ہوم << تم وہ، ذی الحج جس کے گھر اتر آیا – افشاں نوید
600x314

تم وہ، ذی الحج جس کے گھر اتر آیا – افشاں نوید

ذی القعدہ کا چاند نظر آتے ہی فضا بدلنے لگتی ہے۔ گھروں میں حج پر جانے والے رشتے داروں کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں، حاجی کیمپ آباد ہو جاتے ہیں، قربانی کے جانوروں کی رونق لگ جاتی ہے، اور ٹی وی اسکرینوں پر سفید لباسوں میں لبیک کہتے قافلے دکھائی دینے لگتے ہیں۔

ایسے میں کتنے دلوں میں ایک خاموش کسک جاگتی ہے۔ کوئی مالی استطاعت نہ ہونے کے باعث، کہیں بچوں کی ذمہ داریاں، کسی کے شوہر نے وعدہ کیا مگر وفا کا وقت نہ آیا، کوئی اپنے ضعیف ساس سسر کو بھیج کر خود رہ گئی. کوئی بڑھاپے میں بھی اس امید پر جی رہی ہے کہ شاید اگلا سال اس کے نام ہو۔ کیا ذوالحج صرف اُن لوگوں کے لیے خوشی لاتا ہے جو حج کے لیے رخت سفر باندھ رہے ہیں؟

جان رکھیے۔۔۔
ذوالحج صرف فضاؤں میں نہیں، دلوں میں اترتا ہے۔ حج صرف سفر کا نہیں، جذبے کا نام بھی ہے۔قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نہیں، نفس کو زیر کرنے کا نام بھی ہے۔عرفہ صرف میدانِ عرفات میں کھڑے ہونے کا نام نہیں، اپنے گناہوں پر نادم ہو کر ہاتھ اٹھانے کا نام بھی ہے۔پچھلے دنوں میری ماسی کی دس برس کی بیٹی میرے پاس آ کر بولی:

“باجی! آپ کبھی اللہ کے گھر گئی ہیں؟”
میں نے کہا:
“ہاں،الحمدللہ ۔”
اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ پھر جلدی جلدی سوال کرنے لگی:
“جہاز کیسا ہوتا ہے؟ حج پر کیسے جاتے ہیں؟
مجھے تصویر دکھائیں… اللہ کا گھر قریب سے کیسا لگتا ہے؟ میرے دادا بھی اللہ کے گھر گئے تھے جہاز میں…
آپ مجھے دکھائیں نا!”

میں نے موبائل میں حرم شریف کی تصویریں نکال لیں۔ وہ ننھی بچی اس طرح دیکھ رہی تھی جیسے کسی خواب کی کھڑکی کھل گئی ہو۔ کبھی کعبۃ اللہ کو دیکھتی، کبھی صحنِ حرم کو، کبھی طواف کرتے لوگوں کو۔ اس کی آنکھوں میں حسرت بھی تھی، محبت بھی، اور ایک معصوم سی تمنا بھی۔ مجھے اس پر بے حد پیار آیا۔ میں نے سوچا، یہ بچی کتنا جذبہ رکھتی ہے۔یہی جذبہ ہر مسلمان کو زندہ رکھتا ہے۔جس دل میں شوقِ حرم جاگ جائے، اسے رب کبھی خالی نہیں لوٹاتا۔اس کے در پر لفظ مایوسی جرم ہے۔ وہاں جانے والے ہمیشہ جیب کے غنی نہیں ہوتے، کبھی کبھی دل کے غنی لوگ بھی بلا لیے جاتے ہیں۔

اور جس رب کی ننانوے صفات میں ایک صفت الغنی ہے، اس کے لیے کسی بندے کو بلا لینا کیا مشکل؟
کتنے ہی لوگ ہیں جو برسوں کی جمع پونجی سے جاتے ہیں، اور کتنے ایسے بھی ہیں جنہیں غیر متوقع راستوں سے بلوا آ جاتا ہے۔ ہماری ایک جاننے والی ملنے ائی کہ بیٹے کے ساتھ حج پر جا رہی ہیں مجھے ان کے مالی حالات کا اندازہ ہے۔ پوچھ لیا کہ وسائل اللہ نے مہیا کیے ہیں ذریعہ کیا بنا؟

بولیں میری بہن کے گھر جو ماسی کام کرتی ہے اس کی ایک اور باجی جو صاحب حیثیت ہیں۔ اپنے شوہر کے ساتھ حج پر جانے کے لیے تیاریاں شروع کر چکی تھیں۔ رمضان میں شوہر کا برین ہمیرج سے انتقال ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ اب مجھے کوئی محرم دستیاب نہیں ہے میں اپنے بدلے کس کو حج کراؤں؟

اس نے میری بہن سے ذکر کیا میری بہن نے میرا نام بتا دیا ۔ وہ جانتی تھی کہ میں ذی الحجہ کا مہینہ روتے ہوئے گزارتی ہوں۔ یوں اللہ کے حکم سے میرا راستہ آسان ہو گیا ۔یونہی ہمارے خاندان کا ایک نوجوان حج پر گیا جو معمولی مزدور ہے۔ اس نے کہا ہمارے محلے میں ایک بزرگ حج پر جانے کے لیے بالکل تیار تھے۔ان کی ریڑھ کی ہڈی میں اچانک مسئلہ ہوا ۔ وہ مجھے مسجد میں دیکھتے تھے انہوں نے کہا میرے بدلے تم حج کرو گے ۔کوئی بیٹا اچانک ماں کو خوش خبری دیتا ہے، کسی کے لیے کوئی در کھل جاتا ہے، کسی کی حسرت دعا بن کر قبول ہو جاتی ہے۔

اس لیے جو آج گھروں میں بیٹھی ہیں، وہ یہ نہ سمجھیں کہ ذوالحج ان سے دور ہے۔ اگر وہ نمازيں پڑھ رہی ہیں۔پہلے عشرے کے ممکنہ روزے رکھ رہی ہیں۔ تکبیرات پڑھ رہی ہیں، صدقہ دے رہی ہیں،اپنے آرام کی قربانی دے کر اولاد کی تربیت کررہی ہیں، اہل خانہ کے حقوق ادا کررہی ہیں۔اگر وہ دل سے کہہ رہی ہے “اے اللہ! مجھے بھی بلا لے” تو یقین جانیے، ذوالحج ان کے گھر اتر آیا ہے۔کتنی خواتیں بیمار والدین کی خدمت کر رہی ہیں، چھوٹے بچوں کی پرورش میں مصروف ہیں،شوہر کی تنگ دستی میں صبر سے ساتھ دے رہی ہیں، گھر کے اخراجات میں قناعت اختیار کیے ہوئے ہیں۔

وہ سمجھتی ہیں کہ ہم کیا خاص کر رہی ہیں؟
مگر اللہ کے ہاں نیتوں کی قیمت ہے۔ ممکن ہے ان کا صبر، کسی حاجی کے طواف سے بھی زیادہ وزنی ہو۔ذوالحج ہمیں حضرت ابراہیمؑ کی اطاعت، حضرت ہاجرہؑ کی توکل، اور حضرت اسماعیلؑ کی رضا یاد دلاتا ہے۔ یہ تینوں صفات گھر بیٹھے بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔اگر آپ حج پر نہیں جا رہیں تو مایوس نہ ہوں۔اپنے گھر کو ذکر سے آباد کیجیے۔بچوں کو قربانی کا مقصد سمجھائیے۔کسی ناراض رشتہ دار کو منائیے۔کسی غریب کے گھر گوشت پہنچائیے۔ اپنے دل سے کینہ، تکبر اور شکایت نکالیے۔

اور سجدے میں جا کر کہیے:
“اے اللہ! اس سال نہیں اگلے سال، مجھے آپ کے گھر ضرور آنا ہے۔”
ممکن ہے آپ حرم نہ پہنچیں،لیکن آپکا اخلاص، صبر اور شوق ایسا ہے کہ ذوالحج خود آپ کے دروازے پر موجود ہے۔

مصنف کے بارے میں

نقطہ نظر

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment