پچھلے دو ہفتوں کے دوران ملک بھر میں درجن بھر خواتین کو ‘غیرت’ کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ ان قتل کے واقعات کی بازگشت سب سے زیادہ سندھ اور بلوچستان سے سنائی دی ہے۔
ایسا نہیں کہ پنجاب اور خیبر پختون خواہ کے آنگن اس لہو سے پاک ہیں، مگر وہاں ان سانحات کی نوعیت اور تعداد میں قدرے فرق پایا جاتا ہے؛ جبکہ شہری علاقوں میں خواتین کے استحصال کے ہتھکنڈے بدل کر ہزاروں صورتیں اختیار کر چکے ہیں۔ ان لرزہ خیز واقعات پر سوشل میڈیا کا احتجاج بھی اب ایک معمول بن چکا ہے—وہی روز کا شور، وہی چند لمحوں کا واویلا اور پھر تادیر خاموشی!
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب ہمارے یہاں احساس کی ہر لہر وقتی اور ہر جذبہ عارضی ہوتا جا رہا ہے۔ ان دل خراش واقعات پر کسی کے پاس اتنا وقت نہیں کہ پل بھر کو ٹھہر کر اس سماجی زوال کے اسباب پر غور کر سکیں۔ البتہ، ایک پہلو امید افزا ضرور ہے کہ اب معاشرے کے ایک طبقے نے اسے ‘برائی’ تسلیم کرنا شروع کر دیا ہے، جو ایک مثبت مستقبل کی طرف اشارہ ہے۔ تاہم، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان علاقوں کی سنگین صورتحال پر کھل کر بات کریں جہاں خواتین کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کو آج بھی ‘رواج’ اور ‘روایت’ کا لبادہ پہنا کر زندہ رکھا گیا ہے۔
ان قبائلی سماج میں رائج فرسودہ رسومات محض “ثقافت” کا حصہ نہیں ہیں اس جاگیردارانہ اور نیم سرمایہ دارانہ نظام کی پیداوار ہیں جہاں عورت کو ایک آزاد انسان کے بجائے “نجی ملکیت” یا “زرِ مبادلہ” کی اکائی سمجھا جاتا ہے۔ ان رسومات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ان کے پسِ پشت مادی مفادات اور طبقاتی بالادستی واضح نظر آتی ہے۔ اس سماج میں خواتین کو وراثت سے محروم رکھا جاتا ہے ۔ خواتین کو وراثت سے محروم رکھنا کسی جذباتی فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی معاشی حکمت عملی ہے۔ جاگیردارانہ نظام میں زمین اور جائیداد کا ارتکاز مردانہ ہاتھوں میں رکھنا اس لیے ضروری سمجھا جاتا ہے تاکہ معاشی طاقت تقسیم نہ ہو۔
عورت کو وراثت سے محروم کر کے اسے تاحیات مرد (باپ، بھائی یا شوہر) کا محتاج بنا دیا جاتا ہے۔ یہ معاشی بیڑیاں ہی وہ بنیادی سبب ہیں جو عورت کو سیاسی اور سماجی طور پر غیر فعال رکھتی ہیں۔ ‘لب'(رشتہ کے بدلے رقم کی وصولی) کی رسم دراصل عورت کی ‘کوموڈیفیکیشن’ کی بدترین شکل ہے۔ جب انسانی رشتوں کی قیمت نقدی میں لگائی جاتی ہے، تو وہ رشتہ نہیں بلکہ ایک تجارتی معاہدہ بن جاتا ہے۔ یہ رواج اس جاگیردارانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جہاں بیٹی کو ایک مادی اثاثہ سمجھا جاتا ہے جسے بیچ کر معاشی فوائد حاصل کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح ‘مات لافی’ (پیدائش سے پہلے منگنی) فرد کے بنیادی حقِ انتخاب پر شب خون ہے، جہاں دو خاندان اپنے معاشی یا قبائلی مفادات کے تحفظ کے لیے بچوں کے مستقبل کا سودا کر لیتے ہیں۔
‘سیاہ کاری’ یا کارو کاری کو محض ‘غیرت’ کے خانے میں دیکھنا ایک فریب ہے۔ یہ دراصل عورت کے جسم اور اس کی نقل و حرکت پر مردانہ بالادستی (Patriarchy) کو قائم رکھنے کا ایک آلہِ دہشت ہے۔ اس رواج کے ذریعے عورت کو مسلسل خوف میں مبتلا رکھا جاتا ہے تاکہ وہ کسی بھی قسم کی سماجی یا معاشی آزادی کا خواب نہ دیکھ سکے۔ اکثر مشاہدے میں آیا ہے کہ سیاہ کاری کے الزامات جائیداد کے تنازعات طے کرنے یا مخالفین کو نیچا دکھانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیے جاتے ہیں.



تبصرہ لکھیے