ہوم << تبصرہ کتاب صہیونی دستاویز،اہلڈرز پروٹکول – میر افسر امان
600x314

تبصرہ کتاب صہیونی دستاویز،اہلڈرز پروٹکول – میر افسر امان

آج سے تقریباً ۰۰۵۳ سال حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے بنی اسرائیل کی کہانی شروع ہوتی ہے۔۷۴۴۱ء سال پہلے ہمارے پیارے پیغمبرصلہ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قرآن شریف میں ان کی اللہ سے بد عہدیوں اور فلسطین میں دو دفعہ فساد پھیلانے پر اللہ سے سزا پا چکنے،تیسری بار فساد پھیلائیں گے تو پھر سزا پائیں گے۔

اب فلسطین میں یہود نے تیسرا فساد پھیلایا ہے۔ا س کی سزا کا انتظار ہے۔یہودیوں کی روایت کے مطابق ان کے بڑوں نے ان کی رہنمائی کے ایک دستاویز ”ایلڈرز پروٹکول“ ترتیب دی تھی۔سود خوری کے پیسے، سازشوں، مکاریوں، تخریبی کاروائیوں، خفیہ تنظیموں کے بل بوتے پر دنیا میں اپنی حکومت قائم کر سکتے ہیں۔آج ا سی صہیونی دستاویز پر بات کر نی ہے۔اس دستاویز پر یہودی عمل کر کے بہت کچھ حاصل کر چکے۔ اب موجودہ دور آخری دور ہے۔۶۷۷۱ء میں یہودیوں نے اس منصوبہ میں عیسائیوں کو بھی شریک کر لیا ہے۔

۰۷۷۱ء میں ایک یہودی ماتر بوئز روتھ شائلدنے اس دستاویز کو فرنکفرٹ جرمنی میں طلب کردہ ایک یہود،عیسائی مشترکہ مجلس میں پیش کیا۔ جس میں طے پایا کہ عیسائی دینیات کا پروفیسر آدم ویشاپٹ اس کو حال کے مطابق تجدیدکرے۔ویشاپٹ نے اس دستاویز کی تجدید کا کام مئی ۶۷۷۱ء میں مکمل کیا۔ تو معلوم ہوا کہ یہ یہودی،عیسائی گٹھ جوڑ ہے۔ دنیا میں تبدیلی کرنے والے اصل میں عیسائی ہیں لبادہ یہود کا پہنے ہوئے ہیں۔۵۸۷۱ء میں متحدہ امریکی ریاستوں کاقیام اس کٹھ جوڑ کانکتہ آغاز ہے۔۷۱۹۱ ء میں بالفور ڈیکلریشن کے تحت فلسطین میں صہیونی ریاست کا اعلان،اور ۸۴۹۱ء میں اسرائیل کو قائم کیا گیا۔

۴۲۹۱ء میں پونے چار برآعظموں میں قائم عثمانی اسلامی خلافت کو۴۲ راجوڑوں میں تقسیم کیا گیا۔مشہور صنعت کاہنری فورڈ اوّل یہودی سازش کو جان گیا۔ اس نے امریکا میں یہودی اثر و رسوخ پر تحقیق کے لیے ڈاکٹر ایل۔کے۔ اسمتھ کولگاکر، ۱۲۹۱ء میں ایک کتاب”بین ا لاقوامی یہودی“ شائع کرائی۔اس میں یہودی سازشوں پر سے پردہ اُٹھایا گیا۔ لیکن عیسائی سرپرستوں نے اس پرپردہ ڈال دیا۔ پاکستان میں مصباح الا سلام فاروقی نے کتاب”یہودی سازش اور عالم اسلام“لکھ کراس دستاویز کی سازشوں سے پاکستانیوں کو آگاہ کیا۔اس پرپاکستان میں فری میسن تنظیم ختم ہوئی۔اس کے بعد فری میسن خفیہ تنظیم میں کچھ دولت مند ہندو، پارسی، عیسائی،قادیانی، آغا خانی،بوری اور ذکری ہیں۔

اس د سستاویزمیں ظاہر کیا گیا ہے یہودیوں کے علاوہ سارے انسان گویم ہیں (کیڑے مکوڑے)ہیں۔مسلمان حکمران بے خبر،دینی جماعتیں آپس میں اختلاف اورسیکولر حضرات مغرب کی طرف رجحان میں مبتلا ہیں۔ مسلمان قرآن و حدیث کے راستے پر چل کر ہی مشکلوں سے نکل سکتے ہیں۔اس دستاویز کے۴۲/ ابواب میں:
یہ پروٹکول سود سے سرمایا جمع کر کے دنیا پر حکومت کا خواب ہے۔

۱۔عالمی سازشی سیاست:
مسئلہ، ہمارا اور گویم کا ہے۔ معاشروں میں بُری خصلت والے اچھی خصلت والوں سے زیاہ ہوتے ہیں۔ان پرحکمرانی علمی مباحث سے نہیں تشدد اور دہشت سے کی جاسکتی۔

۲۔معاشی جعل سازی، سیاسی سازشیں،الحاد اور ابلاغ:
سونا ہم نے اپنے قبضے میں لیے لیا ہے۔اقوام ہماری طرف سے دی جانے والی امداد سے ہمارے غلبے میں رہیں گے۔

۳۔جماعتی چپقلش:
اپنی علامتی سانپ کا گھیرا مکمل کر کے یورپ کو شکنجے میں کسنا ہے۔

۴۔ معاشرتی انتشار:
غیر یہودی، یعنی گویم اندھے پن سے ہماری اور ہمارے مفادات کی پردہ پوشی کی خدمات انجام دیتے ہیں۔

۵۔استبداد اور یو این او کا قیام:
بادشاہ ہمارے وسیلہ سے حکمرانی کرتے ہیں۔ہم گویم کو اس قدرخستہ حال کر دیں گے کہ وہ ہمیں بین الاقوامی اقتدار سونپنے پر مجبور ہو جائیں۔

۶۔سرمایہ داری،سٹہ:
ہم جلد ہی بے پناہ دولت کی ذخیروں کی عظیم اجاراداری قائم کرنا شروع کریں گے تاکہ گویم ہماری اطاعت قبول کر لیں۔

۷۔خونی انقلاب اور عالمی جنگیں:
یورپ اور دیگر برآعظوں میں لازماًانتشار،بدنظمی عناد پیدا کرناچاہیے۔ہم جب چائیں بدنظمی پیدا کر سکتے ہیں۔ جب چائیں امن قائم کر سکتے ہیں۔

۸۔ بد کارسیاستدان:
سیاستدانوں کو اعلیٰ تعلیم دی جائے گی۔یہ گویم کے منتظمین تحریر کو بغیر پڑھے، حصول جاہ کے لیے دستخط کریں گے۔

۹۔ اخلاقی بگاڑ، سیاسی جوڑ، توڑ، زیر زمین سرگرمیاں:
جس ملک میں ہم رہتے ہیں اس ملک کے رہن سہن کے ڈھب سمجھ کر، ان میں قومیت اور حقوق کے اختلافات پھیلانے ہیں۔

۰۱۔لادین جمہورتیں،پرفریب دساتیر، عالمی انقلابات:
ہم عیش وعشرت میں مبتلا،گویم کے مقامی لیڈر ان کو پس پردہ حقائق سے محروم رکھتے ہیں۔ان کو ہم ہر حالت میں ہمنوا بناگویم کے خاندان اور علمی اقدار کوتباہ کر دیں گے۔

۱۱۔ عالمی انقلاب کے بعد دستوری اقدامات اور میانی لاجوں کے مقاصد:
گویم بھیڑوں کا گلہ ہیں۔ ہم ان کے بھیڑیئے ہیں۔آپ جانتے ہیں جب بھیڑیا گلے کوگھیر لیتا ہے تو پھر کیا ہوتاہے۔ہیرا پھیری سے ہماری خفیہ تنظیموں نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔

۱۲۔آزادی کامیسانی تصور،پریس پر غلبہ پانے کے گر، صوبائی حقوق کا مقصد:
پریس جذبات کوبرانگیختہ،مشتعل، پارٹی کے خودغرضانہ مقاصد، اور دروغ گوئی پرستانہ ہوتا ہے۔ یہ ہمارے فاہدہ میں ہے۔ اس کے ذریعے ہم اپنی حکومت کو مضبوط کریں گے۔

۱۳۔ خوراک، روزگارتفریحی مشاغل، جاہ طلب:
روز مرہ خوراک کی ضرورت گویم کو چپ سادھنے اور اور ہمارے نیاز مندرہنے پر مجبور کرتی ہے۔ہم جلد ہی پریس کے ذریعے مصوری اور ہمہ اقسام کے کھیلوں کے مقابلوں میں گویم کو مصروف کر دیں گے۔ہم نے صدیوں ایسا کرکے گویم کے بے کارمشغلوں میں مصروف رکھا، اورکسی کو شبہ بھی نہ ہونے دیا۔

۱۴۔الحاد کے ذریعے یہودیت کا قیام:
جب ہم اپنی بادشاہت قائم کر لیں گے۔ ہمارے دانشور گویم کے قائد بنیں گے۔ تو کسی مذہب کا وجود نہیں چھوڑیں گے۔

۱۵۔ عالمی انقلاب، میسانی طریقے،عدلیہ پر پابندی، یہودی استبداد:
جب ہماری حکومت قائم ہو جائے گی تو اپنی خفیہ تنظیموں کو کا لعدم قرار دے دیں گے۔ان کے افراد کو ملک بدر کردیں گے تاکہ ہمارے خفیہ راز فاش نہ ہوسکیں۔

۱۶۔ نظام تعلیم کے ذریعہ اقوام کی کردار کشی:
اپنے سوا تمام اجتماہی طاقتوں کو ختم کر کے یو نیورسٹیوں کونئی راہ پر ڈال کرتعلیم کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کریں گے۔

۱۷۔مذاہب کا خاتمہ، جاسوسی نظام:
ہماری راہ کی بڑی رکاوٹ گویم کی مذہبی پیشوائیت ہے۔اس کورسوا کر دیا جائے گا۔

۱۸۔خفیہ اور ظاہری حفاظتی انتظامات،بادشاہ کا باطنی وقار:
ہمارے حکمرانوں کاتحفظ خفیہ طور پرحفاظتی دستہ کے ذریعے کیاجائے گا۔بادشاہ کا برائے نام وقار باقی رکھا جائے گا۔

۱۹۔ سیاسی اشتعال، اخلاقی جرائم:
باغی سرگرمیاں ہاتھی پر کتے کے بھوکنے سے زیادہ کچھ نہیں۔ایسا ماحول بنائیں گے کہ کتا ہاتھی کو دیکھتے ہی دم ہلانے شروع کر دے۔

۲۰۔ مالیاتی امور، بجٹ، بیرونی قرضے، نظام محاسبی:
جب ہم اپنی حکومت قائم کر لیں گے۔ ساری وسائل حکومتی کنٹرول میں رکھیں گے۔دیگر اقوام کوقرضے دے کر ان کامحاسبہ بھی کریں گے۔

۱۲۔ اندرونی قرضے، زر بازار:۔ہم نے گویم حکومتوں کو قرضے فراہم کرکے ان کے متقدر لوگوں کی ضمیر فروشی اور نااہلی سے خوب فاہدے اُٹھائیں گے۔

۲۲۔ اللہ سے بغاوت، عالمی خدائی کا خواب:
اپنے وقت کی عظیم طاقت، سونا ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ہم جس مقدار میں چائیں اپنے ذخیروں سے دو دن میں حاصل کر سکتے ہیں۔کئی صدیوں کی بد کاریوں سے یہ سب کچھ ہمیں حاصل ہوا۔

۲۳۔ بدی کے ذریعہ بھلائی کا قیام:
سارے عالم کو بدکاری میں مبتلا کر کے اپنی مطلوبہ عزائم پورے کرنے ہیں۔

۲۴۔ فن بادشاہ گری، یہودی بادشاہت کی خصوصیات اور اس کے تین مذہبی پیشوا:
اب میں شاہ داؤد کے سلسلہ نسب کے آخری سرے تک مستحکم کرنے کے طریقے بتاتا ہوں۔نسل داؤ دکے بادشاہوں کی تربیت کرنی ہے۔ایسے بادشاہ کوحکومت نہیں دینی، جو پراسرار سے مقامات سے واقف نہ ہو۔بادشاہ کو تین مذہبی پیشواؤں کو علم ہوگا۔ہمارے فرمانروائے اعظم کو مثالی طور پر بے داغ ہونا چاہیے۔
”دستخط ۳۳ ویں درجہ کے نمائیدگان صہیون“

قارئین!
یہ”اہلڈرز پروٹکول“ جس کے منصوبہ پر عمل کر کے موجودہ یہود و نصاریٰ نے صہیونی ریاست اسرائیل قائم کی گئی۔اسے پہلے گریٹر اسرائیل کی شکل دے کر پھر پوری دنیا پر یہودیوں نے اپنی حکومت قائم کرنی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:
”ومکروا مکراللہ۔واللہ خیرالماکرین“(ال عمران۔۴۵)
اور(کافروں نے)خفیہ تدبیرکی اور اللہ بھی(ان کی ہلاکت کی) تدبیر کرنے والا ہے۔

اسرائیل کو حماس نے ناکوں چنے چپوائے۔ پھر ایران کے ہاتھوں اسرائیل اور اس کے سرپرست امریکا کو ذلت آمیز شکست سے دو چار کیا۔جلد ہی اسلامی فوجی اتحادبننے والا ہے۔ اسرائیل سے آخری جنگ ہو گی۔ اسرائیل کی شکست اسلام کی فتح ہو گی۔ پھر حدیث کے مطابق ہر پتھر اور درخت کہے گا میرے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہے اسے قتل کرو۔ ان کا یہ”اہلڈرز پروٹکول“ کا منصوبہ دھرا کا دھرا رہ جائے گا۔
انشاء اللہ۔

مصنف کے بارے میں

میر افسر امان

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment