ہوم << کیا ”اسرائیل“کوئی خدائی منصوبہ ہے؟ – میر افسر امان
600x314

کیا ”اسرائیل“کوئی خدائی منصوبہ ہے؟ – میر افسر امان

مغرب میں ایک بات بار بار دُہرائی جاتی ہے کہ ریاست کا قیام ایک خدائی منصوبہ، اور اس کے ثبوت میں بائبل کی ایک آیت پیش کی جاتی ہے۔
”میں نے تمھاری نسل کو یہ زمین دی دریائے مصر سے لے کر دریائے فرات تک.“(پیدائش۵۱:۸۱)

پہلی نظر میں یہ بات سیدھی لگتی ہے۔ خدا نے زمین دی، تو پھر ریاست بھی بن سکتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہاں سے شروع ہوتا ہے۔ آیت کیاکہتی ہے؟
”تمھاری نسل کو زمین دی“۔
اور تعبیر کیا کہتی ہے؟
صرف ایک نسل”یعنی صرف اسحاق کی نسل کو۔ جہاں ایک چھوٹی سی تبدیلی پوری کہانی کو بدل دہتی ہے۔ اب ایک سادہ سوال:
ابراھیمؑ کے کتنے بیٹے تھے؟دو: اسحاقؑ اور اسما عیلؑ۔

اب میراث یا وراثت(inheritance) کا اصول کیا کہتاہے؟
جو چیز باپ کو دی جائے وہ اس کی اُولاد میں برابر تقسیم ہوتی ہے۔تو پھر سوال یہ ہے کہ زمین صرف ایک کو کیوں؟
یہ وہ سوال ہے جو ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں۔ اور پھر سمجھے بغیر ایک پوری کہانی مانتے گئے۔ اب ذرا اسماعیلؑ کی طرف دیکھیے۔ بائبل خود کیا کہتی ہے؟
”میں اسماعیل کو برکت دوں گا اسے بارآور کروں گا اور اس کی نسل کو بڑھاؤں گا(پیدائش۷۱:۰۲)
گویا اسماعیلؑ کو نظر انداز نہیں کیا گیا بلکہ انھیں بھی برکت دی گئی۔اب یہاں ایک لمحے کو رُک کر سوچیں:اگر برکت دی گئی تو زمین کیوں نہیں؟

جہاں اصل مسئلہ پیدا ہوتاہے۔
متن کیا کہتا ہے:”اسماعیل کو قبولیت دی گئی، برکت دی گئی۔“ اور تعبیر کیا کرتی ہے؟
مرکزی حیثیت صرف ایک نسل کو دے دیتی ہے۔اسماعیلؑ کو نکالا نہیں گیا، مگر انھیں مرکز سے ہٹا دیا گیا۔انھیں محروم نہیں کیا گیا، مگر خاموشی سے نظر انداز کر دیا گیا۔ اور یہی سب سے خطرناک مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ جب آپ کسی چیز کو کھل کر رد کرتے ہیں تو سوال اُٹھتاہے، لیکن جب آپ خاموشی سے نظر انداز کرتے ہیں تو سوال پیدا ہی نہیں ہوتا، اور یہی خاموشی آہستہ آہستہ ایک نظریے کاروپ دھار لیتی ہے۔

ایک ایسا نظریہ جو کہتا تو ہے ہم متن پر ہیں لیکن حقیقت میں وہ اپنی تعبیر پر کھڑا ہوتا ہے۔”گھڑی ہوئی تعبیر پر“ اب ذرا قرآن کی طر ف آئیں۔ قرآن ایک جملے میں پوری بحث بدل دیتاہے:
لا ینال عھدی الظلمین(البقرہ:۲۔ ۴۲۱)
یعنی میرا عہد ظالموں تک نہیں پہنچاتا۔
اب جہاں ایک بہت تبدیلی آتی ہے۔ اب سوال یہ نہیں رہتاکی تم کس نسل سے ہو؟
سوال یہ ہوتا جاتاہے: تم کیا کر رہے ہو؟

یعنی:وعدہ نسل سے نہیں عمل سے جڑاہوتا ہے۔ اگر کوئی ظلم کرے رو وہ ابراھیمؑ کی نسل میں ہو کر بھی اس وعدے کا حقدار نہیں رہتا۔ اور اگر عدل پر ہو تو وعدے کے قریب ہو جاتا ہے۔گویا قرآن ہمیں بتاتا ہے:زمین میراث:(inheritance) میں نہیں ملتی بلکہ ذمہ داری سے ملتی ہے۔اب یہاں ایک بہت اہم بات سمجھ آتی ہے۔ اگر کوئی وعدہ اخلاق سے مشروط ہے، تو پھر ایک اصول نکلتا ہے: کوئی بھی ظلم کسی بھی دعوے کو باطل کر دیتا ہے۔ یعنی: صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں ”یہ ہمارا حق ہے“۔اصل سوال یہ ہے: کیا تم اس حق کے قابل بھی ہو؟

اور یہی وہ اصول ہے جو پوری سیاسی تعبیر کو چلینج کرتاہے۔ یہاں ایک اور چونکانے والی بات سنیے: کیا آپ جانتے ہیں کہ خود یہودی مذہبی روایت اس مسئلے پر کیا کہتی ہے؟
”تلومود”میں ایک تصور آت، جسے تین قسموں یا(threeoaths) سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ کیا ہیں؟ یہ وہ اصول ہیں جو بنی اسرائیل کے لیے طے کیے گئے تھے، جب وہ اپنی سر ز،ین سے نکل گئے تھے: اولاً کہا گیا: تم زبردستی واپس نہیں جاؤ گے، یعنی طاقت کے زور پر ریاست قائم نہیں کرو گے۔ ثانیاً اقوام کے خلاف بغاوت نہیں کرو گے، یعنی سیاسی طاقت کے ذریعے غلبہ حاصل نہیں کرو گے۔

ثالثاً: تم انتظار کرو گے ماشیاح(mashiach) کا۔ یعنی بات بہت صافہے کی ریاست کا کام نہیں تھا، بلکہ اسے ایک الہی وقوعے کے طورہونا تھا۔ ایک فطری سوال سامنے آتا ہے۔ اگر یہ اصول خود یہودی مذہبی روایت میں موجود ہے تو پھر یہ ریاست کیسے بنی؟ کیا میحا آ گئے تھے؟ یا پھر انسان نے خود وہم کام اپنے ذمہ لے لیا جسے اس کی اپنی روایت منع کررہی تھی؟ یہ وہ مقام ہے جہاں مذہب اور سیاست ٹکرا جاتے ہیں۔ اور یعنی وہ لمحہ ہے جہاں کہانی ٹوٹ جاتی ہے۔

اب تاریخ کی طرف آئیے۔انیسوی صدی میں یورپ میں یہودیوں پر ظلم ہو رہا تھا۔ ان کے خلاف بہت نفرت تھی، عدم تحفظ کااحساس تھا۔ یہ سب ایک مذہبی مسئلہ نہیں تھا۔ یہ ایک سماجی اور سیاسی بحران تھا۔اس ماحول میں ایک شخص اٹھتاہے، سامنے آتا ہے، اس کا نام تھوڈر ہرتزل۔ وہ ایک سوال اٹھاتا آتاہے۔ وہ پوچھتا ہے کہ یہودیوں کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟ اور پھرخود و ہی جواب بھی دیتاہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہمیں ایک ریاست چاہیے لیکن یہاں ایک بہت اہم بات یہ ہے کہ تورات کا حوالہ نہیں دیتا، وہ اسے خدا کا حکم نہیں کہتا۔ وہ سیدھی بات کرتاہے۔ وہ کہتا ہے یہ ایک مسئلہ ہے اور ہمیں اس کا سیاسی حل چاہیے۔

اب یہاں ایک چونکانے والی حقیقت سامنے آتی ہے۔ اس وقت فلسطین کا بھی حتمی طور پر تعین نہیں کیا گیاتھا۔ مختف جگہیں زیر غور تھیں: یوگانڈا، ارجنٹائنا، مدگاسکر، قبرض، مد گا سکر، قبرض، یعنی زمین کا انتخاب کوئی آسمانی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک ممکنہ انتخاب تھا۔ اب ذرا سوچیں اگریہ واقعی خدا کاوعدہ ہوتا تو اتنے سارے آپشنز نہ ہوتے۔ جگہ نہیں بدلتی۔ کیاخدا کے وعدے آپشنز میں آتے ہیں؟
نہیں۔لیکن چونکہ یہ وعدہ نہیں تھا، یہ ایک منصوبہ تھا، انسانی منصوبہ تھا، ایک ایسانسوبہ جوایک مسئلے کے حل کے لیے بنیایا گیا تھا اور بعد میں اسے مذہب کالباس پہنا دیا گیا۔ اب کہانی ایک اور رخ لیتی ہے۔ یورپ میں ایک بڑا ہولو کاسٹ کی صورت میں پیش آتا ہے۔

لاکھوں یہودی قتل کیے جاتے ہیں۔صدیوں کا ظلم ایک انتہا تک پہنچ جاتا ہے۔ یورپ کے ضمیر پر ایک بوجھ آ جاتا ہے، ایک احساس گناہ، ایک شرمندگی، ایک ندامت۔ اب سوال یہ ہے کہ اس ظلم کا ازلالہ کہاں ہونا تھا؟کیا یورپ اپنی زمین دیتا یا وہ اپنے نظام کو بدلتاَ؟
بھئی ہونا تو یہی چاہیے تھا۔ لیکن اس نے ایک اور راستہ چنا۔ اس بوجھ کو اُٹھیا اور اسے فلسطین کی سرزمین پر رکھ دیا۔یہاں ایک فیصلہ ہوا، ۷۱۹۱ء میں ”بالفور ڈیکلریشن“ کے نام سے۔ برطانیہ نے کہا کہ ہم یہاں ایک ”جیوش ہوم لینڈ“(یہودی ریاست) کے قیام کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ زمین کس کی تھی؟ارے بھائی وہاں پہلے سے لوگ موجودتھے۔ایک معاشرہ تھا،ایک تاریخ تھی،مگر ان سے پوچھانہیں گیا۔فی الحقیقت یہ ایک کولونیل ٹراسفر تھا۔بنیادی طور پر تو ایک یورپی مسئلہ تھا،مگر یورپ کے اجتماعی گناہ کا بوجھ ایک عرب سر زمین پر منتقل کر دیا گیا۔اور یہ ہی وہ لمحہ تھا جہاں سے ایک کولونیل پروجیکٹ(سامراجی منصوبہ)شروع ہوا۔

اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر یہ وا قعی سیاسی منصوبہ تھا تو اسے مذہب کا رنگ کیوں دیا گیا؟جواب بہت سادہ ہے مر ہم اکثر اسے نظر انداز کر دیتے ہیں، قانونی حیثیت(legitimacy) کی خاطر۔ ”قانونی حیثیت“کا مسئلہ یعنی لوگوں کو یہ یقین دلانا کی جو آپ کر رہے ہیں وہ صحیح ہے۔ اب یہاں ایک بہت بڑی تبدیلی آتی ہے۔ اگر آپ کہیں کی یہ ایک سیاسی منصوبہ ہے تو لوگ فوراً سوال کریں گے کیوں؟۔کیسے؟ اس کا اخلاقی جواز کیاہے؟۔لیکن اگر آپ کہیں کہ یہ خدا کاوعدہ ہے تو کیا ہوتاہے؟
سوال ختم ہو جاتے ہیں، تنقید رُک جاتی ہے اور مخالفت گناہ بن جاتی ہے۔ کیونکہ کہ اب یہ سیاست نہیں رہی، یہ ایمان کا مسئلہ بن گیا۔

اب ذرا ایک اور مثال دیکھیں ۷۶۹۱ء کیب ات ہے۔ عرب اسرائیل جنگ ہوتی ہے، جسے ہم”چھے روزہ جنگ“ کے نام سے جانتے ہیں۔ صرف چھے دنوں میں ایک چھوٹی ریاست بری بڑی افواج پر غالب آجاتی ہے۔ یہ کیسے ہوا؟ اور یہ تھا کیا؟بنیادی طور پر یہ ایک فوجی کامیابی تھی۔ایک اسٹریٹیجک برتری تھی اسرائیل کی۔اصل کہانی یہاں ختم نہیں ہوریلکہ اصل کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں اس کامیابی کی تشریع کی جاتی ہے۔ اس کامیابی کو کیسے پیش کیا گیا؟ کہا گیا یہ خدا کہ مدد تھی۔ اب ذرا غور کریں کہ ایک انسانی پلاننگ، ایک فوجی اسڑے ٹیجی، ایک عملی تنقید(ایگزیکیوشن) اوراسے بدل دیا گیاایک الہی مداخلت(ڈیوائن ایگزیکیوشن) میں۔

یہاں ایک خطرناک تبدیلی ہوتی ہے۔طاقت تقدس بن جاتی ہے،جو چیز انسان نے حاصل کی تھی اسے خدا کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ اور جب ایسا ہو جائے تو سوال ختم ہو جاتے ہیں۔کیونکہ اب آپ حکومت نہیں خدا سے سوال کررہے ہوتے ہیں۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں اخلاق بدل جاتاہے، ظلم ظلم نہیں رہتا،وہ حق بن جاتا ہے، قبضہ قبضہ نہیں رہتا، وہ وعدہ الہی بن جاتا ہے۔طاقت طاقت نہیں رہتی وہ مقدس مشن بن جاتی ہے۔اور جب طاقت مقدس مشن بن جائے تواس کے خلاف کھڑا ہونا صرف سیاسی مخالفت نہیں رہتا بلکہ گناہ بن جاتا ہے۔اب ایک اور کہانی بھی سن لیجیے۔ اس سے بات سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی۔

اسی دوران امریکا میں بابئل کی ایک خاص تشریع عام ہونے لگتی ہے جسے”اسکوفیلڈ ریفرنس بائبل“ کہتے ہیں۔یہ صرف بائبل نہیں تھی، یہ بابل کی ایک مخصوص ریڈنگ تھی، اور اسی ریڈنگ سے ایک نظریہ پیدا ہوا ہوتا ہے جسے کہتے ہیں نظریہ ادوارالہی(dispensationalism)۔یہ نظریہ کیا کہتاہے؟ یہ تاریخ کو مختلف ادوار میں تقسیم کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم ایک ایسے دور مین ہیں جہاں کچھ مخصوص واقعات لازمی ہیں۔ او اگریہ ہو جائیں تومسیح کی واپسی قریب ہو جائے گی۔یعنی ایک سیدھا فارمولا: اسرائیل بنے گا تو مسیح آئیں گے۔اب غور کریں یہاں مذہب کیا بن گیا؟ ایک عقیدہ ایک انتظار، ایک پروفیٹک ٹائم لائن۔جہاں ایک اوراہم نکتہ سمجھیں۔

یہ ا صل عیسائیت نہیں ہے بلکہ اس کی جدید تعبیر ہے جو انیسویں بیسویں صدی میں سامنے آئی۔ یعنی یہ کلاسیکی مسیحی الہیات(کلاسیکل کرسچین تھیوری)نہیں بلکہ ہے بلکہ ایک خاص گروہ کی ریڈنگ ہے، جس کا اثر یہ ہوا کہ امریکا میں لاکھون لوگ اس نظریے پر ایمان لے آئے۔ اور پھر اسرائیل کی حمایت صرف سیاسی معاملہ نہیں رہی بلکہ ایک مذہبی فریضہ بن گئی۔نتیجہ؟ نتیجہ یہ نکلا کی اربون دالر کی فندنگ، اندھی سیاسی حمیات اور ایک ایسا مذہبی جوش جو سوال سے ماروا۔کیونکہ جب کوئی چیز خدا کے منصوبے کاحصہ بن جائے تو اس پر سوال اُٹھانا گناہ سمجھا جاتا ہے۔اب یہاں ایک بہت اہم حقیقت سامنے آتی ہے۔

یہ صرف باہر کے لوگ نہیں ہیں جو اس ریاست پر سوال اٹھاتے ہیں خود یہودی مذہبی حلقوں کے اندر بھی اس پر شدید اختلاف موجود ہے۔ مثلا نیتوری کرتا ایک مذہبی گروہ ہے جو کھل کر یہ کہتا ہے کہ یہ ریاست مذہبی طر پر غلط ہے۔ہمیں اس ریاست کے قیام کا کوئی حق نہیں۔کیوں؟کیونکہ کہاں کے ان کے نزدیک ریاست کا قیام انسان کا کام نہیں تھا بلکہ اسے الہی وقوعے کے طور پر ہوناتھا۔ یعنی وہی بات جو ہم پہلے کہہ چکے ہیں کی طاقت کے زرو پرریاست قائم کرنا خود ان کی مذہبی روایات کے خلاف ہے۔

اب صرف مذہبی حلقے ہی نہیں کچھ بڑے یہودی مفکرین بھی اس پورے معاملے پر سوال اُٹھاتے ہیں، مثلاً مارٹن بو بر، یہ ایک بڑانام ہے،اور دوسرے ابراہم جوشواہ حیشل۔ یہ لوگ ایک بنیادی اصول دیتے ہیں:زمین انصاف کے بغیر بے معنی ہے۔یعنی اگر آپ کے پاس زمین ہے مگر انصاف نہیں ہے تو وہ زمین مذہبی طور پر کوئی حیثیت نہیں رکھتی،کیونکہ خدا کا تعلق زمین نہیں انصاف سے ہوتاہے۔بندہ خدا اور انصاف سے وابستہ ہوتا ہے زمین سے نہیں۔اب اس پوری تصویر کو ایک ساتھ دیکھیں جو میں نے کئی چیزیں ایک ساتھ آپ کے سامنے رکھیں، جستہ جستہ۔ اب اس کو پورے تناظر میں دیکھیں۔ ہواکیا؟

ایک آیت جس کی من پسند تعبیر کی گئی، ایک سیاسی منصوبہ جسے استعماری طاقتوں نے نافذ کیا اور اس کے اُوپر مذہب کا غلاف چڑھا دیا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیایہ مذہب ہے؟
نہیں، یہ مذہب نہیں تھا مذہب کو استعمال کیا گیاتھا۔ اور جب مذہب استعمال ہوتا ہے تو وہ ہدایت نہیں رہتا ہتھیار بن جاتا ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کی یہودیت نہیں بدلی، اس کے نام پر ایک نئی تعبیرگھڑی گئی، ایک ایسی تعبیر جو طاقت کو تقدس مین بدل دیتی ہے،جہاں ظلم حکم ِخدا بن جاتا ہے اور قبضہ وعدہ الہی کہلانے لگتا ہے۔اب یہاں آکر سوال اسرائیل نہیں رہتا۔

سوال یہ ہے کی کیا ہم مذہب کوسمجھ رہے ہیں یا ہمیں مذہب کے نام پر استعمال کیا جارہا ہے؟
بیوقوف بنایا جا رہا ہے؟
اور اگربے وقوف بنایا جا رہا ہے تو ذرا رُک کر سوچئے کہ یہ کھیل کون کھیل رہا ہے اور کیوں؟
اس مقام پر ایمان اور فریب ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

میر افسر امان

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment