پاکستان اس وقت ایک ایسے سماجی، فکری اور ابلاغی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں میڈیا، سماجی اداروں اور علمی حلقوں کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا، سوشل نیٹ ورکس اور فوری اطلاعات کے اس عہد میں جہاں معلومات کی رفتار تیز ہوئی ہے، وہیں غلط معلومات، نفرت انگیز بیانیوں، مذہبی تقسیم اور سماجی پولرائزیشن میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ایسے ماحول میں اگر کچھ ادارے اور افراد پاکستان میں مکالمے، رواداری، بین المذاہب ہم آہنگی اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کیلئے عملی کوششیں کر رہے ہیں تو یقیناً ان کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔
18 مئی 2026 کو Resilient Women Network نے Rawalpindi Islamabad Union of Journalists کے اشتراک سے (PIPS) Pakistan Institute for Parliamentary Services میں “جامع معاشروں کے لیے ذمہ دار صحافت: قبولیت اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ میں میڈیا کا کردار” کے عنوان سے ایک اہم سیمینار منعقد کیا۔ یہ سیمینار محض ایک رسمی علمی نشست نہیں تھا بلکہ پاکستان میں سماجی ہم آہنگی، انسانی احترام اور inclusive narratives کے فروغ کی ایک سنجیدہ فکری کوشش تھی۔
اس سیمینار میں ممتاز صحافیوں، پارلیمنٹیرینز، سول سوسائٹی کے نمائندوں، ماہرینِ تعلیم، سماجی کارکنوں اور میڈیا پروفیشنلز نے شرکت کی۔ گفتگو کا محور یہ تھا کہ آخر پاکستان جیسے متنوع معاشرے میں میڈیا کس طرح ذمہ دارانہ کردار ادا کر سکتا ہے اور کس طرح نفرت، تقسیم اور تعصب کے بجائے قبولیت، احترام اور بقائے باہمی کے کلچر کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ آج جب دنیا بھر میں میڈیا صرف خبر رسانی کا ذریعہ نہیں بلکہ رائے سازی، ذہن سازی اور سماجی رویوں کی تشکیل کی طاقت بن چکا ہے، ایسے میں پاکستان میں اس نوعیت کے مکالمے بے حد ضروری ہو چکے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ کئی دہائیوں سے مذہبی، لسانی، فرقہ وارانہ اور نظریاتی تقسیم کا شکار رہا ہے۔
سوشل میڈیا نے جہاں اظہار کی آزادی کو وسعت دی، وہیں غیر ذمہ دارانہ بیانیوں، جعلی خبروں اور نفرت انگیز پروپیگنڈے کو بھی طاقت بخشی۔ یہی وجہ ہے کہ ذمہ دار صحافت آج صرف ایک پیشہ ورانہ تقاضا نہیں بلکہ ایک قومی اور اخلاقی ضرورت بن چکی ہے۔اس سیمینار کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ یہاں “برداشت” سے آگے بڑھ کر “قبولیت” کی بات کی گئی۔ برداشت کا مطلب یہ ہے کہ ہم دوسرے کو مجبوراً برداشت کریں، جبکہ قبولیت کا مطلب یہ ہے کہ ہم دوسرے انسان کے وجود، عقیدے، شناخت اور وقار کو دل سے تسلیم کریں۔ یہی وہ فکری تبدیلی ہے جس کی آج پاکستان کو اشد ضرورت ہے۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر RWN محترمہ آسیہ ناصر نے اپنے استقبالیہ خطاب میں نہایت بصیرت افروز انداز میں اس حقیقت کی نشاندہی کی کہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے اور ایک ترقی پسند معاشرے کی تعمیر میں اس کا کردار فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جعلی خبروں اور misinformation کے اس دور میں صرف ذمہ دار، اخلاقی اور حقائق پر مبنی صحافت ہی معاشرے کو انتشار سے بچا سکتی ہے۔ ان کی گفتگو میں صرف ایک سماجی کارکن کی آواز نہیں بلکہ ایک ایسی خاتون رہنما کی فکری سنجیدگی موجود تھی جو پاکستان کے سماجی تنوع اور محروم طبقات کے مسائل کو گہرائی سے سمجھتی ہیں۔
درحقیقت Resilient Women Network گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں اقلیتوں، خواتین، محروم طبقات اور سماجی طور پر نظر انداز کیے گئے گروہوں کے حوالے سے جس سنجیدگی اور مستقل مزاجی سے کام کر رہا ہے، وہ قابلِ قدر ہے۔ یہ ادارہ صرف سیمینارز یا تقریبات تک محدود نہیں بلکہ ایک فکری تھنک ٹینک کے طور پر پاکستان میں inclusive society کے تصور کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب معاشرے میں polarization بڑھ رہی ہو، یہ ادارہ مکالمے، آگاہی اور سماجی شعور کے ذریعے پل تعمیر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
خصوصی طور پر میڈم آسیہ ناصر کی قیادت میں اس نیٹ ورک نے اقلیتوں کے حقوق، بین المذاہب ہم آہنگی، خواتین کی شمولیت اور سماجی انصاف جیسے موضوعات کو قومی مکالمے کا حصہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی کاوشیں اس بات کی مثال ہیں کہ اگر نیت، وژن اور commitment موجود ہو تو سماجی سطح پر مثبت تبدیلی پیدا کی جا سکتی ہے۔اسی طرح متعدد مرتبہ رکنِ قومی اسمبلی رہنے والی محترمہ ثریا اصغر صاحبہ کی موجودگی اور خدمات بھی اس جدوجہد کا اہم حصہ ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ محروم طبقات، خواتین اور اقلیتوں کے مسائل کو سنجیدگی سے اجاگر کیا۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں اکثر کمزور طبقات کی آواز دب جاتی ہے، وہاں ثریا اصغر جیسی شخصیات امید کی علامت بن کر سامنے آتی ہیں۔ ان کی سماجی وابستگی اور عوامی خدمت کا جذبہ یقیناً خراجِ تحسین کا مستحق ہے۔
سیمینار میں سینئر صحافی مظہر عباس، آصف بشیر چودھری اور ارشد انصاری نے بھی نہایت اہم نکات اٹھائے۔ خصوصاً مظہر عباس نے “ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط” کے قومی اصولوں کو تمام مذاہب کے احترام کے ساتھ جوڑتے ہوئے یہ واضح کیا کہ میڈیا کو صرف خبر نہیں بلکہ ذمہ داری کے ساتھ سچ بیان کرنا سیکھنا ہوگا۔میری اپنی گفتگو کا محور برصغیر کی انسان دوست صوفی روایات تھیں جو بابا فرید، شاہ حسین، بھگت کبیر، گرو نانک اور بابا بلھے شاہ سمیت کئی بزرگوں کی تعلیمات سے ملتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر پاکستان کو نفرت، انتہاپسندی اور تقسیم سے نکالنا ہے تو ہمیں اپنی صوفیانہ اور تہذیبی روایت کی طرف واپس جانا ہوگا۔
حضرت بابا فریدؒ، حضرت داتا گنج بخشؒ، شاہ حسینؒ، سچل سرمستؒ اور شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ نے انسان کو مذہب، نسل اور فرقے سے بالاتر ہو کر انسان سمجھنے کا درس دیا۔ ان بزرگوں کا پیغام محبت، خدمت، عاجزی اور انسان دوستی تھا۔آج کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انسان نے ٹیکنالوجی تو حاصل کر لی مگر روحانی توازن کھو دیا۔ سوشل میڈیا نے رابطے تو بڑھا دیے مگر دلوں کے فاصلے کم نہ ہو سکے۔ ایسے میں صوفیانہ فکر ایک اخلاقی اور روحانی توازن فراہم کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میڈیا اور تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ صوفیا کے انسان دوست بیانیے کو فروغ دیں تاکہ نوجوان نسل نفرت، تعصب اور انتہاپسندی کے بجائے محبت، شعور اور قبولیت کی طرف آئے۔
اس سیمینار کا ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ یہاں مذہبی اقلیتوں اور marginalized communities کے مسائل کو صرف “human rights issue” کے طور پر نہیں بلکہ ایک قومی اخلاقی ذمہ داری کے طور پر دیکھا گیا۔ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں کمزور، اقلیت اور مختلف سوچ رکھنے والا فرد خود کو محفوظ محسوس کرے۔پاکستان کی اصل خوبصورتی اس کے تنوع میں ہے۔ یہاں مختلف زبانیں، ثقافتیں، مذاہب اور روایات صدیوں سے ساتھ رہتی آئی ہیں۔ اگر ہم اس تنوع کو خطرہ سمجھنے کے بجائے طاقت سمجھنا شروع کر دیں تو پاکستان ایک زیادہ پُرامن، ترقی یافتہ اور مستحکم معاشرہ بن سکتا ہے۔
یہ سیمینار دراصل ایک reminder تھا کہ ذمہ دار صحافت صرف خبر دینا نہیں بلکہ معاشرے میں امن، شعور اور توازن پیدا کرنا بھی ہے۔ میڈیا اگر چاہے تو نفرت کو بڑھا سکتا ہے، اور اگر چاہے تو معاشرے میں مکالمہ، احترام اور قبولیت کی فضا بھی قائم کر سکتا ہے۔آج پاکستان کو صرف معاشی یا سیاسی اصلاحات کی ضرورت نہیں بلکہ فکری اور اخلاقی اصلاح کی بھی ضرورت ہے۔ ایسے میں Resilient Women Network جیسے ادارے امید کی ایک روشن کرن ہیں جو سماجی ہم آہنگی، اقلیتوں کے حقوق، خواتین کی شمولیت اور ذمہ دار صحافت کے ذریعے ایک بہتر پاکستان کی تشکیل کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہی اس سیمینار کا اصل پیغام تھا۔ ایک پُرامن معاشرہ قانون سے نہیں بلکہ شعور، احترام اور قبولیت سے بنتا ہے، اور اس شعور کی تشکیل میں میڈیا، تعلیمی اداروں اور سماجی تنظیموں کا کردار قطعہ طور پر فیصلہ کن ہے۔



تبصرہ لکھیے