ہوم << پاکستان کی شاندار اسٹریٹیجک حکمت عملی – عبدالسلام فیصل
600x314

پاکستان کی شاندار اسٹریٹیجک حکمت عملی – عبدالسلام فیصل

ایران نے جو سب سے بڑی بات امریکیوں کی تسلیم نہیں کی وہ یہ تھی کہ ایران اپنی پراکسیز کو فنڈنگ نہیں روکے گا ۔ اب مزے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کو ان سارے معاملات کا علم تھا ۔ اور پاکستان اس سے قبل ہی سعودی عرب کی کنگ عبدالعزیز ائیر بیس کا کنٹرول سنبھال چکا تھا ۔

اب سمجھدار لوگوں کے لئے اشارہ کافی ہے کہ پاکستان نے اس سفارتی ثالثی کردار کے ساتھ ساتھ سعودی ائیر بیس کو سنبھال کر ایران کو واضح پیغام بھی دے دیا ہے . اب سعودی عرب پر دوبارہ کسی قسم کے حملے کی کوئی گنجائش باقی نہیں یعنی ایران سے اپنے برادرانہ تعلقات کا بھی نبھا کر لیا اور سعودی عرب کے ساتھ کئے گئے دفاعی مشترکہ معاہدے کی بھی لاج رکھ لی۔ یاد رہے اس وقت پاکستان سعودی عرب میں چائنہ کے لیتھل ترین ائیر ڈیفیسن سسٹم میں سے ایک ایچ کیو 19 کے ساتھ موجود ہے جس کی رینج 3000 کلو میٹر ہے ۔

18 جے ایف 17 تھنڈر بلاک 3 طیاروں کے ساتھ موجود ہے ۔ جس کے ساتھ ” رعد کروز میزائل سسٹم ” انٹیگریٹڈ ہے ۔ مطلب اپنا جیفی اس وقت اپنے ساتھ نیوکلئیر طاقت لئے سعودی عرب میں موجود ہے ۔ اگر اسٹیٹیجک اعتبار سے دیکھا جائے کنگ عبدالعزیز ائیر بیس پاکستان نے اس لئے سنبھالی ہے:

1: کہ ایران کو بتایا جا سکے کہ ہم تمہارے بہت قریب آ بیٹھے ہیں اور ہم سعودی عرب کے ساتھ اپنے مشترکہ دفاعی معاہدے پر وفا کریں گے ۔ یعنی ایران کے پاس سعودی عرب پر حملے کی گنجائش نہیں ۔

2: ایچ کیو 19 سسٹم کے ساتھ پہنچنا بتاتا ہے کہ پاکستان کے نیوکلئیر ہتھیاروں کی رینج اس وقت پورے خطے پر موجود ہے ۔ خاص طور پر اسرائیل پر ۔

3: ایران کو یہ سمجھایا گیا ہے کہ ہم سعودی عرب کی ” الجوف ” اور ” تبوک ” ائیر بیس سے 1500 کلو میٹر دور بیٹھے ہیں ۔۔۔ مطلب ہم ازرائیل پر حملہ آور ہونا چاہیں تو کسی بھی وقت ہو سکتے ہیں ۔ کیونکہ اگر پاکستانی طیارے ” الجوف اور تبوک ” ائیر بیس سے ری فیولنگ بھی کرتے ہیں ۔ تو جغرافیائی اعتبار سے پاکستان ازرائیل سے محض 450 سے 550 کلومیٹر دور ہو گا ۔ دونوں فریقین کو سمجھایا گیا ہے کہ پاکستان اپنے اور سعودی عرب کے مفادات اور اسلامی دنیا کو درپیش خطرات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایکشن لینے کا اھل ہو چکا .

4: حج سیزن قریب ہے ، ابھی جو طیاروں کی تعداد بتائی جا رہی ہے وہ صرف دنیا کو بتائی گئی ہے ۔ ممکنہ طور پر پاکستان اس وقت پوری سعودی ائیر سپیس کا کنٹرول حاصل کر چکا ہے ۔

سعودی عرب اور ایران سے تعلقات کے پیش نظر پاکستان نے انتہائی شاندار اسٹریٹیجک حکمت عملی اپنائی ہے ۔
دوسری طرف امریکہ نے بہت بڑی تعداد میں ازرائیل کو دفاعی حربی سامان تل ابیب پہنچانا شروع کیا ہے ، امریکی فضائیہ دو دن سے ایک بڑا آپریشن تل ابیب کے لئے کر رہی ہے ۔ ایرانی فوجی انٹیلیجنس ، ان کی ملٹری سمیت روس اور چائنہ بھی یہ سارے دفاعی مووز ریکارڈ کر رہے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ عین مذاکرات کے دوران جب رات کو ایران اور امریکہ ڈائیلاگ کا ڈیڈ لاک تقریبا ختم ہو چکا تھا ۔

ایرانی حکام کی طرف سے ٹویٹس کیا جانا کہ ہم مذاکرات کو ختم نہیں کر رہے جو اختلافات رہ گئے ہیں ان پر مزید بات کریں گے یعنی مذاکرات جاری رکھیں گے ۔ یہ واضح کر رہا تھا کہ ایرانی سمجھ چکے ہیں کہ ان کے لئے نیا جال بچھانے کی تیاری کی جا چکی ہے ۔ پھر بڑی بات پاکستان فضائیہ کی جانب سے ایرانی وفد کو بحفاظت افغانستان کے راستے ایران پہنچایا جانا۔ یہ ایک شاندار فضائی کنٹرول کی مثال ہے ۔ اور یہ ثابت کرتا ہے کہ چائنہ اس محاذ پر پاکستان کے ساتھ پوری کو آرڈینشین کر چکا تھا ۔

پاکستانی انٹیلجینس ایجنسیز بہت باریکی اور پروفیشنل طریقے سے کام کر رہی تھیں ۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے نیوز چینلز پر یہ خبریں چلتی رہیں کہ بقیہ وفود پاکستان میں موجود ہیں ۔ جبکہ وہ اس وقت بحفاظت پاکستان سے باہر جا چکے تھے. بعد میں جنگی دفاعی معلومات رکھنے والے سوشل میڈیا ہینڈلز اور صحافیوں نے ٹویٹس کرنا شروع کیں کہ وہ سب تو نکل چکے۔
کل ملا کر بات یہ ہے کہ :

1: ایران افزودہ یورنیم کو ملک سے باہر نہیں نکالنا چاہتا ۔
2: مرکزی یورنیم کی افزودگی کی سہولیات کو مکمل ختم نہیں کرنا چاہتا ۔
3: ایرانی بین الاقوامی منجمند فنڈز کا دائرہ کار لا محدود رکھنا چاہتے ہیں۔
4؛ علاقائی پراکسیز جو ایران نے شروع کر رکھی ہیں ان کی فنڈنگز سے دستبرداری نہیں چاہتا ۔
5: ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے کہ اس کو یہاں سے فنڈز جنریٹ ہوں اور وہ اپنے نقصانات پورے کر سکے ۔

جو لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ جنگ رکی رہے گی ۔ میرے خیال میں یہ ایک خام خیالی ہے ۔ پہلوانوں نے سانس لیا ہے ۔ سٹیمنا بحال کیا ہے ۔ اور کچھ دن زخموں پر مرحم پٹی کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ کچھ زخم بھر جائیں کم ہو جائیں ۔ پہلوان اچھی خوراک استعمال کریں گے ۔ اور پھر اکھاڑے میں اتریں گے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ریفری یعنی پاکستان۔ کون سا ایسا قانونی ، دفاعی ، سفارتی پہلو استعمال کرتا ہے کہ کشتی ہی کینسل ہو جائے یا پھر اکھاڑا ہی تباہ کر دیا جائے ۔

مصنف کے بارے میں

عبدالسلام فیصل

حافظ عبدالسلام فیصل کا تعلق پہلوانوں کے شہر گوجرانوالہ سے ہے۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات اور فلسفہ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ ہفت روزہ اہلحدیث سے بطور لکھاری وابستہ ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی سے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ الحاد پر انھیں گہرا درک حاصل ہے، اس کے خلاف تحریر کے میدان میں سرگرم عمل ہیں۔

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment