گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ عوامی رائے محض سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ مقامی، قومی اور بین الاقوامی عوامل کے امتزاج سے تشکیل پاتی ہے۔ اگرچہ پاکستان مسلم لیگ (ن) ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر میدان میں موجود تھی، وفاق میں بھی ان کی حکومت تھی تاہم وہ سادہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔
حفیظ الرحمن مخالف دھڑے کی ناکامی
انتخابات سے چھ ایک ماہ قبل یہ تاثر موجود تھا کہ سابق وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن کے مخالفین ن لیگ کے اندر ایک متبادل سیاسی قوت کے طور پر ابھر سکتے ہیں، وہ سبھی اچھے خاصے الیکٹیبلز تھے۔لیکن نتائج نے اس تصور کو غلط ثابت کر دیا۔ بعد میں مرکزی قائدین نے راضی نامی تو کروادیا تھا مگر اندرونی چپقلش تو اتنی آسانی سے مٹنے والی نہ تھی ۔جس کا اظہار پرنس سلیم نے بھی ہفتہ قبل کی گئی پریس کانفرنس میں بھی کر دیا تھا۔
حفیظ الرحمن مخالف گروپ ایک بھی نشست حاصل نہ کر سکا۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ جماعت کے اندرونی اختلافات اگرچہ موجود تھے، مگر عوامی سطح پر وہ کسی مؤثر سیاسی حمایت میں تبدیل نہ ہو سکے۔ اس ناکامی نے ن لیگ کے ووٹ بینک کو یکجا کرنے کے بجائے پانچ چھے حلقوں میں جماعت کو شکست سے دو چار کیا۔
ایران ۔امریکہ کشیدگی اور مذہبی جذبات
انتخابات کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بھی غیر محسوس اور غیر مرئی انداز میں مقامی سیاست پر اثرانداز ہوئی۔ گلگت بلتستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ، جو ایران کے نظامِ ولایتِ فقیہ کے ساتھ مذہبی اور فکری وابستگی محسوس کرتا ہے۔انتخابی ماحول سے پہلے ہی پاکستان میں ایم ڈبلیو ایم اور تحریک انصاف کی جانب سے یہ تاثر پیدا کیا گیا اور بھرپور اس کا انتظام بھی کیا گیا کہ مسلم لیگ (ن) امریکی پالیسیوں کے قریب ہے اور اس کی قیادت امریکہ اور سابق امریکی صدر ٹرمپ کے حوالے سے نرم رویہ رکھتی ہے۔ خواہ یہ تاثر حقیقت پر مبنی تھا یا نہیں، لیکن سیاست میں بعض اوقات تاثر خود ایک حقیقت بن جاتا ہے۔ اس فضا نے بعض ووٹروں کے سیاسی فیصلوں پر اثر ڈالا۔
بھٹو ازم کی مسلسل موجودگی
گلگت بلتستان کے نتائج نے ایک بار پھر یہ ظاہر کیا کہ بھٹو ازم آج بھی پاکستانی سیاست میں نہ سہی گلگت بلتستان میں ایک زندہ حقیقت ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی نظریاتی شناخت اور تاریخی سیاسی ورثے کی بنیاد پر قابلِ ذکر عوامی حمایت حاصل کی۔ ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی میراث آج بھی ووٹرز کے ایک بڑے طبقے کو متاثر کرتی ہے۔ اس کا اظہار خصوصاً بلتستان ریجن میں بدرجہ اتم دیکھنے کو ملا۔ یہاں تک کہ مہدی شاہ کا تیس سالہ بیٹا بھی بڑے سیاسی برج راجہ جلال مقپون اور اکبر تابان کو ہرا بیٹھا ہے ۔یہ انتخاب اس امر کا ثبوت ہے کہ نظریاتی سیاست ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اسی وجہ سے پیپلز پارٹی اپنے روایتی ووٹ بینک کو متحرک کرنے میں کامیاب رہی۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ
عوام کی روزمرہ زندگی سے جڑے مسائل ہمیشہ انتخابی نتائج پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا جس کے اثرات عام آدمی کی معاشی زندگی پر مرتب ہوئے۔ مہنگائی، ٹرانسپورٹ کے بڑھتے اخراجات اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بے جا اضافے نے عوام میں بے چینی پیدا کی۔ اور انہوں نے ووٹ کا استعمال کرکے کہیں نہ کہیں پر اپنی فرسٹریشن کا تدارک کرنے کی سعی کی ہے۔
اگرچہ ان فیصلوں کا تعلق مکمل طور پر صوبائی یا مقامی حکومت سے نہیں تھا، لیکن ووٹر اکثر اپنی ناراضی کا اظہار حکمران جماعت کے خلاف ووٹ کی صورت میں کرچکے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کو بھی اس عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔
انتخابی مہم میں مرکزی قیادت کی محدود دلچسپی انتخابی سیاست میں قیادت کی موجودگی اور کارکنوں کا حوصلہ لازم و ملزوم ہوتے ہیں سیٹ جیتنے کے لئے۔ اس انتخاب میں یہ تاثر نمایاں رہا کہ ن لیگ کی مرکزی قیادت نے گلگت بلتستان کی انتخابی مہم کو وہ اہمیت نہیں دی جو پاکستان پیپلز پارٹی نے دی۔
میاں نواز شریف کا مختصر دورہ، جو چند گھنٹوں تک محدود رہا۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کی قیادت مسلسل رابطوں، جلسوں اور انتخابی سرگرمیوں کے ذریعے میدان میں متحرک دکھائی دی۔ اس فرق نے کارکنوں کے جوش و جذبے اور عوامی تاثر دونوں پر اثر ڈالا۔ نہ امیر مقام وہ اثر پیدا کر سکے جو ماضی میں وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان کر سکنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات کسی ایک وجہ پر منتج نہیں ہوئے بلکہ سیاسی، مذہبی، معاشی اور تنظیمی عوامل نے مل کر انتخابی منظرنامہ تشکیل دیا۔ ن لیگ کی سادہ اکثریت حاصل نہ کر سکنے کی وجوہات میں داخلی سیاسی کشمکش، بین الاقوامی حالات کے مقامی اثرات، بھٹو ازم کی پائیدار کشش، مہنگائی کے باعث عوامی ناراضی اور انتخابی مہم میں مرکزی قیادت کی محدود شمولیت شامل ہیں۔
اس تمام انتخابی عمل میں فرقہ وارانہ واقعات نہ ہونے کے برابر رہے۔ ورنہ حافظ حفیظ الرحمن کے لئے اپنی نشست پر کامیابی حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ،یہی حالت حلقہ ایک میں بھی رہی ،لوگوں نے فرقے کی سیاست سے ماورا ہوکر انتخابی عمل میں اپنا کردار ادا کیا ۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ عوام ہر انتخاب میں سیاسی جماعتوں کو نئے پیغامات دیتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے ووٹرز نے بھی اپنے فیصلے کے ذریعے یہی پیغام دیا ہے کہ عوامی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے صرف اقتدار نہیں بلکہ مسلسل عوامی رابطہ، مؤثر حکمت عملی اور زمینی حقائق کا ادراک بھی ضروری ہے۔



تبصرہ لکھیے