یہ سعادت قسمت والوں کو ملتی ہے :
ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
یہ سعادت بازو کی طاقت سے نہیں ملتی – جب تک عطا کرنے والا خدا کسی کو کوئی مرتبہ، صلاحیت اور عزت نہ بخشے — کسی شخص کے بازو کی طاقت سے وہ رتبہ حاصل نہیں ہوتا۔
مسجد اقصیٰ کی ام خالد :
القدس میں فجر سے بہت پہلے ،جب اندھیرا ابھی شہر پر چادر کی طرح چھایا ہوتا ہے – جب پرانے شہر کی پتھریلی گلیاں خاموش ہوتی ہیں اور لیمپ پوسٹوں کی زرد بیمار روشنی اندھیری گلیوں کو روشن کرنے میں ناکام نظر آتی ہے – جب یروشلم کی گلیوں میں رہنے والے آوارہ کتے اور بلیاں بھی کونے کھدروں میں سمٹے سو رہے ہوتے ہیں- شہر کی ٹھنڈی گلیوں میں چھایا ملگجا اندھیرا دھند میں اور بھی گہرا محسوس ہوتا ہے- اس وقت روز شہر قدیم کی ایک تنگ گلی سے ، تین سائے نکلتے ہیں۔
آگے آگے ایک بوڑھی عورت ، چھوٹے قد کی منحنی سی جھکی کمر والی، روشن چمکتے چہرے پر موٹے شیشوں کی عینک لگائے ۔ سر پر لال اوڑھنی نما حجاب لپیٹے جامنی رنگ کی لمبی پوشاک زیب تن کئے ۔ ایک ہاتھ میں لاٹھی اور دوسرے ہاتھ میں پلاسٹک کے بڑے تھیلے تھامے جن میں پلاسٹک کی پیالیاں اور گلاس کھنکتے ہیں. اور اس کے پیچھے پیچھے ایک تنومند ادھیڑ عمر خشخشی داڑھی والا مرد، ہاتھوں میں بڑے بڑے تھرماس تھامے ۔ جن سے بھاپ اٹھتی ہے اور اس بھاپ کی خوشبو اندھیری گلی میں اس طرح پھیلتی ہے جیسے صبح کا پہلا اعلان ہو کہ میں آ رہی ہوں۔
اور سب سے پیچھے ایک نوجوان لڑکا ،جو گتے کے ڈبے جس میں کجھوریں بسکٹ ، معمول اور دوسرا ناشتے کا سامان بھرا ہوتا ہے ۔ اٹھائے خاموشی سے چل رہا ہے۔ اسی سال کی ام خالد ، اس کا پچپن سالہ بیٹا اور جوان پوتا، یہ تینوں پرانے یروشلم کے مسلم محلے کی اندھیری گلیوں سے گزرتے مسجد اقصٰی کی جانب بڑھتے ہیں ۔ اور یہ ان کا روزانہ کا معمول ہے ، پچھلے بیس سال سے۔ روز یہی ہوتا ہے روز یہ دکان سجتی ہے. روز مسجد اقصٰی آنے والے نمازی ام خالد کی چائے پیتے ہیں اس کا بنایا ناشتہ کرتے ہیں ۔
مسجد اقصٰی کا دروازہ اور ام خالد کی دکان :
ہر روز فجر کی اذان سے پہلے ، ام خالد اپنے بیٹے اور پوتے کے ساتھ مسجد اقصیٰ کے دروازے پر آ کر بیٹھ جاتی ہے۔ برتن کھولتی ہے -چائے تیار کرتی ہےاور ناشتہ ترتیب دیتی ہے۔ اس کے ہاتھ اسی سالہ بوڑھی کے متحرک ، توانا ہاتھ ، جھریوں بھرے ،جن پر نقش وقت کے نشان دور سے نظر آتے ہیں. مگر ان ہاتھوں میں وہ ہنر ہے جو نوجوان ہاتھوں میں نہیں ہوتا . ساٹھ سال کا ہنر، چار سو سال کی روایت کی امانت اندھیرے میں بھی وہ جانتی ہے کہ کس برتن میں کیا ہے. کتنی چینی ڈالنی ہے . کتنا دودھ ملانا ہے . نمازیوں کو چائے کتنی گرم پسند ہے . یہ سب اسے ازبر ہے . جیسے کسی حافظ کو قرآن ازبر ہوتا ہے۔ نمازیوں کی خدمت ہی اس کی عبادت ہے ۔ اس کا دھرم ہے.
پھر نمازی آنا شروع ہوتے ہیں، ایک ایک کر کے، دو دو کر کے، اندھیرے سے نکلتے سائے . لیکن ام خالد ہر سائے کو پہچانتی ہے. ہر نمازی کو نام سے بلاتی ہے، ہر ایک کے لیے ایک مسکراہٹ، ہر ایک کے لیے ایک دعا، اور ہر ایک کے ہاتھ میں گرم چائے کا گلاس اور ناشتے کی پلیٹ۔
”بسم اللہ…. یہ لو بیٹا . پہلے کچھ کھا لو .خالی پیٹ نماز میں دل نہیں لگتا۔”
اس کی آواز میں وہ نرمی ہے . جو صرف ماؤں کی آواز میں ہوتی ہے اور ام خالد، اس مسجد کے ہر نمازی کی ماں ہے۔ ہر قدسی کی ، یروشلم کے ہر باسی کی ، ہر سیاح کی اور ہر اجنبی کی ماں ۔
چار سو سالہ روایت کی امین :
اس سے پہلے یہ خدمت اس کا خاوند ادا کرتا تھا۔ وہ بھی ایسے ہی اندھیرے میں اٹھتا تھا – ایسے ہی برتن اٹھاتا تھا – اسی طرح روز مسجد اقصیٰ کے دروازے پر آن بیٹھتا بیٹھتا تھا . یوں ہی نمازیوں کو ناشتہ کرایا کرتا تھا۔ اور اس سے پہلے اس کے خاوند کا باپ اور اس سے پہلے اس کا باپ۔ یہ خاندان پچھلے چار سو سال سے یہ خدمت سرانجام دے رہا ہے۔جب ابھی القدس عثمانیوں کے پاس تھا تب سے اس خاندان نے مسجد اقصیٰ کے نمازیوں کو ناشتہ کرانے کا سلسلہ شروع کیا اور آج تک ٹوٹنے نہیں دیا ۔
حکومتیں بدلیں…. عثمانی گئے ،انگریز آئے ، اردنی آئے ، اسرائیلی آئے لیکن ام خالد کے خاندان کا چولہا نہیں بجھا. فجر سے پہلے کی چائے بنتی رہی . ناشتہ تیار ہوتا رہا ، نمازی آتے رہے، اور یہ خاندان دروازے پر بیٹھا رہا . بادشاہوں سے زیادہ پابند، فوجوں سے زیادہ مستقل مزاج ، اور اس کے صلے میں یہ خاندان کسی چیز کا طلب گوار نہیں۔ کسی انعام کا خواہش مند نہیں. نہ کوئی تنخواہ ، نہ کوئی اعزاز، نہ کوئی سرٹیفکیٹ ، بس ایک یقین کہ یہ خدمت ان کے رب نے ان کے حوالے کی ہے – اور جب تک سانس ہے – یہ خدمت جاری رہے گی۔
وہ بیس سال کی تھی جب بیاہ کر اس خاندان میں آئی تھی ۔ پہلے چالیس سال تک روز صبح اٹھ کر ناشتے کا سارا سامان تیار کرتی رہی اور اس خاوند روز یہ دکان سجاتا رہا ۔ نمازیوں کی خدمت کرتا رہا اپنے آباؤاجداد کی روایت کا امین بنا رہا ۔ جب ام خالد کے خاوند کا انتقال ہوا – تو لوگوں نے سوچا شاید اب یہ سلسلہ ٹوٹ جائے گا – کون اسی سال کی بوڑھی عورت سے یہ توقع رکھ سکتا ہے کہ وہ ہر روز فجر سے پہلے اٹھے سردی ہو یا گرمی بارش ہو یا دھوپ اور بھاری برتن اٹھا کر مسجد تک آئے۔
لیکن — اگلے ہی دن — فجر سے پہلے — وہی تین سائے — وہی گلی — وہی خوشبو — وہی دروازہ — وہی مسکراہٹ۔ ام خالد بیٹھی تھی – اپنے بیٹے اور پوتے کے ساتھ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں. موت بھی اس سلسلے کو نہ توڑ سکی اور نہ ایک شخص کے چلے جانے سے یہ دکان بند ہوئی ۔ یہ خدمت کسی انسان کے نہیں – خدا کے فیصلے سے چل رہی ہے۔
ابو فواد جنت کے دروازے کا پاسبان :
اور پھر ابو فواز، ایک اور فرزانہ، شمع رسالت کا پروانہ ۔۔۔ مسجد اقصٰی کا دیوانہ
وہ شخص جو مجھے قبة الصخرہ کے چبوترے پر جھاڑو دیتا ہوا ملا تھا ۔ پراناملگجا سا لمبا عبادہ اوڑھے، بڑھی ہوئی شیو ، گندمی رنگ ، درمیانہ قد ، فربہی مائل قامت گہرے رنگ کی بنڈی پہنے ، ہاتھ میں جھاڑو تھامے آنکھوں میں چمک، روشن چہرہ ، وہ شخص مجھے پہلی ہی نظر میں بھا گیا ۔مختلف سا ۔ بے نیاز سا ۔ منفرد سا پراسرار سا اس میں عجیب سی کشش تھی ، پہلی ہی ملاقات میں اس سے دوستی ہو گئی ۔ اس سے بہت نشستیں رہیں ،ٹوٹی پھوٹی انگریزی بھی بول لیتا تھا ۔جہاں بات پھنس جاتی وہاں حمزہ کی عربی کام آتی ۔
اس کے الفاظ یاد آتے ہیں جو اس نے سنہرے گنبد کے دروازے پر جھاڑو پھیرتے ہوئے سر اٹھا کرمجھے کہے تھے تو میرے جسم میں سر شاری اور سنسنی کی عجیب سی لہر دوڑ گئی تھی۔میں اس کے ایمان کی مضبوطی پر ششدر رہ گیا تھا۔
“ ڈاکٹر تم جانتے ہو کہ جنت تک جانے کا سب سے چھوٹا راستہ کون سا ہے ۔”
میں نے نفی میں سر ہلایا تو اس نے سنہرے گنبد کے اوپر اڑتے ہوئے کبوتروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔
“ یہاں سے اس گنبد سے سیدھا رستہ جنت کی طرف جاتا ہے ۔”
اس کے الفاظ دل میں نقش ہو گئے ۔ اور وہ خود بھی ہمیشہ کے لئے دل میں بس گیا ۔ لیکن اس ملاقات میں جو انکشاف سب سے زیادہ حیران کر گیا – وہ یہ تھا کہ ابو فواز کا تعلق حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کے خاندان سے ہے۔ جس کا وہ بڑے فخر سے سر اٹھا کر ہر ملاقات میں ذکر کیا کرتا تھا ۔۔ اور کیوں نہ کرتا ۔ ابو ذر غفاری، رسول اکرم ﷺ کے جلیل القدر صحابی، سادگی، ایمانداری اور حق گوئی کی روشن مثال ۔ راہزنوں اور ڈاکوؤں کے قبیلے بنو غفار سے تعلق رکھنے والے ابوذر سابقون الاولون ( ابتدائی مسلمان ) تھے ۔ جب نبی کریم ﷺ کی نبوت کی خوشبو آپؓ تک پہنچی تو مکہ آ کر اسلام قبول کر لیا. جن کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ”
“آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر ابو ذر سے زیادہ سچا کوئی نہیں “ .
جنہیں آپ ﷺ نے”مسیح الاسلام “ اسلام کا عیسٰی قرار دیا تھا ۔ وہ ابو ذر،جو اپنی سادگی اور زہد میں بے مثال تھے . ساری عمر فقر اور سادگی میں بسر کی. اور آخر کار ربذہ کے صحرا میں اکیلے انتقال فرمایا .ابو فواز کا تعلق ان کی اولاد سے تھا . نسلوں بعد ابو فواز نے اپنے جد کی وہی روایت اختیار کی اسی روش پر چل نکلا تھا. فقر، خدمت ، قناعت ، توکل اور درویشی ، سب کچھ تو وہی تھا جو حضرت ابوذرؓ غفاری کا خاصہ تھا ۔
ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ حضرت ابوذرؓ غفاری کی صرف ایک بیٹی تھی ۔ جس کا نام “ زر “ تھا اور ان کی نسل اسی بیٹی سے چلی ۔ اس کی تصدیق ابو فواز نے بھی کی کہ آپ فلسطین فتح کرنے والی فوج میں شامل تھے اور جب حضرت عمر فاروقؓ یروشلم تشریف لائے اور بطریرک صفرونیس نے شہر کی چابیاں ان کو پیش کیں تو حضرت ابوذرؓ غفاری اس موقعہ پر موجود تھے اور اس وقت انہوں نے مسجد اقصٰی کے بارے میں آپﷺ کی اس حدیث کا حوالہ دیا تھا کہ زمین پر سب سے پہلے “ مسجد الحرام” تعمیر ہوئی اور اس کے بعد “ مسجد اقصیٰ”۔ اور دونوں کے درمیان “ چالیس سال” کا فاصلہ تھا ۔
ابو فواز نے اپنے خاندان کی تاریخ بتاتے ہوئے کہا کہ:
“حضرت ابوذرؓ غفاری حضرت عمر کی شہادت تک فلسطین اور دمشق میں مقیم رہے ۔ حضرت عثمان کے دور میں امیر معاویہ سے شدید اختلاف کی وجہ سے خلیفہ وقت نے انہیں واپس مدینہ بلا لیاتھا اور پھر وہ اپنے آخری وقت تک مدینہ کی نواحی بستی ربذہ میں مقیم رہے ۔ “
ابو فواز نے بتایا کہ وہ سترہ سال کا تھا جب یہاں آیا تھا .سترہ سال، جب دوسرے لڑکے اسکول جاتے ہیں، دنیا کی رنگنیوں میں مگن ہوتے ہیں . کھیل کود کے شوقین ہوتے ہیں وہ لڑکا سب کچھ چھوڑچھاڑ کر مسجد اقصٰی میں آن بسا اور پھر یہیں کا ہو کر رہ گیا اور پھر یوں ہی پچاس سال گزر گئے۔
آپ جب کبھی مسجد اقصیٰ جائیں ،دن ہو یا رات ، صبح ہو یا شام ، گرمی ہو یا سردی ، آپ کو ایک آدمی مسجد اور اس کے احاطے میں صفائی کرتا نظر آئے گا۔ وہ ابو فواز ہے، سٹرسٹھ سال کا جوان روز ہر صبح ہر شام وہیں اسی چبوترے پر اپنی جھاڑو کے ساتھ، مسجد کے احاطے کی صفائی کرتا ہے ۔ اس احاطے میں رہنے والے کبوتروں کی نگہبانی کرتا ہے ۔ انہیں دانہ دنکا ڈالتا ہے ۔ یہاں آنے والے سیاحوں کی سیوا کرتا ہے ۔ اور پھر رات کو وہیں کسی کونے کھدرے میں جہاں جگہ ملے سو جاتا ہے ۔ یہ مسجد اس کااوڑھنا بچھونا ہے – اس کے صحن میں آگے زیتون کے درخت اس کاکنبہ ہیں ۔ ٹھنڈا پتھریلا فرش اس کابستر اس صحن کے پتھر اسکا سرہانہ ۔ اور سنہری گنبد کے گرد طواف کرنے والے سینکڑوں کبوتر اس کے ہم جولی ہیں۔
جوں ہی وہ اسے گنبد صخرہ کے چبوترے پر پاتے ہیں دیوانہ وار اس کے گرد جمع ہونے لگ جاتے ہیں – وہ کبوتروں کو ان کا رزق ڈالتا ہے اور اس کے اپنے رزق کا بندوست اللہ نے کر رکھا ہے ۔ مسجد اقصیٰ میں آنے والے زائرین اور حرم شریف کے نواح میں رہنے والے فلسطینی اسے کبھی بھوکا نہیں سونے دیتے ۔ اسے کوئی باضابطہ تنخواہ نہیں ملتی – کوئی سرکاری عہدہ نہیں – کوئی شناختی کارڈ نہیں جس پر لکھا ہو ”خادم مسجد اقصیٰ” لیکن اگر آپ اس سے پوچھیں کہ تم کون ہو تو وہ سیدھا کھڑا ہو جائے گا سینہ تان کر اور کہے گا،
”میں اس مسجد کا خادم ہوں، ابو ذر غفاری کی اولاد ہوں، انہی کی سنت پر عمل کرتا ہوں انہی کی طرح زندگی گزارتا ہوں اور یہی میرا شرف ہے۔”
کتنی بڑی بات ہے حضرت ابوذرؓ غفاری جنہوں نے ساری زندگی فقر وقناعت میں گزاری ۔ شان وشوکت دولت زر ومال کو ہمیشہ اپنے پاؤں کی ٹھوکر پر رکھا – ان کی اولاد آج بھی توکل و درویشی کی زندگی گزارتے ہیں ۔ ان کی سنت پر عمل پیرا ہے- لیکن یہ فقر یہ قناعت یہ درویشی ۔ بادشاہت سے بہتر ہے – کیونکہ بادشاہ اپنی خواہشوں کے غلام ہوتے ہیں اور ابو فواز تو مسجد اقصٰی کا خادم ہے ۔
مسجد اقصٰی کے اصل محافظ :
ام خالد ،ابو فواز، اور ان جیسے کتنے ہی گمنام چہرے جن کا نام کسی اخبار میں نہیں آتا. جن پر کوئی ڈاکومنٹری نہیں بنتی.جن کی تصویر کسی سوشل میڈیا پر وائرل نہیں ہوتی لیکن یہی وہ لوگ ہیں جن کے کندھوں پر مسجد اقصیٰ کھڑی ہے۔
دیواریں اینٹوں سے نہیں بنتیں، لوگوں سے بنتی ہیں۔فوجیں شہر فتح کرتی ہیں لیکن شہروں کو زندہ رکھنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جو روز صبح اٹھ کر ان شہروں کو سجاتے ہیں، بناتے ہیں، سنوارتے ہیں، بغیر کسی غرض کے بغیر کسی صلے کی توقع کے۔اسرائیل کے پاس ٹینک ہیں، بندوقیں ہیں، ڈرون ہیں، دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے لیکن فلسطنیوں کے پاس ام خالد ہے ابو فواز ہے . اور ام خالد کے پاس چائے کا تھرماس ہے. اور ابو فواز کے پاس جھاڑو، اور یہ دونوں اسلحے ان تمام ہتھیاروں سے زیادہ طاقتور ہیں. کیونکہ ٹینک شہر تباہ کر سکتے ہیں لیکن تعمیر نہیں کر سکتے. اور ام خالد کی چائے اور ابو فواز کی جھاڑو ہر روز اس مسجد کو از سر نو تعمیر کرتی ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جو قبلۂ اول کے اصل محافظ ہیں. یہ وہ سعادت ہے جو بازو کے زور سے نہیں ملتی. دولت سے نہیں ملتی نصیبوں سے ملتی ہے یہ وہ عطا ہے جو صرف اللہ دیتا ہے. جسے چاہتا ہے دیتا ہے:
ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ



تبصرہ لکھیے