ایک وقت تھا جب گھر صرف اینٹوں اور دیواروں کا نام نہیں تھے بل کہ محبت ، خلوص اور اپنائیت کا مسکن ہوا کرتے تھے۔ ایک ہی چھت تلے رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے اور ایک دوسرے کی خاموشی بھی سمجھ لیتے تھے۔ مگر آج حالات بدل چکے ہیں۔
اب گھروں میں لوگ تو ساتھ رہتے ہیں مگر دل ایک دوسرے سے بہت دور ہو گئے ہیں۔ آج کا انسان سہولیات میں جتنا آگے بڑھا ہے، احساسات میں اتنا ہی پیچھے رہ گیا ہے۔ پہلے چھوٹے چھوٹے گھروں میں بھی سکون ہوا کرتا تھا کیوں کہ وہاں محبت زندہ تھی۔ اب بڑے بڑے مکانات میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے لیے اجنبی محسوس ہوتے ہیں۔ ایک ہی دسترخوان پر بیٹھے افراد کے ہاتھوں میں موبائل تو ہوتے ہیں، مگر دلوں میں گفت گو نہیں ہوتی۔رشتوں میں سرد مہری کی سب سے بڑی وجہ مصروفیت نہیں بل کہ ترجیحات کی تبدیلی ہے۔ لوگ اپنے قریبی رشتوں کے لیے وقت نکالنے کی بجائے دنیا کو خوش کرنے میں مصروف ہیں۔
ماں باپ ، اولاد کے ساتھ بیٹھنے کو ترستے ہیں، بہن بھائی ایک دوسرے کے حال سے بے خبر ہیں اور میاں بیوی ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی جذباتی فاصلے کا شکار ہو چکے ہیں۔ہم نے گھروں کو خوب صورت بنانے پر توجہ دی مگر تعلقات کو خوب صورت بنانا بھول گئے۔ دیواروں پر مہنگی سجاوٹ تو آ گئی، مگر لہجوں سے مٹھاس ختم ہو گئی. اب لوگ ایک دوسرے کے کمروں کے دروازے تو کھٹکھٹاتے ہیں، مگر دلوں کے دروازے بند رکھتے ہیں۔اصل میں ہم انسان انا، غلط فہمی اور بے توجہی کی ایسی دیمک کی لپیٹ میں آ چکے ہیں جو رشتوں کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہی ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ اسے سمجھا جائے مگر دوسروں کو سمجھنے کی کوشش کم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے لوگ جذباتی تنہائی کا شکار ہو گئے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دوبارہ رشتوں کو وقت دیں، ایک دوسرے کی بات سنیں، محبت بھرے لہجے اپنائیں اور اپنے گھروں کو صرف رہائش نہیں بل کہ سکون کا مقام بنائیں۔ کیوں کہ گھر کی اصل خوب صورتی اس کی دیواروں میں نہیں، بل کہ اس میں بسنے والے دلوں کی قربت میں ہوتی ہے۔



تبصرہ لکھیے