ٹکڑے اور انسانی ہڈیاں مل جاتی ہیں – صلیبیوں کی نو سو سال پرانی ہڈیاں جو آج بھی اس مٹی میں دفن ہیں۔

سینگ کی چوٹی – جب ساری گیلیلی قدموں تلے آ گئی
بڑی اور زیادہ اونچی چوٹی کے دامن میں ایک چھوٹا پتھر کا بورڈ لگا تھا جس پر عبرانی اور انگریزی میں “قرون حطین” چار جولائی گیارہ سو ستاسی عیسوی ،لکھا تھا . جنگ کی تاریخ کے بعد صلاح الدین اور گئی آف لوزیگنان کے ناموں کے ساتھ جنگ کی مختصر تاریخ رقم تھی۔ اور لکھا تھا کہ جنگ کے دوران اس چوٹی پر گئی کا شاہی خیمہ اور صلیبیوں کا فوجی مرکز قائم تھا جس کے سامنے صلیب اعظم نصب تھی۔ اس کتبے کے بعد پہاڑی چڑھنے والے راستے کا آغاز ہوتا ہے – یہ ایک کشادہ خاصا آرام دہ راستہ ہے جو زیادہ تر چوڑی سیڑھیوں پر مشتمل ہے۔ ہم پہاڑی کی چوٹی پر پہنچے تو لگا جیسے ساری گیلیلی ہمارے قدموں کے نیچے ہو۔ شام کے ساڑھے تین بج رہے تھے ، مطلع صاف تھا . حد نگاہ آنکھوں کے سامنے کوئی شے حائل نہ تھی۔ اس لیے ساری گیلیلی وادی دور دور تک کسی کتاب کی طرح ہماری نظروں کے سامنے کھلی تھی۔ چوٹی پر پہنچتے ہی گرمی جیسے کہیں گم ہو گئی تھی۔ ٹھنڈی ٹھنڈی تیز ہوا نے موسم کو بہت خوشگوار بنا دیا تھا ، یہ ہوا اتنی تیز تھی کہ میرے بال اڑنے لگے اور کپڑے پھڑپھڑانے لگے تھے۔ اوپر بہت رونق تھی –

کئی درجن سیاح اس وقت دور بینیں لگائے گیلیلی کے خوبصورت نظاروں سے محظوظ ہو رہے تھے۔ آنے والوں کی تعداد ہر لحظہ بڑھتی جا رہی تھی۔ یہ سارے لوگ کفر حطین کی جانب سے آئے تھے کیونکہ وہاں اسرائیلی حکومت نے حطین کی سیر کے لیے آنے والے سیاحوں کے لیے باقاعدہ ایک بیس کیمپ بنا رکھا ہے جس میں کار پارک، دکانوں اور ٹوائلٹ سمیت تمام ضروری سہولتیں میسر ہیں ، و ہیں سے ایک سڑک اس پہاڑی کی طرف آتی ہے جس پر ہم اس وقت کھڑے تھے۔ جبکہ ہم فلسطینی حطین کی طرف سے یہاں پہنچے تھے جہاں ہمیں اکا دکا لوگوں کے علاوہ کوئی نظر نہیں آیا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ ان سیاحوں کی اکثریت ان فرزانوں پر مشتمل تھی جو اس چوٹی سے گیلیلی کا خوبصورت نظارہ دیکھنے آئے تھے – انہیں شاید اس علاقے کی اہمیت اور تاریخ سے اتنا سروکار نہ ہو۔ ان میں ہم جیسے دیوانے بہت کم ہوں گے جو یہاں ماضی کی راکھ کریدنے اور تاریخ کی سرگوشیاں سننے آئے تھے۔ لیکن ایک بات تو طے تھی ، یہاں پہنچتے ہی پہلے تو چند لمحوں کے لیے انسان مبہوت سا ہو کر رہ جاتا ہے، ان نظاروں میں کھو سا جاتا ہے – اور پھر رفتہ رفتہ اس علاقے کی تاریخ اس پر حاوی آنے لگتی ہے اور وہ ماضی کی بھول بھلیوں میں گم ہو جاتا ہے۔

چوٹی سے نظارے ،جب ہر سمت تاریخ بولتی نظر آئی
مغرب کی طرف بہت دور صفوریہ کی پہاڑی پر صلیبی قلعہ نظر آ رہا تھا تو مشرق کی جانب گیلیلی جھیل کا پانی چمک رہا تھا – یوں لگتا تھا جیسے جھیل چند قدموں کی دوری پر ہو۔ جھیل کے کنارے طبریہ کا تاریخی شہر آباد ہے۔ طبریہ اور پہاڑی کے درمیان تقریباً دو کلومیٹر کی دوری پر کفر حطین کی بستی اور کیبوتس ہے – جس سے کچھ ہی فاصلے پر پہاڑی کے عین نیچے حطین کے اجڑے کھنڈرات تھے۔ شمال مشرق میں جھیل کے کنارے کوئی چھ کلومیٹر کے فاصلے پر ڈیڑھ سو میٹر اونچا وہ تاریخی اور عیسائیوں کے لیے انتہائی اہم “کوہ طیور” ہے – انجیل کی روایت کے مطابق جس پر چڑھ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے “سرمن آن دی ماؤنٹ” یعنی خطبہ علی الجبل دیا تھا جس میں آٹھ فرمان شامل ہیں۔ اس پہاڑ کی چوٹی پر دو گرجے نظر آتے ہیں –

ایک تو چوتھی صدی عیسوی کا آٹھ کونوں والا بازنطینی گرجا ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آٹھ فرمانوں کی علامت ہے۔دوسرا انیس سو سینتیس عیسوی میں تعمیر ہونے والا آٹھ کونوں والا جدید گرجا ہے جس کا سنہری گنبد سورج کی روشنی میں دور سے ہی چمکتا نظر آ رہا تھا – یہ گرجا اطالوی معمار انتونیو بارلوزی نے ڈیزائن کیا تھا۔ شمال مغرب میں حطین کا دوسرا اور چھوٹا سینگ ہے۔ اس پہاڑی کے قریب سلطان ایوبی نے پیدل صلیبی فوج کو گھیرے میں لے کر انہیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا تھا جب وہ پیاس کی شدت سے مجبور ہو کر جھیل طبریہ کی طرف جانے کی کوشش کر رہے تھے – اکثر صلیبی سپاہیوں نے صرف پانی کے عوض ہتھیار ڈال دیے تھے۔ مغرب کی جانب لاوی اور حطین گاؤں کے درمیان کفر ثبت کا اسرائیلی فوجی مرکز نظر آ رہا تھا – جہاں گیارہ سو ستاسی عیسوی میں سلطان ایوبی کا فوجی مرکز قائم تھا۔

نو سو سال پرانا منظر – جب وقت ٹھہر گیا
مجھے لگا جیسے وقت ٹھہر گیا ہو – نو صدیوں کا فرق مٹ گیا ہو۔ میں جب جھیل کے چمکتے پانی کی طرف دیکھتا تھا تو مجھے تھکن سے چور، پیاس سے مرتے صلیبیوں کی پیاسی نگاہیں اور آہ و بکا سنائی دینے لگتی تھی اور جب نیچے کالی چٹانوں سے اٹی پتھریلی وادی کی طرف نگاہ دوڑاتا تھا تو ہر طرف سلطان صلاح الدین کے فوجی اور ان کی اللہ اکبر کی صدائیں کانوں میں گونجتی محسوس ہوتی تھیں۔ مجھے احساس تھا کہ میں اس جگہ کھڑا ہوں جہاں کبھی صلیبیوں کی مقدس صلیب نصب تھی اور اسی جگہ انہوں نے اسے ایسا کھویا تھا کہ پھر وہ کبھی انہیں واپس نہ مل سکی۔ میں نے حطین کو تاریخ کی کتابوں میں پڑھا تھا لیکن آج یہاں اس چوٹی پر عین اس جگہ کھڑے ہو کر اسے محسوس کر رہا تھا جہاں صلیبیوں کی شکست مکمل ہوئی تھی۔

چوٹی پر چلنے والی تیز ہوا کی سنسناہٹ مجھے جنگ کے ان آخری لمحوں کی کہانی سنا رہی تھی – میں اپنی چشم تصور سے سلطان کے سالار مظفر الدین گوکبری کو صلیب اعظم اکھاڑتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔مجھے گئی، شاتم رسول ریینالڈ اور ٹمپلرز کا گرینڈ ماسٹر جیرالڈ اپنے سینکڑوں نائٹس کے ساتھ ہتھیار ڈالتا نظر آیا۔ مجھے پہاڑی کے قدموں میں ہسپٹالرز کے گرینڈ ماسٹر اور دوسرے نائٹس کی بے شمار لاشیں بکھری نظر آئیں جو اپنی مقدس صلیب اعظم کی حفاظت کرتے ہوئے قربان ہو گئے تھے۔ پھر مجھے پروفیسر بینیامین کیدار کے الفاظ یاد آئے جو اس نے بی بی سی کی ڈاکیومنٹری فلم میں اس چوٹی پر کھڑے ہو کر کہے تھے:
“یہاں کھڑے ہو کر آپ سمجھ جاتے ہیں کہ صلاح الدین نے پانی کو ہتھیار کیوں بنایا۔”

نبی شعیب کا مقبرہ ، جب سیاہ پتھروں میں سبز گنبد چمکا
میں اپنے خیالات کی انہی اتھاہ گہرائیوں میں اتنا مگن تھا کہ مجھے اپنے گرد و پیش کا بھی احساس نہیں رہا تھا۔ اچانک ابو خالد کی آواز نے مجھے چونکا دیا – وہ جنوب کی طرف ایک پہاڑی پر بنی ایک انتہائی شاندار عمارت کی طرف اشارہ کر رہا تھا:
“ڈاکٹر یہ نبی شعیب کا مقبرہ ہے – مقامی لوگ اسے جیترو کا مقبرہ بھی کہتے ہیں۔”

میں نے چونک کر اس سمت دیکھا جدھر وہ انگلی سے اشارہ کر رہا تھا۔ میں نے سن رکھا تھا کہ حضرت شعیب علیہ السلام کا مقبرہ حطین کے علاقے میں ہی واقع ہے جو دروز فرقے کی سب سے مقدس زیارت گاہ ہے – لیکن یہ مقبرہ اتنا شاندار ہوگا یہ کبھی نہیں سوچا تھا۔ سر سبز پہاڑی کے دامن میں سفید رنگ کی دیواروں اور صنوبر اور زیتون کے درختوں میں گھری یہ سبز گنبد والی عمارت حطین کی سیاہ پتھروں والی اس بے آب و گیاہ وادی میں ایک عجیب ہی شان دکھا رہی تھی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس مقبرے کو دیکھنے کے بعد آپ کسی اور جانب دیکھنا ہی بھول جاتے ہیں۔ یہ عمارت پہاڑی کے دامن میں سیڑھیوں کی طرز پر اوپر نیچے کئی منزلوں پر بنی ہے جس کے ایک جانب بہت بڑا سفید رنگ کا مینار کھڑا نظر آتا ہے۔ اس مقبرے کو دیکھ کر لگتا ہے کہ آج کا حطین صرف اس عمارت کی وجہ سے زندہ ہے – باقی سب کچھ تو ویران ہو چکا ہے لیکن یہ مقبرہ اپنی سبز گنبد اور سفید دیواروں کے ساتھ ایسے کھڑا ہے جیسے حطین کی تاریخ کا آخری محافظ ہو۔

جمشید کا جام، جب ایک نظر میں سب کچھ نظر آیا
حطین کی یہ پہاڑی چوٹی مجھے جمشید کے جام کی طرح لگ رہی تھی جو مجھے ساری دنیا کا نہیں تو کم از کم اس علاقے کا نظارہ ایک ہی جگہ سے دکھا رہی تھی۔ اس پر کھڑے ہو کر میں محض اس سارے علاقے کے جغرافیائی خدوخال سے ہی رشتہ استوار نہیں کر رہا تھا بلکہ تاریخ بھی سرگوشیوں میں مجھ سے ہم کلام تھی۔ یہ صرف ایک جنگ کا میدان نہیں ہے بلکہ انسانی غلطیوں، بہترین جنگی حکمت عملی اور فطرت کا حسین زندہ مظہر بھی ہے۔ یہاں پہنچنا صرف سیاحت نہیں تھی بلکہ یہ ایک روحانی سفر بھی تھا جہاں پتھر بولتے ہیں اور ہوا میں آہیں رقص کرتی ہیں۔ دور دور تک خالی نظر آنے والا حطین کا میدان درحقیقت بہت بھرا ہوا محسوس ہوتا ہے -نو سو سال کی تاریخ سے بھرا ہوا، بیس ہزار لاشوں کی یادوں سے بھرا ہوا، پندرہ سو فلسطینیوں کی آہوں سے بھرا ہوا۔ ہر پتھر کے نیچے ایک کہانی دفن ہے – ہر ہوا کے جھونکے میں ایک آواز چھپی ہے۔

خدا حافظ حطین ،جب سورج صفوریہ کے پیچھے ڈوبا
دل تھا کہ بھرتا نہیں تھا اور آنکھوں کی پیاس تھی کہ بجھتی نہیں تھی – بس جی چاہتا تھا کہ وقت تھم جائے اور میں یونہی حطین کی چوٹی پر کھڑا ان نظاروں سے دل بہلاتا رہوں، تاریخ کے گزرے لمحات کو اسی طرح چشم تصور سے دیکھتا رہوں۔ محسوس کرتا رہوں۔ لیکن وقت کی کمی آڑے آ رہی تھی – چار بج رہے تھے ، سورج اب دن کا زیادہ سفر طے کرنے کے بعد صفوریہ کی پہاڑی کے پیچھے چھپنے کی تیاری کر رہا تھا۔ ہمیں ابھی عین جالوت بھی جانا تھا۔ اس لیے بھاری دل کے ساتھ حطین کے میدان اور اس کے سینگوں کو خدا حافظ کہا اور ہم نے واپسی کے لیے طبریہ کا رخ کیا جہاں سے جزریل کی وادی میں واقع “مایان ہیروڈ” چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ مایان ہیروڈ میں جبل جلبوع کے دامن میں “عین جالوت” کا وہ تاریخی چشمہ ہے جس کے گرد تاریخ کی دو بڑی جنگیں لڑی گئی تھیں۔

پہلی جنگ تو نو سو سال قبل مسیح میں طالوت اور جالوت کے درمیان لڑی گئی تھی جس میں حضرت داؤد علیہ السلام نے دیو قامت جالوت کو قتل کیا تھا ، اور دوسری جنگ دو ہزار سال بعد تین ستمبر بارہ سو ساٹھ عیسوی کو منگولوں اور سلطان بیبرس کے درمیان ہوئی تھی جس میں پہلی بار مسلمانوں نے منگولوں کو شکست دے کر تاریخ کا رخ بدل دیا تھا۔ اس کا مکمل احوال میری اس کتاب کے باب “غبار کارواں کی تلاش” میں موجود ہے۔ ہم حطین کی پہاڑی سے اترے اور جزریل کی وادی کی سمت چل پڑے جہاں جالوت کا چشمہ ہمیں بلا رہاتھا…..

(جاری ہے)‏

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment