ہوم << انسان اور کائنات، اسلامی تصور – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
600x314

انسان اور کائنات، اسلامی تصور – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کائنات بہت وسیع ہے۔ جو کچھ ہمیں نظر آتا ہے، جو کچھ ہم اب تک معلوم کرچکے ہیں، اس سے کہیں زیادہ وہ کچھ ہے جو ہماری نظروں سے اوجھل ہے، جو ہمیں معلوم نہیں ہے۔ اس حقیقت پر نظر ہو تو انسان کو عجز اور تذلل کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔

قرآن کریم نے بارہا اس پہلو سے استدلال کیا ہے کہ یہ متکبرین خود کو کیا سمجھ بیٹھے ہیں؟
ان کی حقیقت ہی کیا ہے؟

حقیر پانی سے پیدا کیے گئے، اور جب پیدا کیے گئے تو کتنے کمزور تھے. جن کو علم کا تکبر ہے، وہ کچھ بھی نہیں جانتے تھے. علم ہو یا دولت ، سب کچھ دیا تو اللہ نے ہی ہے اور وہ لے بھی سکتا ہے؛ وہ چاہے تو پھر ضعف میں مبتلا کردے، پھر ’ارذل العمر‘ میں دھکیل دے ، پھر سب علم و حکمت یوں چھین لے کہ کچھ بھی یاد نہ رہے. یہ متکبرین آکر پوچھتے ہیں کہ کون گلی سڑی ہڈیاں پھر سے زندہ کرے گا. کہہ دو کہ وہی جس نے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا، جس نے پہلی دفعہ ان میں جان ڈالی تھی؛ جس نے زمین و آسمان پیدا کیے ہیں، اس کے لیے تمھارا دوبارہ زندہ کھڑا کرنا کیا مشکل ہے؟

ہاں، لیکن قرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ کائنات کتنی ہی وسیع ہو، مخلوقات کا تنوع اور ان کی کثرت کتنی ہی حیران کردینے والی ہو، سکتے میں ڈالنے والی ہو، انسان کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی حیثیت بہرحال دی ہے۔ اس خصوصی حیثیت کی وجہ سے ہی فرشتوں کو حکم ملا کہ آدم علیہالسلام کو سجدہ کریں۔ انسان نے وہ ذمہ داری اٹھائی ہے جسے اٹھانے کی سکت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں میں بھی نہیں تھی، اسے اللہ تعالیٰ نے زمین میں ایک محدود پیمانے پر ، ایک محدود مدت کیلیے، صاحبِ اختیار بنا کر بھیجا ہے اور پھر اس نے واپس اللہ کے پاس جاکر اس مدت کے متعلق جو اس نے اس دنیا میں گزاری، اس اختیار کے متعلق جس کا اس نے استعمال کیا، جوابدہی کرنی ہوگی۔

انسان اگر اس امتحان میں کامیاب ہوا تو ابدی خوشیاں اس کی ہوئیں، ورنہ شدید ترین سزا کا مستحق ہوگا۔ سورہ البقرہمیں آدم علیہ السلام کا واقعہ ان تمام پہلوؤں کو بہت خوبصورتی سے واضح کردیتا ہے۔ پھر آگے بنی اسرائیل کے ساتھ تفصیلی مکالمے میں جو پہلے پارے کے اختتام تک جاری رہتا ہے، مختلف پیرایوں میں یہ بات واضح کی ہے کہ بنی اسرائیل پر اللہ نے جو خصوصی انعام کیا تو وہ ایمان اور عمل صالح کے ساتھ مشروط تھا؛ وہ اللہ کے ساتھ باندھا گیا عہد پورا کریں گے، تو اللہ بھی ان کے ساتھ اپنا عہد پورا کرے گا؛ اللہ کے سامنے حسب نسب کسی کام آنے والا نہیں ہے؛ کامیابی ایمان اور عمل صالح پر ملے گی۔

قرآن کریم نے آدم علیہالسلام کی اولاد کی تکریم اور ’’بہت سی مخلوقات‘‘ پر ان کی خصوصی فضیلت کا اعلان کیا ہیاور بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بحر و بر پر اسے برتری عطا کی ہے اور اسے پاک رزق دیا ہے ( سورہ بنی اسرائیل، آیت 70).

اس نے متعدد اسالیب میں یہ بات بھی واضح کی ہے کہ زمین و آسمان کا سارا انتظام کیسے اس نے یوں متوازن بنایا ہے کہ اس نے انسان کے لیے ماحول سازگار بنا دیاہے، کیسے وہ ہوائیں چلاتا ، بادل اٹھاتا ، بارش برساتا، فصل اگاتاہے، کیسے دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن لاتا ہے تاکہ انسان رزق بھی تلاش کرے اور آرام بھی کرے۔

سورہ بقرہ، آیت 22 میں فرمایا:
’’اس نے تمھارے لیے زمین کو بچھونا بنادیا، آسمان کو چھت بنادیا، آسمان سے پانی برسایا جس سے اس نے تمہارے لیے رزق نکالا۔‘‘

آگے آیت 29 میں اس سے زیادہ عموم کے ساتھ تصریح کی کہ زمین سب کچھ اس نے ’’تمہارے لیے‘‘ بنایا ہے۔ کیا ایسی آیات سے یہ استدلال درست ہے کہ انسان کی مصلحت ہی اس کائنات کی تخلیق کا واحد مقصد ہے؟
کیا اس طرح انسان کی اہمیت خدا سے بڑھ نہیں جاتی؟
خدا انسان کا بھلا چاہنے کے لیے ہے یا انسان خدا کا فیصلہ ماننے کے لیے ہے؟
یہ بحث تو اصلاً علمِ کلام کی ہے لیکن پہلے اصولِ فقہ میں اٹھائے گئے بعض سوالات پر غور ضروری ہے۔
’’حاکم‘‘(Lawgiver) کون ہے؟
کیا تمام شرعی احکام ’’معلول ‘‘(rational) ہوتے ہیں یا بعض احکام ’’تعبّدی‘‘ (ritual) بھی ہوتے ہیں ؟

’’علت‘‘(ratio) اور ’’سبب‘‘ (cause) میں فرق کیا ہے؟
کیا حکم کا ’’تعدیہ‘‘ (extension) صرف علت کی بنا پر ہوتا ہے یا ’’حکمت‘‘ (wisdom) پر بھی ہوسکتا ہے؟
علت اور حکمت کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ شریعت کا مقصود اصلی کیا ہے؟
اس مقصود اصلی کے علاوہ دیگر ضمنی مقاصد بھی ہیں یا نہیں؟
ان مقاصد کا آپس میں تعلق کیا ہے؟

’’تکلیف‘‘ (کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا مطالبہ) کی بنیاد کیا ہے؟
کیا ’’تکلیف ما لا یطاق‘‘(ایسا مطالبہ جس کا پورا کرنا انسان کے بس میں نہ ہو) عقلاً ناجائز ہے یا اس وجہ سے ناجائز ہے کہ شریعت نے اس کی نفی کی ہے؟
کیا ہر چیز اصل میں مباح (جائز) ہے جب تک اس کے ناجائز ہونے کی دلیل نہ ملے، یا اصل حکم حرمت کا ہے جب تک جائز ہونے کی دلیل نہ ملے؟
اللہ کا حکم کیا صرف وحی کے ذریعے ہی معلوم ہوتا ہییاوحی کے علاوہ کسی اور طریقے سے بھی معلوم ہوسکتا ہے؟

ایسے کئی سوالات ہیں جن پر بحث کے بعد ہمارے متکلمین اور اصولیین نے کچھ بنیادی باتیں طے کی ہیں اور وہی مسلمانوں کے تصورِ جہاں کی بنیاد بنی ہیں۔ اس بحث میں یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ جب وحی نہیں تھی، تب کیا حکم تھا؟

کیا اس وقت سب کچھ جائز تھا؟ امام غزالی اس کی نفی کرتے ہیں کیونکہ ’’جائز ہونا‘‘تو شرعی حکم ہیاورشرعی حکم تو وحی سے معلوم ہوتا ہے۔ تو کیا سب کچھ حرام تھا؟ امام غزالی پھر نشان دہی کرتے ہیں کہ کسی شے کا ’’ناجائز ہونا‘‘ بھی تو شرعی حکم ہے جو وحی سے معلوم ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت حکم ’’توقّف‘‘ کا تھا، یعنی جب تک وحی نہ آئے، کسی کام کو جائز یا ناجائز نہیں قرار دیا جاسکتا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ آج بھی نئے مسئلے میں، فوراً ہی جواز یا عدم جواز کی رائے دینے کے بجائے توقّف اختیار کرنا لازم ہے جب تک شریعت کا حکم معلوم نہ ہوجائے، خواہ یہ معلوم ہونا ظنی ہو، کیونکہ یقین کا درجہ حاصل نہ بھی ہو، تو عمل کے لیے ظن کافی ہوتا ہے۔

البتہ جب قرآن و سنت پر غور کے تمام طریقے آزمانے اور حتی الوسع پوری کوشش کرنے کے باوجود ہمیں اس شے کے ناجائز ہونے کی دلیل نہ ملے ، تو پھر سورہ بقرہ کی آیت 29 کی بنیاد پر، کہ اللہ نے زمین میں سب کچھ تمھارے لیے پیدا کیا ہے، اور اس نوع کی دیگر آیات سے استدلال کرتے ہوئے اسے جائز مانا جاسکتا ہے۔ چنانچہ فقہائے کرام’’اباحتِ اصلیہ‘‘ کو آخری دلیل کے طور پر، نہ کہ پہلی دلیل کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اب ہم اس بحث کے آخری سوال پر پہنچ گئے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد شفاء تعمیرِ ملت یونیورسٹی اسلام آباد میں پروفیسر اور سربراہ شعبۂ شریعہ و قانون ہیں۔ اس سے پہلے چیف جسٹس آف پاکستان کے سیکرٹری اور شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔قبل ازیں سول جج/جوڈیشل مجسٹریٹ کی ذمہ داری بھی انجام دی۔ اصولِ قانون، اصولِ فقہ، فوجداری قانون، عائلی قانون اور بین الاقوامی قانونِ جنگ کے علاوہ قرآنیات اور تقابلِ ادیان پر کئی کتابیں اور تحقیقی مقالات تصنیف کرچکے ہیں۔

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment