ہوم << میں فیمنسٹ ہوں – زیان مصطفیٰ
600x314

میں فیمنسٹ ہوں – زیان مصطفیٰ

اس نے چائے کا کپ زور سے ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔
” میرے لئے اس کا کہنا بالکل باعثِ حیرت نہیں تھا۔ کیونکہ جتنا میں اس کے ساتھ رہا تھا، کوئی بھی شخص ہوتا وہ اسے جان لیتا۔ عرفان کا مزاج ہی ایسا تھا.”

عرفان میرے بچپن کا دوست تھا۔ ملنسار، خوش اخلاق، انتہائی سوشل، اساتذہ کی آنکھوں کا تارا اور بلا کا ذہین۔ جہاں ہمیں ریاضی یا دیگر مضامین کے امتحان دینے میں پورے دو گھنٹے لگتے تھے وہاں اس کا فقط 40 – 45 منٹ میں مکمل کر کے کمرۂ امتحان میں سو جانا عادت تھی۔ اس کی رگوں میں خون کی جگہ بزنس دوڑتا تھا، بلفظِ دیگر وہ میمن تھا۔ یوں تو اس میں کوئی اور عیب نہیں تھا ماسوائے اس کے کہ وہ نئی چیزوں سے جلد متاثر ہو جایا کرتا تھا۔اور اس بار بھی ایسا ہی تھا۔

یہ ہماری ماہانہ بیٹھک تھی۔ ہم ہر ماہ شاہراہِ فیصل کے قریب ایک ریسٹورنٹ میں اپنے استاذ کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔ جہاں مختلف پہلوؤں پر گفتگو کیا کرتے تھے۔ حقیقتاً (اصل میں) تو ہم وہاں اپنے مسائل لے کر جاتے تھے اور استاذ صاحب سے مشورہ (صلاح) لیا کرتے تھے۔
وہاں وہ بیک وقت ہمارے دوست بھی ہوتے تھے، استاذ بھی، بڑے بھائی بھی اور رہنما بھی۔ اسی لئے ہم وہاں بہت کھل کر بات کیا کرتے تھے۔ آواز کا اونچا ہوجانا، کبھی بحث بازی ہوجانا، حتیٰ کہ بعض اوقات ہم دونوں میں سے کوئی ناراض ہو کر محفل سے اٹھ بھی چلا جایا کرتا تھا۔ لیکن اگلے ماہ پھر صاف دل کے ساتھ حاضر ہوجاتا تھا۔

استاذ صاحب دراز قد، چوڑا سینہ اور رعب دار شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی گہری آواز، پُرسکون اور باوقار شخصیت بغیر بولے کی سامنے والے کو مرعوب کرنے کیلئے کافی تھی۔
اس روز بھی عرفان نے جس انداز میں استاذ صاحب کے سامنے کہا، اگر کوئی اور ہوتا تو “بے ادب” کہے بغیر نہ رہتا۔لیکن استاذ صاحب نے ہمیں اتنی وسعت (کھل کر بات کرنے کی آزادی) دی ہوئی تھی کہ ہم نجی بیٹھک میں ہر بات کھل کر کر لیا کرتے تھے۔
“سر، مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں عورت کو کبھی صحیح حقوق ہی نہیں دیئے گئے۔ اسی لئے آج فیمینزم ضروری ہوگیا ہے۔”

استاذ صاحب نے ہمیشہ کی طرح ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔ پہلے ہی وہ مکمل اطمینان میں بیٹھے تھے، جیسے ہر بات کو سننے سے پہلے ہی اس کے وزن اور انجام سے واقف ہوں۔
“فیمینسٹ؟ یہ کون لوگ ہوتے ہیں؟”عرفان فوراً بولا،
“سر وہی جو خواتین کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔ ڈومیسٹک وائلنس اور اس طرح کے ہونے والے ظلم کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں۔ عورت کی آزادی، تعلیم، کیریئر۔ ان سب چیزوں کی بات کرتے ہیں۔”
“اوہ۔۔۔ یعنی یہ ایک نیا فرقہ ہے؟” استاذ صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔

” بڑا فرنگی (انگریزی) سا نام ہے۔ ان کا پیشوا کون ہے؟”
میں ہنس پڑا، (استاذ صاحب کی عادت تھی بات کرنے سے پہلے یہ جانتے تھے کہ سامنے موجود شخص کو اس موضوع پر کتنی معلومات ہے۔تاکہ اسی سطح پر آ کر بات کی جائے)
جبکہ عرفان نے فوراً وضاحت (سمجھاتے ہوئے) کی،
“نہیں استاذ صاحب، فرقہ نہیں۔ یہ ایک تنظیم (تحریک) ہے۔”استاذ صاحب نے چائے کی سِپ (چسکی) لی اور بولے،
“عرفان بیٹے، دنیا میں دو قسم کی باتیں ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو سننے میں اچھی لگتی ہیں، اور ایک وہ جو حقیقت میں اچھی ہوتی ہیں۔ اکثر لوگ ان دونوں میں فرق نہیں کر پاتے۔”

عرفان فوراً بولا،
” لیکن سر، عورتوں کے حقوق کی بات کرنا غلط کیسے ہوگیا؟ اسلام نے بھی تو حقوق دیئے ہیں۔”
“بالکل دیئے ہیں۔” استاذ صاحب نے فوراً جواب دیا۔
” فرق صرف یہ ہے کہ اسلام عورت کو عزت دیتا ہے خاندان کو محفوظ رکھ کر۔ جبکہ یہ جدید نظریات عورت کو آزادی کے نام پر خاندان سے الگ کر دیتے ہیں۔”
میں نے پوچھا، “سر، مطلب؟”

انہوں نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا،
“مطلب یہ کہ اسلام مرد و عورت کو ایک دوسرے کا سکون بناتا ہے۔ جبکہ یہ نظریات دونوں کو ایک دوسرے کا مقابل بنا دیتے ہیں۔”عرفان نے فوراً اعتراض کیا،
“لیکن سر، ہر فیمینسٹ ایسا نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ واقعی ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔”
“اور اٹھانی بھی چاہئے۔” استاذ صاحب نے نہایت نرمی سے کہا۔” اگر کسی عورت پر ظلم ہو رہا ہے تو ظالم وہ مرد ہے، اسلام نہیں۔ اگر کسی نے بیٹی / بہن کو وراثت نہیں دی تو قصور قرآن کا نہیں، اس انسان کا ہے۔ اگر کوئی شوہر بیوی پر ہاتھ اٹھاتا ہے تو وہ نبی ﷺ کی سنت کے خلاف جاتا ہے، دین کے مطابق نہیں۔”

چند لمحے خاموشی رہی۔ریسٹورنٹ کی شیشے کی دیواروں کے باہر شاہراہِ فیصل پر گاڑیوں کی قطاریں رواں تھیں۔ اندر ہلکی آواز میں لوگ باتیں کر رہے تھے، پلیٹوں اور چمچوں کی آوازیں ماحول میں گھل رہی تھیں۔
استاذ صاحب دوبارہ بولے،
” مسئلہ یہ ہے کہ مغرب نے عورت کو ‘خاندان’ سے کاٹ کر ‘صرف فرد’ بنا دیا۔ اور جب انسان صرف فرد بن جائے تو پھر آخرکار تنہائی (اکیلا پن) اس کا مقدر (نصیب) بن جاتی ہے۔”
ہم دونوں خاموشی سے سن رہے تھے۔

استاذ صاحب نے میز پر انگلی سے ہلکی دستک دی اور بولے،
” چند ماہ پہلے ہی ایک واقعہ سنا ہوگا تم لوگوں نے۔ ایک عورت، پڑھی لکھی، خودمختار، آزاد۔ اپنے فلیٹ میں کئی دن تک پڑی رہی اور کسی کو خبر تک نہ ہوئی۔”
ہم دونوں خاموش ہوگئے۔
انہوں نے آہستگی سے کہا،
“میں اس واقعے کی تفصیل کی بات نہیں کر رہا۔ صرف یہ سوچو کہ انسان کو اس حد تک اکیلا کر دینا، کیا واقعی ترقی ہے؟”
عرفان نے نظریں جھکا لیں۔

استاذ صاحب بولتے گئے،
” یہی تو مسئلہ ہے۔ مغرب نے عورت کو یہ سکھایا کہ اسے کسی کی ضرورت نہیں۔ نہ شوہر کی، نہ خاندان کی، نہ کسی سہارے کی۔ نتیجہ؟ انسان بظاہر (ظاہری طور پر) آزاد ہوگیا مگر اندر سے ٹوٹ گیا۔”
میں نے پوچھا،
“سر، تو کیا عورت کا پڑھنا یا کام کرنا غلط ہے؟”
“ہرگز نہیں۔۔۔! “استاذ صاحب فوراً بولے۔ “مسئلہ تعلیم یا کام نہیں۔ مسئلہ وہ سوچ ہے جو خاندان یا مذہبی پابندیوں کو بوجھ سمجھنے لگے .”

عرفان نے دھیرے سے کہا،
” تو سر، اصل مسئلہ حقوق مانگنے کا نہیں۔۔۔؟”
“بلکہ حقوق کے نام پر بغاوت کا ہے۔” استاذ صاحب نے اس کی بات مکمل کی۔
پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولے،
” اور یاد رکھو، دین مرد کو بادشاہ نہیں بناتا، ذمہ دار بناتا ہے۔ جب مرد اپنی ذمہ داری چھوڑ دیتا ہے تو پھر ایسے نظریات جگہ بنا لیتے ہیں۔”

اتنے میں قریب کی مسجد سے عصر کی اذان بلند ہوئی۔
پتا نہیں کیوں اذان میں ہمیشہ ایک عجیب سا رعب ہوتا ہے۔ جیسے چند لمحوں کیلئے دنیا کے سارے فلسفے خاموش ہوجاتے ہوں۔ ہم تینوں خاموش ہوگئے۔ باہر سورج ڈھلنے لگا تھا۔ شیشوں سے آتی سنہری روشنی ریسٹورنٹ کے فرش پر پھیل رہی تھی۔

استاذ صاحب نے گھڑی دیکھی اور مسکراتے ہوئے کہا،
“چلو بیٹے۔۔۔ نماز کیلئے چلیں۔ “اسی دوران ویٹر بھی بل لے کر آ گیا۔
عرفان نے اس بار تیزی دکھائی اور فوراً بل اٹھا لیا۔
” سر، میں دوں گا۔”استاذ صاحب مسکراتے ہوئے فرمانے لگے۔
” کیوں؟ زیادہ پرافٹ ہوگیا؟” ہم سب ہنس دیئے۔
عرفان نے پرس نکالتے ہوئے کہا، “سر، ایسا نہ کریں۔۔۔ اس بار مجھے دینے دیں۔”

مگر استاذ صاحب نے نہایت سکون سے اس کے ہاتھ سے بل لے لیا، جیب سے بٹوہ نکالا اور رقم ادا کر دی۔
ہم نے ناراضی سے کہا، “سر، آپ ہمیشہ ایسا کرتے ہیں۔ کبھی ہمیں بھی موقع دیا کریں۔”
استاذ صاحب کرسی سے اٹھتے ہوئے بولے،
” میرے بچوں۔۔۔ باپ بچوں سے پیسہ لیتے ہوئے اچھا لگے گا؟”
یہ جملہ سن کر نہ جانے کیوں ہم دونوں خاموش ہوگئے۔ریسٹورنٹ سے باہر نکلتے ہوئے ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا آیا۔ مسجد کی طرف جاتے ہوئے لوگوں کے قدم تیز ہو رہے تھے۔

استاذ صاحب ہمیشہ کی طرح آگے چل رہے تھے۔ پرسکون، مطمئن (اطمینان والے)، جیسے انہیں معلوم ہو کہ انسان کو بدلنے کیلئے چیخنے کی نہیں، خلوص اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔اور ہم، ہمیشہ کی طرح ان کے پیچھے چل رہے تھے۔

مصنف کے بارے میں

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment