مقریزی نے معتبر مؤرخوں کے حوالے سے فاطمین کی دولت و ثروت کے متعلق مختلف مقامات پر کئی صفحے لکھے ہیں جس سے ان کے تمول کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ خزائن الاقصر کی تفصیل مقریزی نے 27 صفحات میں لکھی ہے مستنصر کے خزانوں کی تعریف و توصیف ”الف لیلہ و لیلہ “ کی ایک کہانی معلوم ہوتی ہے۔¹
معز جب بلاد مغرب سے اپنا پائے تخت منتقل کر کے مصر روانہ ہوا تو اس کے ساتھ ڈھیروں سونا تھا۔
کہتے ہیں کہ اس نے دینار پگھلا کر ان کی چکیاں بنوائیں اور ان کو سواریوں پر لاد کر اپنے ساتھ مصر لے گیا۔² معز کے مصر میں پہنچنے کے بعد فاطمین کا تمول آئے دن بڑھتا گیا ۔ اس کی ایک بیٹی عبدہ کا442 ہجری میں انتقال ہوا تو اس کے ترکے میں پانچ زمرد کی تھیلیاں اور مختلف قسم کے تینتی جواہرات کے علاوہ چار سو صندوق جن میں خالص چاندی کے کام کے تین ہزار برتن تھے۔ تیس هزار قطعے صقلی زردوزی اور کار چوبی کے نوے طشت اور نوے لوٹے خالص بلور کے ، چار سو تلواریں جن پر سونے کا پانی چڑھا ہوا۔ سترہ مثقال کا ایک سرخ یا قوت غرضیکہ یہ سب بیش بہا سرمایہ نکلا ۔ مرحومہ کے حجروں اور صندوقوں پر مہر کرنے میں چالیس پاؤنڈ موم خرچ ہوتا تھا۔ اور اس کے مال واسباب پر لیبل لگانے کے لیے کاغذ کے تمیں بستوں( دستوں ؟) کی ضرورت پڑتی تھی۔
معز کی دوسری لڑکی رشیدہ کا انتقال اسی سال ہوا۔ اس کے مال و اسباب کی قیمت کا انداز ستائیس لاکھ دینار کے لگ بھگ کیا گیا۔ اس کے علاوہ بارہ ہزار رنگ برنگ کے کپڑے۔ کافور قیصری سے بھرے ہوئے سو صندوق ، سر پر ڈالنے کے جواہر دوز کئی رومال برآمد ہوئے ہیں۔³ خود معز نے دنیا کا ایک نقشہ سونے اور مختلف رنگوں کا شہر تستر (ایران) میں بائیس ہزار دینار کی لاگت سے تیار کرایا۔ اس کی بیوی تعزید نے قرافہ میں ایک مسجد سنگ مرمر کے ستونوں کی بنوائی جس کی آرائش میں بڑی رقمیں صرف کی گئیں۔ چھت کی بہترین نازک نقاشی کی نفاست آپ اپنا جواب تھی۔ قصر شرقی کی بنیاد قائد جوہر نے معز کے حکم سے ڈالی تھی⁴ ۔ اس کی بڑی تعریف کی گئی ہے۔ یہ بستان کا فوری سے متصل تھا۔ اس کی وسعت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ اس میں تقریباً چار ہزار قطعے تھے جن میں ہر قطعہ قصر یا محل کہا جاتا تھا۔
ان محلوں کے مجموعے کا نام قصر کبیر تھا۔ اس میں ایک سونے کا محل تھا جس قصر الذہب کہتے تھے۔ اس کا دروازہ بھی سونے کا تھا۔ اس میں ایک شامیانے کے نیچے سونے کا تخت تھا۔ جس پر خلفا جلوہ نما ہوتے تھے۔ تخت کے سونے کا پانے کے وزن ایک لاکھ دس ہزار مثقال بتایا جاتا ہے ۔ مستنصر کے زمانے میں اس کے سامنے کے ایک پردے میں ایک ہزار پانچ سو ساٹھ مختلف رنگوں کے ہیرے جڑے گئے اور تقریبا تین لاکھ مثقال خالص سونے کا استعمال کیا گیا۔⁵ اس کے علاوہ ایک دوسرا حل قصر زمرد تھا جس کے ستون سنگ مرمر کے تھے اور اس کے ایک عالیشان دالان میں خلیفہ دو شنبہ اور پنجشنبہ کو بیٹھتا تھا۔ اب ان محلات کا کوئی نشان باقی نہیں۔ ان کی جگہ سوق النحاسین اور خان الخلیلی دو بازار قائم ہو گئے ہیں۔
معز نے خلافت عباسیہ کے پردے سے بہت بڑا ایک چوکور سرخ ریشمی پردہ (شمسیہ⁶) ایک سو چالیس بالشت لمبا تیار کرایا تھا۔ اس کے گردسونے کے بارہ چاند اور ہر چاند میں سونے کا ایک ایک ترنج اور ہر ترنج میں کبوتر کے انڈے کے برابر پچاس پچاس موتی ٹانکے گئے تھے۔ اس کے علاوہ سرخ، پہلے اور نیلے رنگ کے جواہرات بھی لگائے گئے تھے۔ اس کے گرد مردی حروف میں حج کی آیتیں لکھوائی گئی تھیں جن کے اطراف جواہر دوزی کی گئی تھی ۔ یہ پردہ مشک سے رہتا اور قصر میں نمائش کے لیے رکھا گیا تھا۔⁷ عزیز کو جواہرات اور نو اور جمع کرنے کا بہت شوق تھا۔ ان کے فراہم کرنے میں بڑی کے بڑی رقمیں صرف کی گئیں۔ ہتھنیاں ، گینڈے اور دوسرے عجیب قسم کے جانور جو پہلے مصر میں نایاب تھے افریقہ کے دوسرے شہروں سے لائے گئے۔ سونے کا محل ، شامیانے اور سونے کا تخت یہ سب چیزیں عزیز ہی کے زمانے کی ہیں۔
جامع حاکم جس کی بنیاد عزیز نے رکھی، جامع قرافہ اور دوسرے محلات خاص کر قصر البحر جس کی شان میں ابن خلکان یہ کہتا ہے کہ اس کی نظیر نہ شرق میں پائی جاتی تھی نہ عرب میں ⁸ عزیز کی ثروت کا پتا دیتے ہیں ۔ عزیز ہی کے عہد سے فوج کے سواروں نے مراسم کے موقعوں پر سنہری زینوں کا استعمال شروع کیا ہے۔⁹ حاکم نے بھی اپنے ترکے میں بہت مال چھوڑا ۔ اسے بھی اپنے بزرگوں کی طرح اپنی شان و شوکت دکھانے کا بڑا شوق تھا۔ جب اسے یہ خبر پہنچی کہ قیصر قسطنطنیہ کا ایلچی مصر آنے والا ہے تو اس نے قصر کی آرائش کا حکم دیا۔ قصر کی دیوار میں ریشمی زرین کپڑوں سے آراستہ کی گئیں۔ تمام ایوان سونے سے جگمگانے لگا۔ ایوان کے آگے سونے کا ایک قطعہ ورقہ“ کی شکل کا جواہرات سے مرصع رکھا گیا۔ سورج کی شعاعیں جب اس پر گر کر منعکس ہوتیں تو ان کی روشنی سے اطراف کی چیزیں چمک اٹھتی تھیں۔
حاکم کی بہن کے محل سے آٹھ سو لونڈیاں مشک سے بھرے ہوئے آٹھ مرتبان بہت سے جواہرات جن میں ایک یاقوت آٹھ مثقال کا تھا۔ اس کی سالانہ آمدنی پچاس ہزار دینار تھی۔یہ حلم اور کرم میں مشہور تھی۔¹⁰
حوالہ جات:
1 ۔ Lane Poole. P-147
2 ۔ الفاظ الحفاء ۲۵
3. . مقریزی ۲/۲۶۴
4. عزیز نے اس کے مقابل ایک دوسرا حل بنایاتھا جو اسے چھوٹا تھا۔ اس لیے اسے عربی میں کہتے تھے۔ ان دو قصروں کے درمیان ایک بہت بڑا وسیع میدان تھا۔ جو بین القصرین کہا جاتا تھا۔ اس میں دس ہزار سپاہی پریڈ کر سکتے تھے۔
5. . مقریزی
6. مقریزی ۲/۲۱۷ شمسیہ” لکھا ہے جس سے مراد پردہ ہے (الفاطميون في مصر ۲۲۵ بحوالہ مستشرق.Quatermere جس نے اس پر کافی بحث کی ہے )
7. مقریزی
8. مقریزی ابوالمحاسن
9. ابن خلکان
10. مقریزی تاریخ فاطمین مصر



تبصرہ لکھیے