یہ آواز بلند ہونے لگی کہ گھروں میں چلنے والے ٹیوشن سینٹرز پر پابندی لگنی چاہیے، جرمانے ہونے چاہئیں، قانون سخت ہونا چاہیے۔ مگر یہ بھی دیکھیے کہ یہ گھریلو ٹیوشن سینٹر وجود میں کیوں آئے؟
حمیدہ بی بی کوئی سرمایہ دار خاتون نہیں تھی۔ ان کا شوہر شام تک پھل کی ریڑھی لگا کر گھر کا چولہا جلاتا تھا، اور وہ خود تین سو، چار سو روپے ماہانہ لے کر پہلی سے پانچویں جماعت تک کے بچوں کو پڑھاتی تھی۔ کئی بچے ایسے بھی تھے جن سے کبھی فیس نہیں لی۔سوچیے، ایک عورت اپنے چھوٹے سے کمرے میں پینتیس بچوں کو کیوں جمع کرتی ہے؟
اس لیے کہ اسے دولت کمانی تھی؟
یا اس لیے کہ اس بستی کے والدین کے پاس اپنے بچوں کو کسی بڑی اکیڈمی بھیجنے کی استطاعت ہی نہیں تھی؟
یہ سانحہ یہ حقیقت بھی سامنے لایا۔غربت کے باوجود اس ملک کا غریب تعلیم سے محبت کرتا ہے۔ جو باپ تین سو روپے بھی مشکل سے نکالتا ہے، وہ بھی چاہتا ہے کہ اس کا بچہ اس کے جیسی زندگی نہ گزارے۔وہ کسی موٹر مکینک ورکشاپ کا “چھوٹے” بننے کے بجائے قلم پکڑے،کتاب سے دوستی کرے۔ اس امید کو جرمانے مت لگائیے۔ اسے سہارا دیجیے۔ اور پھر یہ بھی دیکھیے کہ جس عورت کو آج ملزم بنایا جا رہا ہے، وہ خود بھی اسی ملبے تلے دبی۔ اس کی اپنی بیٹی اور دیور کی چار سالہ بچی بھی ملبے میں دم توڑ گئی۔ وہ خود ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کے ساتھ ہسپتال میں پڑی ہے۔
عمارت غیر محفوظ تھی تو ذمہ داریوں کا تعین ہونا چاہیے مگر ایسی تو سینکڑوں غیر محفوظ بستیاں ہیں اس ملک میں انصاف کا تقاضا ہے کہ ان حالات کو بھی دیکھا جائے جنہوں نے غریب کو اس مقام تک پہنچایا۔ کراچی کی کچی آبادیوں میں چلے جائیے۔ حیدرآباد، سکھر، ملتان، فیصل آباد، پشاور، کوئٹہ… ہر شہر میں آپ کو ایسے سینکڑوں گھر ملیں گے جہاں شام ہوتے ہی کوئی بہن، کوئی ماں، کوئی ریٹائرڈ استاد، چند سو روپے کے عوض بچوں کو پڑھا رہا ہوتا ہے۔ یہ غیر قانونی کاروبار نہیں۔ یہ غربت کا بنایا ہوا تعلیمی نظام ہے۔
اگر آپ ان مراکز کو بند کریں گے تو کیا ان بچوں کے لیے محفوظ اور سستا متبادل بھی دیں گے؟
کیا ہر کچی آبادی میں سرکاری سہولیات سے آراستہ کمیونٹی ٹیوشن سینٹر قائم ہوں گے؟
کیا غریب کے بچے کے لیے مفت ٹرانسپورٹ ہوگی؟
مہنگائی کم ہوگی؟
کیا بجلی، گیس، آٹا، دال اور دودھ غریب کی پہنچ میں آئیں گے؟
یا صرف ٹیوشن سینٹروں پر تالے لگیں گے اور مقدمے درج ہوں گے؟
عجیب تضاد ہے، ایک طرف چند سو روپے کی فیس کے لیے پریشان ہونے والے والدین ہیں۔ دوسری طرف اربوں روپے شاہانہ اخراجات اور ان کی نمائش ہے۔ایک طرف باپ بچوں کی فیس کے لیے سارا دن ریڑھی لگاتا ہے۔دوسری طرف سرکاری عہدوں سے وابستہ شخصیات کی مہنگی گھڑیاں، قیمتی ملبوسات اور پُرتعیش تقریبات خبروں کی زینت بنتی ہیں۔یہ موازنہ حسد کا نہیں، ترجیحات کا ہے۔ ریاست کی عظمت اس کے وزراء کے محلات، جہازوں یا لائف اسٹائل سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ اس کی غریب بستی کا بچہ کتنے محفوظ کمرے میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہا ہے۔کاہنہ کی گری ہوئی چھت ایک سوال چھوڑ گئی ہے۔
ہم غربت کو جرم بنائیں گے؟
یا غربت کے اسباب ختم کریں گے؟
کیونکہ چھتیں اینٹوں اور سریے کے نہ ہونے سے نہیں گرتیں۔وہ اس وقت گرتی ہیں جب حکمرانوں کی ترجیحات کمزور پڑ جاتی ہیں۔



تبصرہ لکھیے