ہوم << دنیا کی بے ثباتی اور انسان کی حقیقی میراث – محمد عارف بنگش
600x314

دنیا کی بے ثباتی اور انسان کی حقیقی میراث – محمد عارف بنگش

دنیا میں دو طرح کے وسائل پائے جاتے ہیں۔ افرادی وسائل اور مادی وسائل۔ افرادی وسائل سے مراد والدین، بھائی بہن، دوست احباب اور قریبی رشتے دار ہیں۔
اور مادی وسائل میں بینک بیلنس، کاروبار، جائیداد اور دیگر قیمتی اثاثے شامل ہیں۔ ہر مشکل گھڑی میں یہی دو کام آتے ہیں۔اور انسان زندگی بھر اسے بہتر سے بہتر انداز میں حاصل کرنے کی تگ ودودو میں لگا رہتا یے ۔

جب کہ اللہ نے ان دونوں کے بارے میں فرمایا کہ یہ سب عارضی ہیں اور ان کا اصل وارث وہی یے ۔ چناں چہ سورہ مریم کی آیت رقم 77 تا 80 میں ارشاد باری تعالی ہے:
اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاﭤ(77)
اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۙ (78)
كَلَّاؕ-سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّاۙ (79)
وَّ نَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ وَ یَاْتِیْنَا فَرْدًا(80)

ترجمہ: تو کیا تم نے اسے دیکھا جو ہماری آیتوں سے منکر ہوا اور کہتا ہے مجھے ضرو ر مال و اولاد ملیں گے۔ کیا غیب کو جھانک آیا ہے یا رحمٰن کے پاس کوئی قرار رکھا ہے۔ ہرگز نہیں اب ہم لکھ رکھیں گے جو وہ کہتا ہے اور اسے خوب لمبا عذاب دیں گے۔ اور جو چیزیں کہہ رہا ہے ان کے ہمیں وارث ہوں گے اور ہمارے پاس اکیلا آئے گا۔

اس آیت کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ صحابیِ رسول حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے عاص بن وائل نامی مشرک سے جب اپنا قرص مانگا تو اس نے عقیدۂ آخرت کا مزاق اڑاتے ہوئے کہا :
جس طرح دنیا میں میرے پاس مال و اولاد ہے، اس طرح آخرت میں بھی ہوگی۔لھذا میں وہیں یہ قرض لوٹادوں گا۔
اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ مال و اولاد تو ہمیشہ انسان کے تصرف میں رہنے والی چیزیں نہیں ہیں۔ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالی کی ہے اور اسی کی طرف لوٹ کرجائے گی۔ اور انسان تنِ تنہا اپنے رب کے حضور پیش ہوگا۔ پھر انسان کی میراث کیا چیز ہے؟
انسان کی اصل اور حقیقی میراث جنت ہے۔

سورہ مریم کی آیت رقم 63 میں ارشاد ہے:
تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا۔
ترجمہ : یہ وہ باغ ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اسے کریں گے جو پرہیزگار ہو۔

اہلِ ایمان کا جنت میں داخل ہونا اور وہاں ہمیشہ رہنا تو قرآن مجید میں متعدد بار بیان ہوا ہے۔ لیکن مذکورہ آیت میں اہلِ تقوی کے لیے جنت کی ایک اور حیثیت کا بھی ذکر ہوا کہ یہ ان کی میراث یے۔ اس کے ہیچھے درج ذیل دو اہم نکات پوشیدہ ہیں۔ میراث ایک ایسا حقِ ملکیت ہوتا ہے جو کسی سے چھینا نہیں جاتا ۔ بالکل اسی طرح جنت بھی گویا اہلِ تقوی کا فطری حق ہے جو اللہ کے فضل سے انہیں عطا کیا جائے گا۔ اور میراث کہہ کر اس طرف بھی اشارہ ہے کہ مثلا باپ کے فوت ہوتے ہی اس کی اولاد میراث میں حصہ دار ٹھرجاتی ہے۔ ۔ اسی طرح اہلِ تقوی کی روح جوں ہی پرواز کرے گی تو بغیر کسی تاخیر کے جنت کے باغات میں حصہ دار بن چکے ہوں گے۔یعنی ان کی موت اور جنت میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہے۔